ایران کے سپریم لیڈر نے غلام حسین محسنی اژهای کو ایک بار پھر ملک کے عدلیہ کے سربراہ کے طور پر مقرر کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق محسنی اژهای اس سے قبل بھی عدلیہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور حالیہ تقرری ان کی دوبارہ ذمہ داری کی تصدیق کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اپنے سابقہ دور میں انہوں نے احتجاجی گرفتار افراد کے مقدمات کو تیز رفتاری سے نمٹانے کا اعلان کیا تھا اور بعض مظاہرین پر اسرائیل اور امریکا کے ساتھ رابطوں کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ حکام کے مطابق وہ عدالتی کارروائیوں میں سخت پالیسی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
