All posts by Daily Khabrain

ایس پی طاہر داڑو کا قتل سازش ، مشترکہ تحقیقات کیلئے افغانستان تیار ہے، باڑ لگانے سے دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا، طاہر داوڑ کی میت کو عزت و احترام کے ساتھ حوالے کیا : افغان سفیر کی چینل ۵ کے پروگرام ”ڈپلومیٹک انکلیوژ“ میں خصوصی گفتگو

اسلام آباد(انٹروےو:ملک منظور احمد ، تصاوےر: نیکلس جان) ا فغان صدر کے معاون خصوصی و پاکستان مےں افغانستان کے سفےر ڈاکٹر حضر ت عمر زاخیلوال نے چند روز قبل دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ہونہار پولیس آفےسر ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقےقات کےلئے مشترکہ تحقےقاتی ٹےم بنانے کی پیش کش کردی ہے او ر کہا ہے کہ طاہر داوڑ کا قتل افغانستان اور پاکستان کے درمےان تعلقات کو خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے انہوںنے انکشاف کیا کہ طاہر داوڑ کو قتل کرنے کے بعد پاک افغان بارڈر کے قرےب ایک دیہات مےں دیہاتےوں نے دفنا دےا تھا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کے قتل کا علم ہوا تو قبرکشائی کی گئی اسی کیس سے متعلق ایک اور انکشاف کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جس علاقے سے ایس پی طاہر داوڑ کی میت ملی وہاں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کےلئے پاکستان کی جانب سے باڑ لگائی گئی تھی افواج پاکستان کے ترجمان مےجر جنرل آصف غفور کے بےان کو افسوس ناک قرار دےتے ہوئے افغان سفےر نے کہا کہ اس قتل مےں افغانستان حکومت کا کوئی ادارہ ملوث نہیں ہے افغانستان بارڈر پر باڑ لگانے پر ےقےن نہیں رکھتا اور نہ ہی باڑ لگانے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کو اس واقعہ سے بڑا دھچکا لگا ہے افغانستان کی حکومت اےس پی طاہر داوڑ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے پاکستان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تےار ہے طاہر داوڑ کی مےت کو انتہائی احترام کے ساتھ پاکستانی حکام کے حوالے کےا گےا ہے اور اس مےں اگر کچھ تاخےر ہوئی ہے تو اس کی وجہ سے الزامات تراشی افسوس ناک ہے ، پاکستان اور افغانستان کے عوام بہت جذباتی ہیں ہمیں احتےاط سے کام کرنے ہوتے ہےں ،انہوںنے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف افغانستان اور پاکستان کو مشترکہ آپرےشن کرنا چاہئے تاکہ خطے کو امن کا گہورا بناےا جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوںنے چےنل فائےو کے پروگرام ”ڈپلومیٹک انکلیو“ میں خصوصی انٹروےو دےتے ہوئے کیا ۔انہوں نے اےس پی طاہر داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے ہم طاہر داوڑ کو جانتے ہی نہیں تھے وہ ایک سےنئر پولیس افسر تھے اور نہ انہوںنے افغانستان کو کوئی نقصان پہنچاےا غےر رےاستی عناصر دونوں ممالک کے دشمن ہیں بےان بازی ، الزامات دونوں ممالک کے مفاد مےں نہیں اور بےانات دےنے سے پہلے اس کے نتائج کے حوالے سے سوچنا چاہئے دونوں ہمسایہ ممالک ہیں اورہمسائے کبھی تبدےل نہیں ہو سکتے دونوں ممالک کی قےادت کو سنجےدہ کوشش کرکے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مستقبل مےں اےسے افسوسناک واقعات رونماءنہ ہوں جب ان سے پوچھا گےا کہ پاک فوج کے ترجمان نے اپنے اےک بےان مےں کہا ہے کہ یہ کام کسی دہشت گرد تنظےم کا نہیں ہے بلکہ اوپر کا ہے تو انہوںنے کہا ہمیں اس بےان پر بہت افسوس ہوا ہے اور ماےوسی بھی ہوئی ہے افغانستان کی حکومت کا کوئی ادارہ اےسے گھناﺅنے کام مےں ملوث نہیں ہو سکتا ۔مےں خود متعلقہ حکام سے رابطے مےں تھا اور مےں نے ٹےلی فون پر رابطہ کرکے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کی میت کے احترام اور وقار کو ہر صورت ےقےنی بناےا جائے اور اےسے ہینڈل کیا جائے جےسے وہ ہمارا اپنا آفےسر تھا اور مےں ےقےن سے کہتا ہوں کہ اس کیس مےں اےسا ہی کیا گےا ہے اور اس سلسلے مےں افغان حکومت نے پاکستانی حکام کی ہر لحاظ سے مدد کی ہے ایک سوال کے جواب مےں انہوںنے کہا کہ یہ میت قبائلی عمائدےن کے پاس تھی اور وہ اپنی رواےات کے مطابق مےت کو حوالے کرتے ہےں اور قبائلی عمائدےن نے پاکستانی اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے انہوںنے کہا کہ طاہر داوڑ سترہ دنوں سے لاپتہ تھا اور ان کی میت کتنے دن وہاں رہی اور کےسے انہیں وہاں لے جایا گےا اس بارے مےں ابھی