Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • این ڈی ایم اے نے 23 جولائی تک شدید موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔
    • پاکستان میں سونے کی قیمت 4 لاکھ 20 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی، عالمی سطح پر فی اونس قیمت 4 ہزار ڈالر سے بڑھ گئی۔
    • متحدہ عرب امارات نے ایران جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا، امریکا کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا۔
    • ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اب سپر پاور نہیں رہا۔
    • حکومت نے سابق ارکانِ قومی اسمبلی کے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔
    • چین، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات پورٹ قاسم کی ترقی کے لیے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
    • ڈیفنس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی کار کے قریب فائرنگ، پولیس ذرائع
    • ورلڈ کپ فائنل سے قبل لامین یامل کی دعا اور قرآن پاک کی تلاوت کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔
    • غزہ پر اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق، محکمہ صحت
    • برطانیہ میں ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے نئے مقدمات کے بعد ٹیٹ برادران میامی میں گرفتار۔
    • ایران کے صوبہ خوزستان میں 5.0 شدت کا زلزلہ۔
    • امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا آٹھوی رات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔
    • این سی سی آئی اے کا نورین نیازی کو نوٹس جاری
    • پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع کے لیے سیلابی الرٹ جاری کر دیا۔
    • ماشربُرم چوٹی سر کرنے کے دوران چیک کوہ پیما ہلاک
    • میکسیکو کے ساحل پر 7.4 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ پیدا ہوگیا
    • ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں
    • دی ایلڈرز کا انتباہ: اسرائیل فلسطین کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، فوری اقدام کا مطالبہ
    • وینزویلا نے زلزلہ بحالی کے لیے آئی ایم ایف سے 346 ملین ڈالر حاصل کر لیے
    • اردن کی فوج کا دعویٰ: فضائی دفاعی نظام نے 10 ایرانی میزائل مار گرائے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    20ہزار مسلمان قتل ، 10ہزار لاپتہ ،5ہزار خواتین سے زیادتی ،روہنگیامیں مسلم نسل کشی جاری

