All posts by Daily Khabrain

مسلح افراد کا بچوں کے سامنے ماں پر تشدد ،اُسترے سے سر مونڈھ دیا

جڑانوالہ (تحصیل رپورٹر )مسلح افراد کا گھر میں داخل ہو بچوں کے سامنے ماں پر وحشیانہ تشدد۔ سر کے بال مونڈ بچوں کی چیخ و پکار پر ظالموں کو رحم نہ آیا۔چیف جسٹس آف پاکستان اس زیادتی پر از خود نوٹس لے کر گھر کی چاردیواری و عورت کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔ درخواست گزار متاثرہ خاتون کی دہائی۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کے علاقہ اسلام پورہ نمبر 2الطاف پارک کی رہائشی روبینہ رفیق زوجہ رفیق بھٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان و تھانہ سٹی کو درخواستیں گزارتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میرے بھائی نے زرینہ بی بی کی بہن ممتا ز کو گھریلو ناچاکی پر طلاق دے دی تھی۔ زرینہ نے اپنے ساتھی نذیر احمد ، رفیق احمد وغیرہ کے ساتھ ساز باز کرکے اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ مورخہ 10-11-18کو شام گئے میرے گھر میں داخل ہو کر مذکورہ الزام علیہان آتشیں اسلحہ سے لیس تھے جنہوںنے اسلحہ کے زور پر محصور کر لیا اور مجھے میرے بچوں کے سامنے مجھے تشدد کا سامنے بنانے کے ساتھ ساتھ سر کے بال مونڈ ڈالے میرے بچے و موقع پر موجود گواہان چیخ و پکار کرتے رہے لیکن جان جانے کے خوف سے بپھر ے ہوئے ملزمان کے سامنے نہ آئے ۔ ایسے افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لا کر مجھے انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے ۔

شریف خاندان کی ایک اور مہنگی ترین جائیداد کا انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شریف خاندان کی سنٹرل لندن میں ایک اور جائیداد کی دستاویزات منظر عام پر آئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق دستاویزات کے مطابق سنٹرل لندن کی جائیداد کی قیمت ایوان فیلڈ کے 4اپارٹمنٹس سے زیادہ ہے۔ پراپرٹی بیگم کلثوم نواز کے نام پر تھی جس کو پانامہ لیکس میں نام آنے پر 6جون 2016میں حسن نواز کے نام منتقل کردیا گیا۔

لفظ پاکستان کے خالق کا آج یوم پیدائش

لاہور(صباح نیوز ) تحرےک پاکستان کے رہنماءاور پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی کا 121 -واں یوم پیدائش آج 16نومبربروز جمعة المبارک کو عقید ت وا حترام کے ساتھ منایاجائے گا ۔یوم پیدائش کے سلسلہ میں احمدیار سمیت ملک بھر میں تقریبات انعقاد پذیر ہوں گی چوہدری رحمت علی 16نومبر1897 کو ضلع ہوشیار پور مےں پیداہوئے ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں “مےں آپ نے پہلی بار مسلمانان ہند کی ارض پاک کے لئے لفظ ”پاکستان “ استعمال کیااور پھر قائد اعظمؒ کی قےادت مےں غیور مسلمانوں نے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا ٰ اللہ کا نعرہ بلند کرکے اپنی منزل پائی ۔چوہدری رحمت علی نے مسلہ کشمیر پر بھی اقوام متحدہ مےں آوازبلندکی ۔ وہ3 فروری1951 کو برطانیہ کے شہرکےمبرج مےں انتقال کرگئے تھے ۔الیکٹرونک اور پرنٹ مےڈیا فےچر اور پروگرام شائع کرےںگے۔