ہمیں معلومات نہیں ہیں تاہم تمام حقائق کو سامنے لانا چاہئے حقےقت یہ ہے کہ طاہر داوڑ کی مےت وزےر مملکت برائے داخلہ شہرےار آفرےدی کے حوالے کی گئی اور ان کی نمازہ جنازہ افغانستان کی سرزمےن پر بھی ادا کی گئی اور پاکستان مےں بھی ادا کی گئی شہرےار آفرےدی کو مےت لے جاتے وقت واضح دےکھا جاسکتا ہے افغان سفےر نے کہا کہ جب تک ہم اپنے خیالات نہیں بدلےں گے تب تک اعتماد بحال نہیں ہوگا اگر دونوں ممالک دشمنی دےکھاتے رہیں گے تو یہ دونوں کےلئے ٹھےک نہیں ہوگا مےں گزشتہ تےن سا ل سے بطور سفےر دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے پاکستان کی سےاسی اور عسکری قےادت کے ساتھ مسلسل رابطے مےں رہا ہوں اور دونوں اطراف سے مثبت اقدامات کےے گئے ہےں جس کے نتےجے مےں اعتماد بھی بحال ہوا ہے اور تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیں لیکن طاہر داوڑ جےسے واقعات ہمارے باہمی تعلقات کو خراب کردےتے ہےں طاہر داوڑ کا سانحہ بلکل خلاف توقع ہے اور مےں سفارتی مدت مکمل ہونے کے بعد بہت خوشی خوشی افغانستان جا رہا تھا لیکن اس سانحہ نے مجھے بہت افسردہ کردےا ہے اور مےں اب افسردہ ہوکر پاکستان سے روانہ ہو رہا ہوں امن اور استحکام کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے ہم پہلے ہی بہت وقت ضائع کرچکے ہےں اور دونوں ممالک دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ہم دس سال پہلے ہی ضائع کر چکے ہیں دونوں ممالک کی تارےخ اور اقدار مشترکہ ہیں اور مقاصد بھی ایک ہیں اور ہمارے دشمن بھی مشترکہ ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے الزامات برائے الزامات سے اجتناب کرنا ہوگا سی پیک کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ یہ ایک عظےم الشان منصوبہ ہے اور اس منصوبے سے افغانستان کو بھی بہت فائدہ ہوگا پاکستان اور افغانستان کے راستے سے جنوبی ایشیاءتک تجارت کی جا سکتی ہے ہمیں ا س پر توجہ دینی چاہئے اور افغانستان اس منصوبے کی حماےت کرتا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہےں کہ سی پیک جےسے منصوبوں سے غربت و افلاس کو ختم کرنے اور خوشحالی لانے مےں بہت مدد ملے گی ۔آپ کو علم ہے کہ اس خطے مےں داعش ، ٹی ٹی پی ، القاعدہ اور دےگر دہشت گرد تنظےموں کا گٹھ جوڑ ہے اغواءبرائے تاوان اور قتل و غارت کے افسوسناک واقعات ہوتے ہےں اور یہ نےٹ ورک دونوں ممالک کے خلاف کام کرتے ہےں انہوںنے اےک سوال کے جواب مےں کہا کہ بہت سار ے اےسے واقعات ہو چکے ہےں کہ افغان باشندوں کو اغواءکرنے کے بعد پاکستان مےں لا کر مار دےا گےا اور پاکستانےوں کو اغواءکرکے افغان سر زمےن پر قتل کیا گےا ہمارے ایک سفارتکار کو کراچی سے اغواءکےا گےا اور آج ڈےڑھ سال ہو گئے ہےں اس کا آج تک کوئی پتا نہیں چل سکا ۔دونوں ممالک مےں اےسے غےر رےاستی عناصر موجود ہےں لیکن اےسے واقعات رےاست کی سطح پر اثر انداز نہیں ہونے چاہئے اور نہ ہی ایک دوسرے پر عدم اعتماد کرنا چاہئے کیونکہ ایک عرصہ سے خود کش حملے ، دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور ہزاروں لوگ اس مےں جانوں کا نذرانہ دے چکے ہےں اےسے بزدلانہ واقعات سے ہمارے ارادے پست نہیں ہونے چاہئے اور نہ اےسے واقعات سے اپنے بڑے مقاصد سے توجہ ہٹانی چاہئے جب ان سے پوچھا گےا کہ امرےکہ سمےت دنےا بھر کے ممالک کی افواج گزشتہ کئی سالوں سے افغانستان مےں موجود ہے لیکن ایک کابل میں بھی حکومتی رٹ نظر نہیں آتی تو انہوںنے اعتراف کےا کہ افغانستان کی حکومت اپنی رٹ کو قائم کرنے مےں کامےاب نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے خدشات بجا ہیں لیکن اس کے راستے مےں کئی رکاوٹےں ہیں جب ان سے سوال کیا گےا کہ ہر بار افغانستان کی سرزمےن کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو انہوںنے کہا کہ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمےن کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی سکتی اگر اس بارے مےں پاکستان کے پاس ثبوت ہےں تو ہمارے حوالے کےے جائےں ۔انہوںنے وزےراعظم عمران خان کی طرف سے اےس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقےقات کےلئے بنائی گئی تحقےقاتی ٹےم اور بےان کو خوش آئندقرار دےا اور امےد کا اظہار کیا کہ وزےراعظم عمران خان کی قےادت مےں دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کو بہتر بنانے مےں مدد ملے گی۔

