All posts by Daily Khabrain

رنویر اور دپیکا اٹلی میں شادی کے بعد ممبئی پہنچ گئے

ممبئی(ویب ڈیسک)بالی وڈ کا نیا شادی شدہ جوڑا دپیکا اور رنویر سنگھ آج صبح اٹلی سے ممبئی پہنچ گئے۔اٹلی کے خوبصورت ترین پرفضا مقام لیک کومو میں دپیکا اور رنویر کی شادی کی تقریبات ہوئیں جہاں مخصوص مہمانوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔شادی کے بعد نیا جوڑا جب ممبئی چیئرپورٹ پہنچا تو دونوں کو سیکیورٹی کے حصار میں ائیرپورٹ سے نکالا گیا، دونوں نے ایک جیسے رنگوں کے کپڑے زیب تک کر رکھے تھے۔رنویر سنگھ کی رہائش گاہ کے باہر دونوں نے میڈیا کے سامنے آ کر خصوصی پوز بھی دیا، اس سے قبل اٹلی میں شادی کی تقریبات کے دوران کیمروں کو دور رکھا گیا تھا۔دپیکا اور رنویر اپنے دوستوں کے لیے بنگلور میں 21 نومبر اور ممبئی میں 28 نومبر کو استقبالیہ دیں گے۔یاد رہے کہ 32 سالہ دپیکا اور 33 سالہ رنویر کی جوڑی پہلی مرتبہ سنجلے لیلا پھنسالی کی فلم ‘رام لیلا’ میں منظرعام پر آئی تھی جس کے بعد اس جوڑی نے سال کی بلاکس بسٹر فلم ‘پدماوتی’ میں بھی زبردست اداکاری کے جوہر دکھائے۔

پاکستان کا ہر کھلاڑی وکٹ پر سیٹ ہوکر اپنی غلطی سے آؤٹ ہوا ہے، بابر اعظم

ابوظہبی(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ٹیم کا ہر کھلاڑی وکٹ پر سیٹ ہوکر اپنی غلطی سے آو¿ٹ ہوا ہے۔بابر اعظم نے نیوزی لینڈ کیخلاف ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 62 رنز بنائے ہیں۔بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ٹیم کا ہر کھلاڑی وکٹ پر سیٹ ہوکر اپنی غلطی سے آو¿ٹ ہوا ہے کیوں کسی نے اننگز کو لمبا کرنے کی کوشش نہیں کی اور کھلاڑی پچ کی وجہ سے نہیں اپنی غلطی سے آو¿ٹ ہوئے۔بابر اعظم نے کہا کہ میچ میں سنچری بنانے کیلئے پر عزم تھا لیکن ساتھی آو¿ٹ ہوتے رہے پھر میں بھی آو¿ٹ ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک روزہ میچز میں ضرور اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کرتا ہوں لیکن کپتان اور کوچ مجھے جو رول اور پوزیشن دیتے ہیں، اسی پر کھیل کر کارکردگی دکھانا چاہتا ہوں۔ٹیسٹ میں پاکستان کی پوزیشن کے بارے میں بابر اعظم نے کہا کہ نیوزی لینڈ کو دوسری اننگز میں جلد سے جلد آو¿ٹ کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ابھی تک پچ کا رویہ سلو ہےجو کہ مزید سلو ہوجائے گی۔نیوزی لینڈ کے لیفٹ آرم اسپنر اعجاز پٹیل نے پاکستان کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میں دو وکٹ حاصل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس وقت ابوظہبی ٹیسٹ میں دونوں ٹیموں کیلئے برابر مواقع ہیں لیکن ہمیں تیسرے دن بیٹنگ میں مزید اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیسٹ میں دو وکٹیں لینے کے لمحات خصوصی طور پر یادگار تھے، سرفراز احمد اسپین کو اچھا کھیلتے ہیں اور ان کی پہلی وکٹ یادگار رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اسپنر کی حیثیت سے مجھے چیلنج کرنا اچھا لگتا ہے، ہمیں اس ٹیسٹ ا?خری اننگز میں بولنگ کرنا ہے جس کیلئے تیار ہوں۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں کی پچ میں ٹرن زیادہ ہے جب کہ نیوزی لینڈ میں گیند کو باو¿نس ملتا ہے، سلو وکٹ پر درست پیس پر بولنگ کرنا ہوتی ہے۔یاد رہے کہ ابوظہبی ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان کی ٹیم 227 رنز بناکر آو¿ٹ ہوئی اور قومی ٹیم کو کیویز پر 74 رنز کی برتری حاصل تھی۔دوسرے روز کھیل کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 56 رنز بنالیے جب کہ پاکستان کو 18 رنز کی سبقت حاصل ہے۔

