امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں مختلف امریکی میڈیا ہاؤسز (بشمول فاکس نیوز، دی مائیکل نولز شو، اور ایچ بی او) کو انٹرویو دیتے ہوئے قطر (دوحہ) اور سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ جاری حساس تکنیکی مذاکرات کی تفصیلات فراہم کیں۔
"ہمیں اس بات سے بہت کم فرق پڑتا ہے کہ ایرانی کیا کہتے ہیں، ہمیں زیادہ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ صدر (ٹرمپ) نے ہم سے کہا ہے کہ معاملے پر کام کریں، دیکھیں کہ مذاکرات کس طرف جاتے ہیں، اور اگر سفارتی محاذ پر کوئی کامیاب حل نہ نکل سکا، تو ہمارے پاس اب بھی کئی دیگر راستے اور آپشنز (Optionality) موجود ہیں۔”
"امریکہ ہر صورت جیتے گا”: انہوں نے واضح کیا کہ اگر حتمی معاہدہ ناکام بھی ہو جاتا ہے، تب بھی امریکہ مضبوط پوزیشن میں ہے کیونکہ ایران کا جوہری پروگرام اور یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے اور وہ ایک کمزور ملک بن چکا ہے۔
ایرانی حکمتِ عملی پر تبصرہ: ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کی عوامی سطح پر تردید اور پسِ پردہ تکنیکی بات چیت کے اعتراف کو جے ڈی وینس نے ایک مبہم "ایرانی مذاکراتی پینترا” (Persian negotiating tactic) قرار دیا اور تصدیق کی کہ امریکی سفیر قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مل کر مستقل حل کے لیے کوشاں ہیں۔

