All posts by Daily Khabrain

ابوظہبی ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان کی بیٹنگ

ابو ظہبی (ویب ڈیسک )ابوظہبی ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان کی نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ جاری ہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں قومی بولرز کی شاندار بولنگ کی بدولت نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم صرف 153 رنز پر ڈھیر ہوگئی جس کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری ہے۔پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو27 کے مجموعی اسکور پر دونوں اوپنرز امام الحق اور محمد حفیظ پویلین لوٹ گئے، حفیظ 20 اور امام الحق 6 رنز ہی بناسکے جب کہ کھیل کے دوسرے دن حارث سہیل اور اظہر علی بھی پہلے سیشن میں ہی اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، حارث 38 اور اظہر علی 22 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔جبکہ بابر اعظم32 اور اسدشفیق 27 رنز کیساتھ وکٹ پر موجود ہیں ۔

ایڈیشنل سیکر ٹری پبلک ریلیشن سی ایم آفس اطہر علی خا ن کو ایگزیکٹو ڈا ئریکٹر الحمرا تعینا ت کر دیا گیا

لاہو ر (صدف نعیم سے)ایڈیشنل سیکر ٹری پبلک ریلیشن سی ایم آفس اطہر علی خا ن کو ایگزیکٹو اڈا ئریکٹر الحمرا تعینا ت کر دیا گیا۔ان کو مظفر سیا ل کی جگہ تعینا ت کیا گیا ہے۔اطہر علی کو پر انے عہدے کا ایڈیشنل چا رج بھی دیدیا گیا ہے۔یہ عہدہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا عطا محمد کی ریٹا ئر منٹ کے بعد خالی ہوا تھا۔

انور مجید ، اے جی مجید ، حسین لوائی کی کراچی میں تفتیش کی استدعا مسترد ، اسلام آباد منتقل کرنیکا حکم

