روسی کمپنی کی جدید ترین کالا شنکوف سپر کار نے دھوم مچا دی

ماسکو (ویب ڈیسک) روسی کمپنی کلاشنکوف نے ایک پرانے انداز کی الیکٹرک کار متعارف کروائی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کار معروف امریکی کمپنی ٹیسلا کا مقابلہ کرے گی۔ شہورِ زمانہ کلاشنکوف رائفل (اے کے 47) بنانے والی کمپنی نے سی وی 1 نامی اس کار کا نمونہ ماسکو میں ایک تقریب میں متعارف کروایا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ سی وی 1 1970 کی دہائی میں مقبول سوویت ہیچ بیک کار کے طرز پر بنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک جدید ترین سپر کار ہو گی۔جمعرات کے روز ایک بیان میں کمپنی کا کہنا تھا کہ سی وی 1 میں انتہائی جدید ترین نظام لگائے گئے ہیں جو ’الیکٹرک کار بنانے والی عالمی کمپنیوں جیسے کہ ٹیسلا‘ کا مقابلہ کریں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب یہ گاڑی مکمل طور پر تیار کر لی جائے گی تو اس کی رفتار موجودہ الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو گی اور یہ ایک چارج پر ساڑھے تین سو کلومیٹر کا سفر کر سکے گی۔کیونکہ یہ ایک ابتدائی پروٹوٹائپ ہے اسی لیے گاڑی کی قیمت فی الحال نہیں بتائی گئی۔روسی کمپنی کلاشنکوف اپنے برانڈ کو مختلف اطراف لے جانے کے لیے کوشاں رہی ہے اور حال ہی میں انھوں نے کپڑوں کی ایک لائن بھی لانچ کی ہے جس کے ساتھ ساتھ ذاتی استعمال کی اشیا جیسے کہ سمارٹ فون کور اور چھتریاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔کمپنی کے الیکٹرک گاڑیوں کے میدان میں قدم رکھنے پر ماسکو میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے جلد ہی کمپنی کے فیس بک پیچ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کر دیا اور کچھ نے تو اسے ’زومبی لائک‘ کہنا شروع کر دیا جبکہ کچھ نے اسے ’زبردست‘ قرار دیا۔ایک صارف نے کہا کہ ’آپ کے ٹینک تو بہت اچھے ہیں مگر بہتر ہو گا کہ آپ گاڑیوں سے دور ہی رہیں۔‘اسی ہفتے کے آغاز میں کلاشنکوف نے ایگورک نامی ایک روبوٹ بھی متعارف کروایا تھا جس کا قد چار میٹر ہے اور وزن 4.5 ٹن ہے جس کا مقصد انجینیئرنگ اور جنگی کام کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت پر جب دنیا میں روبوٹ چھوٹے سے چھوٹے ہو رہے ہیں، کمپنی کو اپنے قدرے پرانے انداز کے بھاری بھرکم سٹائل پر کمپنی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔کمپنی کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ 2020 تک وہ اس روبوٹ کا بہتر ورڑن متعارف کروائیں گے۔

حج کے بعد شیطان کو ماری جانیوالی ہزاروں ٹن کنکریاں کہاں جاتی ہیں ؟ حیرت انگیز خبر

مکہ مکرمہ (ویب ڈیسک) ہر سال حج کے دوران عازمین رمی جمرات میں تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں، جو حج کا ایک اہم رکن ہے لیکن یہ کنکریاں کہاں جاتی ہیں، آئیے جانتے ہیں۔ منی’ میں ان کنکریوں کو صاف کرنے کی کارروائی ایک خود کار عمل ہے جو جمرات پل کے تہہ خانے میں 15 میٹر کی گہرائی پر واقع ہے۔حجاج کی جانب سے جمرات کے تین حوضوں میں کنکریاں پھینکے جانے کے بعد 3 خودکار کنویئر سسٹم (conveyor system) کے ذریعے ان تمام کنکریوں کو جمع کر لیا جاتا ہے۔اس کے بعد کنکریوں کے چھانٹے جانے اور الگ کیے جانے کی کارروائی عمل میں آتی ہے۔یہ پورا نظام جمرات کے پل کی مختلف منزلوں پر نصب برقی پھاٹک کھولے اور بند کیے جانے کے ذریعے کام کرتا ہے۔اس طرح ان کنکریوں کو منتقلی کے لیے مقررہ لاریوں تک پہنچایا جاتا ہے۔جس کے بعد ان کنکریوں کو کچرا شمار کرکے مقررہ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔سرکاری اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً 1 ہزار ٹن کنکریوں کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔

 

کیا اس بار پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں گی؟ وفاقی وزیر نے ایسا جواب دیدیا کہ آپ بھی کہہ دینگے تبدیلی آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کی قیمتوں کا تعین عالمی ٹیکسز کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہر وزارت میں اخراجات کم کرنے کا کہا ہے، میں بھی اپنی وزارت کی کوئی سرکاری گاڑی نہیں لوں گا جب کہ وزارت پٹرولیم اور ماتحت کمپنیوں کے افسران کو بھی غیر ضروری گاڑیاں واپس کرنا ہوں گی۔ کرپشن کے نام سے چڑ ہے، اسے کسی لیول پر برداشت نہیں کی جائے گی۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ پٹرول امیر استعمال کرتے ہیں، 2004 سے پہلے ڈیزل سستا اور پٹرول مہنگا تھا، وزارتِ پٹرولیم پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاتعین عالمی ٹیکسز کو مد نظر رکھ کر کریں گے، پٹرولیم مصنوعات کی 15 فیصد ملکی پیداوار ہے، کوشش ہو گی کہ پڑولیم مصنوعات کی درآمد کم کی جائے اس حوالے سے پٹرولیم کادرآمدی بل کم کرنے کے لیے تیل وگیس کے مقامی ذخائر کی تلاش تیزکریں گے، خوشخبری ہے کہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے تیل اورگیس کے نئے ذخائردریافت کیے ہیں۔وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ افغانستان سے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، ترکمانستان، افغانستان اوربھارت سے بات چیت کو فاسٹ ٹریک پر ڈالیں گے، جب کہ ایران پائپ لائن منصوبے کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں گے، کوشش ہوگی ایران عالمی عدالت میں نہ جائے اور پہلے ہی مسئلہ حل ہوجائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاپی منصوبےکی تکمیل کا ہدف 2020 ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے پرکام تیزکریں اور اسے مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کرلیں۔

