یہ دعویٰ کہ کسی “سائنسی تحقیق” میں چہرے کے تناسب کو 94.35 فیصد “مثالی” قرار دے کر خوبصورتی کی درجہ بندی کی گئی، عام طور پر سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ ذرائع سے پھیلنے والی باتوں میں شامل ہوتا ہے اور اسے سائنسی طور پر حتمی یا عالمی معیار تسلیم نہیں کیا جاتا۔
ماہرین کے مطابق خوبصورتی کو کسی ایک عددی فارمولے یا “فیصد” سے ناپنا سائنسی طور پر قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہے، کیونکہ انسانی کشش میں ثقافت، ذاتی پسند اور مختلف نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی سپر ماڈل Bella Hadid اکثر اس طرح کے “گولڈن ریشو” یا چہرے کے تناسب سے متعلق غیر رسمی تجزیوں میں زیر بحث رہتی ہیں، تاہم یہ درجہ بندیاں کسی مستند سائنسی اتھارٹی کی جانب سے حتمی فیصلہ نہیں ہوتیں۔
نتیجہ:
یہ نوعیت کی رپورٹس زیادہ تر غیر سائنسی جمالیاتی تجزیوں یا میڈیا ہائپ پر مبنی ہوتی ہیں، نہ کہ کسی عالمی طور پر تسلیم شدہ سائنسی تحقیق پر۔