لاہور(ویب ڈیسک )سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس میں گرفتار انور مجید اور اے جی مجید سمیت حسین لوائی کو بھی اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے وکیل نے ملزم سے کراچی میں ہی بار بار تفتیش کی استدعا کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ انور مجید کو پمز اسپتال، اے جی مجید اور حسین لوائی کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے، یہ لوگ بہت بااثر ہیں کراچی میں ان کا اقتدار ہے، انہیں اسلام آباد منتقل کیا جائے تاکہ آزادانہ تفتیش ہو سکے، مکمل تفتیش کے بعد دیکھا جائے گا کہ انہیں واپس بھجوایا جائے۔انور مجید کے وکیل کی جانب سے کراچی میں تفتیش کی استدعا پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے اصرار سے ہم زیادہ غیرمطمئن ہو رہے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی وجہ ہے۔وران سماعت ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ انورمجید انکوائری میں تعاون نہیں کر رہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب جے آئی ٹی کو بااختیار بنا دیا گیا ہے، 10 دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں،جے آئی ٹی اس لیے بنائی تاکہ جان سکیں کہ کک بیکس کے پیسے کو قانونی کیسے بنایاگیا۔انور مجید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اومنی گروپ نے 1.2 بلین سلک بینک، 1.8 بلین سمٹ بینک، 4.98 بلین نیشنل بینک اور 4.6 بلین سندھ بینک کو ادا کرنے ہیں، یہ ادائیگیاں پراپرٹی کی صورت میں کی جائیں گی۔جسٹس ثاقب نثار نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ مقررہ تاریخ تک ادائیگیاں نہ ہوئیں تو قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ اومنی گروپ مارکیٹ ویلیو سے زیادہ اپنی پراپرٹی کا ریٹ بتا رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جائیدادوں کی قیمتوں سے متعلق تمام بینکوں کے سربراہان حلف نامے جمع کرائیں۔دورانِ سماعت لاپتا افراد کے وکیل نے بھی عدالت کے روبرو بتایا کہ کیس کے دو گواہان لاپتہ ہیں ان کو بازیاب کرایا جائے۔چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ یا ان کے باس کو بولیں وہ بازیاب کرائیں، سمجھ رہے ہیں نہ، میں کیا کہ رہا ہوں۔واضح رہےکہ ایف آئی اے جعلی بینک اکاو¿نٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں جب کہ تحقیقات میں تیزی کے بعد سے اب تک کئی جعلی اکاو¿نٹس سامنے آچکے ہیں جن میں فالودے والے اور رکشے والے کے اکاو¿نٹس سے بھی کروڑوں روپے نکلے ہیں۔ملک میں بڑے بزنس گروپ ٹیکس بچانے کے لیے ایسے اکاو¿نٹس کھولتے ہیں، جنہیں ‘ٹریڈ اکاو¿نٹس’ کہاجاتا ہے اور جس کے نام پر یہ اکاو¿نٹ کھولا جاتا ہے، اسے رقم بھی دی جاتی ہے۔اس طرح کے اکاو¿نٹس صرف پاکستان میں ہی کھولے جاتے ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں۔منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور ان کے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو سپریم کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہیں۔ایف آئی اے حکام نے جیو نیوز کو بتایا کہ منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھایا گیا، اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایف آئی اے کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔حکام کے دعوے کے مطابق جعلی اکاو¿نٹس بینک منیجرز نے انتظامیہ اور انتظامیہ نے اومنی گروپ کے کہنے پر کھولے اور یہ تمام اکاو¿نٹس 2013 سے 2015 کے دوران 6 سے 10 مہینوں کے لیے کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی اور دستیاب دستاویزات کے مطابق منی لانڈرنگ کی رقم 35ارب روپے ہے۔مشکوک ترسیلات کی رپورٹ پر ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کے حکم پر انکوائری ہوئی اور مارچ 2015 میں چار بینک اکاو¿نٹس مشکوک ترسیلات میں ملوث پائے گئے۔ایف آئی اے حکام کے دعوے کے مطابق تمام بینک اکاو¿نٹس اومنی گروپ کے پائے گئے، انکوائری میں مقدمہ درج کرنے کی سفارش ہوئی تاہم مبینہ طور پر دباو¿ کے باعث اس وقت کوئی مقدمہ نہ ہوا بلکہ انکوائری بھی روک دی گئی۔سمبر 2017 میں ایک بار پھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایس ٹی آرز بھیجی گئیں، اس رپورٹ میں مشکوک ترسیلات جن اکاو¿نٹس سے ہوئی ان کی تعداد 29 تھی جس میں سے سمٹ بینک کے 16، سندھ بینک کے 8 اور یو بی ایل کے 5 اکاو¿نٹس ہیں۔ان 29 اکاو¿نٹس میں 2015 میں بھیجی گئی ایس ٹی آرز والے چار اکاو¿نٹس بھی شامل تھے۔ 21 جنوری 2018 کو ایک بار پھر انکوائری کا آغاز کیا گیا۔تحقیقات میں ابتدائ میں صرف بینک ملازمین سے پوچھ گچھ کی گئی، انکوائری کے بعد زین ملک، اسلم مسعود، عارف خان، حسین لوائی، ناصر لوتھا، طحٰہ رضا، انور مجید، اے جی مجید سمیت دیگر کو نوٹس جاری کیے گئے جبکہ ان کا نام اسٹاپ لسٹ میں بھی ڈالا گیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق تمام بینکوں سے ریکارڈ طلب کیے گئے لیکن انہیں ریکارڈ نہیں دیا گیا، سمٹ بینک نے صرف ایک اکاو¿نٹ اے ون انٹرنیشنل کا ریکارڈ فراہم کیا جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔حکام نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے سمٹ بنک کو ایکوٹی جمع کروانے کا نوٹس دیا گیا، سمٹ بینک کے چیئرمین ناصر لوتھا کے اکاو¿نٹس میں 7 ارب روپے بھیجے گئے، یہ رقم اے ون انٹرنیشنل کے اکاو¿نٹ سے ناصر لوتھا کے اکاونٹ میں بھیجی گئی تھی۔ناصر لوتھا نے یہ رقم ایکوٹی کے طور پر اسٹیٹ بینک میں جمع کروائی، ان 29 اکاو¿نٹس میں 2 سے 3 کمپنیاں اور کچھ شخصیات رقم جمع کرواتی رہیں۔حکام نے بتایا کہ تحقیقات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جو رقم جمع کروائی گئی وہ ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی، ان تمام تحقیقات کے بعد جعلی اکاو¿نٹس اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور سمٹ بینک انتظامیہ پر جعلی اکاو¿نٹس اور منی لاڈرنگ کا مقدمہ کیا گیا جبکہ دیگر افراد کو منی لانڈرنگ کی دفعات کے تحت اسی مقدمے میں شامل کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے پنجاب ہیلتھ کئیر بورڈ آف کمیشن بارے چونکا دینے والا اقدام کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب ہیلتھ کیئر بورڈ آف کمیشن کو تحلیل کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں نیا بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے لاہور رجسٹری میں پنجاب ہیلتھ کیئر بورڈ آف کمیشن ارکان کے تقرر کے معاملے کی سماعت کی۔سماعت کے دوران پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئیں۔چیف جسٹس نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ سے بڑی امیدیں تھیں، آپ نے بورڈ میں کیسے کیسے لوگ شامل کر رکھے ہیں۔یاسمین راشد نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق بورڈ بنایا گیا اور طریقہ کار کے مطابق ممبران کی نامزدگی کی گئی جس کی وزیراعلیٰ نے منظوری دی۔جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ ادارہ ریگولیٹر ہے مگر وہاں پر سیاست ہو رہی ہے۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ بورڈ کو غیر جانبدار اور آزاد ہونا چاہیے’۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بہترین شہرت والے افراد کو شامل کرکے نیا بورڈ تشکیل دیا جائے۔دوران سماعت پنجاب ہیلتھ کیئر بورڈ آف کمیشن کے ممبر شفقت چوہان نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ‘ممبر حسین نقی اور چیئرمین جسٹس (ر) عامر رضا کی تلخ کلامی ہوئی جس کا دیگر ممبران سے کوئی تعلق نہیں۔

