سابق مایہ ناز پاکستانی بیٹر اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف کی طویل عرصے پر محیط مخلصانہ دعوتی، تبلیغی اور اعلیٰ اخلاقی کوششیں رنگ لے آئیں۔ ان کے بہترین طرزِ عمل اور مسلسل رابطے کے نتیجے میں ان کے خاندان کے 12 قریبی رشتہ دار دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے والے ان پڑھتے لکھتے اور معزز افراد میں دو نامور ڈاکٹرز اور ایک پروفیسر بھی شامل ہیں، جنہوں نے سوچ سمجھ کر حق کا راستہ چنا۔
ذرائع اور خاندانی ذرائع کے مطابق، جب محمد یوسف نے سال 2005 میں عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا، تو ان کا یہ قریبی خاندان شدید ناراض ہو گیا تھا اور ان سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ تاہم، محمد یوسف نے اس کڑے وقت میں بھی ہمت نہ ہاری اور دشنام طرازی یا دوری کے بجائے مسلسل محبت، صلہ رحمی، بے مثال اخلاق اور دھیمے دعوتی انداز کو اپنائے رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اسی حسنِ اخلاق اور خلوص نے بالآخر ان کے رشتہ داروں کے دلوں پر گہرا اثر ڈالا، جس کے بعد انہوں نے طویل غور و فکر کے بعد باقاعدہ طور پر کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام لانے کا فیصلہ کیا۔
اس بابرکت اور انتہائی پرمسرت تقریب کے موقع پر سابق مایہ ناز اوپنر سعید انور، سابق کپتان انضمام الحق سمیت دیگر اہم مذہبی و سماجی شخصیات اور قریبی دوست بھی موجود تھے، جنہوں نے نو مسلم خاندان کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

