پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن، 117 پوائنٹس کا اضافہ

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا اور 100 انڈیکس 117 پوائنٹس اضافے سے 43100 پر بند ہوا۔
کاروباری دن میں 100 انڈیکس 248 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، بازار میں 18 کروڑ 99 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے۔
شیئرز بازارکے کاروبار کی مالیت 3 ارب 83 کروڑ روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 23 ارب روپے بڑھ کر 7143 ارب روپے ہے۔

عمران خان نے عدم اعتماد کے ڈر سے پٹرولیم قیمتیں سستی کیں: وزیراعظم شہباز شریف

کراچی: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے اگلی حکومت کیلئے جال بچھایا ، عدم اعتماد کے ڈر سے پٹرولیم قیمتیں سستی کردیں، نئی سرکار کو سرمنڈواتے ہی اولے پڑے، اب مشکل آن پڑی ہے توپھرقربانی دینا پڑے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیا، اصل مسائل کا حل جاننے آیا ہوں، 2018ء اگست میں ڈالر 115 روپے کا تھا، اتحادی جماعتوں نےمجھے اپنا امیدوارچنا، ہماری حکومت میں بجلی کے منصوبے لگائے گئے، 11اپریل کومیں نے حلف لیا تو ڈالر 189کا تھا، اس اُڑان میں توہمارا کوئی قصورنہیں تھا، جس دن حلف اٹھایا توڈالرسستا ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کو جب عدم اعتماد کی کامیابی کا پتا چلا تو پٹرول کی قیمتیں سستا کرنے کا مشورہ دیدیا، یہ اگلی حکومت کے لیے جال بچھایا جارہا تھا، ہماری ایک سیاسی مجبوری بھی تھی سرمنڈتے اولے پڑے، ساڑھے تین سالوں انہوں نے عام آدمی کوایک دھیلے کا ریلیف نہیں دیا، ساڑھے تین سالوں میں قرضے ہی قرضے لیے گئے۔ ماضی کی حکومت نے 22ہزارارب کے قرضے لیے، ساڑھے تین سالوں میں 80 فیصد قرضوں میں اضافہ ہوا، لاڈلی حکومت اور لاڈلے کو مقتدر ادارے نے 75سالہ تاریخ میں مثالی سپورٹ دی۔ ایسی سپورٹ اگر ہماری حکومت کو 30 فیصد سپورٹ ملتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپرجارہا ہوتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آپ کے سامنے سب کچھ ہے ہمارے دورمیں سی پیک آیا۔ جب لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تو دوبارہ کیوں ہورہی ہے، قوم ان چھبتے ہوئے سوالوں کا جواب مانگ رہی ہے، روپیہ کی قدرتیزی سے نیچے جارہی ہے، اربوں روپے خرچ کر کے چینی کو ایکسپورٹ کیا گیا، کیا یہ سیاسی افراتفری کا نیتجہ تھا؟ ایل این جی 3 ڈالرتب ایل این جی نہیں منگوائی گئی؟ خدارا ہمیں بہت تحمل، ایمانداری سے تجزیہ کرنا ہو گا، اگرکہیں مجھ سے غلطی ہوئی تو معافی مانگنی چاہیے، ساڑھے تین سال کی حکومت میں غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹے گئے، غداری اور وفاداری کی بحث میں جائیں گے تو بات دور تک جائے گی، روپیہ ہچکولے کھارہا ہے، صورتحال سب کے سامنے ہے، کاروباری حضرات ساری صورتحال کو سمجھتے ہیں، خدارا حکومت کوحل بتائیں،ایک دورانئے کے لیے لگژری آئٹمزپرپابندی عائد کی گئی ہے، امپورٹڈ اشیا پرپابندی لگانے کا مقصد ڈالرمیں استحکام آئے، ہمیں مشکل آن پڑی ہے تو پھر قربانی دینا پڑے گی، ہماری حکومت نے سستے ترین بجلی کے منصوبے لگائے۔
انہوں نے کہا کہ غریب آدمی، بیواؤں کے پاس دودھ کے پیسے نہیں ہیں، ایک طرف اشرافیہ ہر چیزامپورٹڈ اشیا منگواتی ہے، امپورٹڈ اشیا پر پابندی لگانا صحیح قدم ہے، امپورٹڈ اشیا پرپابندی سے لوکل انڈسٹریز کو فائدہ ہو گا۔ کاروباری حضرات پاکستان کے عظیم معمارہے، اگرہم اکٹھے ہو کر دن رات محنت کریں گے تو اگلے پانچ سے 10 سال میں ملک کی تقدیر بدل جائے گی، جرمنی، جاپان آج کہاں سے کہاں پہنچ گئے، کیا ہماری تقدیرمیں لکھا ہے غریب اوربھکاری رہیں گے۔ ساڑھے 3 سالوں میں معیشت کا بیڑہ غرق ہوا، شو منتر سے نہیں دن رات محنت اور قربانی دینا ہو گی، اگرہم اسی طرح رہے تو پھر 500 سال بھی حالت نہیں بدلے گی، دن رات محنت کریں گے تو ترقی کریں گے، بھارت تعلیم، ایکسپورٹ، آئی ٹی سمیت ہرچیزمیں کہاں سے کہاں چلا گیا۔ پاکستان آئی ٹی کی ایکسپورٹ 15ارب ڈالرکرسکتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے، پانی کے حوالے سے ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگائیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا، سعودی عرب کی ایک ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ ٹیبل پر موجود ہے، سندھ حکومت عقیل کریم ڈھیڈی، موتی والا کو ساتھ بٹھائے، سارے صوبوں میں آئی ٹی ٹاوربننے چاہئیں۔پاکستان نے اگر آگے بڑھنا ہے تو ایکسپورٹ پر توجہ دینا ہو گی، قومیں اس طرح نہیں بنتی بینک سے لون لیا اور پھر معاف کرا لیا، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں، ایکسپورٹ کے لیے انڈسٹریل زون بنائے جائیں، چین پربھونڈے الزامات لگائے گئے، چین دوبارہ راضی ہوگیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب میں سیاسی اور آئینی ہلچل بڑھ گئی

