لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں معروف کالم نگار، سینئر صحافی حسن نثار کے ساتھ مکالمے میں ہونے والی گفتگو قارئین کی دلچسپی کے لئے سوالاً جواباً پیش خدمت ہے۔
ضیا شاہد: میرے پاس اخبار ہے اس میں تین خبریں کہ بجلی کا پہلا ریٹ کیا تھا اب کیا ہو گیا ہے۔ دوسری خبر ہے کہ آٹا کا بحران، اس میں لکھا ہے کہ آٹے کا ایک مرتبہ پھر بحران پیدا ہو گیا اور تیسری خبر یہ ہے کہ ادرک پانچ سو وپے کلو ہو گئی۔ اور سبزیوں کا چارٹ ہے کہ پہلے اس کی قیمت کیا تھی اب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کی ہڑتال، تاجروں کی ہڑتال اوراس کے ساتھ آئل ٹینکروں کی ہڑتال۔ ان خبروں کے بارے میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن لوگوں نے نئے پاکستان کا خواب دیکھا اور آج جو صورت حال ہے کہ بڑی محنت کر رہے ہوں گے عمران خان صاحب لیکن بازار کی جو پوزیشن ہے۔ ہر طرف جو صورت حال ہے وہ یہ کہانی سناتی ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری نے کچومر نکال دیا ہے آپ نے کیا خواب دیکھا تھا اور یہ صورتحال کیوں پیدا ہو گئی۔ یہ کس کا قصور ہے؟
حسن نثار: آپ نے جن چیزوں کی قیمتوں کی بات کی ہے ان میں ایک چیز بڑی زبردست ہے اور اس سے متعلق محاورہ ہے کہ وہ عوام کی صورتحال کو درست بیان کرے گا آپ نے ادرک کی بات کی ہے ایک محاورہ ہے۔ بندر کیا جانے ادرک کا سواد بندروں کے لئے ادرک مہنگا کر دیا سستا کر دیں۔ کیا فرق پڑتاہے۔ خواب دیکھنے والا میں اپنا بتا دیتا ہوں میرا ٹوٹل ڈیفرنٹ ہے۔ میں پی ٹی آئی کی جیت سے زیادہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی والوں کی نفرت کی وجہ ہے۔ 27 سال ہو گئے خبریں کو 27 سال پہلے پی ٹی آئی کا وجود نہیں تھا میں نے دونوں سیاسی پارٹیوں کو ہیڈ آن لیا تھا بلکہ مجھے یاد ہے کہ آپ نے ایک بات کی تھی کہ یہ ملک تو دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے آپ نے دونوں کے خلاف ہی لاٹھی اٹھا لی ہے۔ پتہ نہیں کون پڑھے گا نہیں پڑھے گا میرے ابتدائی کالم جو تھے میں نے آپ کی باتوں سے اتفاق کیا تھا اوور ایک فٹ نوٹ لگایا تھا کہ میں سالڈ میجارٹی پر تکیہ کر رہا ہوں اور اگر وہ بھی نہیں پڑھتے تو بھاڑ میں جائیں مجھے تو اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ کہ ”کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام“ میں تو سعودی عرب سے لے کر مڈل ایسٹ تک بہت کچھ کر چکا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ ن لیگ شہری صنعتی یا کاروباری چہرہ ہے پیپلزپارٹی کا۔ وہ فیوڈلز، ٹرائبل یا اور قسم کے لوگ ہیں لیکن بنیادی طور پر خبریں کے کالم ہی نہیں جن کو کوٹ کروں یہ ایک کھڈا ہے ایک کھائی ہے۔ ایک چھرا ایک چھری ہے۔ توقع تھی کہ عمران خان ایک بہتر لیڈر مردم شناس، ایک ڈویئر کچھ چیزیں آج بھی درست کچھ مکمل طور پر غلط ثابت ہوئیں۔ عمران خان نے ہم جیسے لوگوں کو مایوس کیا تو خدا بہتر جانتا ہے کہ خود اس کی ٹیم نے مایوں کیا ہوا اور چیٹ کیا ہوا ہے میں ذاتی طور پر میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ ان کی سٹرگل کے دنوں میں سنجیدہ قسم کے لوگ، سیاسی ورکر بھی وہ ایندھن ہوتا ہے۔ اصل میں جن لوگوں نے پالیسی بنانا ہوتی ہے۔ حکمت عملی بنانا ہوتی ہے وہ یقینا کوئی اور قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جلسہ، جلسوں میں دھکے کھانے والا مزاج نہیں ہوتا۔ میرا خیال تھا کہ پروفیشنل ازم اور ٹیکنوکریٹس بیٹھے ہوں گے تو اس لئے اس ملک میں سب سے پہلے میں نے گناہ کا کفارہ ادا کیا سب سے پہلا احتجاج آن ریکارڈ میرا ہے کہ جھک مار رہے ہیں ان ہیرٹ کیا وہ حالات بہت ہی خوفناک تھے۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان کی سدوزئی ان لوگوں کی وجہ سے نوازشریف اینڈ کمپنی کی وجہ سے، پیپلزپارٹی والے کمپرومائز ہو چکی ہے۔ یہ کریں کیا ان کے بس میں ہے کیا۔ میرے آپ کے یا ناظرین کے گھر میں بجلی کے بل کی فی یونٹ کاسٹ وہ تو وزیراعظم تو نہیں کر سکتا یہ تو اس کے دائرہ اختیار سے ہی باہر ہے۔ وزیرخزانہ ان کا ہے مگر ڈکٹیشن انہی سے لینی ہے۔ یہی حال تنور کی روٹی ہے جس ملک کا چیف ایگزیکٹو اس کے بجلی کے یونٹ کی قیمت یا ایک نان اور روٹی کی قیمت کے تعین کا اختیار نہیں رکھتا اسے بلیم کیا کرنا اور اس سے کیا توقعات رکھیں گے۔ یہ ایک عجیب و غریب سی صورتحال ہے۔
سوال: فرمایئے، عمران خان سے ٹیم کے انتخاب میں غلطی ہوئی ہے وہ بہتر ٹیکنوکریٹ اور پروفیشنل نہیں تلاش کر سکے یا ان کی اپنی ترجیحات میں کوئی غلطی ہے کیونکہ باتیں تو وہ بہت اچھی کرتے تھے اور لوگ ان کی باتوں سے متاثر بھی تھے جب انہوں نے کہا ایک کروڑ ملازمتیں دوں گا اور پچاس لاکھ گھر بنا کر دوں گا جونہی میری حکومت آئے گی تو کرپشن سے پاک سوسائٹی کی وجہ سے یہاں غیر ملکی اتنا آئے گا کہ یہاں غربت بیروزگاری دور ہو جائے گی گڑ بڑ کہاں ہوئی۔
جواب: پہلی بات تو یہ کہ یہ بات چھوڑنے کی ضرورت کیا تھی کہ 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکری دوں گا۔ اس کا مطلب ہے ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اندر معاملات کیا ہیں۔ ملک پہنچا ہوا کہاں ہے اور وہ اس تنے پر بیٹھنے جا رہے ہیں جس کو دیمک چاٹ رہی ہے۔ یہ چار پانچ چیزوں کی کمی رہی۔ ایک تو ہوم ورک نہیں تھا۔ میں تو مثال دے دے کے تھک گیا ہوں کہ بچہ اس وقت تک او لیول کا امتحان نہیں دے سکتا جب تک تیاری نہ کی ہو۔ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں۔ لوگ یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آیا کریں گے سبحان اللہ بھئی زیادہ توقعات دھرنا، تیاری نہ کرنا۔ بے شمار محاذ کھول لئے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ تیل نہیں نکلتا۔ سونا چاندی نکل آتا وہ بھی نہیں نکلا۔ لوگوں کی کردار سازی کی تھی چند ہزار کا مکہ چند ہزار کا مدینہ اور سینکڑوں ایسے لوگ، دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ ان کو ملے 22 سال۔ یہ ایک کمبی نیشن ہے۔
سوال: سب سے زیادہ لوگ سوچتے ہیں عمران خان نے آنے کے بعد احتساب کا بیڑا اٹھایا بہت سے لوگ احتساب کی زد میں آئے ہیں لیکن یہ سوچتے ہیں کہ جن لوگوں کو برا کہا جاتا تھا وہ قرضے لے کر کھا گئے ان کے دور میں تو اتنی مہنگائی اور بیروزگاری نہیں تھی وہ کس طریقے سے ڈالر ریٹ کم کرنے میں کامیاب ہوئے آخر اسحاق ڈار کے پاس کیا گیڈر سنگھی تھی کہ انہوں نے مہنگائی نہیں ہونے دی اور عمران خان صاحب کے پاس کیا کمی ہے کہ ان کے دور میں جو اخبار اٹھائیں اس میں 4,3 چیزوں کے بارے میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ مہنگی ہو گئیں اور مزید ٹیکس لگ گیا اور یہ طبقہ اور پریشان ہو گیا اس کا کیا جواب ہے۔
