Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات قانون سے نہیں بچا سکتے: مریم نواز
    • لانگ مارچ لیکر اسلام آباد جائیں گے، تیاری کررہے ہیں، حافظ نعیم
    • 23 سال بعد پاکستانی سربراہ مملکت کا دورہ جرمنی,صدر زرداری کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب
    • پاکستانسکیورٹی فورسز نے گوادر میں دہشتگردی کی کوشش ناکام بنادی، 10 دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر
    • شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
    • اسلام آباد، راولپنڈی اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
    • پاکستان مکمل تیار اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے: ترجمان دفتر خارجہ
    • لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 347 ریکارڈ
    • سلطان آف جوہر کپ: پاکستان نے بہتر گول اوسط پر فائنل کیلیے کوالیفائی کر لیا
    • پی ایس ایل میں بڑی تبدیلی کی تیاری، نیا ٹورنامنٹ متعارف کرانے پر غور
    • لاہور:سی سی ڈی اہلکار کی لڑکی سے جنسی زیادتی ، برہنہ حالت میں ویڈیو بھی بنالی
    • لاہور میں سکوٹی سوار لڑکی پر وحشیانہ تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
    • راولپنڈی کے70 فیصد سرکاری کالج بھی طلباء کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گئے
    • لاہور: ایلیٹ فورس کی خراب گاڑی کو دوسری گاڑی سے رسی کے ذریعے باندھ کر لے جایا جا رہا ہے۔
    • ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ
    • پاکستان میں گریجوایٹس کی بیروزگاری معیشت کیلئے بڑا چیلنج، مدثر مسعود چوہدری
    • 5 روز قبل شہری کے گھر میں چوری و نقب زنی کا معمہ حل،پڑوسی چورنکلا
    • چیئرمین سی ڈی اے کا اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ پراجیکٹ کا دورہ
    • لیفٹیننٹ جنرل محمد علی ،سیکرٹری ڈیفنس فائونڈیشن یونیورسٹی کے دوران ڈگری تقسیم کرتے ہوئے ۔
    • سندھ کو تقسیم کرنے کی سیاست قبول نہیں، وسیم اختر کے بیان پر ترجمان سندھ حکومت کا ردعمل
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    امریکہ کی آمرانہ سوچ‘ شکست کا سبب

    By Daily Khabrainاگست 22, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    وزیر احمد جوگیزئی
    جدید دنیا کے جتنے مسائل ہیں وہ قدرتی طور پر پیدا نہیں ہوئے ہیں،جتنے بھی معاملات ہیں چاہے وہ محدود ہوں یا پھر لا محدود انسانوں کے پیدا کر دہ ہیں،اور یہاں پر میں عام انسانوں کی بات نہیں کر رہا ہوں،عام انسان تو بیچارے ان تمام معاملات میں بے بس ہیں اور عام لو گ تو ان پالیسیوں اور اس سوچ کے زیر اثر آجاتے ہیں اور ان سے متاثر بھی ہو تے ہیں۔قوم کی زندگی میں ان کے معاملات کو جانچنے کے لیے ان کی تاریخ میں بہت زیادہ دور تک دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ہے۔بہت زیادہ ان کے ماضی کو نہیں پر کھنا پڑتا۔مثال کے طورپر جنگ عظیم اول کیونکر لڑی گئی تھی، ان وجوہات کو جانے بغیر ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس جنگ کے کیا اثرات مرتب ہو ئے۔اس جنگ تک اشیا ء یورپ اور افریقہ میں امریکہ کی کوئی دخل اندازی موجود نہیں تھی، کو ئی خاص اثر و رسوخ نہیں تھا۔جنگ عظیم اول کے بعد امریکہ کا دنیا کے معاملات میں کردار بہت زیادہ بڑھ گیا او ر پھر دھیرے دھیرے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں امریکہ کی بلا واسطہ حکمرانی قائم ہو گئی۔
    دنیا میں کو ئی ملک کوئی بھی بڑا فیصلہ امریکہ کی رضا مندی کے بغیر نہیں کر سکتاتھا،لیکن یہ بات دیکھنے اور سمجھنے کی ہے کہ امریکہ جو کہ ایک بہت بڑی عسکری،معاشی،اور علمی قوت ہے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اس کا کو ئی ثانی نہیں ہے۔ تعلیم عام ہے اور ہنر مند افراد کی بھی کوئی کمی نہیں ہے اور جنگ عظیم دوئم کے بعد اسی قوم نے دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایٹمی ہتھیار استعمال کیے،لیکن اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔اتنی بڑی قوت اگر چاہتی کہ دنیا میں امن اور سکون ہو،انصادف اور برابری ہو تو یہ ان کے لیے مشکل نہیں تھا۔ امریکہ دنیا میں امن قائم کر سکتا تھا،لیکن بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ اتنی بڑی قوت جس کو شاید انسانی تاریخ کی سب سے طا قتور قوت مانا جاتا ہے وہ بجائے اپنی قوت اور طاقت کو اچھائی اور دنیا میں امن کے نفاذ کے لیے استعمال کرتی وہ تو کسی اور طرف ہی نکل گئی۔امریکہ نے اپنا پورا زور اپنی وار مشین پر لگا دیا۔انہوں نے اپنی سافٹ پاور کو بجائے دنیا میں امن کی ترویج کے استعمال کرنے کے اسے بھی اپنی جنگوں کی حمایت اور ان کا راستہ ہموارکرنے میں لگا دیا اور اس پالیسی کے نتائج کیا برآمد ہوئے وہ ہم کافی عرصے سے گاہے بگاہے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔پورے کے پورے ملکوں کو اور خوشحال اور ہنستے بستے ممالک کو اجاڑ کر رکھ دیا گیا۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ویتنام میں کیا ہوا؟ کو ریا میں کیا ہو ا؟ عراق میں کیا ہوا؟ لیبیا میں کیا ہوا؟ عراق کو ہی دیکھ لیں،عراق جا ئیں تو ایسا محسوس ہو تا ہے کہ کسی کھنڈر میں کسی آثار قدیمہ کے مقام پر آگئے ہیں۔اور امریکہ اگر افغانستان میں افغان فوج پر 83ارب ڈالر خرچ کرنے کی بجائے افغان عوام کی ترقی اور فلاح پر توجہ دیتا تو شاید اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد بھی اتنا بے تو قیر ہو کر افغانستان سے نہیں نکلتا۔امریکہ نے دنیا میں حالیہ برسوں میں ایسی پالیسیاں اپنائی ہیں جو کہ کسی بھی صورت میں دانش مندانہ نہیں لگتی ہیں۔
    لگتا ایسا ہے کہ امریکی قیادت دانش مندی،دور اندیشی اور عقل سے بہت دور ہو گئی ہے۔اگر افغان قوم کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جاتے تو آج افغانستان بھی امریکہ کی ایک ریاست کی مانند ہی ترقی یافتہ ہو چکا ہو تا،لیکن ایسا کیوں نہیں ہو ا؟ اس لیے نہیں ہوا کہ ہر مسئلہ کا فوجی حل نہیں ہوا کرتا ہے۔فوجی عمل کو ایک stop gapکے طور پراستعمال کیا جاسکتا ہے یعنی کہ وقتی طور پر طاقت کے زور پر مسائل کو دبایا جاسکتا ہے لیکن مستقل بنیادوں پر مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہو تے چلے جاتے ہیں اور لا وا بن کر پھٹ پڑتے ہیں۔فوجی مداخلت نے کبھی بھی کسی ملک کے لیے کچھ اچھا نہیں کیا ہے اور اگر فوجی مداخلت کی تاریخ دیکھنی ہے تو پاکستان کو ہی دیکھ لیں۔مجھ سے گزشتہ دنوں ایک سفارت کار ملے۔ ان کو پاکستان کے بارے میں اور پاکستان کی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ معلوم تھا،شاید جس ملک میں سفارت کاروں کو بھیجا جاتا ہے ان کو اس ملک کے بارے میں گہرا مطا لعہ بھی کرایا جاتا ہو، اس ملک کی تاریخ اس کی معیشت اور صنعت کی حیثیت سے بھی آشنا کرایا جاتا ہو، بہر حال اس سفارت کار نے مجھ سے کہا کہ 50ء کی دہائی میں تو پاکستان بہت ہی تیزی کے ساتھ ترقی کرتا ہوا ملک تھا اور اگر اسی تیز رفتاری کے ساتھ پاکستان ترقی کرتا رہتا تو آج دنیا کی بڑی اقتصادی قوت ہو تا۔ان صاحب کے سوال کا جواب یہی ہے کہ اس لیے پاکستان ایک بڑی اقتصادی قوت نہیں بن سکا ہے کیونکہ پاکستان مارشل لا کی زد میں آگیا اور مارشل لا کے ادوار میں ملک کے اداروں کو کمزور کیا گیا۔مارشل لا کی سوچ ایک سرنگ کی مانند ہو تی ہے جس کو صرف تصویر کا ایک ہی رخ نظر آرہا ہو تا ہے،جو بھی کر لیں مارشل لا کی سوچ ہمہ پہلو اور کثیر الجہتی ہو ہی نہیں سکتی ہے اور یہی ہمارے ملک کا المیہ رہا ہے۔
    بہر حال ہمارا موضوع یہ نہیں تھا ہمارا موضوع ریاست ہائے متحد ہ امریکہ کی بے شمار خوبیوں کے باوجود اس کی دنیا بھر میں ناکامی کے اسباب پر نظرڈالتا تھا۔ایک بہت ہی بڑی طاقت ہو نے کے باوجود امریکہ صرف اور صرف اسی لیے ناکام ہو رہا ہے کہ اس کی سوچ پوری دنیا کے لیے آمرانہ ہے۔آمرانہ سوچ یقینا ناکا م ہوئی ہے اور انسانی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔لہذا آج کے دور میں ہماری سوچ صرف اور صرف اقتصادی ترقی کی ہونی چاہیے کیونکہ صرف اقتصادی ترقی کے ذریعے ہی آج کی دنیا میں عزت حاصل کی جا سکتی ہے۔ایسا ملک جس کی افرادی قوت ہُنر مند اور بہت ہی جفا کش ہو۔اگر اس ملک کی فکر کریں تو اس ملک میں بہت جان ہے کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ ملک دنیا میں اپنا جائز مقام حاصل نہ کر سکے۔
    (کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.