” یہ ناریل کا تیل نہیں زہر ہے “ نئی تحقیق نے نیا بھونچال پیدا کر دیا

امریکہ(ویب ڈیسک ) امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں صحتِ عامہ کی پروفیسر کیرن مچل نے اپنی ایک حالیہ ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ناریل کا تیل صحت بخش نہیں بلکہ ایک زہر ہے۔یوٹیوب پر شیئر کرائے گئے ایک ویڈیو لیکچر میں پروفیسر کیرن مچل نے خبردار کیا ہے کہ ناریل کا تیل مفید نہیں بلکہ کسی زہر کی مانند ہے جو انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ امریکی پروفیسر نے یہ حیران کن انکشاف اپنے ویڈیو لیکچر ’ناریل اور دیگر غذائی مغالطے‘ میں کیا۔کیرن یونیورسٹی آف فریبرگ، جرمنی کے شعبہ وبائی امراض کی ڈائریکٹر بھی ہیں اور ناریل کے تیل سے متعلق انکشاف پرانہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی پروفیسر نے اپنی تحقیق کے حوالے سے غذائی چارٹ اور دیگر شواہد بھی پیش کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناریل کے تیل میں سیرشدہ چکنائیوں (Saturated Fats) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو صحت کے لیے زہر ہے۔اس قسم کی چکنائیوں میں بطورِ خاص ”ایل ڈی ایل“ بھی شامل ہے جسے طبّی ماہرین ”برے کولیسٹرول“ (bad cholesterol) کے نام سے جانتے ہیں کیونکہ یہی وہ چکنائی ہے جو رگوں کی اندرونی سطح پر جم کر انہیں تنگ کردیتی ہے اور خون کے بہاو¿ میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے کئی ایک امراضِ قلب لاحق ہونے کی وجہ بھی ہے۔دوسری جانب ٹفٹ یونیورسٹی کے فوڈ سائنس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ایلس لیکٹینسن نے پروفیسر کیرن کے ”انکشاف“ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی ڈیٹا یا سائنسی ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر ناریل کے تیل کو زہر قرار دیا جاسکے۔ البتہ ناریل کا تیل دل کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ضرور ثابت ہوسکتا ہے اور اسے محدود مقدار میں ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔امریکی تنظیم برائے امراضِ قلب نے بھی ناریل کے تیل کو پکوان میں استعمال کرنے کے عمل کو دل کے لیے نقصان قرار دیا ہے۔ ناریل میں چربی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور طبی ماہرین ایک دن میں 6 فیصد سے زیادہ سیرشدہ چکنائیاں لینے سے منع کرتے ہیں جب کہ ناریل کے تیل میں سیرشدہ چکنائیوں کی مقدار 80 فیصد ہوتی تک ہے۔

پیروں کو پیچھے کی جانب موڑ کر چلنے والے شخص نے سنسنی پھیلا دی

مشی گن ( ویب ڈیسک ) ایک امریکی شہری حیرت انگیز طور پر اپنے پاﺅں کو 180 ڈگری کے رخ پر موڑ کر الٹے قدموں چل سکتا ہے۔امریکی شخص موسس لینہم کو 14 سال کی عمر سے اپنے پاﺅ ں کو مخالف سمت میں موڑ کر پیدل چلنے پر ’مسٹر پلاسٹک‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور ایسی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ انہیں یہ انوکھی صلاحیت اس وقت حاصل ہوئی جب وہ ورزش کے دوران جم میں دو بلند دیواروں کے درمیان تنی ہوئی ایک رسی پر چلنے کی کوشش میں نیچے گرگئے تھے۔اس حادثے کے بعد موسس کو اپنے پیروں میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی اور جلد وہ جان گئے کہ بغیر تکلیف کے وہ اپنی ٹانگوں کو 180 ڈگری کے زاویئے پر موڑ کر چل سکتے ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ایسا ٹانگوں، گھٹنوں اور کولہوں کے جوڑوں میں کارٹیلیج (کرکری ہڈی) کی دگنی مقدار کی موجودگی سے ہوتا ہے۔انسانی جسم کے جوڑوں میں ہڈیوں کے درمیان ایک نرم، چکنی اور لچک دار ہڈی ہوتی ہے جسے ”کرکری ہڈی“ یا کارٹیلیج کہا جاتا ہے۔ یہ کسی جوڑ پر ہڈیوں کے آپس میں ملنے والے مقام پر ہڈیوں کی سطح کو چکنا رکھتی ہے جس سے ہڈیوں کو حرکت اور موڑنے کے دوران تکلیف نہیں ہوتی اور ہم آسانی سے اٹھ بیٹھ سکتے ہیں۔ تاہم موسس میں کارٹیلیج اور متعلقہ بافتوں (ٹشوز) دگنی تعداد میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پاﺅں کو گھٹنے سے 180 ڈگری زاویئے تک موڑ سکتے ہیں۔

