اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) وارڈ میں بدھ کی صبح لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔ پمز انتظامیہ اور اسلام آباد ضلعی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق آگ اسپتال کے تیسرے فلور پر واقع نرسری میں لگی، جہاں نومولود بچوں کو رکھا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی، تاہم بعد میں حکام کی جانب سے ایئر کنڈیشننگ یونٹ کے کمپریسر میں خرابی یا دھماکے کو بھی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔ حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر سہیل اشرف گورایہ کے مطابق آگ لگنے کی ہنگامی اطلاع صبح تقریباً 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی۔ ریسکیو ٹیمیں، پولیس، فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پالیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں اور ایمبولینسز نے حصہ لیا۔ آگ بجھانے کے بعد کولنگ کا عمل مکمل کیا گیا اور متاثرہ وارڈ کا معائنہ بھی کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق آگ لگنے کے بعد اسپتال میں بجلی بھی چلی گئی تھی، جبکہ متعلقہ حکام متاثرہ بچوں کے والدین سے رابطے میں ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ متاثرہ وارڈ کو تحقیقات مکمل ہونے تک سیل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ آتشزدگی کی اصل وجہ اور حفاظتی انتظامات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس المناک سانحے نے ملک بھر میں گہرے رنج و غم کی کیفیت پیدا کردی ہے۔

