All posts by Daily Khabrain

عثمان بزدار نے ڈی جی خان کیلئے تاریخی پیکج کا اعلان کر دیا

لاہور(خبر نگار) ڈےرہ غازی خان کے لئے ٹےکنےکل ےونےورسٹی ،کالج ،سکول سمےت اربوں روپے کے ترقےاتی منصوبوں کا اعلان کردےا گےا۔سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ، واسا، سمال ڈیم ،سپر ، ماڈل کیٹل منڈی بھی بنائی جائے گی- وزےراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار وزرات اعلی کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی مرتبہ ڈےرہ غازی خان کے دورے پر پہنچ گئے۔وزےراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈی جی خان آمد کے فور اً بعد ڈسٹرکٹ ہےڈ کوارٹر ہسپتال مےں دو موبائل ہےلتھ ےونٹس اورتےن اےمبولےنسز کا افتتاح کےا اور نئے بلاک کا دورہ بھی کےا۔ وزےراعلیٰ نے نئے بلاک کے مختلف شعبوں کا معائنہ کےا ۔وزےراعلیٰ کو برےفنگ مےں بتاےاگےا کہ ڈی اےچ کےو مےں 62کروڑ روپے کی لاگت سے 400بےڈز پرمشتمل نئے بلاک کی تعمےر کا منصوبہ جلدمکمل کےا جائے گا۔نئے بلاک کا پہلا فلور رواں ماہ مےں اور30جون تک تےن فلورفنکشنل ہوجائےںگے۔ڈسٹرکٹ ہےڈ کوارٹر ہسپتال مےں کارڈےالوجی،نفرالوجی،گائنی سمےت دےگر وارڈز قائم کےے جائےںگے۔آئی سی ےو کو بھی اپ گرےڈ کےا جائے گا۔ وزےراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور،ملتان،راولپنڈی اوروزےرآباد کی طرز پر ڈےرہ غازی خان مےں بھی کارڈےالوجی انسٹی ٹےوٹ قائم کرےںگے۔خواتےن کےلئے خصوصی مےٹرنٹی اےمبولےنس سروس کا آغاز کےا جا رہاہے ۔ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کےلئے 26ووےمن مےڈےکل افسر ڈےوٹی جوائن کرچکی ہے ۔غازی میڈیکل کالج میں قبائلی علاقوں کے طلبہ کا کوٹہ بڑھایا جارہاہے اور اگلے تعلیمی سال میں وہ اس سے مستفید ہوسکیں گے- ڈےرہ غازی خان کے 1لاکھ93ہزار خاندانوں کو اسی سال انصاف صحت کارڈ فراہم کئے جائیں گے-بعدازاں وزیراعلی سردار عثمان احمد خان بزدار نے سرکٹ ہاﺅس میں ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ، بار ایسوسی ایشن ،پاکستان تحریک ا نصاف ، چیمبر آف کامرس کے عہدےداروں ، بلدیاتی نمائندوں ، تاجر برادری ،مقامی معززین اور عمائدین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں3سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹیاں قائم کریں گے جن میں سے ایک یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں قائم ہوگی -انہوںنے ڈیرہ غازی خان کے ٹیکنیکل کالج کو ٹیکینکل یونیورسٹی بنانے، پوسٹ گریجوایٹ کالج کی بحالی کا اعلان کیا- وزیراعلیٰ نے کہاکہ غازی یونیورسٹی کے نئے کیمپس کی تعمیر کے لئے 1ارب 70کروڑ روپے کے فنڈ فراہم کئے جا رہے ہیں-علاقے کے 12کالجز کو طلبہ کی آمد ورفت کے