با لی وو ڈ سٹار شبا نہ اعظمی بھا رت وا پس چلی گئیں، منیزہ ہا شمی اور دیگر منتظمین نے وا ہگہ با رڈر پر الودا ع کہا

لاہور (صدف نعیم سے)با لی وو ڈ سٹار شبا نہ اعظمی بھا رت وا پس چلی گئیں۔ان کو منیزہ ہا شمی اور دیگر منتظمین نے وا ہگہ با رڈر پر الودا ع کہا۔یا د رہے کہ شبا نہ اپنے شو ہر مشہور بھارتی شاعر جا وید اختر کے ہمرا ہ پندرہ نومبر کو فیض فیسٹو ل میں شر کت کیلئے پا کستان آئی تھیں۔گزشتہ رو ز انہو ں نے ادبی نشست کیفی اور فیض فیسٹول میں بھی شر کت کی تھی۔

میں نے زندگی میں کئی یوٹرن لئے ،صدر عارف علوی کا اعتراف

لاہور(ویب ڈیسک )ایک ایسے موقع پر جبکہ وزیراعظم عمران خان کے یوٹرن سے متعلق بیان کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی یوٹرن لینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے حالات کی مناسبت سے کیے جاتے ہیں۔لاہور میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ مقامی شاپنگ مال آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر مملکت نے کہا کہ میں نے زندگی کے کئی مواقع پر یو ٹرن لیا ہے۔شاپنگ مال میں صدر مملکت اور ان کی اہلیہ نے کافی پی اور لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔اس موقع پر صدر کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میں کسی سیاسی سوال کا جواب نہیں دوں گی۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کالم نویسوں سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ حالات کے مطابق جو یوٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں اور جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں ہوتا، ہٹلر اور نپولین یوٹرن نہ لے کر نقصان میں گئے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یوٹرن لینا اسٹریٹجی کا حصہ ہوتا ہے، تاریخ میں بڑے بڑے لوگوں نے یوٹرن لے کر چیزیں بہتر کی ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یوٹرن لینے اور جھوٹ بولنے میں فرق ہے، نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں، جھوٹ بولا تھا۔وزیراعظم کے اس بیان نے ہر طرف ہلچل مچادی اور اس حوالے سے اپوزیشن رہنماو¿ں کی جانب سے بھی ردعمل اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