وزیراعظم کی شیخ محمد بن زید سے دبئی میں ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو

دبئی(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان ایک روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے جہاں انہوں نے دبئی کے کراو¿ن پرنس شیخ محمد بن زید بن سلطان النہیان سے ملاقات کی۔ صدارتی محل میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر پیٹرولیم غلام سرور، توانائی کے وزیر اور مشیر تجارت سمیت سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان صدارتی محل پہنچے تو انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر بھی موجود تھے۔اس سے قبل دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر یو اے ای کے وزیر مملکت سلطان بن جابر نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا، متحدہ عرب امارات میں پہلے سے موجود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔وزیراعظم متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے، ان کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

نئے پاکستان کا نام لیکر پرانے کو تباہ کرنے والوں کا راستہ روکیں گے: بلاول

گلگت(ویب ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان کا نام لے کر پرانے پاکستان کو تباہ کرنے والوں کا راستہ روکیں گے اور انہیں پاکستان کو ان کی تجربہ گاہ بننے نہیں دیں گے۔گلگت کے پولو گراو¿نڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے پاکستان والوں نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں، انتخابات میں سبز باغ دکھائے گئے جو لوگوں کو یاد ہیں لیکن یہ خود بھول گئے ہیں۔بلاول بھٹو نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اِنہیں لوگوں کی عزتیں اچھالنے سے فرصت ملے تو معیشت کی طرف توجہ دیں، ابھی 100 دن بھی پورے نہیں ہوئے 100 سے زیادہ یو ٹرن لے چکے ہیں، جو قرض مانگنے پر خودکشی کو ترجیح دیتے تھے وہ قرض ملنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دس روپے کی روٹی، 15 روپے کا نام یہ ہے نیا پاکستان، واہ رے عمران خان، آج ملک سنگین بحران سے گزر رہا ہے اور قیادت کا بحران ہے، تو تو میں میں کے سوا کوئی لفظ نہیں آتا یہ ملک کو معاشی بحران سے کیا نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام پر ایک تاریک دور مسلط کردیا گیا ہے، معیشت کی کشتی ڈوب رہی ہے اور یہ تالیاں بجا رہے ہیں کہ ہم نے ملک فتح کرلیا چاہے وہ دھاندلی سے ہی کیوں نہ ہو، پاکستان کو ان کی تجربہ گا نہیں بننے دیں گے، ہم سرزمین کی آئینی حیثیت اور حقوق کا تحفظ کریں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ضد اور انا ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں مشاورت، برداشت، اظہار رائے اور پارلیمانی ادب نہیں چلے گا، یہاں وہی ہوگا جو خان صاحب فرمائیں گے اور وہی چلتا رہے گا جو کنٹینر پر ہوتا رہا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری جدوجہد عوام کی حاکمیت کی جدوجہد ہے، میرا اس وادی کے ساتھ تین نسلوں کا رشتہ ہے، شہید بھٹو اور بی بی نے جو رشتہ نبھایا وہ نبھانے کا وعدہ کرتا ہوں، پاکستان کی مضبوطی اور استحصال کے خلاف جدوجہد جاری رکھوں گا۔بلاول بھٹو نے کا کہنا تھا کہ گلگت میں شہید بی بی نے سول سیکریٹریٹ قائم کیا، عدالتی اصلاحات کیں لیکن پچھلی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کی خودمختاری پر حملے جاری رکھے۔

