Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • عوامی مفاد کے پیشِ نظر کویت میں ایرانی نجی اسکول کی بندش کا فیصلہ۔
    • ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں 26 سالہ ناقابلِ شکست سیریز برقرار۔
    • اتحاد ایئرویز نے کئی ہفتوں کی معطلی کے بعد بحرین اور کویت کے لیے پروازیں دوبارہ بحال کر دیں
    • مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپے، 60 فلسطینی گرفتار
    • سابق چیئرمین ایتھوپین ایئرلائنز پی آئی اے کےبجائے ایئر انڈیا کے سی ای او بن گئے
    • اسرائیل نے غزہ سے تعلق رکھنے والے 24 فلسطینی زیرِ حراست افراد کو رہا کر دیا
    • ٹرمپ : بڑے حملے سے قبل ایران نے مذاکرات کی درخواست کی
    • اسرائیلی فوج کے سربراہ نے جنگ بندی کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر دیا
    • جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں متعدد افراد زخمی
    • تمام مشکلات کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ، استقامت اور ثابت قدمی آج بھی غیر متزلزل ہے۔ — آصف علی زرداری
    • جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلۂ کشمیر کے حل سے جڑا ہے: شہباز شریف
    • سابق بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ نے وطن واپسی کا اعلان کر دیا
    • پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ سونا 10 ہزار روپے مہنگا ہو گیا۔
    • امریکا، ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کو 60 دنوں کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کر لیا۔
    • بروک لیسنر نے پیشہ ورانہ ریسلنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
    • پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جنوبی کوریا کو 3-4 سے شکست دے کر ہاکی سیریز اپنے نام کر لی
    • ارطغرل کے معروف اداکار جلال آل نے پاکستان دوبارہ آنے کا اعلان کر دیا۔
    • بحیرۂ احمر سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار دو آئل ٹینکر بحفاظت واپس پہنچ گئے۔
    • طلاق کے بعد اپنی بیٹی کی پرورش کے لئے مجھے خود مختار بننا پڑا، تا کہ اپنے ماں باپ پر بوجھ نہ بنوں !۔۔ (شرمین علی)
    • عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کر دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کےا رقم وصول کرنے والے گڈیا بیڈ طالبان ہیں ؟

