۔ 14 مئی 2026ء ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ اب نہیں چاہتا کہ ایران سے مزید جنگ ہو یا نئے حملے شروع ہوں۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد اب کوئی کولڈوار نہیں ہوگی ، دونوں میں تعلقات متوازن ہوگئے، امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں پاکستان اہم کردار ادا کررہا ہے، امریکا اور چین کے درمیان آج ملاقاتیں تاریخی ہیں یہ ایک نیاورلڈ آرڈر ہے۔
موجودہ بحران میں اس وقت اسلام آباد ہی کمیونیکیشن چینل ہے۔ ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد اب ایران جنگ نہیں ہوگی اچھی خبریں آئیں گی، ٹرمپ اب نہیں چاہتا کہ ایران سے مزید جنگ ہو یا نئے حملے شروع ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل مسلم ممالک کو لڑانے کیلئے مختلف سازشیں تیار کرتا ہے، امریکا خطے سے نکلنا چاہتا ہے اس لئے اسرائیل اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے، اسرائیل کی منصوبہ بندی ہے کہ مسلم ممالک کی آپس میں لڑائی ہو۔
دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیونے امریکی چینل سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں تائیوان مسئلے پر بات ہوئی ہے، تائیوان پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ تائیوان سے متعلق امریکا نے چین پر اپنا مئوقف واضح کردیا ہے، چینی صدر نے کہا کہ چین سے تائیوان کا دوبارہ الحاق ناگزیر ہے۔ امریکا کا ماننا ہے کہ طاقت کے ذریعے اس مقصد کا حصول خوفناک غلطی ہوگی۔
امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا ایران کے معاملے پر چین سے مدد نہیں مانگ رہا، امریکا کو ایران کے معاملے پر چین کی مدد کی ضرورت بھی نہیں۔چینی فریق نے کہا کہ چین بھی آبنائے ہرمز کو عسکریت کا مرکز بنانے کے حق میں نہیں ، چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس لگانے کے خلاف ہے یہ امریکا کا مئوقف ہے۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران، امریکا کی اندرونی سیاست کا استعمال کرکے بڑی ڈیل پر مجبور نہیں کرسکتا۔ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے میں چین کی بڑی دلچسپی ہے، چینی صدر آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں ،چینی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مدد کی پیشکش کی ہے۔





