جواب: اسحق ڈار کو غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر انٹرنیشنل لیوی کی طرف سے جرمانہ ہوا ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ احتساب والا معاملہ اس سے تو قوم کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ سوشل میڈیا سے پتلا چلہ کہ پی ٹی آئی کے ورکروں میں بڑی بے چینی بڑھی ہے اور میرے لئے یہ بڑی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ ورکرز کی چپڑاسیوں جیسی پوزیشن ہوتی ہے۔ وہ لیڈر کا پجاری اور چمچہ ہوتا ہے میاں نوازشریف ہوں یا زرداری صاحب ہوں جو جس کا ورکر ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے ورکر اختلاف کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مدتوں کے بعد جینوئن ورکرز کی جو اپنی سوچ ہے جو اپنے لیڈر کے گریبان میں بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے وہ جنم لے رہا ہے جو اصل پیپلزپارٹی کا تھا۔ ضیاءالحق کے دورہ کے بعد ن لیگ اور آصف زرداری نے جو ورکر متعارف کرایا جو جینوئن ورکر جو جبری تبدیلی چاہتا ہے مجھے اس کی خوشبو آتی ہے۔ عمران خان نے آتے ہی ایسا کیا کر دیا ہے ہر شئے کو آپ نے مصنوعی طور پر رکھا ہوا تھا۔
سوال:عمران خان کہتے ہیں کہ چائنا کا نظام یہاں آنا چاہئے تا کہ میں 500 لوگوں کو پکڑ سکوں دوسری طرف لوگ یہ کہتے ہیں کہ جتنی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے کوئی زیادہ پیسوں کی واپسی نظر نہیں آتی۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے بھی زیادہ پکڑ دھکڑ ہونی چاہئے تھی۔ لیکن اس کے جواب میں یہ خبر آنی چاہئے تھیں کہ کس شخص سے کتنے پیسے مزید ریکور ہوئے کہ ملک کی صورتحال بہتر ہوجاتی اور ہم مہنگائی اور بیروزگاری کے عذاب سے بچ جاتے۔
جواب:عمران خان کا یہ کہنا کہ میں پانچ سو لوگوں کا ملک نہیں، یہاں مجرموں ڈکیتوں کی گردنیں وہ پھانسی کے رسیوں سے زیادہ بڑی ہیں۔ یہ ہونا نہیں یہ پانچ سو لوگوں کا ایشو نہیں یہ کھاتا بہت لمبا ہے یہ بچھوﺅں کا ہجوم ہے اس ملک میں آٹے سمیت جو چیز دیکھیں گے اس کے پیچھے ایک واردات نظر آئے گی اور کچھ میڈیا بھی اس کو مس ہینڈلنگ کر رہے ہیں۔
سوال: اتنی گرفتاریوں کے باوجود، مقدمے سامنے آنے کے باوجود پوزیشن یہ ہے کہ عمران خان صاحب جن کو ولن کہتے تھے وہ ہیرو بن کر ابھر رہے ہیں اور جناب شہباز شریف یہ کہتے ہیں جونہی اس دھرنے اور آزادی مارچ کے نتیجے میں تتبدیلیاں آئیں گی اور مجھے حکومت ملی تو میں 6 ماہ ریٹس بھی سیٹ کر دوں گا۔ اور دوبارہ معاشی حالات بھی بہتر کر دوں گا اور لوگوں کے مالی حالات بھی بہتر ہو جائیں گے اور بہت سے لوگ جو ہیں اس پر کان دھر کر سن رہے ہیں۔ اس پر آپ کیا کہتے ہیں۔
جواب: شہباز شریف یہ نہ کہیں تو اور کیا کہیں کہ اگلا راﺅنڈ مل گیا تو 10 گنا زیادہ منگواﺅں گا۔ کرنے والا کام تو کرے پہلے۔ جاﺅ ڈیلی میل والا تمہارا مذاق اڑا رہا ہے برطانوی گورا پوری قوم کو شرمندہ کر رہا ہے جو جگتیں مار رہا ہے قوم کا مذاق اڑا رہا ہے اسے باہر نکالو۔ یہ میرے اوپر کیس کیوں نہیں کر رہا۔ الزام کتنا بھیانک ہے کہ زلزلہ زدگان کی امداد کھا گئے۔ اس کا جواب دیں پھر آپ کے دعوے تسلیم کر لیں گے۔ بدکرداری کی کوئی حد ہوتی ہے۔
سوال: اس حکومت کو ایک سال گزر گیا اس کا بیانیہ جو بھی تھا۔ اگر وہ بیانیہ لوگوں کے دلوں تک پہنچ جاتا تو آج لوگ سابق حکمرانوں کی بیماری پر اتنے پریشان کیوں ہوئے۔ پورے پنجاب میں پی ٹی آئی اپنی کوشش کے باوجود بھی حالات نہیں بدل سکی اور لگتا ہے کہ تاجر اور آئل ٹینکر والا اور ڈاکٹر اور احتجاج کرنے والا کاروباری اسی طریقے سے پچھلی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اس کی کیا وجہ ہے۔