لاہور: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں سیاسی اور آئینی ہلچل مزید بڑھ گئی۔
پنجاب اسمبلی میں نمبرز گیم ایک بار پھر اہمیت اختیارکر گئی، نئی صورتحال میں دونوں جماعتوں کےلیے صورتحال دلچسپ بن چکی ہے، ن لیگ کے 5 منحرف نکالنے کے بعد ارکان کی تعداد 160 ہے، پیپلز پارٹی7،آزاد ارکان 4 اور 1 راہِ حق پارٹی کے رکن کی حمایت حاصل ہے۔
حمزہ شہباز کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 172 ارکان کی حمایت رہ گئی ہے۔ ن لیگ کے 5منحرف ارکان کےساتھ تعداد 177 ہے۔
پی ٹی آئی کے 183 ارکان میں سے 25 منحرف نکالنے کے بعد تعداد 158 ہے، پی ٹی آئی کے 158 ارکان میں ڈپٹی سپیکر کا ووٹ بھی شامل ہے، 25 منحرف ارکان میں سے 5 ارکان مخصوص نشستوں سے تعلق رکھتے ہیں پی ٹی آئی 5 ریزرو سیٹوں پر نئے چہرے لا کر ووٹوں کی تعداد 163 کر لے گی۔
ڈپٹی سپیکر کا 1ووٹ مائنس ہونے سے یہ تعداد 162 رہ جائے گی، مسلم لیگ ق کے 10 ووٹوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے پاس 172 سیٹیں ہونگی، ن لیگ کے منحرف ارکان نکال کر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد برابر یعنی 172 پر کھڑی ہو گی۔
نئی صورتحال میں آزاد رکن پنجاب اسمبلی چودھری نثار علی خان کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں ماہوار وظیفہ بڑھا رہے ہیں: رمیز راجہ

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے چیئرمین رمیز راجہ نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ میں ماہوار وظیفہ بڑھا رہے ہیں۔
چیئرمین پی سی بی نے کنڈیشنگ کیمپ میں شریک کھلاڑیوں سے ملاقات کی، دوران ملاقات رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ سیزن بہت اہم ہے، چاہتا ہوں آپ بلا خوف کرکٹ کھیلیں، اسکلز اور ڈسپلن ہی ہمارا بنچ مارک ہے۔
انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ آپ رول ماڈلز ہیں، ہمیشہ آپ کو عزت دیں گے، سینٹرل کنٹریکٹ میں ماہوار وظیفہ بڑھا رہے ہیں، ملک بھر میں پچز بنا رہے ہیں، آسٹریلیا سے کیوریٹر کو بھی بلارہے ہیں، میرے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 17 جولائی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں تقرر وتبادلوں اور نئے ترقیاتی کاموں پر پابندی عائد کردی ہے۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی 30 مئی سے 3 جون تک جمع کرائے جا سکیں گے، کاغذات کی جانچ پڑتال 6 سے 8 جون تک ہو گی، اپیل 9 سے 11 جون تک دائر ہوں گی جبکہ 13 سے 15 جون تک اپیلیں نمٹائی جائیں گی۔
کاغذات نامزدگی 18 جون تک واپس لیے جا سکیں گے، انتخابی نشان 20 جون کو جاری کیے جائیں گے جبکہ بلدیاتی انتخابات 17 جولائی کو ہوں گے۔

مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سب سے بڑا مسئلہ ہے: جسٹس منصور علی شاہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) جسٹس منصور علی شاہ نے ٹیکنالوجی فار جسٹس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر عدلیہ کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس وقت عدالتوں کے سامنے بائیس لاکھ مقدمات زیرالتواءہیں، عدالتی کارروائی کو غیر ضروری تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اور ثالثی اور تصفیے کا نظام بہتر بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتوں کے درمیان رابطے اور نگرانی کا نظام بہتر بنانے کے لیے آن لائن سماعتوں، کیس مینجمنٹ سسٹم اور ڈیٹا کی بنیاد پر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ قیدیوں، عورتوں اور بچوں، انسانی حقوق، معیشت اور ریاست سے متعلق مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جا سکے۔ مقدمات کے فیصلے ایک سال کے اندر ہو جانے چاہیئں، التواءسے سائلین اور خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے نوجوان وکلاءاور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو دوعت دی کہ وہ ایسے منصوبے پیش کریً جن کی مدد سے مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے۔
ٹیکنالوجی فارجسٹس فورم کی تقریب میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کے نظام میں بہتری لانے سے متعلق پینل مذاکروں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ کانفرنس کے دوران وکیل آن لائن اور بنچ بک ایپ سمیت متعدد منصوبوں سے متعلق معلومات مہیا کی گئیں۔
ٹیکنالوجی فار جسٹس سسٹم کا قیام 2019 میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی مدد سے انصاف تک آسان رسائی اور ڈیجیٹل لیگل پاکستان کی بنیاد رکھنا تھا۔ اس فورم کے تحت رواں برس لاہور اور کراچی میں بھی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں۔
ٹیکنالوجی فار جسٹس فورم سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی بروقت فراہمی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ ضلعی عدلیہ پر توجہ دی جائے۔ جسٹس من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے شروع کیے گئے منصوبوں سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کووڈ کے دوران سب سے پہلے ای کورٹس متعارف کرائیں، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام عبوری حکم نامے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیئے جاتے ہیں۔
تقریب سے جرمن سفیر برن ہارڈ شلیگ ہیک نے بھی خطاب کیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
وکیل آن لائی کے شریک بانی اسفند یار قصوری کا کہنا تھا، ‘ٹیکنالوجی فار جسٹس فورم 2022 کا یہ آخری پروگرام پاکستان میں ٹیکنالوجی اور نظام انصاف کے اشتراک کے مواقع فراہم کرنے کا باعث یے۔ حقیقی ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انصاف ہر پاکستانی کی دسترس میں ہو۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کو کام جاری رکھنے کی اجازت

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کام کرنے کی اجازت دے دی، عدالت نے چیف سیکرٹری سمیت تمام فریقوں سے تحریری جواب طلب کر لیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کام سے روکنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو سرکاری فرائض کی ادائیگی سے روکنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ تحریری طور پر بتایا جائے کہ ایڈووکیٹ جنرل سے کچھ بھی واپس نہیں لیا گیا، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جب ایڈووکیٹ جنرل کا مسئلہ ہو تو عدالت ہمیشہ ایڈووکیٹ جنرل کیساتھ ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت آپ کو ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواد یعقوب نے بتایا کہ یہ اندرونی انتظام ہے جس کے لئے مجھے اختیارات دئیے گئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں سیکرٹری قانون کیسے آپ کو اختیارات دے سکتا ہے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نے کہا کہ احمد اویس آج بھی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہیں لیکن ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حکومت کے مفاد کو مدنظر نہیں رکھ رہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ حکومت صرف صرف اتنا کر سکتی ہے کہ فلاں افسر فلاں کیس میں پیش ہو گا فلاں پیش نہیں ہو گا۔
ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو نہ خراب کر سکتے ہیں، نہ اس کے گھر سے سکیورٹی ہٹا سکتے ہیں، ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے آفس کا چارچ سنبھال لیا،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سی سی پی اور آئی جی پنجاب کے خلاف کارروائی کرنے کا بڑا اعلان کردیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اس سسٹم کو اچھا بنائیں، چلنے دیں، کل آپکو بھی سامنا کرنا پڑے گا عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کام جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