کسی کو ہمارے وزراءکی توہین کا حق نہیں ،وزیر اعظم نے پر ویز خٹک کو بڑا ٹاسک سونپ دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میںوزیراطلاعات سے متعلق چیئرمین سینٹ کی رولنگ پر مشاورت ہوئی، وزیراعظم نے وزیر دفاع کو چیئرمین سینٹ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو وزراءکی تضحیک کرنے کا حق نہیں۔ وزیر اطلاعات کے حوالے سے چیئرمین سینٹ کی رولنگ پر کابینہ نے مشاورت کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے وزیر دفاع پرویز خٹک کو چیئرمین سینٹ سے رابطہ کرنے اور مسلہ افہام و تفہیم سے حل کرانے کی ہدایت۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو وزراءکی تضحیک کا حق نہیں۔ وفاقی کابینہ نے نیشنل ہیلتھ سروسز اور روانڈا میں تعاون پروگرام اور کار بنانے والی کمپنی کی پابندی کے حامل آئٹمز کابل سے کراچی منگوانے کی منظوری دیدی ، وی آئی پی فلیٹس سے متعلق ایریل ورک لائسنس کی توسیع کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 100 روزہ حکومتی پلان پر عملدر آمد کا تفصیلی جائزہ لیا،12 ربیع الاول کو شان و شوکت سے منانے کا فیصلہ کیا، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پلان پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کا بینہ کا اجلاس وزیر اعظم کے دفتر میں ہوا۔ اجلاس میں وزرا نے اپنے متعلقہ محکموں کو دیے گیے اہداف کے متعلق رپورٹ دی جبکہ مختلف ٹاسک فورسز نے بھی اب تک کی کارکردگی کے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 100 روزہ حکومتی پلان پر عملدر آمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پلان پر عملدر آمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں کابینہ کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات اور وزیر اعظم کے 20 نومبر کو دورہ ملائیشیا پر اعتماد میں لیا گیا۔کابینہ کو سیرت النبی کانفرنس سمیت 12 ربیع الاول کی تیاریوں سے آگاہ کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے 12 ربیع الاول کو شان و شوکت سے منانے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں آذر بائیجان سے سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی توثیق کی گئی۔ طاہر امام بخش بنام حکومت پاکستان رٹ پٹیشن پر کابینہ سے رہنمائی لی گئی علاوہ ازیں وی آئی پی فلیٹس سے متعلق ایریل ورک لائسنس کی توسیع کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے کار بنانے والی کمپنی کی پابندی کے حامل آئٹمز کو کابل سے کراچی منگوانے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے نیشل ٹیلی کمیونیکیشن کے نظر ثانی بجٹ کی بھی منظوری دی جبکہ نیشنل ہیلتھ سروسز اور روانڈا میں تعاون کے پروگرام کی بھی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں پاک افغان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون کی یادداشت (ایم او یو) کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے پی ٹی ڈی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے اضافی چارج کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

فواد چودھری کا چیئر مین سینٹ بارے چونکا دینے والا بیان ‘

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہاہے کہ چیئر مین سینٹ توازن نہیں لاسکتے تو پھر حکومت کوسوچنا ڑے گا تفصیلات کے مطابق کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ مشاہد اللہ نے وزیر اعظم اور میری تذلیل کی لیکن چیئرمین سینٹ نے اس پر تو معافی مانگنے کا نہیں کہا ، اگر چیئرمین سینٹ توازن نہیں لاسکتے تو پھر حکومت کو سوچنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 100دن کے ایجنڈے پر غور کیاگیاہے ، وزیر اعظم عمران خان 29نومبر کو سوروزہ پلان پر قوم کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سو دن میں جتنا کام کیا گیاہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وزیر اعظم عمران خان کو بیرون ملک قید پاکستانیوں پر بڑی تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانیکی پوری کوشش کرے گی۔ فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان کے اربوں روپے کہاں گئے ، اس کا حساب فضل الرحمان ، نوازشریف اور زرداری سے لینا ضروری ہے ، یہ درباروں کی زمین بھی بیچ کرکھاگئے ہیں ۔ اد چوہدری نے کہا کہ مشاہد اللہ خان نے جس طرح سے وزیراعظم اور میرے حوالے سے بری زبان استعمال کی اس پر تو معافی نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر ہم غریب عوام کے پیسے کے بارے میں بات کریں تو ہمیں معافی کا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رولنگ پر کابینہ مطمئن نہیں ہے، پوری کابینہ نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں اس بات پر معافی مانگ لینی چاہیے کہ عوام کا پیسا کہاں گیا، یہ پوچھنا واقعی معافی مانگنے کے لائق ہے کہ عوام کا پیسا کیسے خرچ ہوا؟ وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو وزرائ کی تضحیک کا حق نہیں، ہم عوام کے حق کی بات کریں تو معافی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ لوگ بابا فرید شکر گنج کی زمین بھی بیچ کر کھا گئے، پارلیمنٹ میں کچھ لوگ ہیں جب یہ باتیں کی جائیں تو ان کا مزاج خراب ہو جاتا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ میں منتخب ہو کر آیا ہوں اور مجھے لاکھوں لوگوں نے ووٹ دیے ہیں جب کہ چیئرمین سینیٹ اس طرح منتخب ہو کر نہیں آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر چیئرمین سینیٹ ایوان میں توازن نہیں لا سکتے تو پھر حکومت کو بھی سوچنا پڑے گا کہ ہماری اس سلسلے میں کیا حکمت عملی ہو گی۔

