لاہور (ویب ڈیسک) باغبانپورہ کے علاقہ میں تین ماہ قبل مبینہ طور پر تاوان کے لئے اغوئا ہونے والا شہری گزشتہ روز پراسرار طور پر گھر واپس آگیا، جس سے سارا معاملہ مشکوک ہوگیا ہے،اغوابرائے تاوان سیل سے تفتیش لے کر ایس پی سی آئی اے نے ایک روز قبل ڈی ایس پی کوتوالی خالد فاروقی کو دی جس کے بعد فرحان ا خود گھر پہنچ گیا ہے۔ مذکورہ ڈی ایس پی نے بتایا کہ گھر واپس آنے کے بعد ابھی تک اس کی مغوی سے بات نہیں ہوئی ہے، ملاقات کے بعد ہی حقائق واضح ہوجائیں گے۔ دوسری جانب اغوائ ہونے والے شہری کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات اسے نامعلوم ا فراد نے اسلام آباد ایک نجی بس سٹینڈ کے باہر چھوڑ کر 3500 روپے کرایہ دیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔بتایا گیا ہے کہ باغبانپورہ کے علاقہ میں تین جنوری کو مبینہ طور پر اغوا ہونے والے دھوبی گھاٹ کے رہائشی 35 سالہ فرحان جو مقامی علاقہ میں رینٹ اے کار کا کاروبار کرتا ہے کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے اغوائ کرلیا تھا جس کا مذکورہ تھانہ میں اغوائ کی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 29/18 درج کرلیا گیا لیکن واقعہ کو چند روز گزرنے کے بعد اغوا کاروں کی جانب دو کروڑ 25 لاکھ روپے مبینہ تاوان کا مطالبہ پر مقدمے کی سنگین نوعیت کے باعث ایک ماہ بعد تفتیش سی آئی اے کوتوالی کے اغوائ برائے تاوان سیل منتقل کردی گئی۔یاد رہے اغوائ برائے تاوان سیل کے انچارج طارق کیانی ہیں اور اس مقدمہ کی تفتیش اس نے اپنے خاص افسر کے سپرد کی جس نے تفتیش کا آغاز باقاعدہ شروع کیا اور جس نمبر سے اغوا کاروں کی کال آئی اس نمبر کو ٹریس کیا گیا جو گیٹ وی ایکسچینج کا تھا۔ اس دوران مقدمہ مدعی عمر رشید جو مغوی کے حقیقی بھائی ہیں نے تین ملزمان امجد عرف چنی بٹ جو چیئرمین کے الیکشن کا امیدار تھا، دوسر افضل گھرکی، تیسراطاہر بٹ جس کا بھٹہ چوک میں معروف گیسٹ ہا?س ہے کو نامزد کیا گیا۔مقدمہ مدعی عمر رشید اور اس نے چچا خالدنے بتایا کہ فرحان کے اغوائ میں کوئی پیشرفت نہ ہونے پر ایس پی سی آئی اے ندیم عباس نے مقدمہ کی تفتیش اغوائ برائے تاوان سیل سے لے کر ڈی ایس پی کوتوالی خالد فاروقی کو دی۔






