حکومت کا نواز، شہباز اور مریم کے خلاف مزید 4 کیس نیب کو بھجوانے کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے کہ سابق حکومت کے خلاف 4 کیس نیب کو بھیجیں گے۔اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا کہ شہباز شریف نے سرکاری وسائل کا بےدریغ استعمال کیا، انہوں نے 60 کروڑ روپے ہوائی سفر پر خرچ کیے، رائیونڈ کی سیکیورٹی پر 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے، ایک دیوار بنانے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ شہباز شریف کا سفری خرچ کا معاملہ نیب کو بھجوا رہے ہیں، سابق حکومت کے خلاف 4 کیس نیب کو بھیجیں گے، شہباز شریف کے ہیلی کاپٹر پر آنے والے خرچے کا کیس نیب کو ریفر کیا جا رہا ہے، مریم نواز شریف کے خلاف بھی جہاز کا خرچہ کرنے کا کیس نیب کو بھیجا جائے گا۔افتخار درانی نے کہا کہ مقاصد کی تکمیل کے لیے متبادل حکمت اختیار کرنا پڑتی ہے، اسٹریٹجی میں تبدیلی اگر یو ٹرن ہے تو یہ ہے۔اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ گزشتہ دور میں وزیراعظم کے جہاز کا غیر قانونی استعمال ہوا، شہباز شریف اور مریم نواز نے سرکاری ہیلی کاپٹر اور جہاز کا غیر قانونی استعمال کیا، شہباز شریف نے 60 کروڑ کا ہیلی کاپٹر پر سرکاری پیسوں سے سفر کیا، ہوائی سفر پر 34 کروڑ روپے غیر قانونی خرچ کیے گئے۔ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ ہاو¿س کا ریکارڈ نیب کے حوالے کررہے ہیں، وزیراعلی پنجاب اور مریم نواز اور نواز شریف کے کیس بھی نیب کو بھجوائے جائیں گے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ تحقیقی صحافت احتساب کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، برطانوی اخبار نے شریف خاندان کی جائیداد کے بارے میں تحقیقی خبر شائع کی، جس میں نوازشریف کی اہلیہ کے نام برطانیہ میں ایک فلیٹ کی اونرشپ بتائی گئی ہے۔ اس فلیٹ کا ذکر الیکشن کمیشن یا ویلتھ فارمزمیں نہیں کیا گیا، برطانوی اخبار نے جس جائیداد کا ذکر کیا نواز شریف نے اسے چھپایا حالانکہ بطور وزیراعظم اور رکن پارلیمنٹ نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے اثاثوں کے بارے میں بتاتے، برطانیہ سے شریف خاندان کی جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کی گئی ہیں، فلیٹ کی تازہ خریداری کی تاریخ مارچ 2018 ہے جو حسین نواز کو منتقل کی گئی ہے۔ سوال ہے کہ وسائل کہاں سےآئے اورجائیدادکب اورکیسے خریدی گئی؟ اس کیس کی نوعیت بھی دیگرکیسزکی طرح آمدن سے زائداثاثے کی ہے۔وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ تحائف و تفریح کی مد میں کئی گنا اخراجات کیے گئے، گزشتہ دور حکومت کے 5 سال میں تحائف پر کیے گئے اخراجات کا بھی پتا لگا لیا ہے۔ نیب کے قوانین میں ترمیم کے لیے تیار ہیں لیکن ادارے کو کمزور نہیں کریں گے، نیب پر مزید نگرا نی کا ادارہ بٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مولانا سمیع الحق کی قبر کشائی کرنے کا فیصلہ کر لیا

