لبنان کے شہر صور (Tyre) میں اسرائیلی حملوں سے یونیسکو (UNESCO) کے عالمی ثقافتی ورثے الباص (Al-Bass) کے رومی دور کے کھنڈرات کو نقصان پہنچا ہے۔
واقعہ: متعدد اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان کے شہر صور (Tyre) میں قدیم آثار قدیمہ کے مقام اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ، الباص رومی کھنڈرات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
نقصان کی تفصیلات: حملوں کا یہ سلسلہ براہ راست اس مقام یا اس کے قریبی حفاظتی زونز پر ہوا۔ رومی دور کے پچی کاری (mosaics)، ستونوں اور ان کے بالائی حصوں (capitals) پر ملبہ، مڑی ہوئی دھاتیں اور تباہ شدہ ڈھانچے بکھر گئے۔ لبنان کے محکمہ آثار قدیمہ کے عدنان استنبولی کے مطابق، اس علاقے کے کچھ حصے ایسے لگ رہے تھے "جیسے وہاں زلزلہ آیا ہو”۔ اس کے علاوہ ایک قدیم ستون کا اوپری تاج بھی اڑ گیا۔
وسیع تر پس منظر: یہ حملے ایک ماہ سے جاری اس وسیع تر فوجی کشیدگی کا حصہ ہیں جس نے صور شہر کو تباہ کر دیا ہے۔ لبنان کے وزیر ثقافت غسان سلامہ نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں تاریخی مقامات—بشمول نبطیہ میں مملوک دور کے بازار اور قرون وسطیٰ کے بیوفورٹ قلعے (Beaufort Castle) کے کچھ حصے—شدید نقصان یا مکمل تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔
سرکاری ردعمل:
لبنانی حکام: حکام نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ الباص 5,000 سالہ تاریخ کا حامل مکمل طور پر ایک سویلین اور عالمی ثقافتی مقام ہے، اور انہوں نے واضح کیا کہ ان کھنڈرات میں کوئی فوجی موجودگی نہیں تھی۔
یونیسکو (UNESCO): ادارے نے صور میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، تمام فریقین کو یاد دلایا کہ اس مقام کو "خصوصی تحفظ کا درجہ” حاصل ہے، اور ثقافتی املاک پر غیر قانونی حملوں کی مذمت کی۔
اسرائیلی فوج: آئی ڈی ایف (IDF) نے عام طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتی ہیں اور وہ حساس ثقافتی مقامات کے قریب آپریشن کرتے وقت منظوری کا ایک سخت عمل اپناتے ہیں۔