کن لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں ؟ دیکھئے خبر

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ مچھر کسی شخص کو زیادہ کاٹتے ہیں جب کہ کچھ لوگوں کو بالکل تنگ نہیں کرتے جس کی ایک سائنسی وجہ ہے۔ اسی طرح بیماریوں کا سبب بننے والی مادہ مچھر صرف اس وقت کاٹتی ہے جب وہ انڈے دینے کی حالت میں ہو۔ ایک مچھر پوری رات کا سکون غارت کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے تاہم عمومی طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ایک شخص مچھر سے تنگ ہے جب کہ ا±سی کمرے میں موجود دوسرا شخص مچھر سے بےخبر پ±ر سکون نیند کے مزے ا±ڑا رہا ہوتا ہے۔یہ ایک ایسا مشاہدہ جس کی ہر کوئی اپنی اپنی توجیح پیش کرتا ہے اور اس حوالے سے کئی قصے کہانیاں بھی مشہور ہیں جیسے انسانی جلد کی رنگت، پسینے کی ب±و، خون کا گروپ اور بالوں کی ساخت مچھروں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ تاہم سائنس دان ان توجیحات سے مطمئن نظر نہیں آتے۔کچھ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں کی تمام ہی اقسام کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بہترین اداراک رکھتی ہیں اور جیسے ہی جسم سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں پھیلتی ہے، مچھر اندھیرے کے باوجود اپنے شکار تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لیکٹک ایسڈ اور امونیا سے بھی مچھر اپنے شکار کو ٹارگٹ کرلیتا ہے۔تاہم اب نئی تحقیق سے کچھ اور باتیں بھی سامنے آئی ہیں جن کا تعلق انسانی جسم پر پائے جانے والے جرثوموں کی مجموعی کیفیت سے ہے جسے سائنسی زبان میں ”مائیکروبایوٹا“ کہتے ہیں۔ ویب سائٹ ’ دی کنورزیشن‘ پر رچرڈ ہاف پینی کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ انسانی جلد بالوں پر مختلف الاقسام جرثوموں (بیکٹیریا) کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے؛ اور مچھر ہماری جلد کو نہیں بلکہ ان ہی جرثوموں کی وجہ سے یا تو ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں یا پھر ہمیں نظر انداز کردیتے ہیں۔آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ انسانی کھال کے ہر ایک مربع انچ پر 10 لاکھ سے زیادہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو 300 یا اس سے بھی زیادہ اقسام کے ہوسکتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا عام طور پر خود ہمارے لیے تو نقصان کا باعث نہیں بنتے لیکن مچھروں کو ہماری طرف متوجہ کرنے (یا نہ کرنے) کا موجب ضرور بن سکتے ہیں۔ بیکٹیریا سے انتہائی معمولی مقدار میں خارج ہونے والے بعض مادّے، بخارات کی شکل میں مچھروں تک پہنچتے ہیں اور ان کا حساس نظام انہیں بہ آسانی محسوس کرلیتا ہے۔ اسی کے ردِعمل میں وہ یا تو کسی شخص کو کاٹنے کیلئے اس پر بھنبھنانا شروع کردیتے ہیں یا پھر نظرانداز کرجاتے ہیں۔کسی بھی انسان کا مائیکروبایوٹا پوری عمر کے دوران کم و بیش یکساں ہی رہتا ہے جسے مصنوعی طریقوں سے تبدیل کرنا کسی بھی طرح عقل مندی کا کام نہیں۔ اس لیے صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر آپ کا مائیکروبایوٹا محفوظ ہے اور مچھروںکیلئے کوئی کشش نہیں رکھتا تو آپ خوش نصیب ہیں۔ اور اگر آپ کی کھال پر پائے جانے والے بیکٹیریا کا یہ مجموعہ ایسا ہے کہ مچھر اس کی سمت راغب ہوں، تو پھر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