پشاور (ویب ڈیسک) جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی قبر کشائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے قانونی تقاضے پورے کرنے اور مولانا سمیع الحق کا پوسٹ مارٹم کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے سیشن جج راولپنڈی کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست دائر کی جب کہ عدالت نے درخواست سیشن جج نوشہرہ کو ارسال کردی ہے۔سیشن جج نوشہرہ کی جانب سے احکامات موصول ہونے پر متعلقہ مجسٹریٹ نے مولانا سمیع الحق کے لواحقین، مقامی پولیس اور حکام کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے سب انسپکٹر جمیل کی قیادت میں پولیس ٹیم اکوڑہ خٹک میں موجود ہے اور اسے قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک وہیں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ راولپنڈی پولیس کے ایس ایچ او ائیرپورٹ انسپکٹر عامر مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری احمد شاہ کو ڈھونڈ کر راولپنڈی لانے کے لیے بھی اکوڑہ خٹک میں موجود ہیں جب کہ مولانا کے دو موبائل فونز اور سیکرٹری سید احمد شاہ کے موبائل نمبرز کی فرانزک رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔پولیس کے مطابق مولانا سمیع الحق عام فون اور سیکرٹری احمد شاہ اسمارٹ فون استعمال کرتے تھے۔ احمد شاہ نے زیادہ تر فون کالز اسمارٹ فون اپلیکیشنز واٹس ایپ، وائبر اور ایمو وغیرہ پر کیں اور اس وجہ سےبھی پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جائے وقوعہ سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نمونے ملے ہیں اور باتھ روم سے برآمد ہونے والا خون آلودہ بھی مولانا سمیع الحق کا نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اب تک ساتھ سے آٹھ مشکوک افراد کو تحویل میں لے لیا ہے تاہم مولانا کا سیکرٹری احمد شاہ اکوڑہ خٹک سے کئی روز سے لاپتہ ہے جبکہ مقامی پولیس مقامی پولیس بھی گرفتاری سے انکاری ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے مولانا سمیع الحق کی قبرکشائی اور ان کا پوسٹمارٹم کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ناجائز بچہ چھپانے والی ماں کو عبرت کی مثال بنا دیا گیا