    By Daily Khabrainجون 16, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    peoples.jpg
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (خصوصی رپورٹ)میا نمار کی مسلم اکثریتی ریاست اراکان میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف قوم پرست بودھ انتہا پسندوں اور حکومتی فورسز کی ملی بھگت شروع ہونے والی نسل کشی کے پانچ برنس مکمل ہوگئے۔ اس خونریز نسل کشی مہم کے نتیجے میں پہلے ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں 20ہزار مسلمان قتل اور 10ہزار لاپتا ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 5ہزار مسلمان خواتین جنسی درندوں کے مجرمانہ حملوں کا نشانہ بنی تھیں 2012ءکے ماہ جون کے فسادات کی بنیاد ایک خبر پر رکھی گئی ہے جس میں ایک رکھا ئنی خاتون پر چند روہنگی مسلمانوں کے مجرمانہ حملے اور اسے قتل کردینے کی اطلاع تھی۔اس واقعہ کے تین الزام میں تین افراد کو پولیس نے گرفتار کرکے سز اجیل بھیج دیا تھا۔تاہم بودھ انتہا پسندوں نے اس واقعہ کو روہنگیا مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ملک گھیر سطح پر پہلے مظاہرے کرکے عوام کو برانگیختہ کیا اور بعدازاں مسلمانوں کے قتل عام اور جلاوطنی کا نہ ختم ہونے والا ظالمانہ سلسلہ شروع ہوا۔ حکومت نے پہلے کرفیو نافذ کیا اور 10جون کو ایمرجنسی لگادی 2012ءمیں 22جون تک 57مسلمان مارے گئے 90 ہزار افراد بے گھر ہوئے ،31بودھ بھی ہلاک ہوئے، اڑھائی ہزار سے زیادہ مکان جلائے گئے، ان میں 13سو سے زیادہ گھر مسلمانوں کے تھے۔ اس سارے دورانیے میں مسلمانوں کے خلاف جی بھر کر امتیازی سلوک کیا گیا جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حقوق انسانی کی تمام عالمی تنظیموں نے بری حکومت کو ملوث قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نسل کشی مہم کی حمایتی قرار دیا۔ اس اثنا میں برمی صدر تھین سین نے اقوام متحدہ کو روہنگیا مسلمانوں کو کسی اور ملک میں منتقل کرنے کی تجویز دی تاہم ان کی یہ درخواست سختی سے رد کردی گئی۔ اس وقت سے لیکر آج تک عالمی تنظیمیں برمی حکومت پر ر وہنگی مسلمانوں کو ” انسانی بحران“ سے دو چار کرنے، کیمپوں میں رکھنے او ر امدادی کارکنوں کی گرفتاریوں پر لعن طعن کررہی ہیں۔ روہنگیا مہاجرین کے امور کے نگران عالمی مرکز کے مطابق اس وقت روہنگیا تارکین وطن کی بڑی تعداد بنگلہ دیش میں ہے ۔کوکس بازار اور چٹاکانگ میں مہاجرکیمپوں میں تقریباً3لاکھ روہنگیا مہاجرینب انتہائی کسمپری اور غیرانسانی حالات میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں تھائی لینڈ ، ملائیشیا اور دیگر ہمسایہ ممالک میں جاکر ٹھو کریں کھا رہے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات میں بنگلہ دیشی حکومت اور میڈیا کا بھی کلیدی کردار ہے۔ میانمار میں جون 2012ءکے فسادات سے چھ ماہ قبل یعنی جنوری میں ایک بنگلہ دیشی اخبار نے اطلاع دی کہ مختلف روہنگی عسکریت پسند گروہ بنگلہ دیش میں داخل ہورہے ہیں جن میں روہنگیا سولیڈ پریٹی آرگنائزیشن، اراکان موومنٹ ، اراکان پیپلز فریڈم پارٹی اور اراکان نیشنل آرگنائزیشن بڑے نا م ہیں، ان تنظیموں نے اراکان کو ” آزاد نیوروشیا“ کے نام سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس اتحاد کا نام اراکان روہنگیا یونین (ARI) تجویز کیا گیا ہے۔ جون میں اراکان میں فسادات کے آغاز دنوں میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ دیپومونی نے بنگلہ دیش کی ” جماعت اسلام“ پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند روہنگی مسلمانوں کی سرپرستی کررہی ہے۔ ستمبر میں بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق اراکان میں جماعت الاراکان عسکری سرگرمیوں میں مصروف ہے، باور کیا جارہا ہے کہ وہ کالعدم بنگلہ دیشی ”جماعت المجاہدین“ کی شاخ ہے۔ اخبار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اراکان روہنگیا یونین بنگلہ دیش اور ارارکانی عسکریت پسندوں کا اکٹھ ہے اور ان کے تعلقات پاکستان کے چند دہشت گرد گروہوں سے بھی ہیں۔ بنگلہ دیشی سرکار کے حمایتی میڈیا کے یہ جھوٹے الزامات میانمار میں عوامی اور حکومتی سطح پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کا سبب ہے اور بودھ انتہا پسندوں نے انہیں خبروں کو بڑھا چڑھا کر روہنگیا مسلمانوں پر حملے کئے۔حکومتی فورسز نے بھی روہنگی مسلمانوں کو غیرملکی گروہوں سے رابطوں کے الزام میں مشکوک قرار دیکر ان کے خلاف ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے آزمانے شروع کئے ۔ یوں تو اراکان کے روہنگی مسلمان گزشتہ ایک صدی سے نسل پرستی اور تعصب کی آگ میں جل رہے ہیں۔تاہم رواںصدی کے دوران بودھ انتہاپسندوں کے ہاتھوں ہونے والا یہ دوسرا قتل عام ہے۔ جون 2012ءسے قبل 2001ءمیں بھی میانمار میں بودھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ یہ وہ موقع تھا جب افغانستان میں بامیان کے بدھا کو مسمار کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس کے جواب میں 15مئی کو پیگوڈویڑن کے شہر تاانگو میں 200 سے زیادہ مسلمان قتل، گیارہ مسجدیں شہید اور 400 مکان راکھ کیے گئے تھے۔ اس موقع پر مسجد میں 20مسلمان حالت نماز میں مارے گئے تھے، اس موقع پر سرکاری اہلکاروں نے ہانتھا کی مسجد بلڈوز کردی اور تاانگوں کی مسجد پر تالے ڈال دئیے جومئی 2012ءتک پڑے رہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      این ڈی ایم اے نے 23 جولائی تک شدید موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔

      پاکستان میں سونے کی قیمت 4 لاکھ 20 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی، عالمی سطح پر فی اونس قیمت 4 ہزار ڈالر سے بڑھ گئی۔

      حکومت نے سابق ارکانِ قومی اسمبلی کے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.