    By Daily Khabrainجون 6, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    وانا (ویب ڈیسک)وانا میں طالبان کی موجودگی ایک حقیقت ہے جو ملا نذیر گروپ کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن ملا نذیر کی ہلاکت کے بعد ان کے چار کمانڈروں بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی، عین اللہ، ملنگ اور تاج نے اپنے اپنے گروپس منظم کیے اور وانا سب ڈویڑن کو بھی چار حصوں میں تقسیم کیا۔اس ہر ایک حصے پر ہر ایک کمانڈر کو اپنا کنٹرول حاصل ہے اس کے علاوہ تحصیل خان کا ایک گروپ تحصیل شکائی میں موجود ہے جس کو اپنے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور تحصیل خان گروپ کا ایک دفتر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی موجود ہے۔اس گروپ نے ملا نذیر کی زندگی میں ایک الگ گروپ کی شکل اختیار کی تھی۔دوسرے چار کمانڈروں نے آپس میں علاقے کی تقسیم کچھ اس طرح کی کہ صلاح الدین ایوبی کے حصے میں سپین، تنائی، ثمر باغ، موسی قلعہ، ڈوگ، پیر باغ اور کرم کوٹ آئے۔ عین اللہ کے حصے میں کڑی کوٹ، لمن، غواہ خوہ شو کوٹ، ڈب کوٹ اور دڑہ غونڈئے آئے۔اس طرح ملنگ گنگی خیل کے حصے میں دانہ، شاہ عالم، انگور اڈا، خمرنگ اور رغزائی کے علاقے آئے، جبکہ تاج کے حصے میں اعظم ورسک، کڑہ پنگہ، کالوتائی، وچہ دانہ اور سرکنڈا آئے۔وانا بازار اور اس سے متصل علاقوں کو مہینوں کے حساب سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ایک گروپ وانا بازار میں ایک، ایک مہینہ گزارے گا ہر ایک گروپ ہر یکم کو اپنا چارج چھوڑ کر دوسرے کو چارج دے دیتا ہے۔البتہ وانا بازار کی تقسیم میں تحصیل خان کا گروپ شامل نہیں، دیگر چار کمانڈروں کے وانا بازار میں اپنے اپنے دفاتر موجود ہیں اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ ان دفاتر کو امن کمیٹیوں کے نام سےجانتی ہے۔مقامی انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق وانا بازار میں 6000 سے زیادہ دوکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ 30 کے قریب سبزی کی دوکانیں بھی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی ذمہ داریاں ان کمیٹیوں کے سپرد ہیں، اس لیے ہر ماہ کے حساب سے ٹیکس بھی یہی کمیٹیاں وصول کرتی چلی آرہی ہیں۔طالبان فی دوکان 500 روپے ٹکیس وصول کرتے ہیں جو مہینے کے حساب سے 30 لاکھ سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ جو علاقے کسی کمانڈر کے زیر نگرانی ہیں وہ اس علاقے کے تمام معاملات کو بھی نمٹاتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق کاروبار یا زمین کے تنازعات میں ہر ایک فریق سے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ اس طرح علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں 13 فیصد ہر ایک ٹھیکیدار طالبان کو تھما دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ طالبان کی طرف سے لاگو قوانین کی خلاف ورزی پر بھی بھاری جرمانے دینے پڑتے تھے اور شادی بیاہ کے موقع پر موسیقی بجانے پر 50 ہزار، رات دس بجے کے بعد گھر سے نکلنے پر دس ہزار مقرر ہے۔ان سارے پیسوں کی آمد کی وجہ سے وانا میں عام شہریوں کی نسبت طالبان کی زندگی بہتر سمجھی جاتی ہے اور طالبان کے پاس عام لوگوں کی نسبت گاڑیاں بھی اچھی ہیں اور اکثر کمانڈروں نے تو دو دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ بات اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر ایک کمانڈر ہلاک ہو جاتا ہے تو اس کمانڈنگ کی ذمہ داری اپنے گھر میں کسی کو دے دی جاتی ہے اور وہ اسے اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ان چاروں گروپوں کا آپس میں مضبوط اتحاد و اتفاق ہے اور علاقے میں کسی مزید گروپ کو بننے نہیں دیا جاتا۔سنہ 2014 میں گلام خون نامی ایک طالب نے ایک الگ گروپ بنانے کی کوشش کی تو چاروں کمانڈروں نے ایک ساتھ ان کے مرکز کو بند کر دیا اور چاروں کمانڈروں کی طرف اس وقت صاف صاف ہدایت جاری کی گئی کہ مزید کسی کو گروپ بنانے کی اجازت نہیں۔وانا بازار میں ان چاروں کمانڈروں کے دفاتر کے علاوہ ہر ایک کے علاقے میں تربیتی مراکز بھی موجود ہیں۔سب سے بڑا مرکز بہاول خان ایوبی کا ہے جو تقریباً 12 سو کنال رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جو موسی قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مرکز وانا سکاو¿ٹس کیمپ سے جنوب کی جانب صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس میں ایک عالی شان بنگلہ، سیب، آڑوں اور خوبانی کے باغات ہیں۔یہ زمین پیر عادل گیلانی کی ملکیت ہے جس پر ملا نذیر نے 2007 میں قبضہ کیا تھا، جہاں میں مختلف تنازعات کی پیشیاں ہوتی ہیں۔وانا میں لوگ کئی سالوں سے طالبان کی طرف سے زیادتیاں برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں اور کئی دفعہ کسی معاملے پر عزت دار لوگوں کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے دلوں میں طالبان کے لیے غصہ موجود تھا۔کراچی میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کے بعد پختون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم ) نے سر اٹھایا اور ساتھ ہی وانا میں عام شہریوں نے طالبان کے خلاف بات کرنا شروع کر دیا اور کچھ عرصہ پہلے کمانڈر عین اللہ نے ایک پمفلٹ کے ذریعے موسیقی اور ننگے سر پر پابندی کا اعلان کیا تھا، جس پر عام شہریوں نے شور مچایا اور اس پمفلٹ کو اخبارات میں شائع کیا گیا، جس کے بعد عین اللہ اور مقامی علما پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوگئے اور بتایا گیا کہ ان کا اس پمفلٹ سے کوئی تعلق نہیں۔بعد میں طالبان کے خلاف باتوں نے زور پکڑا، مقامی انتظامیہ نے علما اور مالکان پر مشتمل ایک جرگے کے ذریعے طالبان اور عام شہریوں میں تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے اور آخر کار ’پختون تحفظ مومنٹ‘ نے اپنے جلسوں اور سوشل میڈیا پر طالبان کے خلاف بولنا شروع کر دیا اور گذشتہ روز کے واقع سے ایک دن پہلے یعنی دو جون کو وانا سکاو¿ٹس کیمپ کے سامنے پختون تحفظ مومنٹ کے جلسے میں علی وزیر نے طالبان کو خوب للکارا اور کہا کہ وانا میں مزید لمبے بال والے نہیں چلیں گے۔ جس کے نتیجے میں گذشتہ روز کا یہ واقعہ پیش آیا، چار افراد ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوگئے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    بحیرۂ احمر سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار دو آئل ٹینکر بحفاظت واپس پہنچ گئے۔

    لاہور میں حضرت داتا گنج بخشؒ کا تین روزہ سالانہ عرس مبارک شروع

    ملتان میں صارفین کے مبینہ تشدد کے بعد سب وے پاکستان کا قانونی کارروائی کا اعلان

    تازہ ترین

    ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

    جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

    عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

    فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

    حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.