Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • میسی کا ارجنٹائن کی ورلڈ کپ شکست پر جذباتی پیغام
    • گوجرانوالہ میں 220 ملی میٹر بارش، 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
    • لاہور کے اسپتال میں پنجاب کی پہلی روبوٹک سرجری کامیاب
    • امریکا کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا، ایران اب بھی مضبوط عسکری صلاحیت رکھتا ہے
    • ایران کا اسپین کو فلسطینی حمایت پر خراجِ تحسین
    • حکومت کا ڈیزل درآمد پر PSO کو خصوصی اختیار، دیگر کمپنیوں پر پابندی
    • نئی اے آئی چپس سے گوگل جیمنی کی کارکردگی میں 10 گنا بہتری
    • ورڈپریس خامیوں سے ہیکرز کا حملہ، لاکھوں ویب سائٹس خطرے میں
    • راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں اربن فلڈنگ الرٹ جاری
    • لینڈ سلائیڈنگ کے بعد جھیل سیف الملوک روڈ سیاحوں کے لیے بند
    • پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
    • گیانا کشتی حادثہ: 27 لاشیں برآمد، عملے کی غفلت پر تحقیقات شروع
    • پاکستان نے قومی جیم اسٹون پالیسی منظور کر لی، 2030 تک 50 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف
    • پیٹرول ڈیلرز کی روزانہ قیمتوں کے نظام کی حمایت، 8 فیصد مارجن بڑھانے کا مطالبہ
    • امریکی فوج کا ایران پر تازہ حملوں کا سلسلہ مکمل ہونے کا اعلان
    • امریکا کا مشرقِ وسطیٰ کشیدگی پر عالمی سطح پر احتیاطی انتباہ جاری
    • کینوا کی پی آئی اے کی نئی شناخت کے لیے قومی مقابلے کی تجویز
    • غزہ میں اسرائیلی حملے میں تین بچوں سمیت پانچ فلسطینی جاں بحق
    • ایم ایس ایف کا اسرائیل سے زیرِ حراست فلسطینی طبی عملے کی رہائی کا مطالبہ
    • ٹرمپ نے کینیڈا کی بعض اشیا پر 50 فیصد امریکی ٹیرف عائد کر دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ہنزہ کے بلند پہاڑوں میں تین نئی جھیلیں دریافت