6 لیفٹیننٹ جنرلز سمیت پاک فوج میں اعلیٰ سطحی تقرروتبادلے

اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاک فوج میں بڑے پیمانے پر اعلیٰ عہدوں پر تبادلے کیے گئے ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 6 لیفٹننٹ جنرلز کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر جاری پیغام میں کہا کہ جن لیفٹننٹ جنرلز کے تبادلے کیے گئے ہیں ان میں لیفٹننٹ جنرل عبداللہ ڈوگر کو چیئرمین ایچ آئی ٹی اور چیئرمین ایچ آئی ٹی لیفٹننٹ جنرل ندیم اشرف کو کمانڈر ٹو کور مقرر کردیا گیا۔اس کے علاوہ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل بلال اکبر کو کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل ندیم رضا کو چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کردیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی سی اینڈ آئی ٹی لیفٹننٹ جنرل ہمایوں عزیز کو کور کمانڈر کراچی اور کور کمانڈر فائیو کور لیفٹننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا کو آئی جی سی اینڈ آئی ٹی مقرر کردیا گیا۔

حمزہ شہباز نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کے کاغذات جمع کروا دیئے

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کے کاغذات جمع کرا دیے گئے۔اپوزیشن لیڈر کے لیے حمزہ شہباز کے کاغذات سابق صوبائی وزیر خواجہ عمران ںذیر نے سیکرٹری اسمبلی کے پاس جمع کرائے۔ حمزہ شہباز کے کاغذات پر 150 ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے بعد مسلم لیگ (ن) دوسری بڑی جماعت ہے۔

پو لینڈ کی گوری نے پاکستانی پرچم کیوں اوڑھا؟ کیا پی آئی اے کا جہاز اصلی تھا؟ آمد بارے مقصد جان کر آپ بھی کہہ دینگے واہ بھئی واہ