فیس بک صارفین کے ڈیٹا کے لیے پاکستانی درخواستوں میں معمولی کمی

لاہور (ویب ڈیسک )حکومت پاکستان کی جانب سے فیس بک استعمال کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران درخواستوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔جنوری سے جون 2018 کے دوران پاکستان کی جانب سے فیس بک سے ایمرجنسی اور لیگل پراسیس کے نام پر مجموعی طور پر ڈیٹا کے حصول کے لیے 1233 درخواستیں دی گئیں، یہ تعداد جولائی 2017 سے دسمبر 2017 کے دوران 1320 ، جنوری 2017 سے جون 2017 کے دوران 1050، جولائی 2016 سے دسمبر 2016 کے دوران 998، جبکہ جنوری 2016 سے جون 2016 کے دوران 719 تھی۔فیس بک کے مطابق پاکستانی حکومت نے 1609 صارفین یا اکاﺅنٹس کے بارے میں ڈیٹا طلب کیا، یہ تعداد جولائی سے دسمبر 2017 تک 1800، جنوری سے جون 2017 تک 1540، جولائی 2016 سے دسمبر 2016 تک 142، جبکہ جنوری سے جون 2016 کے دوران 1015 تھی۔1609 اکاﺅنٹس یا صارفین کے لیے 1233 درخواستوں میں سے فیس بک نے 58 فیصد پر تعاون کرتے ہوئے حکومت کو کسی قسم کا ڈیٹا یا معلومات فراہم کیں۔مجموعی طور پر لیگل پراسیس کے لیے 11 سو سے زائد درخواستوں میں سے 57 فیصد جبکہ 92 ایمرجنسی درخواستوں میں سے 67 فیصد پر فیس بک انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی حکام کو ڈیٹا فراہم کیا گیا۔اس سے ہٹ کر بھی پاکستان کی جانب سے فیس بک سے کسی جرم کی تحقیقات کے لیے 430 درخواستوں کے ذریعے 580 صارفین یا اکاﺅنٹس کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ کرنے کی درخواست کی گئی۔جولائی سے دسمبر 2017 کے دوران 464 درخواستوں کے ذریعے 598 اکاو¿نٹس یا صارفین ، جنوری سے جون 2017 کے دوران 399 درخواستوں کے ذریعے 613 اکاﺅنٹس یا صارفین ، جولائی سے دسمبر 2016 میں 442 ، جبکہ جنوری سے جون 2016کے دوران 280 درخواستوں کے ذریعے 363 صارفین یا اکاﺅنٹس کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔فیس بک کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صارفین سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے حکومتی درخواستوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور امریکا، بھارت، جرمنی اور فرانس اس حوالے سے سرفہرست رہے۔مجموعی طور پر دنیا بھر سے ایک لاکھ 3 ہزار 815 درخواستیں فیس بک سے کی گئیں جو کہ جولائی سے دسمبر 2018 کے دوران 82ہزار 341 تھیں۔

بیجنگ فورم کا سی پیک سے متعلق پروپیگنڈے کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور

بیجنگ (ویب ڈیسک ) پاکستان اور چین کے قانون سازوں اور رائے سازوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق پروپیگنڈے کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو اجاگر کرنے کی کوششوں پر زور دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار بیجنگ میں چین اقتصادی نیٹ اور پاک چین انسٹیٹیوٹ کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ میڈیا فورم میں پاکستانی اور چینی حکام نے کیا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کی جانب سے شروع کیا گیا اربوں ڈالر کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ (بی آر آئی) درست سمت میں اقدامات کیے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اپنے ابتدائی ریمارکس میں سینیٹ کمیٹی برائے بین الاقوامی معاملات کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک 5 سال میں ایک کامیاب کہانی بن گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں گوادر کی بندرہ گاہ، تھر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے، کان کنی کے منصوبے اور دیگر انفرا اسٹرکچر میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے اور اس سے متعلق ہونے والے منفی پروپیگنڈے کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔فورم کے دوران اپنے خطاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری کو قابلِ ذکر اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ پرانے سلک روڈ (شاہراہ ریشم) کو دوبارہ بحال کردے گا۔انہوں نے بھی ملے جلے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک اب نئے مراحل میں داخل ہوچکا ہے جس میں میڈیا کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی اور اس منصوبے سے متعلق منفی پروپیگنڈے کو سامنے لانا ہوگا۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے تجویز پیش کی کہ سی پیک کے خلاف پروپگنڈے سے نبرد آزما ہونے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے توجہ دلائی کہ دونوں ممالک نے مختلف منصوبوں کے لیے فنڈز کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا ہے۔فورم سے خطاب کرتے ہوئے چین میں پاکستانی سفیر مسعود خالد نے پاکستانی اور چینی ماہرین اور صحافیوں کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنے پر چین اقتصادی نیٹ اور پاک چین انسٹیٹیوٹ کی کوشش کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ اس بدلتے وقت میں دونوں ممالک کے میڈیا کو عملی طور پر سی پیک منصوبے اور لوگوں کے مفاد کے لیے مثبت کہانیاں بتانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ چین کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے نئے دور میں ایک روشن مینار قرار دیا۔

وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں : چیف جسٹس کے زلفی بخاری کیس میں ریمارکس