پیرس(ویب ڈیسک) فرانس کے علاقے میں ایک خاتون کی جانب سے اپنا گناہ چھپا نے کی خاطر کی گئی عجیب و غریب حرکت نے دنیا بھر کے لوگوں کو چکرا کر رکھ دِیا ہے۔ فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں مقیم50سالہ میریا ڈی کروز ایک شادی شدہ خاتون ہے جس کے تین بچے ہیں۔ کچھ سال قبل اس نے ایک شخص ناجائز تعلقات استوار کیے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔چند وجوہات کی بناء پر اسے حمل گرانے کا موقع نہ مِلا سکا۔ اور یوں آج سے دو سال قبل اس نے ایک ناجائز بچی کو جنم دِیا۔ میریا نے بدنامی اور خِفت کے ڈر سے اپنے خاوند اور بچوں سے اِس بچی کو مسلسل دو سال تک گاڑی کے بوٹ (پچھلی جانب کی خالی جگہ) میںپائے رکھا۔بچی کا پتا اس وقت لگا جب ایک کار مکینک گیراج کے اندر گیا۔اس سے قبل کروز نے مکینکس سے کہا تھا کہ وہ ڈِگی کو نہ چھیڑیں۔کیونکہ وہ سامان سے بھری ہوئی ہے۔ مکینک ڈینس لاٹر نے فرانس ٹی وی کو بتایا ”میں اور میرا ساتھی گاڑی کا کام کر کے گیراج سے باہر آنے ہی والے تھے کہ ہمیں کسی جاندار کی آوازیں سنائی دیں۔ ہمارا پہلا خیال یہی تھا کہ شاید اندرکوئی بِلی وغیرہ ہو گی، تاہم دوبارہ آواز سنائی تو ہم نے غور کیا کہ یہ انسانی آوازگاڑی بونٹ میں سے برآمد ہو رہی تھی۔میں نے پچھلا دروازہ کھول کر دیکھا تو وہاں ایک بدبودار بیسن کے قریب صندوق رکھا ہوا تھا۔میں نے اس تعفن زدہ صندوق میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیاکہ گندگی سے بھرپور صندوق میں ایک انتہائی لاغر اور نحیف بچی بِنا کپڑوں کے لیٹی ہوئی تھی۔ مگر اس صندوق سے نکلنے والی بدبو اتنی تیز اور ناقابل برداشت تھی کہ مجھے یکایک پیچھے کو ہٹنا پڑا۔ہم نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔“ مکینک نے بتایا کہ بچی کو صندوق سے باہر نکالنے والے فائر فائٹر عملے کا کہنا تھا کہ اگر اسے باہر نکالنے میں اور آدھ گھنٹہ کی تاخیر کر دی جاتی تو اس کی موت واقع ہو جاتی۔ بچی کی ماں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عدالت میں ملزمہ پر اپنی بچی کو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ماحول میں رکھ کر اس کی جان خطرے میں ڈالنے پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ خوراک کی کمی کا شکار ہونے کے باعث بجی کی نشوونما بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس میں کئی جسمانی پیچیدیاں جنم لے چکی ہیں۔ ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم ہسپتا ل میں بچی کی نگہداشت اور صحت کی بحالی کے لیے پوری توجہ صرف کر رہی ہے۔

یو سف صلا ح الدین کی سا لگرہ ،صوبا ئی وز یر اطلا عات سے ملکر کیک کا ٹا

لاہور (ویب ڈیسک)معروف سماجی شخصیت یو سف صلا ح الدین نے اپنی 67ویں سا لگرہ منائی۔اس مو قع پر صو با ئی وز یر اطلا عا ت و نشر یات فیاض الحسن چو ہان اور عائشہ بھٹہ بھی مو جو د تھے جنہوں نے میا ں یو سف صلا ح الدین سے مل کر کیک کا ٹا اوران کی لمبی عمر کی دعا کی۔

پنجا ب سنسر بو رڈ تحلیل کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا ،صو با ئی وز یر اطلا عا ت و نشر یات فیا ض الحسن چو ہا ن

لاہو ر (صدف نعیم سے )پنجا ب سنسر بو رڈ تحلیل کر نے کا فیصلہ ،صو با ئی وز یر اطلا عا ت و نشر یات فیا ض الحسن چو ہا ن کے مطا بق پنجا ب سنسر بو رڈ کو تحلیل کر نے کا اصو لی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔سپریم کو رٹ کے حکم کے مطا بق کسی بھی عہدیدا ر کو تین لا کھ سے زا ئد تنخوا ہ نہیں دی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سنسر بورڈ میں سے بہت سے ممبرا ن کا تعلق فلم انڈسٹری سے نہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لو گو ں کو ذا تی تعلقا ت کی بنا ءپر تعینا ت کیا گیا تھا۔