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان میں اس برس جشنِ آزادی کے موقعے پر پاکستانی پرچم اوڑھے پولینڈ کی شہری ایوا زوبیک پاکستانی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہیں۔اس کی وجہ ان کی وہ ویڈیو بنی جس میں وہ جشنِ آزادی کے موقعے پر بظاہر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ایک طیارے میں کیکی چیلنج کرتی نظر آئیں۔اس پر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے نوٹس لیتے ہوئے پی آئی اے حکام سے وضاحت طلب کی کہ ایک غیر ملکی خاتون کو طیارے تک رسائی کیسے حاصل ہوئی؟اس ویڈیو پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اس میں پاکستانی پرچم کی بےحرمتی ہوئی ہے۔ ایوا کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انھوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد پاکستان میں سیاحت کا فروغ تھا اور کچھ نہیں اور ان کے پاس تمام تر اجازت نامے موجود تھے۔ اس کے بعد کہیں جا کر معاملہ رفع دفع ہوا۔ وہ جہاز تو اصلی تھا ہی نہیں۔ مگر پہلے یہ تو معلوم ہو کہ وہ خود ہیں کون اور پاکستان میں کر کیا رہی ہیں؟پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی خراب صورت حال خراب ہونے کے باعث گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں واضح کمی ہوئی ہے۔ایوا اس بات کو مانتی ہیں: ’یہاں آنے سے پہلے میں نے بھی پاکستان کے بارے میں جو سن رکھا تھا وہ زیادہ اچھا نہیں تھا۔‘ایوا پہاڑی علاقوں سے خاص طور پر متاثر نظر آتی ہیںایوا کا آبائی ملک پولینڈ ہے جبکہ وہ برطانیہ میں ایک لمبے عرصے تک مقیم رہی ہیں جہاں کی آکسفرڈ یونیورسٹی سے انھوں نے فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بی اے کی ڈگری لے رکھی ہے۔ گذشتہ چار برس تک وہ برطانیہ ہی میں کلچر ٹرپ نامی ایک کمپنی میں کام کرتی تھیں۔یہ کمپنی سیرو تفریح کے مواقع کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ ایوا کے مطابق اس کی ویب سائٹ پر پہلے ایک برس کے دوران ہی موجود ویڈیوز کو ایک کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا جبکہ اس کو سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والوں کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ تھی۔اس کمپنی میں کام کرنے والی پہلی اہلکار ہونے سے قبل ایوا بیلجیئم کے شہر برسلز میں واقع یورپین پارلیمان میں بھی کام کر چکی ہیں۔ اس طرح وہ انگریزی اور پولش کے علاوہ اطالوی بھی بول سکتی ہیں۔وہ پاکستان کب اور کیسے پہنچیں؟ایوا نے اس برس کے آغاز میں سب کام وام چھوڑ چھاڑ بستر باندھا اور لندن چھوڑ دنیا کی سیر پر نکل پڑیں۔ وہ اب تک چالیس سے زائد ممالک میں گھوم چکی ہیں۔میں زیادہ تر ایسی جگہوں کا انتخاب کرتی ہوں جو خوبصورت مگر نظروں سے بظاہر اوجھل ہوں اور زیادہ لوگ اس طرف نہ جاتے ہوں۔‘سب سے پہلے انھوں نے اپنے آبائی ملک پولینڈ کو نئے سرے سے دریافت کیا۔ پولینڈ کے سیاحتی بورڈ کے ساتھ اشتراک میں انھوں نے سیاحت کے فروغ کے لیے مہم چلائی۔ایوا ایک وی لاگر ہیں یعنی وہ تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے ان مقامات کی کہانیاں سناتی ہیں جہاں وہ سیاحت کے لیے جاتی ہیں۔ اپنے وی لاگ کو وہ سوشل میڈیا خصوصا انسٹا گرام، فیس بک اور یو ٹیوب کے ذریعے ان کو فالو کرنے والے ہزاروں افراد تک پہنچاتی ہیں۔صرف انسٹا گرام پر ان کے فالو کرنے والوں کی تعداد 70 ہزار سے زائد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے 30 ہزار انھیں پاکستان آنے کے بعد ملے ہیں۔ایوا پہاڑوں سے خاص طور پر متاثر نظر آتی ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پولینڈ کے بعد سیدھا نیپال کا رخ کیا اور ماو¿نٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک جا پہنچیں۔وہاں سے اس برس اپریل میں وہ پہلی دفعہ اپنے سکول کی زمانے کی دوست کے کہنے پر پاکستان آئیں۔ایوا سیاحت کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کرتی ہوں جو خوبصورت مگر نظروں سے بظاہر اوجھل ہوں، اور جہاں زیادہ لوگ نہیں جاتے’یہاں آ کر مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان اس کے بالکل برعکس ہے جو مغربی ذرائع ابلاغ میں ہمیں دکھایا جاتا ہے۔‘پاکستان آنے سے قبل ان کا تصور یہ تھا کہ یہاں سیاحوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ’ویسے بھی یہاں دیکھنے کو کیا ہے، سوائے صحرا کے۔‘مگر ان کی دوست نے انہیں تصویریں بھیجیں اور اصرار کیا کہ وہ پاکستان ضرور آئیں۔ ’وہ خود کافی برس یہاں رہ چکی تھی۔ ھر میں نے خود بھی تحقیق کی تو مجھے اشتیاق ہونا شروع ہوا۔‘یہاں پہنچ کر وہ سب سے پہلے وادءہنزہ گئیں۔ ’آپ میری حیرت کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ میں پاکستان سے محبت میں گرفتار ہو گئی۔ دو ہفتے قیام کے بعد وہ آگے بڑھ گئیں۔ انھوں نے چین، ویتنام اور انڈیا کا سفر کیا۔ جون کے آخر میں تاہم وہ دوبارہ پاکستان واپس آ گئیں اور تب سے یہیں موجود ہیں اور پاکستان کے حوالے سے ان کے وی لاگ کافی مشہور ہو رہے ہیں۔ایوا دوبارہ واپس کیوں آئیں؟ ان کی پاکستان واپسی کی وجہ پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پایا جانے والا وہ منفی تاثر ہے جس کو بدلنے میں وہ اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔’میں نے جتنے ملک گھومے ہیں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ان میں سب سے زیادہ توجہ کا حقدار ہے کیونکہ یہ وہ ملک ہے جہاں سیاحت کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں مگر اس کے بارے میں غلط فہمیاں کافی زیادہ ہیں۔‘وہ لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں جا چکی ہیں۔ اور وہاں سے وی لاگ کر چکی ہیں اور چند ابھی منظرعام پر آنا باقی ہیں۔جشن آزادی پر کیا جانے والا کیکی چیلنج بھی پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے کی ایک کڑی تھاایوا کا کہنا ہے کہ کسی سے مالی امداد حاصل نہیں کرتیں اور اب تک وہ اپنا تمام کام خود کر رہی ہیں۔ تاہم مستقبل میں وہ اپنی ٹیم قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ایوا سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے پہاڑی سلسلوں میں کوہ پیمائی، مہم جوئی اور پہاڑی علاقوں کی سیاحت کے مواقع موجود ہیں۔’یہ سب کچھ پہلے ہی سے پاکستان میں موجود ہے مگر شاید غیر ملکی سیاحوں کے لیے اس کی صحیح طریقے سے تشہیر نہیں کی جاتی یا پھر وہی پاکستان کا منفی تاثر آڑے آ جاتا ہے کہ یہ بین الاقوامی سیاحوں کے لیے محفوظ نہیں۔‘ پہاڑی سلسلوں کی سیاحت کو فروغ دینے سے آغاز کرنے کے بعد مہم کو پاکستان کے دوسرے شہروں اور علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔’ذاتی طور پر مجھے یہاں کے کھانے، ثقافت اور لوگ بے حد پسند آئے ہیں۔ جس طرح مجھے یہاں خوش آمدید کہا گیا مجھے اس پر بہت خوشی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ان کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر بہت لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور پاکستان آنے کے حوالے سے معلومات لی ہیں۔ ان کے کام اے پہلے ہی مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔وہ اس کام کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں وہ مقامی شخصیات یا اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔جشن آزادی پر کیا جانے والا کیکی چیلنج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ’اگر آپ غور سے دیکھیں تو وہ ایک ایسا جہاز اور اس کا وہ حصہ تھا جو ٹریننگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہم نے سوچا کیکی چیلنج ان دنوں مقبول ہے اس سے ایک منفرد انداز میں لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔‘ اس ویڈیو نے ان کی توقعات سے کہیں زیادہ پذیرائی حاصل کی۔ ’میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کتنے زیادہ محبت اور لوگون کے پیار بھرے پیغامات موصول ہوئے۔‘