لاہور (کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان نے زلفی بخاری تقرری کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ دوستی پرمعاملات نہیں چلیں گے اور وزیراعظم عوام کا ٹرسٹی ہے انہیں بے لگام اختیار نہیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں زلفی بخاری کی وزیراعظم کے معاون خصوصی تقرری کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے زلفی بخاری کی تمام تفصیلات، تقرر کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ملکی اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے، دوستی پر یہ معاملات نہیں چلیں گے، قومی مفاد پر چلیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویئے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں آپ کسی اور کے دوست ہوں گے، آپ سپریم کورٹ کے دوست نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل زلفی بخاری کو ان کے رویئے کے بارے میں آگاہ کریں۔اس موقع پر زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے موقف اپنایا کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں، وزیراعظم عوام کا ٹرسٹی ہے، وزیر اپنی من اور منشا کے مطابق معاملات نہیں چلائے گا، ہم طے کریں گے کہ معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں کہ نہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اعلی عہدوں پر اقربا پروری نظر نہیں آنی چاہیے اور نہ ہی بندر بانٹ ہو، زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا؟ کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی؟اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم تو باراک اوباما سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں اور زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا، زلفی کابینہ کے رکن نہیں، اوورسیز پاکستانی کے لیے دہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزا ہو تو آسانی رہتی ہے۔اعتزاز احسن کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اہم نوعیت کا کیس ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد اور کس کے کہنے پر تقرر کیا گیا ہے ؟زلفی بخاری کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے اور وہ کابینہ کے رکن بھی نہیں ہیں جب کہ اوورسیز پاکستان کے لے دہری شہریت کے حامل شخص کو ہی یہ عہدہ ملنا چاہے۔بعد ازاں عدالت نے زلفی بخاری کا تمام بائیو ڈیٹا، تقرر کاعمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔

رقوم کا 77 فیصد بیٹی کو دیا : نواز شریف کا اعتراف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ اے این این) سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران بیرون ملک سے بھجوائی گئی رقوم تسلیم کرلیں اور اعتراف کیا کہ بیرون ملک سے بھجوائی گئی رقم کا 77 فیصد اپنی صاحبزادی مر یم نواز کو گفٹ کیا۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی جس کے دوران نواز شریف نے آج مسلسل تیسرے روز عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ سابق وزیراعظم نے مزید 30 سوالات کے جواب دیے اور وہ عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 151 سوالات میں سے 120 کے جواب دے چکے ہیں۔ آج سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف نے بطور ملزم عدالتی سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کی ملکیت کا دعویٰ کبھی نہیں کیا، ہمیشہ کہا ہے کہ العزیزیہ کی ملکیت سے کچھ لینا دینا نہیں۔ سابق وزیراعظم نے اپنے جواب میں کہا کہ قطری شہزادے کے خطوط کبھی بھی کسی فورم پر اپنے دفاع کے لیے پیش نہیں کیے اور ذاتی طور پر کبھی قطری خطوط پر انحصار نہیں کیا۔ سابق وزیراعظم سے سوال کیا گیا ‘جے آئی ٹی نے کہا قطری نے کوششوں کے باوجود بیان ریکارڈ نہیں کرایا، آپ کیا کہیں گے’ جس پر نواز شریف نے کہا حمد بن جاسم نے جے آئی ٹی کو سوالنامہ فراہم کرنے کا کہا تھا، ان کی جانب سے یہ ایک معقول درخواست تھی تاہم جے آئی ٹی نے غیر ضروری طور پر بیان ریکارڈ کرنے کے لئے سخت شرائط رکھیں۔ نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی کے طریقہ کار سے لگا کہ وہ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنا نہیں چاہتی، قطری کے خطوط سے کہیں نہیں لگتا وہ جے آئی ٹی سے تعاون کے لیے تیار نہیں تھے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘قطری نے جے آئی ٹی کو لکھا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش دونوں خطوط کی تصدیق کرتے ہیں اور جے آئی ٹی دوحا آکر ان خطوط کی تصدیق کرسکتی ہے، جے آئی ٹی کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ قطری خطوط کو محض افسانہ قرار دے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کی فروخت یا اس سے متعلق کسی ٹرانزیکشن کا کبھی حصہ نہیں رہا، شریک ملزم حسین نواز نے 6 ملین ڈالر میں العزیزیہ کے قیام کا بیان میری موجودگی میں نہیں دیا اور اس کا بیان قابل قبول شہادت نہیں۔ نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا ‘حسن اور حسین نواز کا بیان جے آئی ٹی میں میری موجودگی میں ریکارڈ نہیں ہوا، شریک دونوں ملزم اس عدالت میں پیش ہوئے نا ہی ان کا ٹرائل میرے ساتھ ہو رہا ہے’۔ نواز شریف نے کہا کہ ‘حسن اور حسین نواز سے منسوب کوئی بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا اور دونوں کے انٹرویوز بطور شواہد پیش نہیں کیے جا سکتے’۔ سابق وزیراعظم نے کہا ‘تفتیش کے دوران کسی بھی شخص کا دیا گیا بیان قابل قبول شہادت نہیں، یہ درست نہیں کہ العزیزیہ اسٹیل ملز حسین نواز نے قائم کی بلکہ یہ میرے والد نے قائم کی تاہم اسٹیل ملز کا کاروبار حسین نواز چلاتے تھے’۔ نواز شریف نے کہا کہ بیرون ملک سے مجھے موصول ہونے والی تمام رقم میرے گوشواروں میں درج ہے اور اس رقم کو میں اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا مجاز تھا، سپریم کورٹ کے سامنے کبھی قطری خط پر انحصار نہیں کیا اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں مجھے جعلسازی کا شائبہ ہے۔ احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 151 میں سے 120 سوالات کے جواب ریکارڈ کرادیے جس کے بعد عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے، اس سے قبل احتساب عدالت نے انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں 11 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سابق وزیراعظم کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے لیے فاضل جج ارشد ملک کو سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن 17 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے جواب میں کہا کہ قطری شہزادے کے خطوط کبھی بھی کسی فورم پر اپنے دفاع کے لیے پیش نہیں کیے اور ذاتی طور پر کبھی قطری خطوط پر انحصار نہیں کیا۔سابق وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ جے آئی ٹی نے کہا قطری نے کوششوں کے باوجود بیان ریکارڈ نہیں کرایا، آپ کیا کہیں گے جس پر نواز شریف نے کہا حمد بن جاسم نے جے آئی ٹی کو سوالنامہ فراہم کرنے کا کہا تھا، ان کی جانب سے یہ ایک معقول درخواست تھی تاہم جے آئی ٹی نے غیر ضروری طور پر بیان ریکارڈ کرنے کے لئے سخت شرائط رکھیں۔نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی کے طریقہ کار سے لگا کہ وہ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنا نہیں چاہتی، قطری کے خطوط سے کہیں نہیں لگتا وہ جے آئی ٹی سے تعاون کے لیے تیار نہیں تھے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ قطری نے جے آئی ٹی کو لکھا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش دونوں خطوط کی تصدیق کرتے ہیں اور جے آئی ٹی دوحا آکر ان خطوط کی تصدیق کرسکتی ہے، جے آئی ٹی کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ قطری خطوط کو محض افسانہ قرار دے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کی فروخت یا اس سے متعلق کسی ٹرانزیکشن کا کبھی حصہ نہیں رہا، شریک ملزم حسین نواز نے 6ملین ڈالر میں العزیزیہ کے قیام کا بیان میری موجودگی میں نہیں دیا اور اس کا بیان قابل قبول شہادت نہیں۔نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حسن اور حسین نواز کا بیان جے آئی ٹی میں میری موجودگی میں ریکارڈ نہیں ہوا، شریک دونوں ملزم اس عدالت میں پیش ہوئے نا ہی ان کا ٹرائل میرے ساتھ ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ حسن اور حسین نواز سے منسوب کوئی بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا اور دونوں کے انٹرویوز بطور شواہد پیش نہیں کیے جا سکتے۔ سابق وزیراعظم نے کہا تفتیش کے دوران کسی بھی شخص کا دیا گیا بیان قابل قبول شہادت نہیں، یہ درست نہیں کہ العزیزیہ اسٹیل ملز حسین نواز نے قائم کی بلکہ یہ میرے والد نے قائم کی تاہم اسٹیل ملز کا کاروبار حسین نواز چلاتے تھے۔نواز شریف نے کہا کہ بیرون ملک سے مجھے موصول ہونے والی تمام رقم میرے گوشواروں میں درج ہے اور اس رقم کو میں اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا مجاز تھا، سپریم کورٹ کے سامنے کبھی قطری خط پر انحصار نہیں کیا اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں مجھے جعلسازی کا شائبہ ہے۔