خشوگی کو سعودی ولی عہد کے حکم پر قتل کیا گیا، سی آئی اے کا الزام

واشنگٹن، ریاض (اے این این) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر قتل کیا گیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سی آئی اے نے خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے بعد کانگریس سمیت امریکی انتظامیہ کے مختلف اداروں کو بریفنگ دی کہ اس کے تجزیے کے مطابق اس قتل میں سعودی ولی عہد کا ہاتھ ہے۔ ادھر سعودی حکومت کا موقف ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں جب کہ وائٹ ہاس اور امریکی محکمہ خارجہ دونوں نے اس خبر پر اپنا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔یہ امریکا کا پہلا واضح تجزیہ ہے جس میں صاف صاف اس واقعے میں محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کی بات کی گئی ہے۔ واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کی خاتون ترجمان نے سی آئی اے کے اس مجوزہ تجزیے کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے دیا ہے۔

مودی کو میری جپھی اس لئے بری لگتی ہے کہ انہیں عمران خان نے نہیں بلایا: سدھو

نئی دہلی(اے این این) سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے دورہ پاکستان پر تنقید کے بعد اب یہ بھارت کے ریاستی انتخابات کا موضوع بن گیا، مخالف جماعت کے رہنماﺅں نے تنقید کے باونسر پھینکے تو سابق کرکٹر نے کرارے شاٹ لگائے۔بھارتی پنجاب کے وزیر سیاحت اور کانگریسی لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو اس بات کی حسد ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں انہیں مدعو نہیں کیا۔اس سے قبل بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی)دہلی یونٹ کے صدر منوج تیواری نے حزب اختلاف کی جماعت کانگریس سے کہا تھا کہ وہ پارٹی رہنماﺅں راج ببر اور نوجوت سنگھ سدھو کے حالیہ بیانات کی وضاحت کرے۔سدھو نے کہا کہ پاکستان میں گرو نانک کانام لینے والے12کروڑ لوگوں کی بات کی گئی،میرے گرو کے در کی بات ہوئی، جس راستے سے ہمیں سوسال محروم رکھا گیا۔ انہوں نے مودی سے سوال کیا کہ میری جھپی آپ کو اس لئے بری لگی کہ کرتار پور کا راستہ کھولنے کی بات کی گئی؟سابق کرکٹر نے کہا کہ جب میں پاکستان کے مقابلے میں کھیلتا تھا اور چھکے پے چھکے لگاتاتوتم ربرکے گڈے کی طرح تالیاں بجاتے تھے، جب میں آپ کےساتھ تھا توبہت اچھاتھا،محب وطن تھا؟رواں سال اگست میں نوجوت سنگھ سدھو نے وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنے پر سدھو پر بھارت بھر میں تنقید کی گئی تھی، بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ سدھو پاکستانی ایجنٹ جیسا برتاﺅکررہے ہیں جبکہ یونین منسٹر ہرسمرت کو بادل نے کہا کہ سدھو کرتارپور گردوارا راہداری پر عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔نوجوت سنگھ سدھو نے 2004 میں بے جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی اورعام انتخابات میں امرتسر الیکشن بھی لڑا تھا،انہیں 2016 میں پنجاب سے راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن عہدہ چھوڑکر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور 2017 میں کانگریس میں شامل ہوگئے تھے۔

