اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پاک فوج کے پانچ سربراہوں کی تقرری کا اعزاز حاصل کرلیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے دور حکومت میں 1991میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کو پاک فوج کا سربراہ تعینات کیا جبکہ انہوں نے 1993میں وحید کاکڑ کو چیف آف آرمی سٹاف بنایا ۔نوازشریف نے 1998کے دور حکومت میں پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا لیکن 1999میں ویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کر دی جس کے بعد محمد نواز شریف تقریباً ایک سال جیل کاٹنے کے بعد جلا وطن کر دیئے گئے دس سال جلا وطن رہنے کے بعد محمد نواز شریف وطن واپس آئے اور 2013کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اور انہوںنے بطور وزیر اعظم جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف مقرر کیا ۔28نومبرکوجنرل راحیل شریف ریٹائرہوجائیںگے ہفتہ کو وزیراعظم نوازشریف نے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو پاک فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔اسطرح انہوں نے پاک فوج کے پانچ سربراہوںکی تقرری کااعزاز حاصل کرلیا۔
All posts by Daily Khabrain
کراچی میں چند برسوں میں بہتری آئی ۔۔۔
لاہور (سیاسی رپورٹر) سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب روزنامہ خبریں کے چیف ا یڈیٹر ضیاشاہد کو فون کیا اور کچھ دیر اپنی گورنرشپ کے دوران ہونے والے واقعات کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے اخبار کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ میرا ٹیلی فون نمبر آپ کے پاس آ گیا ہے انشاءاللہ آئندہ بھی رابطہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 14 برس کا طویل دور مسائل میں گزرا لیکن مجھے خوشی ہے کہ اختتامی چند برس میں کراچی کے حالات میں نمایاں بہتری آئی۔ جواب میں چیف ایڈیٹر نے ان کا شکریہ ادا کیا انشاءاللہ ٹیلی فون پر آپ سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوتا رہے گا۔
غیر قانونی نشریات, پیمرا ایکشن میں ….
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پیمرا نے غیرقانونی نشریات چلانے اور مذہبی منافرت کو فروغ دینے والے 11نجی چینلز پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ نشریات میں معاون ثابت ہونے والے 6کیبلز آپریٹرز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ جن گیارہ چینلز پر پابندی عائد کی ہے ان میں زیادہ تر بیرون ملک سے اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے تھے اور کیبل آپریٹرز ان کی نشریات کو صارفین تک پہنچا رہے تھے۔ پاکستان میں ان چینلز کی نشریات کیلئے پیمرا سے اجازت لی گئی تھی اور نہ ہی پیمرا سے اس بارے میں رجوع کیا گیا تھا۔ اس لئے ان چینلز کی نشریات مکمل طور پر غیرقانونی تھیں۔ اس کے علاوہ ان چینلز کے ذریعے عیسائیت کی تبلیغ کی جا رہی تھی۔ مختلف پروگراموں میں سزائے موت کی مجرمہ ملعونہ آسیہ کو بیگناہ قراردے کر‘ اس کے خلاف کیس کو اس پر ظلم قراردیا جا رہا تھا جبکہ ملک میں موجود مذہبی ہم آہنگی اور معاشرے میں قائم مذہبی رواداری کو خراب کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ پیمرا کے ذرائع کے مطابق جن 11چینلز پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں ISAAC TV‘ گواہی ٹی وی‘ GODBLEE TV‘ برکت ٹی وی‘ زندگی ٹی وی‘ PRAISE TV‘ شائن ٹی وی‘ HEALING TV‘ JESUSTY (JS TV)‘ کیتھولک ٹی وی اور خوشخبری ٹی وی چینلز شامل ہیں۔ یہ تمام چینل ملک کے مختلف شہروں میں کئی کیبل آپریٹرز غیرقانونی طور پر چلا رہے تھے۔ پیمرا نے اپنے تمام علاقائی جنرل منیجرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مذہبی منافرت پھیلانے والے ان چینلز کی نشریات فوری طور پر بند کرائی جائیں‘ جن پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیمرا نے ان چینلز کی نشریات بند کرنے کا نوٹس ستمبر میں دیا تھا لیکن آپریٹرز نے نشریات بند نہ کیں‘ جس کے بعد اکتوبر میں ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ جن چینلز کی نشریات پر پابندی عائد کی گئی ہے ان کے منتظمین کا مو¿قف ہے کہ یہ چینلز صرف عیسائی آبادیوں تک اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے تھے اور دیگر علاقوں میں تبلیغ کا الزام غلط ہے۔ کیتولک ٹی وی کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر فادر مورس جلال کے مطابق وہ تبلیغ صرف اپنے لوگوں کو کرتے ہیں اور ان چینلز کے ذریعے انہی کو اپنا پیغام دے رہے تھے۔ اسی طرح غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ISAAC TV کے ڈائریکٹر سلیم اقبال نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اب ان چینلز کے ناظرین انٹرنیٹ کے ذریعے نشریات دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ چینلز پر پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس چینل کی ریکارڈنگ لاہور میں ہوتی ہے جبکہ ریلیز ہانگ کانگ سے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کئی چینل دبئی اور دیگر غیرممالک سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیمرا ذرائع کے مطابق ان متنازعہ چینلز کی نشریات طویل عرصے سے جاری تھیں‘ لیکن پیمرا سے اس کی اجازت نہیں لی گئی۔ چونکہ پیمرا متنازعہ اور منافرت پر مبنی نشریات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا‘ اس لئے اب بھی ان لوگوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے ناظرین کو انٹرنیٹ کے ذریعے نشریات دیکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ممتاز عالم اور ان ایشوز پر گہری نگاہ رکھنے والے شباب اسلامی پاکستان کے صدر مفتی محمد حنیف قریشی نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے میرے علم میں یہ باتیں لائی جا رہی تھیں کہ کہ بعض چینلز پر ملعونہ آسیہ کو بے گناہ اور اس کے خلاف عدالتی کارروائی کو ظلم قرار دیا جا رہا ہے۔ میں نے اس کی بعض ذمہ دار دوستوں سے تصدیق کرائی تو معلوم ہوا کہ یہ شرانگیزی ایسے چینلز کر رہے ہیں جو عیسائیت کی تبلیغ بھی کرتے ہیں اور پاکستان میں مذہبی و معاشرتی عدم توازن کا پراپیگنڈا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے پیمرا کو بعض چینلز کا نام دے کر کارروائی کیلئے درخواست بھی بھجوائی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے تمام چینلز کے خلاف پیمرا کی کارروائی پاکستان کے آئین‘ قانون اور پیمرا قواعد کے عین مطابق ہے اور اسے بہت پہلے یہ کارروائی کرنی چاہئے تھی۔ ایک سوال کے جواب میں مفتی محمد حنیف قریشی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا خطہ پاک ہے۔ نہ یہ سیکولر ملک ہے اور نہ سیکولر معاشرہ ہے۔ تمام مذاہب کو اسلامی شریعت اور آئین پاکستان کے مطابق اپنی اپنی مذہبی عبادت گاہوں اور مقامات کے اندر مکمل آزادی حاصل ہے۔ آئین انہیں اپنے عقائد پر قائم رہنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیتا ہے‘ لیکن وہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے‘ جیسا کہ ان چینلز پر مذہبی رواداری کے نام پر کیا جا رہا تھا۔ مفتی محمدحنیف قریشی نے کہا کہ ملعونہ آسیہ کی سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد ہر مسلمان کی خواہش ہے۔ غازی ممتاز قادری شہید کا ذکر جب بھی ہوتا ہے تو دل دکھی ہوتا ہے کہ توہین رسالت کی مرتکب ملعونہ ابھی زندہ ہے جبکہ ملعونہ کے وکیل کو واصل جہنم کرنے والا شہادت کا درجہ بھی پا چکا ہے۔ مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ جن چینلز کی نشریات پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ ملعونہ آسیہ کے خلاف عدالتی فیصلے کو ظلم قرار دے کر اسے مظلوم ثابت کرتے رہے‘ جس سے مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا ہو سکتا تھا۔ پیمرا کا فیصلہ خوش آئند ہے اور امید ہے کہ پیمرا اس حوالے سے آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔
باجوہ معمولی جرنیل نہیں, سابق بھارتی آرمی چیف نے اپنی حکومت کر خبردار کردیا
نئی دہلی(خصوصی رپورٹ) سابق بھارتی آرمی چیف بکرام سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نامزد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اقوام متحدہ کے اسائنمنٹ پر خدمات انجام دے چکے ہیں، بھارت کو ان کے نقطہ نظر کے حوالے سے ہوشیار اور چوکس رہنا ہوگا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنرل(ر) سنگھ نے جنرل باجوہ کو انتہائی پروفیشنل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگو میں قمر باجوہ نے ان کی سربراہی میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا تاہم انکا کہنا ہے کہ جب ایک فوجی افسر اپنے ملک لوٹتا ہے تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف سے جنرل باجوہ کو کمان ملنے کے بعد وہ پاکستان فوج کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھ رہے،انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنرل باجوہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر لیں گے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بکرام سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ پاکستان ہمیں فوجی کمان کی تبدیلی کو روٹین میں نہ لیا جائے۔ جنرل باجوہ معمولی جرنیل نہیں کنٹرول لائن کمے بارے میں ان کا وسیع تجربہ ہے اور وہ بھرپور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ بھارت کو چوکنا رہنا ہوگا۔
الٹی میٹم ختم, وزیراعلیٰ پولیس افسران پر برس پڑے
لا ہور(خصوصی رپورٹ) گارڈن ٹاﺅن ڈکیتی اور ملت پارک میں پانچ افراد کے قتل پر وزیر اعلی پنجاب کے نوٹس کے باوجود لاہورپولیس ملزمان کو پکڑنے میں ناکام ہوگئی۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے شہریوں کے بعد پرانے پولیس افسران سے مدد مانگ لی۔ تفصیلات کے مطا بق گارڈن ٹان ڈکیتی پر پولیس نے مبینہ طور پر دعوی کیا ہے کہ ڈکیتی کرنے والے ملزمان کی شناخت علی نت اور ضامن عباس کے نام سے ہوگئی ہے جو کہ ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہے ۔پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لئے جھنگ اور ایبٹ آباد میں چھاپے مارے گئے ہیں مگر ملزمان پکڑے نہیں جاسکے ،دوسری طرف ملت پارک میں ڈکیتی مزاحمت پر پانچ افراد کے قتل کی تفتیش میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ذرا ئع کے مطا بق پولیس نے شہریوں کے بعد اب پرانے افسران سے مدد مانگ لی ہے ،اس ضمن میں سابق ایس پی سی آئی اے عمرورک ،اور ان کی ٹیم سے رابطہ کرکے ملزمان کو گرفتارکرنے کی اپیل کی گئی ہے ، لاہور پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش انویسٹی گیشن ونگ سے لیکر سی آئی اے پولیس کے حوالے کردی گئی ہے۔
عمران خان کی اہم شخصیت سے ملاقات, ملنے والے شواہدکا جائزہ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اپنی رہائش گاہ پر بابر اعوان سے ملاقات کی،ملاقات میں پاناما کیس پر مشاورت اور شواہد کا جائزہ لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس پاناما کیس پر شریف خاندان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں،کرپشن کیسز میں نوازشریف اور ان کی فیملی بچ نہیں سکے گی۔پاناما کیس میں تحریک انصاف کے قانونی ٹیم کے ممبر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پانا ما لیکس کیس سے گڈ گورننس کا مستقبل طے ہوگا۔