جواب: وہ تو ہمارا کلچر ہے۔ ان کا ایک مخصوص طبقہ مفادات حاصل کر چکا ہے ان کا جو ووٹر لے جو سپورٹر ہے۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی ایسے بزرگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مسلم لیگیے ہیں کون سے مسلم لیگیے۔ مسلم لیگی تو قائداعظم تھے جن کے دشمن بھی کہتے تھے کہ باکردار تھا اور اسے خریدا نہیں جا سکتا تھا۔
سوال: آزادی مارچ کے نام سے جو تحریک چل رہی ہے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سپورٹ کر رہے ہیں، کیا یہ تحریک عوام کی بہتری کا نظام لانے میں کامیاب ہو سکے گی۔
جواب: اتنا ضرور ہے کہ یہ مارچ ہلا کر رکھ دے گا۔ معیشت میں دراڑ پڑے گی۔ آپ اسے زلزلے کا پہلا راﺅنڈ کہہ سکتے ہیں جیسے سائیکلون ہوتا ہے سائیکلون کا پہلا راﺅنڈ، پھر لگتا ہے چلا گیا۔ دوسرا راﺅنڈ اس کا بھی زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔
سوال: پہلے حکمرانوں کے بھی خلاف، موجودہ حکومت کے نظام میں بہتری نہیں دیکھتے۔ کیا ہوا اور کیا چاہتے ہیں آپ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس قسم کے دھرنوں کے نتیجے میں تو ہمیشہ فوج ہی دوبارہ آیا کرتی ہے کیا 2019ءکے ماحول میں جبکہ یہ 2019 جانے والا ہے کیا پاکستان دنیا کے ملکوں میں ایسا ملک بن کر ابھرے گا جہاں دوبارہ مارشل لا لگ جائے۔
جواب: تھکی، ہاری، درماندا، جاہل قوم کو گورا جمہوریت دے کر عذاب ڈال گیا ہے۔ میں جمہوریت کے خلاف نہیں مگریہاں کی جمہوریت کو کبھی مانا نہ یہ جمہوریت ہے۔ یہاں سیاسی جماعتیں ، خاندانوں کی شکل میں عذاب ہیں۔ 50سال سے بھٹوزندہ ہے، معاف کرو! لوگ مر گئے ہیں اور وہ زندہ ہے۔ جس غریب آدمی کے پیروں کے نیچے زمین اپنی نہیں ہے ، چھت اپنی نہیں ہے ، اسکا ووٹ اپنا کیسے ہو سکتاہے۔
سوال: سندھ حکومت میں پیپلز پارٹی کے 99جبکہ اپوزیشن کے 69ارکان صوبائی اسمبلی میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بانی کے نواسے بلاول بھٹو کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ جس سیٹ پر ایم این اے ہیں ، اس حلقے کی اپنے ایم پی اے کی سیٹ کو وہ نہیں بچاسکے ۔
جوابپیپلزپارٹی کو بھوت کب تک چل سکتا تھا، 50سال انہوں نے بہت موج لگا لی۔ میں نے پیپلز پارٹی کا نام گذشتہ5سال سے مرحومہ ،مغفورہ کہے بغیر نہیں لیا۔
سوال: سابق وزیراعظم نواز شریف کی اچانک طبیعت خراب ہوتے ہی لگتا ہے پورا سسٹم ختم ہونے کو ہے۔ آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی اور رانا ثنا اللہ کی طبیعت بھی خراب ہے۔ جیلوں اور مقدمات کے شکار لوگ دھڑا دھڑ بیمار ہو رہے ہیں۔ ان کی بیماری کا علاج کس طرح سے ہوگا؟
جواب: پاکستان سیاستدانوں کے اسی رویہ کی وجہ سے آج اس نہج پر ہے۔ اللہ نہ کرے ان رویوں کا نتیجہ ہمارا مقدر ہو۔ نواز شریف ، شاہد خاقان پہلے سے بیمار ہیں، ان کی عمریں ایسی ہیں۔ ان کانچ کے بنے لوگوں کی آئس کریم جلدی پگھل جاتی ہے۔ انکی بیماری پر سہولتوں کو لیکر تحریک انصاف کے کارکنان ناراض ہیں۔
سوال: پاکستان کے عوام کے لیے آپ آخری امید کیا دیکھتے ہیں ؟ تحریک انصاف کو بھی آزما لیا ، یو این او کی تقریر اچھی تھی مگر عوامی مسائل کے حل کے لیے تسلی بخش کام نہیں کیا گیا۔
جواب: ابتر معاشی حالات، بے روزگاری ، بھوک اور ننگ ہوگی تو قانون کہاں رہ جائے گا۔ آٹا نہیں ہوگا تو شرم کا گھاٹا ہی گھاٹاہوگا۔ ان کرتوتو ں اور کارکردگی پر عوام کے لیے کوئی امید نظر نہیں آتی۔a
مولانا کا مارچ معیشیت کو لے ڈوبے گا ،حسن نثار نے آزادی مارچ کو بڑا خطرہ قرار دے دیا