لئے بسیں دی جائیں گی -بچیوں کے لئے مختلف علاقوں میں پرائمری سکول بنائے جائیں گے -10سکولو ںمیں پلے گراﺅنڈ اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی -وزیراعلیٰ نے کہاکہ ڈیرہ غازی خان کے ہاکی سٹیڈیم میں 5کروڑ روپے کی لاگت سے آسٹرو ٹرف بچھایا جائے گا-کرکٹ سٹیڈیم اپ گریڈ کریں گے اور نوجوانوں کے لئے پی سی بی کے تعاون سے ٹریننگ اکیڈمی بھی بنائیں گے -فیملز کے لئے آفیسرز کلب میں کمیونٹی سنٹر قائم کیاجائے گا-حکومت پنجاب کو کوہ سلمان کو اپنے سیاحتی پروگرام میں شامل کر لیا ہے- عثمان بزدار نے کہاکہ لاہو رکی طرح صفائی کے لئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی او رواسا کا ادارہ بھی قائم کیاجائے گا-سالڈ ویسٹ کمپنی کے لئے 26کروڑ روپے فراہم کئے جا رہے ہیںاورعوام کے مسائل حل کرنے کے لئے ڈیرہ غازی خان میونسپل کارپوریشن کو بیل آﺅٹ پیکیج دیا جائے گا-غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں کو ا یک سال کے اندر اندر بحال کر دیاجائے گا-فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ کار قبائلی علاقے تک وسیع کیاجائے گااور ٹرائیبل ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا بھی جائزہ لیاجائے گا ، جبکہ ڈیرہ غازی خان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بھی ازسرنو فعال کیاجائے گا-انہوںنے کہاکہ لاہور کی طرز پر ڈیرہ غازی خان کی مانکا کینال کی بیوٹی فیکشن ، صفائی ، تجاوزات کا خاتمہ ،کناروں پر شجرکاری ،بنچ ،کلچرل آرٹ او رلائٹیں وغیرہ بھی کی جائیں گی، وزیراعلیٰ نے کہاکہ رودکوہی اور بارشی پانی محفوظ کرنے کے لئے 13مقامات پر آب ذخائر /سمال ڈیم بنائے جائیں گے – املاک کو سیلاب کی تباہ کاریوں کوبچانے کے لئے 5چھوٹے بند/سپر بھی بنائے جا رہے ہیں-بلوچستان کے ساتھ مواصلاتی رابطے بہتر بنانے کے لئے سٹیل برج کا منصوبہ اسی سال مکمل کیاجائے گا-عوام کی سہولت کے لئے موبائل ، لائیوسٹاک ڈسپنسری یونٹ فراہم کریں گے اور 20کروڑ روپے کی لاگت سے ماڈل کیٹل منڈی بھی بنائی جائے گی-پاستان بیت المال کے تعاون سے ڈیرہ غازی خان میں وویمن ایمپلائیمنٹ سنیٹر اور سویٹ ہوم بنیں گے -غیر ملکی پروازوں کے آغاز کے لئے ڈیرہ غازی خان ائیر پورٹ کو توسیع دی جائے گی- حکومت پنجاب اس منصوبے کے لئے واٹر سپلائی وغیرہ کی سپلائی کے لئے 10کروڑ روپے کا بجٹ دے گی-ڈیرہ غازی خان میں بھی پرائم منسٹر ہاﺅسنگ پراجیکٹ اپنا گھر سکیم لانچ کی جارہی ہے -انہوںنے کہا کہ عوام کی سہولت کے لئے کوٹ چھٹہ ، واہوا، تونسہ اور ٹربل ایریا کے لئے لینڈ ریکارڈ سینٹرز بھی قائم کئے جا رہے ہیں-وزیراعلیٰ نے کہاکہ ڈیرہ غازی خان میں دہشت گردی کے سدباب کے لئے 30کروڑروپے کی لاگت سے سی ٹی ڈی ریجنل آفس کا قیام