سیتا پور: (ویب ڈیسک) بھارت میں مسلمانوں کے لیے زندگی مسلسل تنگ ہوتی جا رہی ہے اور آئے روز مسلم دشمنی کا کوئی نا کوئی واقعہ سامنے آجاتا ہے۔
چند روز قبل بھارتی ریاست راجستھان میں مسلم کش فسادات کے دوران انتہا پسند ہند بلوائیوں نے مسلمانوں کے درجنوں گھروں پر حملہ کر کے ناصرف توڑ پھوڑ کی تھی بلکہ انہیں آگ بھی لگا دی تھی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک ہندو انتہا پسند کو مسجد کی چھت پر کھڑے ہو کر ہندوتوا کا جھنڈا لہراتے اور ہندو مذہب کے نعرے لگاتے دیکھا گیا۔
اب بھارت میں مسلم دشمنی کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک ہندو مذہبی رہنما کو مسجد کے سامنے گاڑی میں بیٹھے مائیک پر ہجوم سے خطاب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر سیتا پور میں پیش آیا جہاں ایک ہندو رہنما نے عوامی ہجوم سے خطاب کیا۔
وائرل ویڈیو میں ہندو رہنما کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اگر علاقے میں کسی مسلمان نے کسی لڑکی کو چھیڑا تو میں اس کے گھر سے اس کی بیٹی یا بہو کو اغوا کر کے سب کے سامنے ریپ کا نشانہ بناؤں گا۔
اسی ہندو رہنما کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں اس کی گاڑی پر مسلح پولیس اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود ہندو انتہا پسند رہنما کے خلاف 6 روز بعد نفرت انگیز تقریر کا مقدمہ درج کیا گیا۔
Trending
- اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