ایس پی طاہر داوڑ قتل کیس میںبیرونی قو تیں ملوث ہیں:جنرل (ر) امجد شعیب قطری خط کے انکار سے نواز شریف کو قانونی طور پر نقصان نہیں ہو گا :کا مران مرتضیٰ وزیراعلیٰ شکایت سیل کا 80فیصد رسپانس مثبت آرہا ہے: شاہد قادر نیوز ایٹ 7میں گفتگو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ جب ملک میں حالات سازگار ہو جاتے ہیں تو چیکنگ سسٹم کم کر دیا جاتا ہے جس کافائدہ دہشت گرد اٹھاتے ہیں۔چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی المیہ ہے اسلام آباد میں بیشتر کیمرے ہی خراب ہیں۔ایس پی محسن داوڑ قتل کیس میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں البتہ اندر سے کوئی سہولت کار بھی ہو گا۔جس دن ایس پی اغوا ہوئے اس کے اگلے روز بھارتی اخباروں نے کہا پاکستانی انٹیلی جنس نے اغوا کیا ہے۔ملکی ایجنسیوں پر الزام ڈیزائنڈ ہے یہ سب راءکی کارستانی ہے۔اس میں شک نہیں افغان حکومت یا انٹیلی جنس اس گتھی کو سلجھانے میں کوئی مدد نہیں کرے گی لیکن پاکستانی انٹیلی جنس اس گتھی کو سلجھا لے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب شکایت سیل کے ڈائریکٹر شاہد قادر نے کہا کہ عثمان بزدار نے میٹنگ میں کہا کہ جو لوگ آپ کے پاس شکایت لے کر آتے ہیں ان کی عزت اور خدمت ایسے کرنی ہے جیسے وہ میرے مہمان ہیں۔ جو شکایاتیں آتی ہیں ہم ان کو فالو کرتے ہیں اور رپورٹ آگے بھیجتے ہیں۔وزیراعلیٰ شکایت سیل کا80فیصد رسپانس مثبت آ رہا ہے جس کی و جہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ کا خدمت کا جذبہ ہے۔ پٹواری سسٹم کو بہتر کرنے کی کوشش جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایماندار اور محنتی شخص ہیں۔ماہر قانون کامران مرتضیٰ نے کہا کہ قطری خط کے انکار سے نواز شریف کو قانونی طور پر نقصان نہیں ہو گا۔ملزم ایک سے زیادہ باتیں کر کے معاملے کو الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ملزم سوال کو غیر متعلقہ کہے تو ملزم کو غیر متعلقہ سوالات کا جواب دینے پرمجبور نہیں کیا جا سکتا۔

اسحاق ڈار کی گرفتاری سے پینڈورا باکس کھلے گا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالم نگار میاں سیف الرحمان نے کہا ہے کہ قانون کی گرفت سے اگر کوئی بھاگنے کی کوشش کرے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔کچھ ل لوگ سمجھتے ہیں ہم پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دورہ میڈیا او ر پراپیگنڈہ کا ۔مافیا کے پیچھے کوئی نہ کوئی تو ہوتا ہے ہم ایسے قوانین کوسپورٹ کرتے ہیں جو ہمیں سوٹ کرتے ہیں۔ہمارے ہاں تو سیاست جرم کی ایک شکل بن گئی ہے۔انصاف کے عالمی تقاضے ہیں جو دنیا بھر میں ایک جیسے ہیں ۔امریکہ توڈومور کا مطالبہ کر لیتا ہے تو کیا پاکستان عافیہ صدیقی کے لئے بات نہیں کر سکتا۔کالم نگارمیاں افضل نے کہا کہ ہر دو نمبر آدمی کے پیچھے کوئی ڈان ہوتا ہے۔اسحاق ڈار کے گھر سے جو گاڑیاں غائب ہوئیں کیا اداروں کو نہیں پتہ اسحاق ڈار تو باہر بیٹھا ہے تو ظاہر ہے کوئی نہ کوئی تو ہے جس نے گاڑیاں غائب کی ہیں۔اسحاق ڈار کے گرفتار ہوجائیں تو بہت کچھ سامنے آئے گا۔یہاں وہ کچھ ہوا جس کا ہم تصور تک نہیں کر سکتے جو جھوٹ نہیں بولتا وہ سیاستدان ہی نہیں۔جو سب کا دوست ہوتا ہے وہ کسی کا دوست نہیں ہوتا۔اس میں شک نہیں ہمارا خزانہ چوری ہوا ہے اور چور بھی سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار ڈاکٹر عافیہ کے لئے ایک پلیٹ فارم پر بات شروع ہوئی۔عافیہ کو اتنی لمبی سزا قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ کالم نگار آغا باقر نے کہا کہ اسحاق ڈار کے آنے سے بہت سے پنڈوروا باکس کھلیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات پر ایسی پابندی لگ جانا کہ وہ سینیٹ میں نہیں جا سکتے جب تک معافی نہ مانگ لیں آخر یہ کیسے ہوا اس کے پیچھے کون ہے۔آخر عافیہ پر الزام کیا ہیں وہ ایک سائنسدان ہیں ایک کیمیکل بناتے ہوئے وہ غائب ہو گئی ان کی گرفتاری افغانستان سے ڈال دی گئی لیکن پتہ نہیں وہ کیمیکل بنا بھی رہی تھیں کہ نہیں۔