خوش آئند ہے- ڈیرہ غازی خان میں سپیشل اکنامک زون قائم کرنے کا جائزہ لیا جائے گا اور شہر خموشاں اتھارٹی کے تحت کوٹلہ سکھانی، غربی میں 190کنال پر 19کروڑ روپے کی لاگت سے ماڈل قبرستان جلد تعمیر کیاجائے گا-عدالتوں میں سائلین کے بیٹھنے کے لئے لیٹی گیشن شیڈ بنائے جائیں گے- وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان نے تبدیلی اور نئے پاکستان کا جو خواب دیکھا ہے اس کی عملی تعبیر پیش کروں گا- ماضی میں وسائل کا رخ دوسری طرف موڑ دیا گیااور جنوبی پنجاب کے اضلاع پسماندگی کا شکار ہو کر بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں ،ان محرومیوں کا میں خود شاہد ہوں کہ میرا اور میرے آباﺅ اجداد کا تعلق اسی دھرتی سے ہے-انہو ںنے کہاکہ ہماری محرومیوں کے دن ختم ہونے والے ہیں جنوبی پنجاب کے تمام علاقوں میں انہی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور ڈیرہ صحیح معنوں میں” پھلاںدا سہرا“ بنے گا-انہوںنے کہاکہ میں پنجاب کے ہر ضلع ، ہر تحصیل اور ہر شہر میں جاﺅں گا -لوگوں اور عوامی نمائندگان سے ملوں گا اور ان کے مسائل حل کروں گا -وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں ترقیاتی پروگرامو ں کی ذاتی طو رپر نگرانی کروں گا ا ور ہر ماہ دورہ کر کے ا ن کا جائزہ لو ںگا -وزیراعلیٰ نے کہاکہ وزارت اعلیٰ کا منصوبہ میرے اور عوام کے درمیان حائل نہیں ہوسکتا-دوستو ںسے ملاقات میں تاخیر ضرور ہوئی لیکن اب یہ راستے مسلسل بحال رہیں گے پنجاب کے ہر شہری کے لئے میرے دروازے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے-وزیراعلیٰ کو سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے ڈی ایچ کیو نئے بلاک کی تعمیر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی-اس موقع پر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ طلبہ کی تربیت اور ذہنی استعداد بڑھانے کےلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ نئے پاکستان میں طلبہ کو معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کسی بھی ملک کےلئے ترقی کی منزل کے حصول میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں اور طلبہ ہی قومی و بین الاقوامی سطح پر ملک کا سافٹ امیج اجاگرکرنے کا باعث بنتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستانی طلبہ اپنی ذہانت اور کارکردگی کے باعث ملک وقوم کا نام روشن کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ذہین اور ہو نہار طلبہ کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ طلبہ کو معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ طلبہ کو مستقبل سنوارنے کےلئے بہترین تعلیمی سہولیات مہیا کرنا ترجیحات میں اولین ہے۔

