Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے
    • اوپیک پلس کے خام تیل کی پیداوار بڑھانے کے فیصلے کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی
    • خیبر پختونخوا حکومت کا نایاب یاک نسل کے تحفظ کے لیے 30 کروڑ روپے سے منصوبے کا آغاز
    • پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ نرخ ساڑھے 4 لاکھ روپے کے قریب گیا
    • پاکستان بھر میں مون سون بارشوں کے دوسرے اسپیل کی پیش گوئی
    • کیپ وردے کے ووزینہ دنیا کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے گول کیپر بن گئے
    • محسنی اژه‌ای دوبارہ ایران کے عدلیہ سربراہ مقرر
    • جاپان سے منسلک 10 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے نکل گئے
    • اُن لوگوںکو 21 توپوں کی سلامی جو مجھ سے پوچھ رہے ہیں”آپ زندہ ہیں”:وسیم اکرام
    • میرے بعد دوسرے نمبر پر عاطف اسلم اچھے گلوکار ہیں،چاہت فتح علی
    • لینڈ سلائیڈ کے باعث قراقرم ہائی وے بند، سیاح پھنس گئے
    • کیف پر روسی حملہ، 7 افراد ہلاک، رہائشی عمارتیں متاثر
    • پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل
    • سام سنگ دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنی بننے کے قریب
    • شام میں داخل ہونے کی کوشش، 100 سے زائد آبادکار گرفتار
    • شعیب ملک نے بیٹے اذہان کے ساتھ فٹبال کے خوبصورت لمحات شیئر کر دیے
    • ویبھوو سوریہ ونشی دوسرے کم عمر ترین بین الاقوامی کرکٹر بن گئے
    • خامنہ ای کی 14 ماہ کی پوتی کے لیے دعائیہ تقریب
    • غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں دو فلسطینی شہید
    • پی سی بی نے کھلاڑیوں کی تنخواہوں کے لیے 1.1 ارب روپے منظور، میچ فیس میں بھی تبدیلی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    فاروق بندیال 15سال تک ن لیگ کا ہمنوالا ہم پیالہ رہا مریم نواز کو شال پہنائی تب کسی کو اس کی بد معاشی کا خیال کیوں نہ آیا؟خبریں میں چونکا دینے والی سٹوری

