خیبر پختونخوا حکومت کا نایاب یاک نسل کے تحفظ کے لیے 30 کروڑ روپے کے منصوبے کا آغاز
خیبر پختونخوا حکومت نے اپر چترال میں نایاب یاک نسل کے تحفظ اور افزائش کے لیے 30 کروڑ روپے مالیت کے ایک جامع منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ یہ منصوبہ آئندہ تین برسوں کے دوران سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 2026-29 کے تحت مکمل کیا جائے گا اور اسے پاکستان میں یاک کے تحفظ کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا جامع منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق پاکستان میں یاک صرف اپر چترال کی بلند و بالا وادیوں میں پائے جاتے ہیں۔ 2024 کی ساتویں زرعی مردم شماری کے مطابق ملک میں یاک کی تعداد صرف 1,923 رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک کی نایاب ترین مویشی نسلوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، چراگاہوں کی تباہی، غیر سائنسی کراس بریڈنگ، ویٹرنری سہولیات کی کمی اور منظم افزائشی پروگراموں کا فقدان اس نسل کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
