Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • این ڈی ایم اے کا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ الرٹ
    • اسپین میں تباہ کن جنگلاتی آگ، 11 افراد ہلاک، 19 لاپتہ
    • خامنہ ای اور چار اہلخانہ افراد کی امام رضاؑ مزار میں تدفین
    • پنجاب حکومت کا ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 50 فیصد ٹیکس ریلیف کا اعلان
    • ایران کے خلاف آپریشن کی خفیہ حمایت پر یو اے ای پر الزام
    • رونالڈو نے نایاب CR7 بوٹس IShowSpeed کو تحفے میں دے دیے
    • اسرائیل نے مفتی اعظمِ القدس کو مسجد اقصیٰ سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا
    • ایران کی امریکا کو جوابی کارروائی کی وارننگ
    • ایران کا معاہدے کی پاسداری کا دعویٰ، امریکا پر خلاف ورزی کا الزام
    • کیوبا میں ایک ہفتے میں دوسری ملک گیر بجلی بندش
    • قتل کی کوشش پر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
    • حکومت نے چینی برآمد کی تجویز مسترد کر دی۔
    • وفاقی حکومت نے پٹرول 13 اور ڈیزل 14 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا
    • مشرقی تہران صوبے میں دھماکے کی اطلاع
    • حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
    • کامیاب ثالثی کے بعد کشیدگی تھم گئی؛ امریکا اور ایران کے ایکدوسرے پر حملے بند
    • وزیرِ صحت نے نوجوانوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کی وجہ نائٹ پارٹیز کو قرار دے دیا
    • سپر ٹائفون باوی سے 15 افراد ہلاک، بڑے پیمانے پر انخلا جاری
    • امریکی قونصل خانوں نے کراچی اور لاہور میں خدمات دوبارہ شروع کر دیں
    • فلپائن میں طوفان سے ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ”افغان صدر یا چیف ایگزیکٹوسے بات ہمارے وزیراعظم یا وزیرخارجہ کو کرنی چاہیے“ نامور تجزیہ کار ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