نئے آرمی چیف کی وزیراعظم سے ملاقات, اہم نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی، این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو چیف آف آرمی اسٹاف اور جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا ¾ دونوں کوفور اسٹار جنرلز کے رینک پر ترقی دے دی گئی ¾ وزارت دفاع سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ¾ 29نومبر کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھا لیں گے ¾لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے ¾چیئر مین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی مقرر ہونے والے جنرل زبیر حیات کا تعلق آرٹلری سے ہے ¾ وہ چیف آف جنرل اسٹاف کے طورپر ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے ۔ہفتہ کو وزیر اعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو نیا آرمی چیف اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا۔وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل قمر باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو فور اسٹار جنرلز کے رینک پر ترقی دے دی گئی ہے جس کا اطلاق28نومبر سے ہوگا۔دونوں جنرل 29 نومبر بروز منگل سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھا لیں گے اور اسی دن موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ریٹائر ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے ¾ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی پاک فوج کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل اسی عہدے پر تعینات تھے ۔جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10 کور کو کمانڈ کرچکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے، بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کی۔انہوں نے 10 کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل قمر کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔وہ ماضی میں انفنٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت کام کرنے والے ایک افسر نے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ انتہائی پیشہ ور افسر ہیں۔ان کا تعلق انفرنٹری کے بلوچ رجمنٹ سے ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحییٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔چیئر مین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی مقرر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کا تعلق آرٹلری سے ہے اور وہ حاضر سروس چیف آف جنرل اسٹاف ہیں، تھری اسٹار جنرل کی حیثیت سے ماضی میں وہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں جو این سی اے کا سیکریٹریٹ ہے۔اس کے علاوہ وہ بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں ۔چیف آف جنرل اسٹاف اور ڈی جی ایس پی ڈی کے عہدے پر رہنے کی وجہ سے انہیں وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کےساتھ قریب سے کام کرنے کا موقع ملا ۔جب وہ میجر جنرل کے عہدے پر تھے تو جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) سیالکوٹ کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے اور بعد میں اسٹاف ڈیوٹیز (ای ڈی) ڈائریکٹوریٹ کی سربراہی کی ۔ڈائریکٹوریٹ میں تعیناتی اور آرمی چیف کے پرنسپل اسٹاف آفیسر کے عہدے پر پوسٹنگ کی وجہ سے وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے قریب رہے ۔لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کے ساتھ کام کرنے والوں کے مطابق وہ کام کرنے کے جنونی اور ان کا حافظہ بھی بہت تیز ہے۔جنرل زبیر سیکنڈ جنریشن آفیسر ہیں اور ان کے والد پاک فوج سے میجر جنرل کے عہدے پر ریٹائرہوئے تھے ¾ ان کے دو بھائی بھی جنرل ہیں ان میں سے ایک پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات اور دوسرے انٹر سروس انٹیلی جنس کے ڈی جی اینالسس میجر جنرل احمد محمود حیات ہیں۔