اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیل اپنے جنگی اہداف حاصل نہیں کر لیتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو فوجی آپریشن بغیر کسی وقفے کے جاری رہیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیے بغیر نہ تو فوجی کارروائیاں روکی جائیں گی اور نہ ہی غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا۔
دوسری جانب فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر تازہ اسرائیلی حملوں میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسلسل فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد حماس کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنا اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ حماس اور دیگر فلسطینی گروپ اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی کی کوششوں کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