عمران خان آج متحدہ عرب امارات روانہ ، بڑا امدادی پیکج ملنے کا امکان

اسلام آباد(اے این این) وزیراعظم عمران خان نے اہم دورے پر(آج) اتوار متحدہ عرب امارات جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، جہاں وہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے ملاقات کریں گے، سعودی عرب اور چین کے بعد یو اے ای سے بھی بڑا پیکج ملنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے کوششیں جاری ہے، وزیراعظم عمران خان نے (آج) اتوار کو اہم دورے پر متحدہ عرب امارات جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ایک روزہ دورے میں وزیراعظم عمران خان متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے ملاقات کریں گے جبکہ دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔دورہ دوست ممالک سے اقتصادی تعاون کے حصول کی کوششوں کا حصہ ہے، سعودی عرب اور چین کے بعد متحدہ عرب امارات سے بھی بڑا پیکج ملنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی پہلے سے ہی متحدہ عرب امارات میں موجودہیں ، جہاں شاہ محمود قریشی اور یو اے ای حکام کی اہم ملاقاتیں جاری ہیں جبکہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے درمیان بھی رابطے ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی ذمہ داری وزیراعظم نے خود سنبھال لی اورغیرملکی دوروں کا آغاز کیا تھا، اب تک عمران خان سعودی عرب اور چین کا دورہ کرچکے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے 5 روزہ دورہ چین میں چینی صدر شی جن پنگ کے علاوہ دیگر اعلی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور ملکی معیشت پر تبادلہ خیال کیا جبکہ 15 معاہدوں اور یاداشتوں پر بھی دستخط کئے۔وزیراعظم عمران خان کے دورے میں سعودی عرب نے پاکستان کو مشکل وقت سے نمٹنے کیلئے بڑا پیکج دے کر پی ٹی آئی حکومت اعتماد کا اظہار کیا اور پاکستان کیلئے بارہ ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا۔جس کے مطابق پاکستان کو تین ارب ڈالر ایڈونس دئیے جائیں گے ، تین ارب ڈالر کا ادھار تیل تین سال تک دیا جائے گا، بیلنس آف پیمنٹ کے لیے ایک سال تک تین ارب ڈالرپاکستان کے اکانٹ میں بھی رکھے جائیں گے۔

رقم خرچ کرنے کا پوچھا جائے تو جمہوریت پارلیمنٹ خطرے میں پڑ جاتی ہے : فواد چودھری

اسلام آباد (صباح نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پچھلے 10 سال بلوچستان کو منتقل ہونے والی رقم کاحجم 1500 ارب بنتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہاکہ وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر کے مطابق پچھلے 10 سال بلوچستان کو منتقل ہونے والی رقم کاحجم 1500ارب بنتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم صرف وفاقی خزانے سے دی گئی جس میں صوبائی رقم اور ٹیکس شامل نہیں ، جب پوچھا جاتاہے کہ یہ پیسے کہاں گئے اور کدھر خرچ ہوئے تو جمہوریت اور پارلیمان کا وقار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