    By Daily Khabrainاگست 3, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    کراچی کے مہم جو عمر احسن نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے وادی ہنزہ میں بلند ترین پہاڑی سلسلوں کے دامن میں 3 نئی جھیلیں دریافت کرلیں، جس میں سب سے اونچی جھیل پاک فضائیہ کے نامور ہوا باز ایم ایم عالم کے نام سے منسوب کردی ہے، یہ جھیل 17 ہزار 77 فٹ بلند ہے۔ایم ایم عالم ڈسکوری اینڈ ایکسپینڈیشن (مہم جوئی ) فاو¿نڈیشن، پرستان الپائن کلب، سروائیو انٹرنیشنل پاکستان نامی مہم جوئی کے اداروں سے جڑے عمراحسن کے مطابق ان کی سرگرمیوں کا مقصد مہم جوئی کے دوران پاکستان کے چاروں صوبوں کے لق و دق صحراو¿ں، بلند و بالا برف پوش چوٹیوں کے عقب میں چھپے ان خوبصورت اور صحت افزا مقامات کو دریافت کرنا ہے جو دشوار گزار راستوں کی وجہ سے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔عمر احسن کے مطابق ان کی مہم جوئی کا آغاز سن 2017ء میں بلوچستان میں ایک ساحل دریافت کرنے سے ہوا جو چندرگپت کنڈ ملیر سے کچھ پہلے لگ بھگ 3 ہزار فٹ کی بلند چوٹی کے دامن میں انتہائی مشکل راستوں کے عقب میں تھا۔ اس ساحل کے راستے میں ایک لق و دق 8 کلومیٹر طویل صحرا جبکہ ایک زندہ مڈ وال کینو (زندہ اور سلگتا ہوا مٹی کا دلدل) حائل تھا۔صحرا کی ریت میں خاص قسم کی اونچے ٹائروں اور فور وہیل ڈرائیو گاڑی ہی چل سکتی تھی، نتیجہ یہ کہ اس صحرا اور راستے میں موجود دلدلی علاقے کو پیدل طے کرنے کا فیصلہ ہوا بعدازاں اس خوبصورت دریافت کو انھوں نے ساحل امید نام دیا۔عمر احسن کے مطابق سن 2018ئ میں ان کے دل میں خواہش ابھری کہ تلاش اور جستجو کا یہ سلسلہ تھمنا نہیں چاہیے اور پھر اسی جذبے اور ولولے کی وجہ سے وہ یکم ستمبر 2018ءکو طویل سفر پر نکلے،اسکردو پہنچنے کے بعد انھوں نے نئی دریافت کے لیے ضروری آلات کا بندوبست کیا اور سیاچن کے 14 کلومیٹر مغرب میں خپلو ڈسٹرکٹ گئے۔بعدازاں ہنجور تک پیدل سفر کیا اور آخری مرحلے میں ان کا بلندی کی جانب ایک دشوار گزار اور انتہائی صبر آزما سفرشروع ہوا مگر اس سفر میں ایک خوف بھی حائل تھا کیونکہ انھوں نے بلندی پر جس علاقے کی جانب رخت سفر باندھا ہوا تھا۔وہاں پر کسی بھی وقت لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوجاتی تھی اور وہاں کے علاقہ مکینوں کے مطابق مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اس مخصوص علاقے کا جغرافیہ تبدیل ہوچکا تھا اور ماضی کے رستے بھول بھلیوں میں بدل گئے تھے۔ وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے وہاں پر ہریالی بھی نہیں اگتی تھی، یہی وجہ تھی کہ لوگ اپنے پالتو جانور چرانے نہیں لے جاتے تھے۔یہ کہنا بے جان نہ ہوگا کہ 30 سال سے وہاں کوئی انسان نہیں جاسکا، چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اس بلند و بالا پہاڑی کے دامن کو الگ ہی دنیا واقع ہے اور پھر جب ہم نے 16 ہزار فٹ کی بلندی عبور کی تو ہمارے سامنے قدرت کی صناعی کا ایک بہت ہی دل فریب منظر تھا اورگویا صحرا کے پیچھے ایک نخلستان چھپا ہوا تھا کیونکہ اس بلندی سے عین 400 فٹ نیچے ایک خوبصورت جھیل موجود تھی جس کی تہہ میں پتھر تک دکھائی دے رہے تھے اور نیلے پانی کا نظارہ ہی کچھ اورتھا۔بے ساختہ میرے ذہن میں پرستان کا خیال ابھرا اور پھر اس جھیل کا نام پرستان لیک (پرستان جھیل رکھ دیا گیا)، عمر احسن پاک فضائیہ کے معروف جنگی ہوا باز ایم ایم عالم کے بھانجے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پرستان جھیل کی دریافت کے بعد ذہن پر ایک ایسا عزم طاری ہوا کہ مزید دریافت کے لیے تحقیق بڑھادی، اور پھر رواں سال سن 2019ئ کے مئی کے مہینے میں ایک نیا سفر شروع ہوا جس کی منزل شمالی علاقہ جات میں غزریو کا پہاڑی سلسلہ تھا جو ڈسٹرکٹ ہنزہ اور تحصیل گوجال جبکہ یونین کونسل شمشال میں واقع ہے۔عمر احسن کے مطابق انھیں قطعی معلوم نہیں تھا کہ 2019ءمیں ہونے والے سفرکے دوران کامیابی ان کے اس انداز سے قدم چومے گی کہ یکے بعد دیگرے وہ تین مختلف جھیلیں دریافت کرلیں گے۔ وہ اس بات کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پوری دنیا میں وہ واحد شخص ہے جنھوں نے تن تنہا یہ مشکل مہم سرکیا کیونکہ عموما یہ کام گروپ کی شکل میں کیے جاتے ہیں۔عمر احسن کے مطابق انھوں نے تین جھلیں دریافت کی ہیں جن میں ایم ایم عالم 17 ہزار 077 فٹ، لالک جان 16 ہزار 398 فٹ اور عمر احسن لیک 15 ہزار 990 فٹ بلند ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران انھیں شدید نوعیت کی برف باری کا بھی سامنا رہا جبکہ اس مقام کا درجہ حرارت 5 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ 15 دن کے سفر کے دوران واپسی پر دنیا کے سرد مقام سائبریا اور نارتھ امریکا میں پایا جانے والا نادر و نایاب خون خوار جانور ’ویزل‘ بھی دریافت کیا جبکہ مار خور، بلیو شیپ (نیلگوں بھیڑیں) اور برفانی ریچھ سمیت کئی نادر و نایاب جانوروں کو نہ صرف قریب سے دیکھنے کا موقع ملا بلکہ انہیں کیمرے کی آنکھ میں عکس بند بھی کیا۔عمر احسن کے مطابق اس سفر کے دوران انھوں ایک گلشیئر پر ایک رات بھی گزاری جہاں آکیسجن کی مقدار انتہائی کم جبکہ درجہ حرارت 15 ڈگری تھا۔ اس مقام پر انھوں نے لگاتار 14 گھنٹے قیام کیا۔عمر احسن کے مطابق جس وقت پرستان جھیل دریافت کی تھی پاکستان بلند جھیلوں کے لحاظ سے دنیا بھر میں 25ویں نمبر پر تھا مگر مذکورہ جھیلوں کی دریافت کے بعد پاکستان دنیا کے ساتویں ملک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      گوجرانوالہ میں 220 ملی میٹر بارش، 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

      لاہور کے اسپتال میں پنجاب کی پہلی روبوٹک سرجری کامیاب

      حکومت کا ڈیزل درآمد پر PSO کو خصوصی اختیار، دیگر کمپنیوں پر پابندی

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.