حکومت کے 100روز مکمل ہونے میں 12دن باقی ،کس وزیر نے عمران خان سے داد سمیٹی،دیکھئے خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کے سو روز مکمل ہونے میں صرف 12 روز باقی ہیں۔وفاقی وزرا کی 100 روزہ منصوبہ بندی میں ٹاپ 10 کی بھاگ دوڑ ہو رہی ہے۔مختلف وزارتوں کی 100 روزہ کارکردگی کی رپورٹس بھی وزیراعظم عمران خان کو موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اسد عمر ، شیخ رشید، مراد سعید اور فواد چودھری میں سخت ترین مقابلہ ہے۔شاہ محمود قریشی، شہریار خان آفریدی، فیصل واوڈا ، زلفی بخاری اور طارق بشیر چیمہ بھی ٹاپ 10 کی دوڑ میں شامل ہیں۔ وزیرمملکت برائے مواصلات مراد سعید نے کارکردگی کے اعتبار سے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 50 دن میں 100 روزہ منصوبہ بندی کے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ مراد سعید نے اپنی وزارت میں 3 ارب 55 کروڑ روپے کہ بچت کی اور نئے منصوبے بھی شروع کیے۔شاندار کارکردگی پر مراد سعید کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے شاباش بھی دی۔ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے وزیرخزانہ اسد عمر بھی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔اسد عمر نے 100 روز میں معیشت کو سنبھالا دینے کا ٹارگٹ حاصل کر لیا۔اسد عمر نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے کامیاب اقتصادی معاہدے کیے۔وزیر ریلوے شیخ رشید بھی دوڑ جیتنے کے دعویدار ہیں۔ شیخ رشید نے 10 نئی ٹرینوں کا آغاز کیا اور ریلوے کی آمدن میں 2 ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے 100 دن بھی انتہائی اہم رہے۔ شاہ محمود قریشی نے بااثر ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کیے جس کے تحت ملک کامیاب خارجہ پالیسی پر گامزن ہے۔مضبوط خارجہ پالیسی سے متعلق دوٹوک مو¿قف اور شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ میں خطاب نمایاں رہا۔مسئلہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی اور انتہا پسندی کو شاہ محمود قریشی نے کھل کر بیان کیا۔عالمی برادری کے سامنے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں بیان کیں۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے آبی منصوبہ بندی فیصل واوڈا کو صرف 50 روز مل سکے جس میں انہوں نے صوبوں میں پانی چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے۔صوبوں میں پانی چوری روکنے کے لیے پہلی مرتبہ ٹیلی میٹرز کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ورلڈ بینک کے ساتھ کامیاب مذاکرات سے ر±کا ہوا قرضہ بھی فیصل واوڈا نے واپس حاصل کر لیا۔وزارت میں واٹر پالیسی میں تبدیلی کے عملدرآمد کے آغاز کو فیصل واوڈا کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ زلفی بخاری کی وزارت اوورسیز میں بھی اہم اقدامات کیے گئے۔ ہزاروں غیر قانونی بھرتیاں اور بے قاعدگیاں پکڑی گئیں۔اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولتیں اور نئے پروگرامز شروع کیے۔وزیر ہاﺅسنگ سوسائٹی طارق بشیر چیمہ کی 50 لاکھ گھروں کی منصوبہ بندی میں کارکردگی بھی قابل ستائش رہی۔طارق بشیر چیمہ کی منصوبہ بندی کا جلد آغاز اور کئی شہروں میں کارکردگی شامل ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنا 100 روزہ پلان دیا تھا جس کے تحت وفاقی وزرا کی پہلی سو روزہ کارکردگی کو پرکھا جانا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نےعام انتخابات سے قبل اپنا سو روزہ پلان ترتیب دیا تھا جس پر اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے سو روز میں کئی عوام دوست منصوبوں کا اعلان کیا جس پر انہیں خوب پذیرائی بھی ملی تاہم اب پاکستان تحریک انصاف نے اپنی 100 روزہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کافیصلہ کیا تاکہ عوام کو نئی حکومت کی کارکردگی کا علم ہو سکے۔وزیر اعظم کے میڈیا ایڈوائزر افتخار درانی نے اعلان کر رکھا ہے کہ 29 نومبر 2018ءکو حکومت کی 100 روزہ کامیابیوں کا اعلان کیا جائے گا۔