حکومت کا نواز ، شہباز ، مریم کے 4 کیس نیب کو بھجوانے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) موجودہ حکومت نے ( ن )لیگی سا بق حکومت کیخلاف مزید چار کیسز قومی احتساب بیورو(نیب) کو بھیجنے کا اعلان کر دیا ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلی پنجاب نے سرکاری خزانے سے 60 کروڑ کا ہیلی کاپٹر استعمال کیا اور مجموعی طور پر ہوائی سفر پر 340 ملین روپے غیر قانونی خرچ کیے گئے۔ شہباز شریف کے ہیلی کاپٹر پر آنے والے خرچے کا کیس نیب کو ریفر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بھی وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر غیرقانونی طورپر استعمال کیا، یہ کیس بھی مزید تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر وزیراعظم کیلئے ہے اگر کوئی دوسرا استعمال کرتا ہے تو اسے وضاحت دینی پڑی گی۔ انہوں نے کہا پرائم منسٹر ہاوس اور چیف منسٹر ہاوس کا ریکارڈ بھی مزید تحقیقات کیلئے نیب کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016-2017 میں وزیراعظم ہاﺅس کا 34 کروڑ خرچہ تھا جب کہ صرف رائے ونڈ کی سکیورٹی پر 60 کروڑ خرچ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے مجموعی اخراجات کا ریکارڈ بھی نیب کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب تحقیقات کرکے تمام کیسز میں ریفرنس دائر کرے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی اخبار نے شریف خاندان کی جائیداد کے بارے میں تحقیقی خبر شائع کی ہے اور ہم نے جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کر لیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ پراپرٹی 2016 میں حسن نواز کے نام کی گئی تھی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ نیب قوانین کو بہتر کرنے کیلئے ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے، لیکن ہم ایسے شخص کو کبھی بھی پی اے سی کا سربراہ نہیں بنائیں گے جو خود کرپٹ ہو۔ وفاقی حکومت نے رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سابق حکمران بہت بے دردی کے ساتھ سرکاری پیسہ استعمال کرتے رہے ¾ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ¾مریم نواز نے بھی 3 کروڑ روپے کے اخراجات سے سرکاری طیارے کا استعمال کیا تھا ¾ شریف خاندان کے اخراجات پر نیب ریفرنس دائر کرے، تمام ثبوت فراہم کیے جائیں گے ¾ نیب کے قوانین میں ترمیم کےلئے تیار ہیں ¾ ادارے کو کمزور نہیں کریں گے، نیب پر مزید نگرا نی کا ادارہ بٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہفتہ کو یہاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی نے کہا کہ رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے انہوںنے کہا کہ اب تک ان کی حکومت وزیر اعظم ہاو¿س کے اخراجات میں 11 کروڑ روپے کی کمی لاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاو¿س کی گاڑیوں کے پیٹرول کا خرچہ 49 لاکھ روپے کم کیا گیاجبکہ مجموعی طور پر حکومت نے 43 کروڑ روپے سے کم کرکے 27 کروڑ روپے تک پہنچادیا ہے۔افتخار درانی نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 60 کروڑ روپے اپنے ہوائی سفر پر خرچ کیے اور رائے ونڈ کی سیکیورٹی پر 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔انہوںنے کہاکہ حکمران بہت بے دردی کے ساتھ سرکاری پیسہ استعمال کرتے رہے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بھی 3 کروڑ روپے کے اخراجات سے سرکاری طیارے کا استعمال کیا تھا۔وزیرِاعظم کے مشیر برائے میڈیانے بتایا کہ ان معاملات کے کیسز نیب کو بھجوائے جارہے ہیں۔وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف خاندان کے اخراجات پر نیب ریفرنس دائر کرے، تمام ثبوت فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب ہاو¿س میں بڑی تعداد میں بھاری رقوم کے تحفے تحائف دیے گئے۔