    By Daily Khabrainجنوری 17, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    zia shahid
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس کی سماعت کی ملک کے کروڑوں افراد کو کئی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں۔ اکیس بائیں سینئر دوستوں سے اس کیس بارے پوچھا تو ان کا مو¿قف تھا کہ موجودہ بنچ بھی اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں دے سکے گا۔ امکان غالب ہے کہ اس کیس میں 3 متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جائے گا۔ موجودہ بنچ چونکہ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اس لئے تحقیقات کےلئے نیب کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں لیکن نیب جو جواب دے گا وہ نوشتہ دیوار ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ سمجھ سے بالا ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں جائے تو کہتے ہیں کہ عدالت میں کیس ہے بات نہیں کر سکتے اور عدالت میں کہا جاتا ہے کہ آپ پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے تو پھر کیا اس پر بات کسی اور ملک میں جا کر کی جائے۔ ہمارے معاملے کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر تو پہنچنا ہی پڑے گا کہ اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا۔ بی بی سی نے اگر غلط رپورٹ دی ہے تو ن لیگ کے پاس تو موقع ہے۔ شریف فیملی لندن کی عدالت میں جا کر ہتک عزت کا دعویٰ کر دے تو بی بی سی پھنس جائے گی اور بھاری جرمانہ بھی دینا پڑے گا۔ ان معاملات میں وہاں کی عدالتیں بڑی سخت ہیں۔ عمران خان کو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہیے وہ الیکشن کمیشن کی کمزوریوں کی نشاندہی ضرور کریں لیکن سخت ریمارکس نہ دیا کریں۔ آرمی چیف کا افغانستان کے صدر سے بات کرنا سمجھ سے بالا ہے۔ افغان صدر یا وزیراعظم سے بات کرنا ہی تھی تو وہ وزیراعظم کو کرنا چاہیے تھی۔ جنرل (ر) کیانی آرمی چیف بنے تو سب سے پہلے اخبار کے ایڈیٹرز سے طویل ملاقات کی۔ اس میں اس بات پر زیادہ زور دیا جاتا رہا کہ سیاسی جماعتوں کے غیرفعال ہونے ا ور خلا چھوڑ دینے کے باعث مارشل لاءلگتا ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ پانامہ کیس میں عدالت تنی ہوئی رسی پر چلنے پر مجبور ہے۔ اسمبلی فلور پر غلط بات کی جائے تو تحریک استحقاق کی زد میں آتی ہے۔ سپیکر کے نوٹس میں کیس لایا گیا تو انہوں نے عدلات میں زیر سماعت کا کہہ کر معاملہ ختم کر دیا۔ عدالت میں بات ہوئی تو سوال اٹھا دیا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اس معاملے کا آسان حل یہ ہے کہ عدالت کہے کہ ہم وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر پر سوال نہیں اٹھا رہے وزیراعظم نے جو کہا ہوگا ٹھیک کہا ہوگا۔ عدالت کہے کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں نے اداروں اور مختلف فورسز پر جو بیانات دئیے ہیں ہم انہیں دیکھنا چاہیں گے۔ ان کے بارے میں فیصلہ کرینگے۔ یہ طریقہ کار اختیار کر کے عدالت اسی معاملے سے بطریق احسن نپٹ سکتی ہے۔ پانامہ معاملہ بڑا حساس ہے عدالت کو اس میں وزیراعظم کی تقریر کو بالکل بھی مثال نہیں بنانا چاہیے کیونکہ جب اسمبلی میں اس بارے سوال اٹھایا گیا تو سپیکر نے اسے زیر سماعت معاملہ قرار دیا۔ پارلیمنٹ کو جو تحفظ حاصل ہے عدالت کو اس میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ دیگر راستے موجود ہیں۔ وزیراعظم نے 2 بار قوم سے خطاب کیا۔ ان کے بچوں نے بیانات دئیے، ٹویٹ کیے، ابی بی آر اور دیگر اداروں کے پاس دستاویزی ثبوت ہیں۔ ان سب میں تضادات پائے جاتے ہیں عدالت کو اسی طرف جانا چاہیے۔ عدالت کو اس وقت اسمبلی میں بیان کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ اس معاملے کو کسی اور وقت کےلئے چھوڑ دینا چاہیے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ عدالت کو اسی طرح کے جھمیلوں میں الجھانا چاہتے ہیں جس سے آئین میں ترمیم کےلئے راستہ بنے۔ عدالت ان سب چیزوں کو نظر میں رکھے۔ یہ کیس پانچ رکنی بنچ کا نہیں بلکہ فل کورٹ بنچ کا کیس تھا۔ عدالت اس معاملے میں احتیاط سے کام لے ورنہ 24 ویں آئینی ترمیم کا راستہ کھل جائے گا۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ ا گر دستیاب مواد کی بنیاد پر اتنا فیصلہ کرنا ہو کہ آرٹیکل 63,62 کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں تو عدالت کو پورا اختیار حاصل ہے۔ عدالت اس معاملہ میں دستیاب مواد تک ہی رہے اگر آگے بڑھے گی تو متنازع ثبوتوں والے معاملات سامنے آ جائینگے اور پھر کمیشن بنانا پڑے گا۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ کمیشن بنا تو پھر کیا نتائج سامنے آئینگے۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ آرٹیکل 66 کے تحت پارلیمنٹ میں جو بحث ہوتی ہے اسے استحقاق حاصل ہوتا ہے کہ اس پر کورٹ میں کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن یہ ایک عمومی بات ہے۔ وزیراعظم کی تقریر کی بات دوسری ہے۔ انہوں نے اپنی وضاحت کےلئے قوم کے سامنے اپنا مکمل کردار پیش کرنے کےلئے پارلیمنٹ کو منتخب کیا۔ تقریر میں جو بیان کیا وہ ان کا اپنا منتخب کردہ انداز تھا کہ وہ قوم کے سامنے صفائی کیسے پیش کرتے ہیں اس لحاظ سے یہ عام کارروائی نہ تھی اور اسے مکمل استحقاق حاصل نہیں ہے۔ وزیراعظم نے چونکہ خود ایک طریقہ اختیار کیا اس لئے وہ اب نہیں کہہ سکتے کہ اس طریقہ کار پر جواب دہی نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعظم پارلیمنٹ میں خود کو احتساب کےلئے پیش کر رہے تھے۔ احتساب تو تبھی ہو سکتا ہے کہ اس تقریر کا ہر فورم پر ذکر ہو۔ پارلیمنٹ میں ایک راستہ چنا گیا تو عدالت میں قطری خط پیش کر دیا گیا۔ اب بی بی سی کی رپورٹ میں تفصیلی معلومات سامنے آگئیں کہ فلیٹس تو90 کی دہائی میں خریدے گئے جبکہ حسین نواز کہتے ہیں کہ 2006ءمیں خریدے۔ برطانیہ میں کسی بھی کمپنی کے ارکان بارے معلومات آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں جس سے ابہام دور ہو جائے گا۔ معروف تجزیہ کار شمع جونیجو نے لندن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی کی وزیراعظم کی جائیداد بارے رپورٹ کا برطانیہ میں میڈیا اور وکلاءکو پہلے سے معلوم تھا۔ یہاںپاکستانی کمیونٹی نے بی بی سی کو حکمران خاندان کی جائیداد کے حوالے سے معلومات فراہم کی۔ لیگی رہنماﺅں کو ذرا بھی ابہام ہے تو فوری عدالت جائیں وہ نہیں جائینگے کیونکہ بی بی سی نے 100 فیصد ریکی کر کے 100 فیصد مصدقہ رپورٹ جاری کی ہے۔ بی بی سی نے شریف فیملی کی نائٹ برج میں پراپرٹی بارے بھی رپورٹ دینا تھی لیکن دستاویزات نہ ملنے کے باعث اسے آخری وقت پر رپورٹ سے نکال دیا گیا۔ یہ وہی جائیداد ہے جس بارے تہمینہ درانی نے کہا تھا کہ شہباز شریف کی ملکیت نہیں ہے لیکن پاکستانی میڈیا نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ آصف زرداری کو معلوم ہے کہ پاکستان میں ہر وقت ان کی نگرانی ہوتی ہے اس لئے زیادہ تر وقت باہر گزارتے ہیں۔ وہ امریکہ میں صدر ٹرمپ تک تو نہیں پہنچ سکتے لیکن بزنس کمیونٹی سے ملیں گے۔ آصف زرداری کو یقین ہے کہ اللہ کے بعد امریکہ راضی ہو جائے تو پیپلز پارٹی کی حکومت کی باری آ جائے گی۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      این ڈی ایم اے کا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ الرٹ

      پنجاب حکومت کا ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 50 فیصد ٹیکس ریلیف کا اعلان

      حکومت نے چینی برآمد کی تجویز مسترد کر دی۔

      تازہ ترین

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.