    By Daily Khabrainجون 2, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (ریاض صحافی) شبنم ڈکیتی اور عصمت دری کیس کا مرکزی مجرم فاروق بندیال تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل ن لیگ کی آنکھ کا تارا تھا۔ ن لیگ سے س کی وابستگی 15 برس رہی‘ اس دوران اس کی ن لیگ سے میل ملاقات بھی ہوتی تھی۔ فاروق بندیال نے ایک تقریب میں نااہل وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شال بھی پہنائی مگر تب کسی کو اس کی ڈکیتی‘ بدمعاشی اور اداکارہ شبنم کی عصمت دری کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ وہ طویل عرصہ ن لیگ کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہا۔ مگر جب وہ تحریک انصاف میں شامل ہوا تو اس کے جرائم کے حوالے سے ایک طوفان برپا ہوگیا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو جب اس کے گھناو¿نے جرائم کا پتہ چلا تو انہوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فاروق بندیال کو تحریک انصاف سے نکال پھینکا۔ ماضی کے بدنام زمانہ فاروق بندیال کے حوالے سے اخبارات و جرائد‘ ٹی وی‘ چینلوں اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کی خبریں چل رہی ہیں۔ اس ضمن میں ماضی کے مشہور کرائم رپورٹر جمیل چشتی نے معروف ادیب اور کالم نگار رضی الدین رضی کی سٹوری سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سٹوری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جو ”خبریں“ کے قارئین کی معلومات کیلئے چشتی صاحب کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔ جمیل چشتی کا کہنا ہے کہ فاروق بندیال کا نام 1978ءمیں اداکارہ شبنم گینگ ریپ کیس کے مرکزی مجرم کی حیثیت سے سامنے آیا تھا۔ فاروق بندیال اور اس کے 5 دوستوں نے 12 مئی 1978ءکو گلبرگ لاہور میں اداکارہ شبنم کے گھر واردات کی اور ان کے شوہر موسیقار روبن گھوشی اور بیٹے روفی گھوش کو رسیوں سے باندھ کر ان کے سامنے شبنم سے رات بھر شیطانی کھیل کھیلتے رہے۔ ملزمان صبح سویرے نقدی اور زیورات لیکر فرار ہوگئے۔ تمام ملزمان اعلیٰ اور بااثر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے قریبی رشتہ داروں میں بیورو کریسی کے اعلی افسران بھی شامل تھے۔ واردات کے 5 روز بعد 17 مئی 1978 کو لاہور پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ یہ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکا دور تھا اور فاروق بندیال کے ماموں ایس کے بندیال صوبائی سیکرٹری داخلہ کے عہدہ پر فائز تھے۔ فاروق اور اس کے ساتھی مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی مگر عوامی احتجاج اور فلم انڈسٹری کی ہڑتال کے باعث حکومت ان کے خلاف مقدمہ چلانے پر مجبور ہوگئی۔ 24 اکتوبر 1979 کو فوجی عدالت نے فاروق بندیال اور اس کے 5 ساتھیوں کو سزائے موت سنا دی۔ تاہم بعد میں شبنم پر دباو¿ ڈلوا کر ان کی سزا معاف کر دی گئی۔ فاروق کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں بی کلاس دی گئی۔ جیل میں موجود سیاسی قیدیوں کے مطابق وہ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ عام قیدیوں کو بڑے فخر سے بتاتا تھا کہ ہم نے اداکارہ شبنم کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ مشرق وسطی کے ایک ملک کی اعلیٰ شخصیت کی سفارش پر ان کی پھانسی کی سزا عمر قید میں بدل گئی اور شبنم انہیں معاف کرنے کے بعد اپنے اکلوتے بیٹے اور شوہر کے ساتھ بیرون ملک منتقل ہوگئیں۔ یہ اداکارہ شبنم کے عروج کا زمانہ تھا اس نے 25 نومبر 1978 کو فوجی عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا اور فاروق بندیال اور دیگر ملزمان کی شناخت کی یہ ساراحوال روز نامہ ”امروز“ اور دیگر اخبارات میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوا۔ شبنم کے وکیل نامور قانون دان ایس ایم ظفر تھے۔ جبکہ فاروق بندیال کی طرف سے بھی معروف وکیل عاشق حسین بٹالوی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ عاشق حسین بٹالوی کی وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ اس زمانے میں نواب محمد احمد خان قتل کیس میں وکیل استغاثہ تھے۔ اس کیس کے مرکزی ملزم پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ اداکارہ شبنم نے بیان ریکارڈ کرانے سے قبل بائیبل پر حلف دیا۔ انہوں نے اردو زبان میں بیان دیا۔ شبنم نے عدالت کے روبرو کہا کہ ملزمان میرے بیٹے روفی کو اغوا اور قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے میں بیٹے کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار تھی۔ شبنم نے انتہائی خندہ پیشانی سے مخالف وکیل کی جرح کا سامنا کیا اس موقع پر شبنم کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے جبکہ عدالت میں فاروق بندیال کے ہمراہ دیگر ملزمان وسیم یعقوب بٹ‘ طاہر تنویر بھنڈر‘ جمیل احمد چٹھہ‘ جمشید اکبر ساہی بھی موجود تھے۔ جمیل چشتی اس وقت سید عباس اطہر کی زیر ادارت نکلنے والے روز نامہ ”آزاد“ کیلئے کام کرتے تھے۔ وہ پہلے صحافی تھے جو واردات کے بعد شبنم کے گھر پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت گھر میں سامان بکھرا ہوا تھا۔ شبنم کی حالت غیر تھی روبن گھوش کا کرتا پھٹا ہوا تھا۔ شبنم اپنے بیٹے کو گود میں لئے سو رہی تھی۔ وہ بار بار بہوش ہو جاتی تھی۔ شبنم کے بیڈ روم میں پرفیوم کی بے پناہ خوشبو تھی جو ملزمان شبنم پر انڈیلتے رہے۔ جمیل چشتی کی موجودگی میں ہی اداکار محمد علی شبنم کے گھر پہنچے اور انہوں نے پولیس اور اعلی حکام سے رابطہ کئے۔ جمیل چشتی کے مطابق ایک ملزم جمشید اکبر ساہی کا تعلق پولیس سے تھا۔ اس لئے ملزمان پولیس کی نقل و حرکت سے بھی واقف تھے۔ اس زمانے میں پولیس صبح ساڑے چار بجے تک گشت کیا کرتی تھی۔ ملزمان نے واردات کے بعد ساڑھے چار بجے کا انتظار کیا اور پولیس گشت ختم ہونے کے بعد سارے اطمینان سے فرار ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملزمان کی گرفتاری بھی اس جمشید شاہی کی وجہ سے عمل میں آئی۔ واردات کے دوران جو زیورات لوٹے گئے ان میں اداکارہ شبنم کا ایک قیمتی ہار بھی تھا۔ جمشید شاہی واردات کے تیسرے روز وہی ہار ایک طوائف کو تحفہ دینے بازارحسن گیا تو وہاں پہلے سے موجود مجرموں کی نشان دہی پر دہر لیا گیا۔ اداکارہ شبنم کے وکیل ایس ایم ظفر نے شبنم ڈکیتی کی واردات اپنی کتاب ” میرے مشہور مقدمے“ میں بھی تفصیل سے درج کی ہے۔ ملزموں نے اس قسم کی واردات اداکارہ زمرد کے ساتھ بھی کی تھی۔ مگر اس نے ان کے ڈر سے خاموشی اختیار کئے رکھی۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے

      خیبر پختونخوا حکومت کا نایاب یاک نسل کے تحفظ کے لیے 30 کروڑ روپے سے منصوبے کا آغاز

      پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ نرخ ساڑھے 4 لاکھ روپے کے قریب گیا

      تازہ ترین

      کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے

      آئرلینڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن بھارت کو 2-0 سے وائٹ واش کر دیا

      وینزویلا :زلزلے میں ارجنٹائن کے فٹبالر لوکاس ٹریخو نے اہلیہ اور دو بچوں کو کھو دیا

      تھور، گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر تباہی

      اسلام آباد، کشمیر، پشاور ،لاہور میں زلزلے کے جھٹکے شدت 5.9ریکارڈ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.