یوٹرن نہ لینے والا کون ؟ ہٹلر ، نپولین نے کیوں شکست کھائی ؟ وزیراعظم کا اہم بیان

اسلام آباد (صباح نیوز، اے این این) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ لیڈر ہی نہیں، جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا ،، جو یوٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں ہوسکتا، نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لیکر تاریخی شکست کھائی، نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا، جھوٹ بولا۔اسلام آباد میںکالم نویسوں پر مبنی وفد سے گفتگو عمرا ن خان کا کہنا تھا کہ ہم میاں شہباز شریف کو جو نیب کی تحویل میں ہیں اور کرپشن کے کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم کیسے ان کو ایک ایسی باڈی کا چیئرمین بنا سکتے ہیں جس کا کام ہی کرپشن کے خلاف کام کرنا ہے۔ لہٰذا ہم کسی صورت شہباز شریف کوپی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے۔ چاہے اپوزیشن اس پر جتنا مرضی شور کر لے یہ دنیا کے سامنے اپنے آپ کو مذاق بنانے والی بات ہوگی۔ عمران خان سے پوچھا گیا کہ اس وجہ سے پوری قومی اسمبلی اور سینیٹ یرغمال بنی ہوئی ہے اور باقی قائمہ کمیٹیاں نہیں بننے جا رہیں۔ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جو مرضی ہو جائے کسی صورت ہماری حکومت شہبازشریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائے گی۔ نیب کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب کو چھوٹے چھوٹے مقدمات کے پیچھے جانے کی بجائے ان کو بڑے بڑے مگرمچھوں کے پیچھے جانا چاہئے۔ 15، 20 کیسز کو سامنے رکھا جائے اور ان کو ایسی مثال بنایا جائے تاکہ ان کو دیکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے لوگ کرپشن اور خوردبرد سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔ نیب میں ریفارمز کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے۔ حکومت اس حوالے سے کچھ زیادہ نہیں کر سکتی۔ تاہم حکومت کے دائرہ میں نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے جو بھی کام آئے ہیں ہم اس کو ضرور نبھائیں گے اور مخصوص سطح پر نیب کے ساتھ قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر رابطہ ہو سکتا ہے اور وہ رابطہ ہے اور ہم آنے والے دنوں میں کوشش کریں گے کہ نیب کی کارکردگی اور بہتر ہو۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لیڈر یوٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں۔ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا جو یوٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا بے وقوف لیڈر نہیں ہو سکتا۔ نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔ نوازشریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا۔ وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ آپ نے پہلے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس بھیک مانگنے نہیں جائیں گے۔ اب آپ آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں۔ اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالی تو اس وقت مالیاتی خسارے اور کرنٹ اکاونٹ خسارے کا سامنا تھا۔ حکومت کی یہ کوشش تھی کہ فوری طورپران دو مسائل سے نمٹنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں دوست ملکوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور شکر ہے کہ دوست ملکوں کی مدد سے وقتی طور پر اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ۔ ہم سعودی عرب گئے اور چین گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چین سے بہت کچھ ملا ہے لیکن ہماری مجبوری ہے کہ چین سے ہمارا معاہدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے۔ اس کو ہم پبلک نہیں کر سکتے لہٰذا ہم وہ پبلک نہیں کرینگے۔ اس سے ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ بہت حد تک حل ہو چکا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کا دورئہ چین توقعات سے زیادہ کامیاب رہا ماضی میں کسی وزیراعظم کا دورئہ چین اتنا کامیاب نہیں رہا۔ حالیہ دورئہ چین کے مثبت نتائج مرتب ہونگے۔ چین کے ساتھ معاہدوں کی تفصیل عام نہیں کر سکتے۔ چین سے ہر طرح کی امداد مل رہی ہے اس پر مطمئن ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھے گی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ۔ ہمیں احساس ہے کہ یہ وقتی اقدامات ہیں، ہمیں اپنی معیشت کی مستقل بہتری کے لئے چار چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، برآمدات بڑھانی ہیں۔دوئم سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، بیرون ملک سے ترسیلات کو بڑھانا ہے۔ اس وقت پندرہ سے بیس ارب قانونی طریقوں سے بیرون ملک سے آ رہا ہے اور اتنا ہی پیسہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔ ہم بیرون ملک پاکستانیوں کو سہولیات دے رہے ہیں تاکہ وہ بینکوں کے ذریعے اپنا پیسہ ملک بھیجیں۔اس وقت ملک میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ سرمایہ کاری میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو جس سے ملک ترقی کرے گا ۔ سب سے اہم منی لانڈرنگ پر قابو پانا ہے۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ارب کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لئے ہم بیرونی ممالک سے معاہدے کر رہے ہیں، اب تک بیرون ممالک میں جمع کی گئی دولت کی جو معلومات ملی ہیں اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کیوں اقامے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ معلومات کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ سے معاہدہ ہوا ہے۔ دبئی سے معلومات آئی ہیں۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ملک سے چوری کر کے باہر لے جائے گئے پیسے کو واپس لانے میں کافی مدد ملے گی۔ ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عمل کریں گے۔ سیرت النبی کانفرنس بھرپور طریقہ سے منعقد کی جائے گی جبکہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں وہ خود شریک ہونگے۔ کانفرنس میں اسلامی سکالرز اور علماءبھی شرکت کرینگے،وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے سو دن کی تکمیل پر تعلیم،صحت، غربت کے خاتمے اور دیگر کئی حوالوں سے مفصل اور جامع پروگرام قوم کے سامنے پیش کرے گی۔ کسی بھی حکومت میں پہلے سو دن حکومت کی آئندہ سمت کا تعین کرتے ہیں۔ان سو دنوں کی اہمیت اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں عوام کو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت کی سمت کیا ہے اور مستقبل میں کیا پالیسیاں اختیار کی جائیں گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی جمہوریت کے لئے کوشش نہیں کی گئی۔ جمہوریت کی بجائے کلپٹو کریسی (kleptocracy) کا رواج رہا ہے جہاں حکومت کرنے والے اقتدار کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک ٹریلین ڈالر غریب ملکوں سے امیر ملکوں میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کی دولت حکمران اشرافیہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک بھیجتی ہے۔ملک کی تاریخ میں اب تک تمام بیرونی امداد کے باوجود بھی ہمارا شمار تیسری دنیا کے ملکوں میں کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں اب تک پتہ ہی نہیں چل سکا کہ اس ملک میں کتنے وسائل موجودہیں۔ ہم نے حکومت میں آکر یہ دیکھا کہ اب تک صرف تیل اور گیس کے شعبے میں ملک کا صرف چھ فیصد حصہ ہی استعمال ہوا ہے۔ تیل اور گیس کے علاوہ یہاں کیا کیا وسائل ہیں ان کی دریافت کے لئے اب تک کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں اداروں کو جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے تاکہ حکمران اشرافیہ کی چوری ممکن بنائی جا سکے۔ میرٹ کو نظر انداز کرکے اداروں پر اپنے من پسند افراد کو تعینات کیا جاتا ہے تاکہ وہ حکمران اشرفیہ کی چوری میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ اس طرح وائٹ کالر کرائمز کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے اور وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ ہماری جنگ ڈیموکریٹس کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو ملک کو تباہ کرتے ہیں۔ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتاجب تک حقیقی معنوں میں جمہوریت نہ آئے۔ 2018کے الیکشن کی شفافیت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی لگ بھگ پچپن نشستوں پر محض تین چار ہزار کے مارجن سے ہار ی۔ ان میں چودہ سیٹیں قومی اسمبلی جبکہ چالیس نشستیں صوبائی اسمبلی کی تھیں۔ ہم نے اپوزیشن کو واضح کہا کہ اپوزیشن کو جن جن نشستوں پر اعتراض ہے وہ حلقے کھلواسکتے ہیں۔لیکن اپوزیشن کامقصد یہ نہیں تھا۔ بعض لوگوں کو پتہ ہے کہ جو چیزیں ہمارے سامنے آ رہی ہیں اور جب سب حقیقت سامنے آئے گی تو ان کا کیا مستقبل ہوگا۔خیبرپختونخواہ میں آزاد ووٹ ہے۔ وہاں کی روایت ہے کہ وہ کسی پارٹی کو ایک دفعہ منتخب کرنے کے بعد اس کو دوبارہ چانس نہیں دیتے لیکن اسی خیبر پختونخواکے صوبے کی عوام نے پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت سے دوبارہ کامیاب کیااور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے وہاں کام کیا۔ مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاستدان اس لئے شور مچا رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ خیبر پختونخوا سے ان کا صفایا ہونے کے بعد دیگر جگہوں سے بھی ان کا صفایا ہونے والا ہے۔ ملکی معاشی صورتحال اور بڑے بڑے اداروں کے نقصانات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر میں 2013میں گردشی قرضہ چار سو ارب تھا 2018میں یہ 1200ارب تک پہنچ گیا ہے، گیس کے شعبے میں خسارہ 150ارب کا ہے، پی آئی اے 400ارب کے خسارے میں ہے، پاکستان سٹیل مل کا خسارہ 350سے 400ارب ہے، یوٹیلٹی سٹورز چودہ ارب کے نقصان جبکہ پوسٹل میں نو ارب کا خسارہ ہے۔ ان مشکلات پر آہستہ آہستہ قابو پائیں گے۔ ایک سوال پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایف آئی اے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ ۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ بعض حلقوں کے دعوں کے برعکس ملک میں کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا لیڈر حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر اپنے لائحہ عمل اور سٹریٹیجی میں تبدیلی لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں محض وسائل سے نہیں بلکہ احساس سے بنتی ہیں ہمیں ملک میں موجود غریب طبقے کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہم آئندہ چند روز میں تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے لئے جامع اور مفصل پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ دور میں مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔

چیئرمین سینیٹ بچ گئے

اسلام آباد (صباح نیوز) پارلیمنٹ کے اےوان بالا میں اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ کے ساتھ کھڑی ہو گئیں ہیں جس کی وجہ سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کا خطرہ ٹل گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل حزب اختلاف کو برتری حاصل ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے آغاز میں بعض رہنما¶ں کی طرف سے پارلیمنٹ سے باہر اشاروں کنایوں میں کسی بھی وقت تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیا جاتا رہا۔ ایوان بالا میں حکومت اور چیئرمین سینیٹ کے موجودہ تعلقات کار نے صورتحال کو تبدیل کر دیا ۔ حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہیں۔ ممکنہ عدم اعتماد کی لٹکتی تلوار ہٹ گئی ۔

عمران خان ہٹلر ، خورشید شاہ نے دل کی بات کہہ دی

سکھر(اے این این) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ان کو ہٹلر قرار دے دیا۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو کے دوران خورشید شاہ نے وزیراعظم عمران خان کے یوٹرن سے متعلق بیان پر رد عمل میں کہا کہ ہٹلر بھی ڈکٹیٹر تھا اور عمران نے اس کی مثال دے کر ثابت کیا کہ وہ بھی ہٹلر ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان خود ہٹلر ہیں لیکن یوٹرن لے کر نقصان سے بچنا چاہتے ہیں، وہ یوٹرن لینے کے بیان سے کیا تاثر دینا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں کوئی دہشتگرد نہیں ، بھارتی مہمانوں کا خیر مقدم ہے ، فیاض الحسن چوہان کا شبانہ ، جاوید اختر کو محبت بھرا پیغام

لاہور (خبرنگار) پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کا شمار قد آور شخصیات میں ہوتا ہے۔ انکے دورہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لئے معاون ثابت ہو گا۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار بھارت کی معروف فنکارہ شبانہ اعظمی اور انکے شوہر مشہور مصنف، شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ساتھ ایک مقامی ھوٹل میں ملاقات کے دوران کیا. فیاض الحسن چوہان نے معروف شخصیات کو لاھور آمد پر خوش آمدید کہا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے. شبانہ اعظمی اور جاوید اختر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپکا آنا ہمارے لئے باعث مسرت و افتخار ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی دہشت گرد نہیں کیونکہ یہ امن پسندوں کا ملک ہے. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن پر آکر کام کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے فنکاروں کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا.فنکاروں کی آمد سے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی.بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی اور شاعر و مصنف جاوید اختر فیاض الحسن چوہان کی گرمجوشی اور خیر مقدمی جذبات سے بے حد متاثر ہوئے. انہوں نے پاکستانی عوام کے استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہمیں جو محبت اور عزت ملی اس کو ہم کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔ واضح رہے کے معروف بھارتی فنکار جوڑا فیض فیسٹیول میں شرکت کے لئے پاکستان کے دورے پر ہے۔

سرکاری نوکری دلانے کا جھانسہ دیکر خاتون سے اجتماعی زیادتی ، ” خبریں ہیلپ لائن “میں انکشاف