پنجاب میں مخالفین کی تعداد 172 اور ہماری 177 ہے: مریم اورنگزیب

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مخالفین کی تعداد 172 اور ہماری 177 ہے، فیصلے سے پنجاب میں اتحادی جماعتوں کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ چار سال دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا ، منحرف ارکان نے پی ٹی ائی کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انحراف کیا۔ ایک ہفتے پہلے تک عمران خان الیکشن کمیشن پر حملہ آور تھے، الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پنجاب میں ن لیگ کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ن لیگ اور اتحادیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ منحرف ارکان الیکشن کمیشن کو فیصلہ چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں، بزدار اصل میں وزیر اعلیٰ تھے ہی نہیں، آج تحریک انصاف پنجاب میں 25 ارکان سے محروم ہوگئی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان نے ملک میں معیشت کی تباہی کے خلاف ووٹ دیا، آج اپنے گریبان میں جھانکنے کا وقت ہے عمران صاحب، جس اسمبلی میں بھی عدم اعتماد ہوگا آپ وہاں سے باہر پھینکے جائیں گے ۔ عمران خان نے آئین شکنی کی، ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر جشن منانے والوں کو ماتم کرنا چاہیے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال سے نہیں آیا ،منحرف ارکان کا فیصلہ ایک ماہ میں آگیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ آٹھ سال سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کس کے دباؤ پر تاخیر کا شکار ہے، جس طرح یہ فیصلہ ایک ماہ میں آیا، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ایک دن میں ہونا چاہیے۔
مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ جس تیزی سے اس کیس کا فیصلہ آیا اسی طرح فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا جائے۔

راجہ ریاض کی قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر منظوری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن راجہ ریاض کی قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر منظوری دے دی گئی۔
17 ارکان قومی اسمبلی کے دستخطوں سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کرائی گئی تھی، ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر کے لئے حامی ارکان کے دستخطوں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔
سکروٹنی کے بعد راجہ ریاض کو 16 ممبران کی جانب سے حماہت حاصل تھی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔

25 منحرف اراکین اسمبلی ڈی سیٹ: الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کے 25 منحرف اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کاتحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی روشنی میں فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا، منحرف اراکین اسمبلی تاحیات نااہلی سے بچ گئے اور الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔ فیصلہ 23 صفحات پر مشتمل ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارکان نے وزیراعلیٰ کےانتخاب میں مخالف امیدوار کو ووٹ دیا، مخالف امیدوارکو ووٹ ڈالنے سے انحراف ثابت ہو گیا، منحرف ارکان کے خلاف ڈکلیریشن کو منظور کیا جاتا ہے، منحرف اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم ہو گئی، اب یہ نشستیں خالی ہو گئیں، الیکشن کمیشن کے پاس ریفرنس سے متعلق دو آپشن تھے، ارکان کو 63 اے کی شرائط پوری نہ ہونے پر مسترد کرنا ہی آپشن تھا، دوسرا آپشن تھا مخالف سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی کہا گیا امیدوار کو ووٹ ڈالنا سنگین معاملہ ہے۔
فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کی رائے ہی کہ ارکان کا مخالف امیدوار کو ووٹ ڈالنا ایک سنگین معاملہ ہے، مخالف امیدوار کو ووٹ دینے پارٹی پالیسی سے دھوکا دہی کی بدترین شکل ہے، الیکشن کمیشن اس نتیجہ پر پہنچا انحراف کے معاملہ کا انحصار شرائط پر پورا اترنے کے معاملے پر نہیں ہو گا۔
الیکشن کمیشن نے جن 25 منحرف اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کیا ہے ان میں صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر احمد چوہان، محمد امین ذوالقرنین، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گِل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل حیات شامل ہیں۔ ان میں سے متعدد اراکین کا تعلق جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ اور اسد کھوکھر گروپ سے ہے۔
راجہ صغیر، پی پی 7 راولپنڈی
ملک غلام رسول سانگھا، پی پی 83 خوشاب
سعید اکبر نوانی، پی پی 90 بھکر
محمد اجمل چیمہ، پی پی 97 فیصل آباد
عبد العلیم خان، پی پی 158 لاہور
نذیر چوہان، پی پی 167 لاہور
امین ذوالقرنین، پی پی 170 لاہور
ملک نعمان لنگڑیال، پی پی 202 ساہیوال
سلمان نعیم، پی پی 217 ملتان
زوار حسین وڑائچ، پی پی 224 لودھراں
نذیر احمد خان، پی پی 228 لودھراں
فدا حسین، پی پی 237 بہاولنگر
زہرا بتول، پی پی 272 مظفر گڑھ
لالہ طاہر، پی پی 282 لیہ
اسد کھوکھر، پی پی 168 لاہور
محمد سبطین رضا، پی پی 273 مظفر گڑھ
محسن عطا خان کھوسہ، پی پی 288 ڈی جی خان
میاں خالد محمود، پی پی 140 شیخوپورہ
مہر محمد اسلم، پی پی 127 جھنگ
فیصل حیات جبوانہ، پی پی 125 جھنگ
عائشہ نواز، ڈبلیو 322 مخصوص نشست
ساجدہ یوسف ڈبلیو 327 مخصوص نشست
عظمیٰ کاردار ڈبلیو 311 مخصوص نشست
ہارون عمران گل، این ایم 364 اقلیتی نشست
اعجاز مسیح، این ایم 365 اقلیتی نشست