شہزاد اکبر نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا 14-2013 کے دوران تحائف کے بجٹ میں218 فیصد اضافہ ہوا، 15-2014 میں یہ اضافہ 135 فیصد تھا، 16-2015 میں 193 فیصد اضافہ ہوا اور 17-2016 میں تحائف اور انٹرٹینمنٹ کی مد میں 256 فیصد رقوم ادا کی گئیں۔انہوںنے کہاکہ یہ وہ تمام بجٹ ہے جنہیں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دیا گیا اور اب حکام کو دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا تحائف ہیں جو اس دوران دئیے گئے۔وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی کے مطابق نیب کو قومی احتساب آرڈیننس کے تحت ان اخراجات سے متعلق کارروائی کرنی ہے۔ذرائع ابلاغ میں جاری خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ شریف خاندان کی لندن میں ایک اور جائیداد کا انکشاف ہوا ہے اور اس معاملے کو دیکھا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ سینٹرل لندن میں موجود شریف خاندان کی جائیداد مرحومہ بیگم کلثوم نواز کے نام پر تھیں جنہیں چھپایا گیا اور یہ نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان اثاثوں کو ظاہر کرتے۔انہوںنے بتایا کہ شہباز شریف کے ہیلی کاپٹر پر آنے والے خرچے کا کیس نیب کو ریفر کیا جا رہا ہے۔ایک سوال پر افتخار درانی نے کہا کہ مقاصد کی تکمیل کےلئے متبادل حکمت اختیار کرنا پڑتی ہے، اسٹریٹجی میں تبدیلی اگر یو ٹرن ہے تو یہ ہے۔اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ گزشتہ دور میں وزیراعظم کے جہاز کا غیر قانونی استعمال ہوا، شہباز شریف اور مریم نواز نے سرکاری ہیلی کاپٹر اور جہاز کا غیر قانونی استعمال کیا، شہباز شریف نے 60 کروڑ کا ہیلی کاپٹر پر سرکاری پیسوں سے سفر کیا، ہوائی سفر پر 34 کروڑ روپے غیر قانونی خرچ کیے گئے۔ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ ہاو¿س کا ریکارڈ نیب کے حوالے کررہے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ تحقیقی صحافت احتساب کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، برطانوی اخبار نے شریف خاندان کی جائیداد کے بارے میں تحقیقی خبر شائع کی، جس میں نوازشریف کی اہلیہ کےنام برطانیہ میں ایک فلیٹ کی اونرشپ بتائی گئی ہے۔ اس فلیٹ کا ذکر الیکشن کمیشن یا ویلتھ فارمزمیں نہیں کیا گیا، برطانوی اخبار نے جس جائیداد کا ذکر کیا نواز شریف نے اسے چھپایا حالانکہ بطور وزیراعظم اور رکن پارلیمنٹ نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے اثاثوں کے بارے میں بتاتے، برطانیہ سے شریف خاندان کی جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کی گئی ہیں، فلیٹ کی تازہ خریداری کی تاریخ مارچ 2018 ہے جو حسین نواز کو منتقل کی گئی ہے۔ سوال ہے کہ وسائل کہاں سے آئے اورجائیدادکب اورکیسے خریدی گئی؟ اس کیس کی نوعیت بھی دیگرکیسزکی طرح آمدن سے زائداثاثے کی ہے۔وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ تحائف و تفریح کی مد میں کئی گنا اخراجات کیے گئے، گزشتہ دور حکومت کے 5 سال میں تحائف پر کیے گئے اخراجات کا بھی پتا لگا لیا ہے ¾ نیب کے قوانین میں ترمیم کے لیے تیار ہیں لیکن ادارے کو کمزور نہیں کریں گے، نیب پر مزید نگرا نی کا ادارہ بٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ایک سوال پر وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا کہ امریکی ریڈیو کو انٹرویو کے وقت افغانستان میں قتل ہونے والے ایس پی طاہر داوڑ سے متعلق صورت حال مختلف تھی۔ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم صاف اور شفاف لوگوں کو کمیٹی کے چیئرمین بنائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جہاز ان کا کوئی بچہ استعمال کرے گا تو پھر ان سے پوچھا جائے گا، ہمارے دور میں بھی اگر اسی طرح ہوا تو ہم بھی احتساب کے لئے تیار ہیں، سسٹم کو تبدیل کرنے کے لئے تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کو شفافیت کی ضرورت ہے۔