چیف جسٹس سے حسین نقوی کی تلخ کلامی، بورڈ چھوڑکر یونین چلائیں، چیف جسٹس، میں کیوں جاو¿ں ،حسین نقوی کا جواب

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب ہیلتھ کمیشن سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کی۔ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے یاسمین راشد سے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں آپ سے بہت ا±میدیں تھیں لیکن آپ نے کس طرح کے لوگوں کو بورڈ کا رکن بنادیا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بورڈ آف کمشنر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن تحلیل کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں نیا بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ حسین نقوی کہاں ہیں؟ جن کی وجہ سے جسٹس (ر) عامر رضا نے استعفیٰ دیا۔حسین نقوی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ میں اسلامیہ کالج یونین کا سیکریٹری رہا ہوں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر آپ بورڈ چھوڑیں اور جا کر یونین چلائیں۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر حسین نقوی نے کہا کہ میں کیوں جاو¿ں، مجھے منتخب کیا گیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بورڈ کو ہم نے ختم کردیا ہے آپ آگے چلیں۔ دوران سماعت حسین نقوی نے اونچی آواز میں بات کی جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیے کہ آپ کی جرات کیسے ہوئی ہم آپ کو توہین عدالت کا نوٹس دیں گے۔

قومی کرکٹ ٹیم 227 رنز بنا کر آﺅٹ ،بابر اعظم ٹاپ سکورر،نیوزی لینڈ کی دوسری اننگ جا ری

ابو ظہبی (ویب ڈیسک) پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 227 رنز بنا کر آﺅٹ ہوگئی۔ گرین شرٹس کی جانب سے بابر اعظم 62 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ پہلی اننگ میں ملنے والی 74 رنز کی برتری کے بعد نیوزی لینڈ کی دوسری اننگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ابو ظہبی میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں کیوی سائڈ کے 153 رنز کے جواب میں گرین شرٹس 227 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ پہلے روز شاہینوں نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 59 رنز بنائے تھے۔ دوسرے روز کے کھیل میں شاہینوں کی وکٹیں خزاں رسیدہ درخت کے پتے کی طرح گرتی چلی گئیں۔ بابر اعظم 62 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ اسد شفیق نے 43 اور حارث سہیل نے 38 رنز بنائے۔ پاکستان کے 6 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوپائے۔ کیوی باﺅلر ٹرینٹ بولٹ نے شاہینوں کے پرخچے اڑادیے اور 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ گرینڈ ہوم اور پٹیل نے 2، 2 شکار کیے۔ پہلی اننگ میں پاکستان کو نیوزی لینڈ پر 74 رنز کی برتری حاصل ہے۔اس سے قبل پہلی اننگ میں پاکستانی بلے بازوں نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن تہس نہس کرکے رکھ دی تھی۔ پاکستان باﺅلرز کیویز پر قہر بن کر ٹوٹے اور وکٹوں پر وکٹیں اڑاتے چلے گئے۔ یاسر شاہ نے 3 شکار کیے جبکہ محمد عباس، حسن علی اور حارث سہیل نے دو دو کھلاڑیوں کو دبوچا۔ بلال آصف بھی ایک شکار کرنے میں کامیاب رہے۔

پی ٹی آ ئی کے ممبر قو می اسمبلی ڈا کٹر عا مر لیا قت کی دعوت ولیمہ کی تقر یب ،انتہا ئی قریبی شخصیا ت کی شر کت

لاہو ر (صدف نعیم سے)پی ٹی آ ئی کے ممبر قو می اسمبلی ڈا کٹر عا مر لیا قت کی دعوت ولیمہ کی تقر یب کر ا چی میں منعقد کی گئی جس میںانتہا ئی قریب ترین شخصیا ت نے شر کت کی ۔اس تقریب میں ڈا کٹر عا مر لیا قت بہت خو ش تھے۔یا د رہے کہ ڈا کٹر عا مر لیا قت حسین نے کچھ عر صہ قبل ہی تو بہ حسین سے نکا ح کیا تھا،تاہم ولیمہ کی تقریب کا انعقا د عا م رو ٹین سے ہٹ کر کیا ۔ان کے ولیمہ کی تقر یب کی تصا ویر بھی سا منے آ گئی ہیں۔