دوسری جانب وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ایڈوائس پر صدر مملکت ممنون حسین نے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اورلیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو فور سٹار جنرلز کے عہدے پر ترقی دیدی ہے ادھر وزیر اعظم آفس کے ترجمان نے پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر نئی تقرریوں کی تصدیق کر دی ہے ۔نامزدچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور نامزد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے وزیراعظم ہاﺅس میں الگ الگ ملاقات کی۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے جنرل زبیر محمود حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو ترقی پانے پر مبارکباد دی۔وزیراعظم ہاﺅس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ جنرل زبیر محمود حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ملک وقوم کی احسن طریقے سے خدمت جاری رکھیں گے اورقوم کی توقعات پر پورا ا±تریں گے۔جنرل زبیرمحمود حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ ریاست پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔
اقتصادی راہداری کیخلاف سازشیں, اہم اعلان جاری
لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ تاریخ کا دھارا موڑ دے گا اورپاکستان سمےت پورا خطہ اس عظےم منصوبے سے مستفےد ہو گا۔ سی پیک نے پاکستان سمیت خطے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پنجاب سمیت پورے پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر انتہائی تیزرفتاری سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کا ون بیلٹ ون روڈ کا وژن غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور دیگر ممالک کی جانب سے سی پیک کے منصوبوں میں دلچسپی خوش آئند امر ہے۔ ہمارے دوست سی پیک سے خوش جبکہ دشمن منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مکمل کریں گے۔ دریں اثنا وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف سے آج ےہاں ترکی کی وزارت صحت کے اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی۔ جس مےں ترک صدر رجب طےب اردوان کے حالےہ دورہ پاکستان کے دوران پنجاب حکومت اور ترک وزارت صحت کے مابےن ہےلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے پر تےزرفتاری سے عملدر آمد پر اتفاق ہوا۔ وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے ترک وزارت صحت کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی وزارت صحت کےساتھ طے پانے والے معاہدے کی روشنی مےں ہےلتھ کےئرسسٹم کو تےزی سے بہتر بنانے کےلئے اقدامات کےے جائےں گے اور ہےلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے معاہدے پر عملدر آمد مےں کوئی کسر اٹھا نہےں رکھےں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدر آمد کےلئے کورگروپ تشکےل دے دےئے گئے ہےں اور انہےں ذمہ دارےاں بھی تفوےض کر دی گئی ہےں۔ جدےد ٹےکنالوجی اور ترک مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کے ہےلتھ کےئر سسٹم کو خوب سے خوب تر بنائےں گے۔ معاہدے کے تحت ہےلتھ انفارمےشن مےنجمنٹ سسٹم اور پبلک ہےلتھ اےجنسی کا قےام عمل مےں لاےا جائے گا۔ ترکی مےں اپنائے گئے ہےلتھ انفارمےشن مےنجمنٹ سسٹم کے ماڈل سے استفادہ کرےں گے۔ انہوںنے کہا کہ ترکی کا ہےلتھ انفارمےشن مےنجمنٹ سسٹم شاندار ہے اور اسے پنجاب کے ہسپتالوں مےں بھی اپنائےں گے۔پنجاب کے ہےلتھ کےئر سسٹم کو بہتر بنانے کےلئے ترک بھائےوں کے تعاون پران کے شکرگزار ہےں۔ انہوںنے کہا کہ دکھی انسانےت کی خدمت کےلئے کم سے کم وقت مےں جو کچھ کرسکتے ہےں کرےں گے۔ہےلتھ انفارمےشن مےنجمنٹ سسٹم کی بہتری کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے پر تےزرفتاری سے آگے بڑھےں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے کے 36اضلاع مےں سی ٹی سکےن مشےنےں نصب کرنے کا فےصلہ کےاہے ۔تمام اضلاع مےں سی ٹی سکےن مشےنوں کی فراہمی سے عوام کو ان کی دہلےز پر سی ٹی سکےن کی سہولت ملے گی۔ سی ٹی سکےن کی سہولت 24گھنٹے دستےاب ہو گی جس سے خلق خدا کو بے پناہ فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے مےں غےرمعےاری ادوےات کی روک تھا م کےلئے ادوےات کی خرےداری کا سنٹرلائزڈ نظام لائے ہےں۔ خرےدی گئی ادوےات کے نمونے دنےا کی بہترےن لےب سے چےک کرائے جارہے ہےں۔ڈرگ لےبز کو عالمی معےار کے مطابق بنانے کےلئے اقدامات کےے جا رہے ہےں۔ ادوےات کا اےسا نظام لائے ہےں جس سے امےر اورغرےب اےک ہی دوائی استعمال کرےں گے۔ ادوےات کی خرےداری کے سنٹر لائزڈ نظام سے غرےب اور امےر کی دوائی کا فرق مٹا رہے ہےں۔ صوبے سے جعلی اور غےر معےاری ادوےات کے خاتمے کےلئے مو¿ثر اقدامات کےے گئے ہےں۔انہوںنے کہا کہ ترکی کے ساتھ ملکر پنجاب کے عوام کو معےاری طبی سہولتوں کی فراہمی کےلئے برق رفتاری سے آگے بڑھےں گے۔ سربراہ ترک وفد ڈاکٹرسلامی کلک (Dr.Selami Kilic)نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشرےف پاکستان اورعوام کےلئے اےک عظےم رہنما کا کردار ادا کر رہے ہےں۔ وزےراعلیٰ شہبازشرےف کو ترکی کی قےادت اور عوام انتہائی قدر کی نگاہ سے دےکھتے ہےں۔ وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے ترکی کی ہر موقع پر زبردست حماےت کی ہے اور ان کی ترکی سے محبت اور سپورٹ پر ترکی کا ہر فرد ان کا شکرےہ ادا کرتا ہے۔ ترکی مےں ناکام فوجی بغاوت کے دوران وزےراعظم نوازشرےف ،وزےراعلیٰ شہبازشرےف اورحکومت پاکستان کی اخلاقی حماےت پر ترکی کا ہر باشندہ شکرگزار ہے۔ پاکستان اور ترکی کے عوام بھائی ہےں اوراےک دوسر ے کے ساتھ ہرممکن تعاون کےلئے ہمہ وقت تےار ہےں ۔ہےلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کے حوا لے سے پنجاب کے وزےراعلیٰ شہبازشرےف کا وےژن اور کاوشےں لائق تحسےن ہےں۔ ترک وزارت صحت کے سےنئر ماہر ڈاکٹرحسن کاگل (Dr.Hasan Cagil) نے کہا کہ پنجاب کے ہےلتھ کےئرسسٹم کی بہتری کےلئے کےے جانے والے معاہد ے پروزےراعلیٰ شہبازشرےف کے وےژن کے مطابق تےزی سے عملدر آمد کےا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ ہےلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کےلئے پنجاب حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مل کر کام کرےں گے۔ پنجاب کے ہےلتھ کےئر سسٹم مےں بہتری کےلئے پنجاب حکومت کی ٹےم کے ساتھ ملکر روڈ مےپ تےار کر رہے ہےں ۔انہوںنے کہا کہ ہسپتالوں کے نظام مےں بہتری لانے کےلئے مرحلہ وارپروگرام پر عمل کےا جائے گا۔انشاءاللہ ہماری مشترکہ کاشوں سے ہےلتھ کےئر سسٹم مےںبہتری کے نتائج جلد سامنے آئےں گے۔ترک وزارت صحت کے وفدنے وزےراعلیٰ کی خےرےت درےافت کی اوران کےلئے نےک خواہشات کا اظہار کےا۔ مشےرصحت خواجہ سلمان رفےق،پارلےمانی سےکرٹری خواجہ عمران نذےر،خواجہ احمد حسان،اےڈےشنل چےف سےکرٹری،چےئرمےن منصوبہ بندی و ترقےات، صدرپی کے اےل آئی پروفےسر ڈاکٹر سعےد اختراورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزےراعلیٰ شہبازشرےف سے ترک وزارت صحت کے اعلی سطح کے وفد کی ملاقات کے دوران وفد کے سربراہ ڈاکٹرسلامی کلک (Dr.Selami Kilic) نے شہبازشرےف کی عوامی خدمت کے وےژن اورشعبہ صحت کی بہتری کےلئے اقدامات کو زبر دست الفاظ مےں خراج تحسےن پےش کےا۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب کے وزےراعلیٰ شہبازشرےف پاکستان اورعوام کےلئے اےک عظےم رہنما کا کردار ادا کر رہے ہےں اور ترکی کی قےادت اورعوام انہےںانتہائی قدر کی نگاہ سے دےکھتے ہےں ۔ شہبازشرےف نے ترکی کی ہر موقع پر زبردست حماےت کی ہے اوران کی ترکی سے محبت اور سپورٹ پر ترکی کا ہر فرد ان کا شکرےہ ادا کرتا ہے ۔ترکی مےں ناکام فوجی بغاوت کے دوران وزےراعظم نوازشرےف، وزےراعلیٰ شہبازشرےف اور حکومت پاکستان کی اخلاقی حماےت پر ترکی کا ہر باشندہ شکرگزار ہے۔ ہےلتھ کےئر سسٹم کی بہتری کے حوا لے سے پنجاب کے وزےراعلی شہبازشرےف کا وےژن اور کاوشےں لائق تحسےن ہےں۔ ترک وزارت صحت کے سےنئر ماہر ڈاکٹر حسن کاگل (Dr.Hasan Cagil)نے کہا کہ پنجاب کے ہےلتھ کےئرسسٹم کی بہتری کےلئے کےے جانے والے معاہد ے پروزےراعلیٰ شہبازشرےف کے وےژن کے مطابق تےزی سے عملدر آمد کےا جائے گا۔ترک وزارت صحت کے وفدنے وزےراعلیٰ کی خےرےت درےافت کی اوران کےلئے نےک خواہشات کا اظہار کےا۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے آج یہاں جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی ۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، ملکی معاملات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماﺅں نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری عوام پر بھارتی افواج کی جانب سے بدترین مظالم اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت کی اور کشمیری عوام اور شہداءکے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معصوم کشمیری عوام پر بھارتی افواج کے مظالم حد سے بڑھ چکے ہیں۔ اقوام عالم کے ضمیر کو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا ساتھ دینے کیلئے جاگنا ہو گا۔ پاکستان کشمیری بہن بھائیوں کی اخلاقی،سےاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرتقسےم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور تنازعہ کشمیر کا حل خطے میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی بہادرا فواج بھارتی اشتعال انگیزیوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور پوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر فوج وطن کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور جبر و تشدد کشمیری عوام سے ان کا حق خودارادیت چھیننے میں ناکام ہوچکا ہے۔بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل بند کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نفاق کی نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے۔ وزےراعلیٰ شہبازشرےف اور مولانا فضل الرحمن نے اےک دوسرے کی خےرےت درےافت کی اور اےک دوسرے کےلئے نےک خواہشات کا اظہار کےا۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے مظفر گڑھ میں آٹھویں جماعت کی طالبہ پر تشدد اور زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واقعہ میں ملوث ملزمان کی فی الفور گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے موڑکھنڈا کے قریب آتشزدگی کے باعث ماں اور تین بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر تے ہوئے واقعہ کی تحقےقات کا حکم دےا ہے۔
وسیم اکرم نے کراچی کنگز کے کھلاڑی پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کردیا
اسلام آباد( آن لائن )قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے پاکستان سپر لیگ میں ایک فرنچائز کے کھلاڑی پر بال ٹمپرنگ کا الزام سرکاری سپورٹس چینل پر فا ف ڈوپلیسی کی جانب سے بال ٹمپرنگ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا ۔کہ اب امپائرز کو پہلے سے زیادہ ہوشیار ہونا پڑے گا۔ کیونکہ کھلاڑیوں نے گیندسے چھیڑ چھانی کے نت نئے طریقے دریافت کرلئے ہیں سوئنگ کے سلطان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں کراچی کنگز کا ایک مخصوص باﺅلر مخصوص وقت میں گیند سے چھیڑ چھانی کرتا تھا جس پر ہم نے ایمپائرز اور آفیشلز کواس سے آگاہ بھی کیا تھا ۔#/s#
عثمان خواجہ کی جنوبی افریقہ کے خلاف 145 رنز کی دلکش اننگز
ایڈیلیڈ (اے پی پی) پاکستانی نژاد آسٹریلوی بلے باز عثمان خواجہ نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 145 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، یہ ان کے کیریئر کی پانچویں سنچری ہے، ایڈیلیڈ میں جاری ٹیسٹ میں عثمان خواجہ نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ۔اور 145 رنز بنائے جس میں 12 چوکے شامل تھے۔

















