خدا یار خان چنڑ
اناللہ واناالیہ راجعون سیدعلی گیلانی اللہ کے حضورپیش ہوگئے جہاں ٹھنڈی ہوائیں اورراحتیں آپ کی منتظرہوں گی
سیدعلی گیلانی 29ستمبر1929کومقبوضہ کشمیرکی تحصیل بانڈی پورامیں پیداہوئے آپ کے بچپن میں ہی آپ کے والدین نقل مکانی کرکے سوپورآگئے گیلانی صاحب نے ابتدائی تعلیم سوپورمیں ہی حاصل کی پھرمذید تعلیم کے حصول کے لیے لاہورتشریف لے گئے جوتعلیمی سرگرمیوں کازبردست مرکزتھاگیلانی صاحب نے طویل عرصے تک لاہورمیں قیام کیا اورنیشنل کالج لاہورسے سندفراغت حاصل کی جبکہ کشمیریونیورسٹی سری نگرسے بھی اسنادحاصل کیں۔آپ نے اپنے کیرئیر کاآغازتعلیم وتدریس سے کیااورتقریبابارہ سال تک سرکاری سکول میں پڑھاتے رہے اس دوران جماعت اسلامی سے آپ کاتعارف ہوااورآپ جماعت اسلامی کے اجتماعات میں شریک ہونے لگے اوربعدمیں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیارکرلی جب جماعت اسلامی نے آپ کوذمہ داری دی توآپ نے ملازمت سے مستعفی ہوکرخودکوجماعت اسلامی کے لیے وقف کردیا اورطویل عرصے تک جماعت اسلامی کے کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے اورساتھ ساتھ کشمیرکی سیاست میں بھی دلچسپی لینے لگے آپ کی یہ سرگرمیاں حکومت کوکھٹکنے لگیں تو28اگست1962کوپہلی دفعہ گرفتارکرلیا گیا 13ماہ تک جیل میں رکھاگیاجب آپ رہاہوئے توکشمیرپربھارت کے جارحانہ اورناجائزقبضے کے خلاف میدان میں آگئے آپ کوباربارگرفتارکیاجاتارہاآپ نے کم وبیش26 سال جیلوں میں گزارے اوربرسوں تک آپ کونظربندرکھاگیالیکن یہ تمام ہتھکنڈے آپ کے اصولی موقف میں ذرّہ برابربھی لچک پیدانہ کرسکے۔
وہ 26سیاسی وسماجی پارٹیوں کے اتحاداورآل پارٹیزحریت کانفرنس کے لمبے عرصے تک چیئرمین رہے آپ بھارت کے ریاست جموں وکشمیرپرناجائزقبضے کوللکارتے رہے اورمرتے دم تک اس موقف پرڈٹے رہے گیلانی صاحب 15سال تک ریاست جموں وکشمیرکی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔7اگست2004کوگیلانی صاحب نے تحریری مفاہمت کے بعدجماعت اسلامی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیاکیونکہ آپ مقبوضہ کشمیرمیں آزادی کی جدوجہدکومزیدتیزکرناچاہتے تھے اس کے لیے گیلانی صاحب نے تحریک حریت جموں وکشمیرکی بنیادرکھی اورمقبوضہ کشمیرمیں جاری مسلح جدوجہدکوحق بجانب قراردے دیا۔
گیلانی صاحب مسئلہ کشمیرمیں پاکستان کے اس موقف کی تائیدکرتے رہے کشمیرپاکستان کی شہہ رگ ہے اورکشمیرکی آزادی اوراس کاپاکستان سے الحاق بہت ضروری ہے گیلانی صاحب ریاست جموں وکشمیرکوپاکستان کاحصہ قراردیتے تھے اورمرتے دم تک اس موقف پرقائم رہے اس طرح تمام حکومتی بھارتی حربے ناکام ثابت ہوئے۔عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعدگیلانی صاحب مسلسل ان سے رابطے میں رہے اورخط کے ذریعے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیرپر وزیراعظم کے خطاب کی تعریف کی اورمشورہ دیاکہ وہ اپنے خطاب کی روشنی میں بھارت کے ساتھ مسلہ کشمیرپرماضی میں کئے گئے تمام دوطرفہ معاہدوں سے ہٹ جائیں اورکنٹرول لائن پربھارت کی جانب سے لگائی گئی خاردارباڑکے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کریں۔حکومت پاکستان سیدعلی گیلانی صاحب کی انتھک جدوجہد اورخدمات کے اعتراف میں انہیں نشان پاکستان سے نوازا۔گیلانی صاحب اس بات کے حامی تھے پاک فوج کومقبوضہ کشمیرمیں پیش قدمی کرنی چاہیے جس کاکشمیری عوام شدت سے انتظارکررہے ہیں۔سیدعلی گیلانی کی فکرحریت کی شمع مقبوضہ کشمیرکی آزادی تک روشن رہے گی اوران کی اس امانت کوپاکستانی اورکشمیری مل کرآگے لے کربڑھیں گے سیدعلی گیلانی صاحب کی ساری زندگی کشمیری اورپاکستانی عوام کی محبت میں گزری 1947میں شروع ہونے والاآزادی کاسفراب تک جاری ہے اورآزادی تک جاری رہے گا ان شااللہ۔