افواہ ہے زرداری سندھ کارڈ کھیلنے والے ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے ہ میں اس بات سے حیران ہوں کہ سماعت کے دوران نوازشریف کہیں کل یہ نہ کہہ دیں کہ میرا نام نوازشریف نہیں ہے اور جتنے بھی کیسز محمد نوازشریف کے خلاف میرا ان سے کوئی تعلئق نہیں۔ جب سارے اخبارات ٹی وی چینلز چلا رہے تھے جب قطری خط آیا، یہاں ان کے وکیل نے وہ پیش کیا اور اتنا اس پر مباحثہ ہوا عدالت نے اس پر تنقید کی اور کہا کہ ان کو خود پیش ہونا چاہئے انہوں نے خود پیش ہونے سے انکار کیا پھر انہوں نے کہا کہ اچھا وہاں کوئی بندہ بھیج دیں تو وہ وہاں جا کر ان سے جواب لے سکتا ہے لیکن وہ یہاں نہیں آئیں گے اب کمال کی بات ہے کہ اتنے ماہ گزرنے کے بعد اب وہ کہتے ہیں میرا قطری خط سے تعلق ہی نہیں ہے اگر قطری خط سے ان کا تعلق نہیں ہے تو مجھے یقین ہے کہ ان کا نام نوازشریف سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک سٹیج آئی ہے صفائی دینے کے موقع پر کہ جب ملزم کو کوئی اپنی صفائی دینی پڑتی ہے تو وہ سرے سے اپنے نام سے ہی مکر جاتے ہیں۔
ان کے خلاف ایکشن نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے بیان سے انکار نہیں کر سکتے، یہ بھاگنا چاہتے ہیں کل کہہ دیں گے کہ نوازشریف کسی چوکیدار کا نام ہے، میں تو 3 بار وزیراعظم رہ چکا ہوں۔ نوازشریف مختلف قسم کے دفاع لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کوئی قانونی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ جگ ہنسائی ہو گی۔ چھوٹے انسان ثابت ہوں گے۔ اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے والے کی عدالت کے سامنے ساکھ زیرو ہو جاتی ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ نے ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ چوتھے روز افغانستان کے ناظم الامور کو بلا کر احتجاج کیا گیا۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا تھا اسی دن بڑے پیمانے پر افغان حکومت سے احتجاج کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی جمہوریت میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کامیاب ہونے والے لوگوں کو کہا جائے کہ آپ کو وزارت کا تجربہ نہیں۔ عمران خان پہلے کچھ بھی نہیں رہے لیکن یہ چیز ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں کہ وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ آصف زرداری کے قریبی لوگ دھڑا دھڑ گرفتار ہو رہے ہیں۔ جس سندھ بینک سے چینی کی بوریاں اٹھا کر بیچ دی گئیں اس بینک کا سارا عمل دخل زرداری کے ہاتھ میں تھا۔ آصف زرداری کے علاوہ اسفند یار ولی اور اچکزئی یہ دونوں بھی ہار جانے کے باوجود شدت سے مخالفت کر رہے ہیں کہ 18 ویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے۔ سندھ میں افواہ ہے کہ اگر زرداری کے کسی قریبی عزیز کو پکڑا گیا تو وہ سندھ کارڈ کھیلیں گے، یہ ایک پرانی اصطلاح ہے جب آدمی دیکھتا ہے کہ وہ پکڑا جا رہا ہے اور چاروں طرف سے گھیرا تنگ ہو رہا ہے تو وہ صوبائیت کا نعرہ لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریافت ہونے والے معدنی ذخائر کے حوالے سے حکومت کے پاس 2 ایسی وزارتیں ہیں جو اس سلسلے میں فوری طور پر مداخلت کر سکتی ہیں۔ عمران خان کو چاہئے کہ اس کو فوری تحقیقات کا حکم دیں کیونکہ یہ پراجیکٹ شریف برادران کی ذاتی نگرانی میں شروع ہوا تھا، اس پر کس وقت اور کن شرائط کی وجہ سے چینی اپنا کام چھوڑ کر چلے گئے پھر یہ کام ترکی کی کمپنی کو سونپ دیا گیا، چینی کس نہج پر کام چھوڑ کر گئے اور ترکی کمپنی نے اب تک کیا کام کیا ہے یہ ساری تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جانی چاہئیں، حکومت کا فرض بنتا ہے۔ انہوں نے کہا جس طرح جڑا نوالہ میں گھریلو تنازع پر خاتون کا سر مونڈ دیا گیا، اس پر وفاقی وزیر ہیومن رائٹس شیریں مزاری کو ایکشن لینا چاہئے۔ وفاقی وزیر کو چاہئے ایسے معاملات صوبوں پر نہ چھوڑیں خود فوری رپورٹ طلب کریں۔ آئے روز ایسے ظلم ہوتے ہیں، خواتین کے سر کے بال مونڈ دیئے جاتے ہیں، ان کو سڑکوں پر ذلیل کیا جاتا ہے، یہ انتہائی ظلم ہے اس چیز کو ختم ہونا چاہئے۔