جعلی اقرار نامہ کی آڑ میں زمیندار کے پلاٹ پر قبضہ کی کوشش ، 62مرلے پلاٹ کے مالک جام ارشاد کی اراضی میں 10مرلے کی الگ رجسٹری کردی گئی، متاثرہ جام ارشاد مدد کیلئے ” خبریں ہیلپ لائن “ پہنچ گیا

خان پور (نمائندہ خبریں) لکشمی کی چمک اور اثرورسوخ کے آگے قانون کی نظریں جھک گئیں، جعلی اقرارنامہ بیع کی آر لیکر زمیندار کے پلاٹ پر قبضہ کی کوشش کرنے والے شخص پر درج مقدمہ خارج، تحصیلدار نے ایک ہی پلاٹ کی2رجسٹریاں کردیں۔ پلاٹ پر قبضہ کے لئے دھاوا بولنے والے ملزمان مقدمات کے اندراج کے باوجود گرفتار نہ ہوسکے، ملزمان کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں، متاثرہ شخص کیایک دفعہ پھر”خبریں ہیلپ لائن“ سے مدد کی اپیل ۔تفصیلات کے مطابق ضلع رحیم یارخان کی تحصیل خان پور کے موضع مرادواہ کے رہائشی جام ارشاد احمد نے پلی دین پور شریف کے نزدیک62مرلے کا جیسے ہی رہائش کے لئے پہلے اپنے بھائیوں ودےگرساتھیوں کو بھیج کر حملے کرائے اور توڑ پھوڑ کرائی لیکن پولیس تھانہ صدر کے پہنچنے پر وہ فرار ہو گئے۔ان واقعات کے2مقدمات تھانہ صدر خان پور میں جام ارشاد احمد کی مدعیت میں درج ہوئے اس کے بعد وسیم مختار نے ایک10مرلے کا جعلی اقرار نامہ بیع تیار کرکے پھر سے قبضہ کی کوشش کی لیکن جام ارشاد احمد کی نشاندہی پر اقرار نامہ بیع جعلی ثابت ہوا جس پر تھانہ سٹی خان پور نے وسیم مختار کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ درج کرلیا گیا لیکن لکشمی کی چمک یا پھر اثرورسوخ کی بنیاد پر اچانک قانون کی نظریں ملزم کے آگئے یوں جھکتی دکھائی دیں کہ ایس ایچ او تھانہ سٹی چوہدری شبیر جھورڑنے پر بااثر شخص وسیم مختار کے خلاف مقدمہ خارج کردیا ادھر 62مرلے کے پلاٹ کی اصل مالک جام ارشاد احمد کے نام پر تحصیلدار خان پور جنیدخان پہلے کرچکا ہے۔اس نے اسی پلاٹ میں سے10مرلے کی دوسری رجسٹری وسیم کے نام بھی کردی۔ متاثرہ جام ارشاد احمد نے بااثر شخص کے ان ہتھکنڈوں سے تنگ آکر ایک دفعہ پھر”خبریں ہیلپ لائن“ لاہور سے مدد مانگ لی اور وضاحت کی کہ جعلی اقرار نامہ سے میرے ملکیہ پلاٹ پر قبضہ کی کوشش ناکام ہونے پر وسیم مختار نامی بااثر شخص نے غلام یاسین نامی اس شخص سے ملی بھگت کرکے10مرلے کا پرچہ ملکیت حاصل کرکے رجسٹری کرائی ہے جس کا اس62مرلے پلاٹ سے ذرا برابر بھی کوئی تعلق نہیں لیکن پلاٹ سے کچھ فاصلہ پر اس کا15رقبہ پر تعمیر شدہ ایک مکان ضرور موجود ہے جس نے پرچہ ملکیت اپنے15مرلے کے مکان میں سے10مرلے کا پٹواری سے حاصل کیا لیکن رجسٹری کراتے وقت پلاٹ کا نقشہ میرے ملکیہ پلاٹ میں سے دیدیا ہے انہوں نے کہا کہ پلاٹ پر قبضہ قانونی طور پر ہمارے پاس ہے ہم نے دو نمبر رجسٹری بارے تحریری طور پر رجسٹری ہونے سے قبل ڈی سی رحیم یار خان کو دی تھی جنہوں نے اے سی خانپور کو تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن 10مرلے کی میرے پلاٹ کے رقبہ پھر سے رجسٹری کردی گئی ہے متاثرہ شخص نے خبریں کے توسط سے چیف جسٹس ہائیکورٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