 

وزیراعظم بننے کے بعد پہلی مرتبہ عمران خان کا وزارت خارجہ دورہ، کلبھوشن سمیت اہم امور پر بریفنگ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان خان وزارت خارجہ کا دورہ کرنے کے لیے دفتر خارجہ پہنچ گئے۔وزیراعظم عمران خان کے وزارت خارجہ کے دفتر پہنچنے پر وزیر خارجہ شاہ محود قریشی اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کو وزارت خارجہ میں پاکستان کے بیرونی ممالک سے تعلقات، مقبوضہ کشمیرکی صورتحال اور پاک بھارت تعلقات پر بریف کیا جائے گا، وزیرخارجہ، سیکریٹری خارجہ اور دیگر حکام بھی بریفنگ میں موجود ہوں گے۔ وزیراعظم کو افغانستان، ایران، امریکا اور چین سے تعلقات پر اعتماد میں لیا جائے گا جب کہ وزیراعظم وزارت خارجہ کو خارجہ پالیسی پر گائیڈ لائن دیں گے اور خارجہ پالیسی پر اپنے وڑن سے آگاہ کریں گے، وزیراعظم کی ہدایات اور وڑن کی روشنی میں موثر خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے گی۔وزیراعظم کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس پر بھی بریفنگ دی جائے گئی، وزیراعظم کے دورے کے بعد آج شام وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اہم پریس کانفرنس کریں گے۔