تحریک انصاف کے رہنما ذوالفقار کھوسہ نے کہا ہے کہ نوازشریف تو مزاحیہ باتیں کر رہے ہیں دیکھئے انہوں نے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا میں کہا کہ قطری شہزادے کے لین دین بارے میں اب اگر الٹ بات کہیں گے تو یہ قوم کے ساتھ مذاق کہا جا رہا ہے۔ دوسشری بات جو انہوں نے کہا کہ جب ان کی انڈسٹری قومیائی گئی تو حکومت ریکارڈ ساتھ لے گئی تھی انہوں نے ان کی جو سٹیل مل تھی گورنمنٹ نے ٹیک اوور کر لیا تھا ریکارڈ تو ان کے پاس ہوتا ہے ریکارڈ انہوں نے ان کو کہاں دیا تھا۔ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں اس وقت یہ ان کا اتنا بڑا ایمپائر نہیں ہوتا تھا۔ اتنے بڑے کاروبار کا یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارے پاس کیا تھا۔ یہ قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کل انہوں نے اسش سے بڑی بات کی تھی اور جناب نوازشریف صاحب نے یہ کہا کہ نہ مجھے کوئی جائیداد کا علم ہے جو لندن میں ہے اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے اگر میرے بیٹے کا تعلق ہے تو ان سے پوچھیں اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے پیسے کہاں سے لئے تو دادا نے اپنے پوتوں کو پیسے دیئے تھے لہٰذا ان سے انہوں نے پراپرٹی خرید لی میں اس میں کہاں سے آتا ہوں۔ اس پر آپ کیا کہتے ہیں۔ اور تیسری بڑی بات اس سے بڑی بات انہوں نے کہی کہ قومی اسمبلی میں بڑی تفصیل کے ساتھ انہوں نے ایک نہیں ایک سے زیادہ مرتبہ تفصیل بیان کی تھی کہ ان کے پاس کیا پراپرٹتی تھی اور کیا کیا کارخانے تھے۔ میں نے خود تفصیل کے ساتھ ان کیت قریر سنی تھی اس میں انہوں نے کہا تھا کہ دبئی میں ہماری جتنی پراپرٹی تھی اور اتنے میں بکی اس کے بعد وہ پیسے جو تھے سعودی عرب منتقل ہوئے اور وہاں ان سے نیا کارخانہ لگایا گیا۔ آپ یہ فرمایئے کہ ایک پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں 3 مرتبہ ایک مرتبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے ہیں دوسری مرتبہ پنجاب کے منتخب وزیراعلیٰ رہے کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس عہدے پر اس معیار پر بیٹھا ہوا ایک آدمی اپنی ہر چیز سے سراسر انکار کرتے چلا جا رہا ہے۔
ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ ان کے بڑے قریبی دوست اور فیملی ممبر کی طرح تصور کئے جاتے تھے چودھری نثار علی خان نے ٹیلی ویژن پر کہا تھا کہ میں 1996ئ، 1997ءمیں گیا تھا اورانہی اپارٹمنٹس میں گیا تھا۔ یہ اپارٹمنٹس انہی کے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا۔ ٹی وی پر انہوں نے یہ بیان دیا تھا۔ ہم بھی جب 97,96 میں گئے تھے تو مجھے پتہ چلا کہ ان کی مائنر سی سرجری ہوئی تھی تو مسلم لیگ کے لندن اور یو کے کے عہدیداران تھے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ ان کے مزاج پرسی کے لئے نہیں ااتے تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ان کا گھر نہیں دیکھا ہوا۔ انہی اپارٹمنٹس میں ان سے جا کر ملے تھے۔ تقریریں انہوں نے کی ہیں وہ ساری قوم نے سنی ہیں اسمبلی کے اندر جو تقریر ہو رہی تھی وہ چینلز پر چل رہی تھی۔ اور اخبارات کے صفحات میں یہ بیانات موجود ہیں اس کے علاوہ ان کی صاحبزادی ہیں انہوں نے اپنی زبان سے ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ کہا کہ میڈیا پر آ کر کہا کہ میرا تو کچھ بھی نہیں ہے کچھ بھی جائیداد نہیں ہے نہ باہر نہ ملک سے باہر میں تو اپنے والد صاحب پر پورا انحصار کرتی ہوں۔ اب وہ بھی ثابت ہو گیا بھائی کہہ رہے ہیں الحمد اللہ یہ ہماری چیز، الحمد اللہ یہ فلاں چیز ہے۔ اور الحمد لللہ ہماری ہمشیرہ اس میں میجر بینی فشری ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کو ایک جھوٹ چھپانے کے لئے سو اور جھوٹ بولنے پڑ رہے ہیں۔ اب یہ ساری چیزیں آن ریکارڈ آ چکی ہیں ان کی ساری تقریریں وغیرہ۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ یہ جو ان کی دلیل ہے کہ قومی اسمبلی میں میں نے جو کچھ کہا اس کو استثنیٰ حاصل ہے قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کو قومی اسمبلی والی تقریر وہی ہے اس کی لیگل پوزیشن وہی بنتی ہے جو سینٹ میں کی جانے والی تقریر کی ہے اور جو صوبائی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کی ہے اور آپ تو ان اسمبلیوں کے ممبر بھی رہے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کیا کوئی شخص قومی اسمبلی میں یا صوبائی اسمبلی یا سینٹ میں تقریر کرنے کے بعد یہ کہہ سکتا ہے کہ اس تقریر پر کوئی پکڑ نہیں ہو سکتی لہٰذا جو میں نے کہا وہ ضروری نہیں ہے وہ صحیح ہو اس کو کوٹ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کو عدالت میں اس کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے بارے میں جو انہوں نے خود ساختہ گھڑا ہے اس پر آپ کیا کہتے ہیں اور دوسری بات جب خواجہ حارث صاحب نے جو نوازشریف کے وکیل تھے انہوں نے خود قطری خط کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خط جناب نوازشریف کے موقف کی تائید کرتا ہے تو اب وہ اس سے بھی منکر ہو گئے ہیں۔ کس طرح سے معاملہ آگے چلے گا۔
ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ جب یہ کہتے ہیں کہ میری اسمبلی میں تقریر کو شہادت میں نہ پیش کیا جائے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ استثنیٰ حاصل ہے وغیرہ وعیرہ۔ تو پھر میڈیا کو کیوں اجازت دی گئی کہ اسمبلی کے اندر جو تقریر ہوئی اس کو کوریج دیں اور وہ لائیو ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔ جہاں تک قطری شہزادے کے خط پر خواجہ حارث کے بیانات کا ہاں یہ ساری قوم سن چکی ہے اور یہ عدالتوں میں کہا گیا ہے جی وہ آ نہیں سکتے خط بھیج دیا وغیرہ وغیرہ تھوڑا سا پیچھے چلے جائیں جب انہوں نے کہا تھا کہ میرا کوئی معاہدہ نہیں ہوا میں نے کبھی کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ پھر وہ سعودی عرب سے ایک شہزادہ یہاں آیا تھا بلکہ ساتھ لے کر آیا تھا جس میں ان کے دستخط موجود تھے۔ 10 سال کا معاہدہ کیا تھا کہ میں پاکستان نہیں آﺅں گا۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ نوازشریف اتنی حقیقتوں سے انحراف کر رہے ہیں اور اپنی کہی باتوں اور وکلاءکی کہی ہوئی باتوں سے یکسر انکار کر رہے ہیں۔ فرمایئے کہ وہ کیا سمجھتے ہیں آپ ان کو بڑا پرانا جانتے ہیں۔ وہ جو فرما رہے ہیں کیا پاکستان کے عوام، دنیا کو جو چینلز پر جو کچھ نشر ہوا ان کی تردید کر دینا ان کو تسلیم نہ کرنا کیا وہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی یادداشت ختم ہو چکی ہے۔
ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ ان کے معتمد وزیر توانائی بھی رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے میاں صاحب سے کہا تھا کہ آپ چھوڑیں یہ باتیں نہ کریں عوام کو باتیں بھول جاتی ہیں غالباً وہ سمجھتے ہیں کہ 6 ماہ پرانی باتیں قوم بھول جاتی ہے، قوم نہیں بھولتی سب کو یاد ہے۔ میڈیا اور عدالت کے ریکارڈ میں ساری باتیں آ چکی ہیں۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے ان کے مشیر ان کو اور خطرات میں دھکیل رہے ہیں۔ یہ تو ان کے لئے بری بات ثابت ہو جائے گی۔
ضیا شاہد نے کہا کہ عدالتیں جو ہیں ایک آدمی کے بدلنے سے یا اپنے کہے ہوئے بیانات سے روگردانی کرنے سے عدالتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ عدالتیں فیصلہ میرٹ پر کریں گی۔
معروف قانون دان احمد رضا قصوری نے کہا کہ نوازشریف نے ایک بار یہ بھی کہا ہے کہ میں نے جو بیان دیا تھا کہ یہ ہیں وہ ذرائع جن سے ہم نے جائیداد بنائی وہ میرا سٹیٹ منٹ ہے قومی اسمبلی کے فلور پر اور ونڈر آرٹیکل 66 کے تحت اس کو پڑھا نہیں جا سکتا وہ اس کی غلط تشریح کر رہے ہیں آرٹیکل 66 میں مثال کے طور پر اگر آپ نے کچھ ایسی گوہر افشانی کی ہے اس سے عدالت کی کنڈکٹ آف کورٹ کے زمرے میں آتا ہے یا آپ نے جنگ ہنسائی کی ہے جس سے کہ افواج پاکستان بارے کوئی ایسے فقرے بولے ہیں جن سے آئین منع کرتا ہے۔ تو اس پر مواخذہ نہیں ہو سکتا لیکن شہادت کے طور پر اس کو لیا جائے گا بطور شہادت کو بھی پڑھا جائے گا۔
دفاعی تجزیہ کار عبداللہ گل نے کہا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے لے جانا، 300 کلو میٹر دور لے کر جانا، 2 دن پاکستان میں رکھنا، اس کے علاوہ پھر 26 تاریخ کو وہ اغوا ہوئے کوئی پوچھنے والا نہیں، وزیراعظم کے ترجمان یہ بیان دیتے ہیں کہ جناب ٹیلی فون بند ہو گیا ہو گا، لوگوں نے ایشو بنا لیا، میڈیا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔ اب وہ جواب دیں انہوں نے یہ بیان کس بنیاد پر دیا تھا۔ اب حکومت نے کہا کہ ایس پی کے قتل کے خلاف وری طور پر کارروائی ہو گی۔ مولانا سمیع الحق کے متعلق بھی یہی باتیں کی گئیں لیکن آج تک کچھ نہیں پتہ چل سکا، آج تک سکیورٹی کیمروں سے ہی کچھ نہیں نکلا، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے بتا ہی دیا۔ گزشتہ حکومت کے دور میں جب وزیر خارجہ کا عہدہ خالی تھا تو نوازشریف پر بڑی تنقید کی جاتی تھی لیکن آج وزارت داخلہ وزیراعظم نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، شہر یار آفرید تو وزیر مملکت برائے داخلہ ہیں۔ وزارت خارجہ سے وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) ایس پی طاہر داوڑ کے قتل میں ملوث نہ ہوتی تو پھر ان کا جسد خاکی دینے پر اعتراض کیا تھا۔ واقعہ سے پولیس فورس کا مورال گرا ہے کہ ہم میں سے جو بھی پاکستان کے لئے کام کرے گا اس کو نشانہ بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر ایک ایسی جنگ چھڑ چکی ہے جو اپنے اختتام کے اندر پہنچنے والی ہے لیکن یہ معاملات امریکہ کے ساتھ طے ہوئے ہیں۔ امریکہ و طالبان آپس میں محو گفتگو ہیں۔ کابل حکومت کو مذاکرات سے نکال دا گیا ہے کیونکہ طالبان نے اس کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کیا۔ دوسری طرف بھارت نے کابل حکومت کے ساتھ افغانستان میں کھربوں ڈالر انویسٹ کر لئے ہیں۔ اب بھارت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر امریکہ و طالبان میں کوئی سمجھوتہ ہو گیا تو پھر ان کا کیا مستقبل ہے؟ اس لئے اب یہ ایک اینڈ گیم ہے۔ 1988ءمیں جب روس افغانستان جا رہا تھا تو روسی اس حد تک پاگل ہو گئے تھے کہ وہ اپنے کمانڈر بھیجتے تھے اور 3750 ہلاکتیں پاکستان نے دیکھی ہیں۔ لنڈا بازار، کشمیری بازار سمیت مختلف مقامات پر ایک ایک وقت میں جب دھماکے ہوئے، 3,3 سو لوگ مارے لقمہ اجل بن گئے۔ افغانستان کے اندر اب دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے، داعش سرگرم ہے کیونکہ اس کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ داعش بنائی ہی اس لئے گئی ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے، مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو ایسا غیر مستحکم قرار دے دیا جائے جس کے اپنے لوگ کہیں کہ پاکستان کو افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔
نمائندہ جڑانوالہ بلال احمد نے کہا ہے کہ افسوسناک واقعہ تھانہ سٹی کی حدود میں 3 بچوں کی ماں کے ساتھ پیش آیا۔ ایک وٹہ سٹہ کی شادی تھی جس کے انجام میں متاثرہ خاتون کے بھائی نے اس کی نند کو طلاق دے دی تھی، جس پر سسرالیوں نے روبینہ بی بی کو بچوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر 5 دن گھر میں محصور کیسے رکھا، خاتون کے سر کے بال کاٹ دیئے جس کے بعد متاثرہ خاتون انصاف کے لئے تھانہ سٹی پہنچ گئے، پولیس نے مقدمہ درج کر کے 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔
نمائندہ چنیوٹ طاہر سیال نے کہا کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے اور معاشی بدحالی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے۔ ضلع چنیوٹ سے ملنے والے معدنی ذخائر کی دریافت کا معاملہ مکمل طور پر کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ اس منصوبے پر کام نہ ہونے کے برابر ہو چکا ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف اور سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چنیوٹ سے ملنے والے اربوں روپے کے ذخائر سے ملک و قوم کی تقدیر بدل جائے گی لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کار میاں طارق نے کہا ہے کہ آصف زرداری نے سندھ کارڈ کھیلنے کا پروگرام نہیں بنایا وہ کھیل چکے ہیں۔ ماضی قریب کی ان کی تقاریر کا جائزہ لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سندھ کارڈ کھیل چکے ہیں۔ ایشو یہی ہے کہ جو ان کے قریبی ساتھی انور مجید اور پھر ان کے بیٹے گرفتار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب نیب سندھ نے ہائیکورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں سابق صوبائی وزیر ضیا جو 2011ءتک پی ٹی وی کے ملازم تھے۔ ان کے ایک ارب سے زائد اثاثے نکل آئے ہیں، ان کے خلاف بھی نیب نے تفتیش میں عدم تعاون کا کہا ہے، ایان علی کے بارے بھی اطلاعات ہیں کہ انہو ںنے حساس اداروں کو وعدہ معاف گواہ بننے کی پیش کش کر دی ہے بلکہ بن چکی ہے۔ یہ ایشوز ہیں جن کی وجہ سے آصف زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ فریال تالپور سابقہ دو ادوار میں سندھ کی سیاہ و سفید کی مالک تھیں، ان کے خلاف جو گھیرے تنگ کئے جا رہے ہیں اس کے لئے زرداری یقیناً سندھ کارڈ کھیل چکے ہیں۔ گزشتہ روز آصف زرداری نے اپنی تقریر میں جس طرح بدین کی اتنے لاکھ ایکڑ زمین کے حوالے سے بات کی۔ حالانکہ وہ زمین جو سمندر برد ہوئی ہے وہ پانی کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹمبر مافیا جسش نے ٹمبر کے جنگلات کا صفایا کر کے بیچ کھایا تھا اس مافیا کی وجہ سے زمین ضائع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی تحقیقات پر آصف زرداری کے خلاف جو گھیرا تنگ ہو رہا ہے اسی کو بنیاد بنا کر زرداری سندھ کارڈ کھیل چکے ہیں۔ اسفند یار ولی اور اچکزئی جس طرح کی گفتگو کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت ان کے آباﺅ اجداد پاکستان کو مانا ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کے قیام کی مخالفت کی تھی، جن کے آباﺅ اجداد نے ایسے کام کئے ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ جہاں تک ڈیورڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے کا معاملہ ہے، اس پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے تھا۔ پتہ نہیں اس وقت کی فوج کی کیا مجبوری تھی؟ بہت سارے سیاستدان ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ملک اور قومی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں جو سیاستدان اس طرح کی لسانیت پر مبنی سیاست کرتے ہیں، ان سب کے خلاف آرٹیکل 6 لگتنا چاہئے اور قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ تکلیف مجھ سے ہے لیکن تنگ میرے دوستوں کو کیا جا رہا ہے۔