اب کشمیرکے ہر گلی کوچے سے لے کرقریہ قریہ تک جیل کی اندھیری کوٹھڑی سے لے کر پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں تک سیدعلی گیلانی کی کاوشوں کوسراہاجارہاہے آپ نے کشمیری عوام اورخاص طور پر نوجوان نسل کوبھارت کاغلام بننے کی بجائے اپنی آزادی کے لیے لڑناسکھایا۔آپ نے1977ء کاالیکشن بھی جیل سے ہی لرااورکامیاب ہوئے اسمبلی کے اندربڑی جرأت کے ساتھ بھارت کوللکارتے تھے اس کی وجہ سے کئی بارآپ کوجیل جاناپڑاآپ نے آزادی کشمیرکے لیے ساری زندگی کی ایسی قربانی دی کہ اب دوسروں کوبھی اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑنا آسان ہوگئی ہے۔اب تیزی کے ساتھ دنیاکانقشہ بدل رہاہے بہت جلدسیدعلی گیلانی کی روح خوش ہوجائے گی جب کشمیرآزادہو جائے گاابھی تووہ جیل کی قیدپابندیاں جوکئی سالوں سے کاٹ رہے تھے ان سے آزادہوکراللہ کے پاس چلے گئے ہیں اللہ پاک گیلانی صاحب کوجنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اوران کی آزادی کی تحریک پایہئ تکمیل کو پہنچے اوران کے لواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے پوری پاکستانی قوم ان کے غم میں برابرکی شریک ہے سیدعلی گیلانی مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭
بریکنگ نیوز
- راولپنڈی :سی ٹی او فرحان اسلم ٹریفک انتظامات میں مزید بہتری کیلئے سرکل انچارجز سے میٹنگ کر رہے ہیں ۔
- منظم ٹریفک اور حادثات روک تھام کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، فرحان اسلم
- شیخ وقاض اکرم اور خالد نواز سے کسان تنظیموں کے رہنمائوں کی ملاقات
- اقدام قتل اور ضرر مقدمہ میں مجرم کو 17سال قید، 8 لاکھ ضمان، 5 لاکھ ہرجانے کی سزا
- زمین تنازعہ پر کلہاڑی کے وار سے شہری کو قتل کرنیوالے مجرم کو موت کی سزا
- راولپنڈی، 9 افرادگرفتار ، 39 لیٹرسے زائد شراب برآمد
- فتح جنگ: ماسٹر مظہر افضال کیصاحبزادیوں کی شادی کی تقریب
- راولپنڈی ، ناجائز اسلحہ رکھنے والے افراد کیخلاف کارروائیاں، 4 افراد گرفتار، اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
- بہتر بزنس پلان کیساتھ پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹلائز کرنا وقت کی ضرورت ، عبدالعلیم
- گورنمنٹ گریجوایٹ کالج تلہ گنگ میں فرضی انتخابی مشق (Mock Poll)کا اہتمام کیا گیا
- ڈاکٹر محمد انس سعید کاگندم اور آٹے کیغیر قانونی بین الصوبائی ترسیل کی روکتھام کے لیے فوڈ پکٹ احاطہ کا دور
- فوڈ پانڈا کی جانب سے ڈارک کچن کے انفرااسٹرکچر کا مظاہرہ
- نئے سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار کے ساتھ اسلام آباد میں تعینات یورپی ممالک کے سفیروں کی ملاقات کے بعد گروپ فوٹو۔
- میونسپل کمیٹی ٹیکسلا کے زیر ِ اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر احتجاجی ریلی کا انعقاد
- گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول ٹھٹھہ میں فرسٹ ایئر کا شاندار 80 فیصد نتیجہ
- یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور ریڈیو پاکستان پشاور میں میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں۔
- ایس پی سکیورٹی اصغر علی گورائیہ کی پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں کھلی کچہری
- مرز ا سمیر بیگ کی شادی دختر مرزا عمرا ن بیگ کیساتھ بخیر و خو بی سر انجام پائی
- علیشبہ عدنان کو گلوبل ڈائریکٹر آف یوتھ افیئرز مقرر کر دیا گیا
- نورانی نعت کونسل انٹرنیشنل کی تنظیمات تشکیل دینے کا عمل جاری : عثمان نورانی
