عالمی رہنماؤں کے معروف وکالتی گروپ ‘دی ایلڈرز’ (The Elders) کے چار ارکان نے حال ہی میں (11 سے 16 جولائی 2026 تک) مغربی کنارے، اسرائیل، اردن اور لبنان کا ایک اہم دورہ مکمل کیا ہے۔ اس وفد میں آئرلینڈ کی سابق صدر میری رابنسن، جنوبی افریقہ کی گراسا مچیل، نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک، اور پاکستان کی سپریم کورٹ کی معروف وکیل و انسانی حقوق کی رہنما حنا جیلانی شامل تھیں۔
دورے کے بعد جاری کردہ اپنے آفیشل اور مستند بیان میں، ان رہنماؤں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے انتہائی سخت الفاظ میں اپیل کی ہے۔
دی ایلڈرز گروپ کے چار ارکان—میری رابنسن (آئرلینڈ)، گراسا مچیل (جنوبی افریقہ)، ہیلن کلارک (نیوزی لینڈ) اور حنا جیلانی (پاکستان)—نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے بعد اپنے مشترکہ بیان میں عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت، بالخصوص ان کے وزراء اسملاتریچ اور بن غفیر، فلسطین کو "جسمانی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی طور پر” مٹانے (غائب کرنے) کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وفد نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جہاں ایک طرف دنیا کی نظروں کے سامنے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور الحاق (Annexation) کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، وہیں دوسری طرف غزہ کی آبادی کو تباہ کن حالات میں زمین کے ایک انتہائی چھوٹے ٹکڑے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ‘اونروا’ (UNRWA) پر منظم حملے دراصل فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کو ختم کرنے کی سازش ہیں۔
دی ایلڈرز کے ارکان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال پر اپنی آنکھیں بند نہ کریں اور اسرائیل کو فلسطینی عوام کی خود ارادیت کے حق کو مستقل طور پر چھیننے اور خطے میں مبینہ نسلی کشی (Ethnic Cleansing) کو فروغ دینے سے روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبضے، الحاق اور جبری نقل مکانی کی یہ پالیسیاں خود اسرائیل کے اپنے طویل مدتی امن اور سلامتی کو بھی تباہ کر دیں گی۔

