لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو بجلی کا شارٹ فال ختم کرنے کے لئے آئی پی پیز سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ اس وقت بھی ہمارے پاس 22 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجودہے۔ 10 ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آ رہی ہے جبکہ 7 ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال ہے۔ ہمسایہ ممالک سے بجلی لینے کی باتیں کرنے کے بجائے ملکی وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے۔ وزیراعظم نوازشریف کی نیت پر کوئی شبہ نہیں، وہ یقینا پوری کوشش کر رہے ہوں گے۔ملک میں بہت سارے پروجیکٹس زیر تعمیر ہیں جن میں سے کچھ کا افتتاح بھی کر دیا گیا لیکن وہ بھی 3,2 سال میں بجلی فراہم کرنا شروع کریں گے تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ واپڈا اور حکومتی پاورز ہاﺅسز کی مرمت اور استعداد بڑھانے سے بھی 1200 میگا واٹ کے قریب بجلی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرف توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ جب واپڈا کے پاس جنریشن اور ڈسٹری بیوشن کی ذمہ داری تھی تو اس وقت صرف ایک ہی ادارہ ذمہ دار تھا لیکن سابقہ حکومتوں نے نہ صرف واپڈا کو زیرو کر دیا بلکہ فارغ کر دیا اور سارا انتظام مختلف اداروں کے سپرد کر دیا۔ پہلے پاور جنریشن کا بڑا حصہ آبی وسائل سے حاصل ہوتا تھا، وہ بجلی سستی ہوتی تھی۔ آئی پی پیز سے گیس و تیل سے بجلی بنانا شروع کی اور حکومت سے معاہدہ کر لیا کہ اس ریٹ پر بجلی فراہم کریں گے۔ علیحدہ علیحدہ کمپنیاں بن گئیں، جہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرائیویٹ بجلی گھروں کے 400 ارب روپے ادا کرنے ہیں لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ آئی پی پیز کے واجبات ادا کرے اور ان سے مذاکرات کرے تا کہ بجلی کی کمی کا مسئلہ حل ہو سکے کیونکہ اس کے بغیر مسئلہ کا حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کو ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا یہ ساتھ ساتھ بنتی ہے اور تقسیم ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے تو کہہ دیا کہ لوڈ شیڈنگ فوری بند کریں لیکن یہ کیسے ہو گا؟ بجلی کی پیداوار بڑھائے بغیر لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس کی سرکاری رپورٹ آنے تک کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔ حتمی سرکاری رپورٹ آنے کا انتظار کرنا چاہئے، اس وقت تک قیاس آرائیاں کرنا ٹھیک نہیں۔ سابق چیئرمین واپڈا جنرل (ر) ذوالفقار علی خان نے کہا ہے کہ موجودہ بجلی بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے تو حالیہ لوڈ شیڈنگ ختم ہو سکتی ہے۔ واپڈا کے پاس 5 ہزار میگا واٹ کے سول پاور ہاﺅسز ہیں، جو گیس سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے 15 سو میگا واٹ تک بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ واپڈا کے اختیارات وزارتوں کے پاس چلے گئے اور ان وزارتوں کے افسران اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں اور بجلی محکموں کی مہارت نہ رکھنے کی وجہ سے ان کو سنبھال نہیں پا رہے۔ جب بجلی کے محکموں میں سفارش کی بنیاد پر تقرر و تبادلے اور ترقیاں ہوں گی تو وہ کیسے ترقی کریں گے۔ آئی پی پیز پابند ہیں کہ ان کے پاس 21 دن کا فرنس آئل ہو لیکن انتظامیہ کی غفلت کے باعث ایسا نہیں ہو پا رہا۔ ملک میں اس وقت بھی طلب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ مالی و انتظامی مسئلہ بن گیا ہے۔ بجلی کو مہنگا کرنا یا زیادہ پاور ہاﺅسز لگانا مسئلے کا حل نہیں، جب تک انتظامیہ میں پیشہ ور لوگ نہیں آئیں گے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پیپکو اور ڈسٹری بیوشن کے لوگ بڑے بڑے صارفین کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جو بجلی استعمال کرتے ہیں لیکن پیسے ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے شارٹ فال پیدا ہوتا ہے اور پھر گردشی قرضہ بڑھتا ہے، یہ کو ایڈمنسٹریشن کی نشانیاں ہیں۔ انتظامیہ ٹھیک ہو جائے تو ایک دو ماہ میں بجلی بحران ختم ہو سکتا ہے۔ اگر پیپکو سو روپے کی بجلی فراہم کرتا ہے تو اس کی ریکوری 85,80 روپے ہوتی ہے جو انتظامیہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