لاہور (ویب ڈیسک)12جنوری 1997کو پیداہونے والی گل مکئی المعروف ملالہ یوسف کی شہریت سے لیکر دہشتگرادانہ حملے تک شخصیت پر اسرار نہیں مشکوک بھی رہی۔19اکتوبر 2011کو ملالہ یوسفزئی کو منگورہ میں مبینہ حملے کے بعد برطانیہ منتقل کر دیا گیا۔جہا ں وہ کچھ عرصہ زیر علاج رہیں۔دنیا بھر کے میڈیا نے ملالہ کو راتوں رات شوبز کی اداکارہ کی طرح شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔2010میں امریکی صحافی نے دستاویزی فلم بنائی 12جولائی 2013کو اقوام متحدہ میں خطاب کیا۔ 15مئی 2014کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی۔ملالہ یوسفزئی کے بارے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر پولینڈ کے ایک عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ مستقبل میں انہیں پاکستان میں اہم ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ 5سال بعد پاکستان آنے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں پشتو میں خوش آمدید کہا اور انہیں اس وقت بھر پور سرکاری پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔جہاں ایک طرف پاکستان میں مذہبی اور بنیاد پرست طبقہ ملالہ یوسفزئی کی شخصیت کو شک سے دیکھتا ہے اور انہیں وہ پذیرائی نہیں دیتا جو انہیں بین الاقوامی سطح پر مل رہی ہے۔تودوسری جانب پاکستان میں موجود روشن خیال طبقہ ملالہ یوسف زئی کو خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی اہم شخصیت کے طور پر دیکھتا ہے






