شلپا شیٹھی گولڈ کو ن آئس کریم کھانے ہانگ کانگ پہنچ گئیں

ہانگ کانگ (شوبزڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹھی سنہری ورق سے ڈھکی مشہور زمانہ گولڈ کون آئس کریم کھانے کیلئے ہانگ کانگ پہنچ گئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ شلپا شیٹھی جو ہانگ کانگ میں ہیں جہاں وہ 24قیراط سونے کے ورق سے ڈھکی آئس کریم کے مزے اڑانے نامور آئس کریم پارلر پہنچیں۔ شلپاشیٹھی نے اس سنہری آئس کریم کوکھاتے ہوئے اپنے مداحوں سے تاثرات بھی سوشل میڈیا پر شیئر کئے جسے ان کے فالورز نے بہت پسند کیا۔

نسیم وکی، طاہر انجم قطرمیں ”گول گپے “ میں پرفارم کرینگے

لاہور(شوبزڈیسک) پاکستانی کامیڈین قطر میں پرفارم کرینگے۔ تفصیل کے مطابق معروف کامیڈین نسیم وکی، ہنی البیلا، طاہر انجم ،ببو رانا،پرویز خان کے علاوہ اداکارہ نیناں خان، انمول شہزادی اور کرن نور ماہ دسمبر میں کے دوسرے ہفتے قطر روانہ ہوجائینگے جہاں وہ پنجاب میوزک گروپ کے زیراہتمام قطر کے مختلف شہروں میں ”گول گپے “ کے نام سے ہونیوالے میوزیکل شو میں پرفارم کرینگے۔ان کا پہلا شو 18دسمبر کو اوپن گراﺅنڈ ایونٹ ،19دسمبر کو رائل سینما السعاد اور 20دسمبر کو الخور کمیونٹی میں ہوگا۔ آرگنائزر نزاکت علی ہیں۔ نے بتایا کہ یہ تین روزہ پروگرام قطر کے قومی ڈے کے حوالے سے رکھا گیا ہے جس کے رائٹر ڈائریکٹر نسیم وکی ہیں۔