امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں دو حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں کم از کم ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرین کی عمریں 14 سے 61 سال کے درمیان ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دو افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔ پولیس لیفٹیننٹ ڈین گرکن نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا، “میں نے (جرائم کے) بہت سے مناظر دیکھے ہیں، لیکن یہ واقعہ حد سے زیادہ سنگین ہے”۔
ڈپٹی چیف جوزف ہیفرنن نے اسے ایک “انتہائی سرگرم” تحقیقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ہیفرنن نے بتایا، “ہمارے پاس کچھ شواہد موجود ہیں اور ہم کچھ اہم سراغوں پر کام کر رہے ہیں”۔
لیفٹیننٹ گرکن نے کہا کہ تفتیش کار متعدد افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹولیڈو کے ڈائریکٹر پبلک سیفٹی جارج کرال نے عوام سے موبائل فون کی فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ پولیس کو مشتبہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔
جارج کرال نے کہا، “میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے پاس معلومات موجود ہیں۔ براہ کرم ہماری مدد کریں تاکہ ہم آپ کی مدد کر سکیں”۔
ٹولیڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ‘اولڈ ویسٹ اینڈ فیسٹیول’ کے قریب ایک شخص کو گولی لگنے کی اطلاع پر شام تقریباً 5:37 بجے اہلکاروں کو روانہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ “متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے”۔
جارج کرال نے بتایا کہ اس تقریب میں چند سو لوگ موجود تھے۔ انہوں نے کہا، “یہ ٹولیڈو کے سب سے تاریخی اور معروف تہواروں میں سے ایک ہے، اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس طرح کے واقعے نے اسے خراب کر دیا”۔
‘گن وائلنس آرکائیو’ ویب سائٹ کے مطابق، ٹولیڈو کے واقعے کے علاوہ، رواں سال امریکہ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ (ماس شوٹنگ) کے 171 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ ویب سائٹ بڑے پیمانے پر فائرنگ کی تعریف ایک ایسے واقعے کے طور پر کرتی ہے جس میں حملہ آور کے علاوہ کم از کم چار افراد گولی لگنے سے زخمی یا ہلاک ہوئے ہوں۔
