حکومت کی جانب سے ایک بار پھر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ کے لئے امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ دوسری جانب چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے۔ جس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سے سوال پوچھا گیا کہ سینٹ الیکشن میں 17 ارکان اسمبلی نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا؟، جس پر سپیکر نے کہا کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہماری خاتون امیدوار جیتی ہیں، یہ اعتماد و عدم اعتماد کی بات نہیں یہ سیاسی عمل ہے اور ایسا ہوتا رہتا ہے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ چیئرمین سینٹ کے لیے صادق سنجرانی سے کوئی بہتر نہیں ہوسکتا۔ وزیراعظم سے صادق سنجرانی نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا مشکور ہوں۔ میں اور وزیراعلیٰ بلوچستان اتحادیوں سے رابطے میں ہیں۔ صادق سنجرانی نے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی نے بطور اتحادی صادق سنجرانی کو حمایت کی یقین دہائی کرائی۔ صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی میں بھی رابطہ ہوا۔ سنجرانی نے یوسف رضا گیلانی کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ دوسری جانب سابق صدر زرداری نے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا۔ تینوں رہنماؤں نے وزیراعظم سے فوری استعفے اور نئے الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق زرداری نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی یقینی بنانے پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کیا۔ فضل الرحمان نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی ہمارے مشترکہ اور متفقہ امیدوار تھے۔ ان کی کامیابی پی ڈی ایم کی کامیابی ہے۔ اسی اتحاد سے عمران خان کو جلد اقتدار سے رخصت کرینگے۔ زرداری، نواز شریف اور فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کی مستقبل کی حکمت عملی اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بھی بات چیت کی۔ زرداری نے کہا کہ ہم نے حکمت عملی سے حکومتی طاقتور امیدوار کو شکست دی ہے۔ حکومت کے اپنے ارکان ہم سے رابطے میں ہیں۔ وہ ان سے تنگ ہیں۔ تمام اتحادیوں سے مشاورت کے بعد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے چیئرمین سینٹ کے امیدوار کا فیصلہ کرینگے۔ ادھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سینٹ میں اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین لانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے یوسف رضا گیلانی کی جیت پر مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے سینٹ کے انتخاب کے بعد اور اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلہ کی روشنی میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کو فون کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں اور اس کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے پنجاب کے گورنر اور وزیراعلی کو بھی اسلام آباد طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی اور وفد کو ملاقات کی دعوت دی ہے۔ وزیراعظم نے خالد مقبول صدیقی سے وفاق اور صوبے میں سینٹ نشستوں پر حمایت اور ووٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ملاقات میں ایم کیو ایم قیادت کو اعتماد کے لیے ووٹ دینے سمیت دیگر اہم معاملات پر مشاورت کریں گے۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کو بھی ٹیلی فون کیا، سینیٹرز کے انتخاب، موجودہ صورتحال، بلوچستان عوامی پارٹی سے اعتماد کے ووٹ پر بھی مشاورت کی۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور انہیں جیتنے پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ خفیہ رائے شماری آئین کا حصہ ہے۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو حمایت کا نہیں کہا مبارکباد دینے آیا ہوں۔ ضرورت پڑی تو آصف زرداری اور مریم نواز کے پاس بھی جاؤں گا۔ حمایت کی ضرورت پڑی تو یوسف رضا گیلانی کے پاس دوبارہ آ جاؤں گا۔ جماعت اسلامی سمیت تمام اتحادی جماعتوں سے رابطہ کروں گا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پی ڈی ایم امیدوار کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم صادق سنجرانی سے بہت خوش ہیں، وہ وفد کے ساتھ مبارکباد ینے آئے۔ ہمارے تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں۔ صادق سنجرانی نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ملکی مجموعی صورتحال اور چیئرمین سینٹ انتخاب پر تبادلہ خیال کیا۔ صادق سنجرانی نے چیئرمین سینٹ کیلئے سراج الحق سے حمایت مانگ لی۔ امیر جماعت اسلامی نے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا۔ سابق صدر زرداری نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے سینٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی یقینی بنانے پر دونوں رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔ سابق صدر سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی ہمارے مشترکہ اور متفقہ امیدوار تھے، ان کی کامیابی پی ڈی ایم کی کامیابی ہے، اسی اتحاد سے عمران خان کو جلد اقتدار سے رخصت کریں گے۔ اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے حکمت عملی سے حکومتی طاقتور امیدوار کو شکست دی ہے، اب اتحادیوں کی مشاورت سے چیئرمین سینٹ کے امیدوار کا فیصلہ کرینگے۔ حکومت کے اپنے اراکین ہم سے رابطے میں ہیں اور وہ حکومت سے تنگ ہیں۔ ذرائع کے مطابق تینوں رہنماؤں نے پی ڈی ایم کی مستقبل کی حکمت عملی اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بھی بات چیت کی جبکہ وزیراعظم سے فوری استعفے اور نئے الیکشن کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں نو منتخب 48 سینیٹرز 12 مارچ (بروز جمعہ) کو بطور سینیٹر حلف اٹھائیں گے۔ اسی روز چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب بھی ہو گا
پنجاب میں تحریک عدم اعتماد، چیئرمین سینٹ کا الیکشن، حکومت اور اپوزیشن کے رابطے تیز

