اسرائیل نے غزہ سے تعلق رکھنے والے 24 فلسطینی زیرِ حراست افراد کو رہا کر دیا، جنہیں اسرائیلی فوج نے جاری جنگ کے دوران مختلف کارروائیوں میں حراست میں لیا تھا۔ رہائی پانے والے افراد کو کرم ابو سالم (کریم شالوم) کراسنگ کے ذریعے غزہ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی معائنے اور ابتدائی امداد کے لیے اسپتالوں اور طبی مراکز میں منتقل کیا گیا۔
فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق رہا کیے گئے کئی افراد کی جسمانی حالت تشویشناک تھی۔ بعض نے الزام لگایا کہ دورانِ حراست انہیں سخت جسمانی اور ذہنی تشدد، ناقص خوراک اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث متعدد افراد شدید کمزوری کا شکار ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد کی رہائی معمول کے سیکیورٹی اور انتظامی جائزے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ اسرائیل نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا۔
فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی حراستی مراکز میں قید فلسطینیوں کی حالت کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور بین الاقوامی انسانی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
غزہ میں جاری جنگ کے دوران اب تک ہزاروں فلسطینی مختلف اسرائیلی کارروائیوں میں گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ قیدیوں کی رہائی اور تبادلے کا معاملہ جنگ بندی مذاکرات کا ایک اہم حصہ بنا ہوا ہے۔