لاہور(کر ائم رپورٹر)کوٹ لکھپت میں اوباش افراد نے دوشیزہ (م) کو سرکاری نوکری دلانے کا جھانسہ دیکر اسکی عزت لوٹ لی ۔پولیس نے ملزم اکمل جاوید اور اور اسکے ساتھی کے خلاف مقدمہ درج کر لیاہے۔(م) کے مطابق اسے پی سی او کے لوکل نمبر سے کال موصول ہوئی کہ”لوگ ورثا “ میں نوکریاں آئی ہیں وہ آپکو ملازمت دلوادینگے آپ فوری میٹرو پل چونگی امرسدھو آجائیں ۔(م) کے مطابق وہ وہاں پہنچی تو اپلائیڈ فار کار میں اکمل جاوید اور اسکا ساتھیہ سوار تھے جو اسے لوک ورثا کے دفتر لے گئے جہاں اسے نشہ آور چائے پلائی اور پھر اس سے زیادتی کر ڈالی پولیس نے میڈیکل کے بعد ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

ہسپتال بنانے کا منصوبہ کےلئے اچھے وقت کے انتظار میں ہوں :میرا

لاہور(شوبزڈےسک)فلم سٹار میرا نے کہا ہے کہ غر یبوں کیلئے ہسپتال بنانے کا منصوبہ ختم نہیں بلکہ اچھے وقت کے انتظار میں ہوں ‘ تحر یک انصاف کی حامی نہیں مگر وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو کام کرنے کا پورا موقعہ ملنا چاہیے ہوسکتا یہ عوام کے مسائل حل کر دیں ‘شوبز میں میرے خلاف باتیں کر نیوالے اپنے وقت کا ضیاع کر رہے ہیں مجھے پرکسی کا کوئی اثر ہونیوالا نہیں ۔ ایک انٹر ویو کے دوران فلم سٹار میرا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بدترین مسائل کا شکار ہے اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کو کام کرنے کا مکمل موقعہ ملنا چاہیے اسکے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ شوبز میں میرے دوست کام اورمخالفین زیادہ ہے مگر مجھے اس سے کوئی فرق نہیںپڑتا کہ کون میرے بارے میں کیاکہتا ہے ۔

معروف اداکار شفیع محمد شاہ کو دنیا چھوڑے 11 برس بیت گئے

کراچی (شوبزڈےسک) ملک کے معروف ورسٹائل اداکار شفیع محمد شاہ کو دنیا چھوڑے گیارہ برس بیت گئے۔ 1949 میں سندھ کے شہر کنڈیارو میں پیدا ہونے والے شفیع محمد شاہ نے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ رعب دار آواز اور جاذب نظر شخصیت کے مالک شفیع محمد شاہ نے ریڈیو سے بطور صدا کار فنی سفر کا آغاز کیا۔ پھر اداکاری کی دنیا میں صلاحیتوں کا ایسا لوہا منوایا جس کا ہر ایک نے اعتراف کیا۔ اڑتا آسمان، تیسرا کنارہ، چاند گرہن، آنچ اور جنگل جیسے بے شمار ڈرامے ان کی شناخت بنے۔ تیس سالہ فنی سفر کے دوران انہوں نے سو سے زائد اردو اور سندھی ڈراموں کے ساتھ کئی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ بیوی ہو تو ایسی، نصیبوں والی، روبی، تلاش، میرا انصاف اور الزام میں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔ دھیمہ لیکن پر اثر لہجہ رکھنے والے شفیع محمد شاہ کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔ 17نومبر 2007کو یہ درخشاں ستارہ دار فانی سے کوچ کر گیا تھا۔

تھیٹر کی بحالی اور جدید تقاضوں کیلئے حکومت کی دلچسپی ضروری :افتخار ٹھاکر

لاہو ر (شوبزڈےسک) پاکستان کے معروف ٹی وی و اسٹیج اداکار افتخار ٹھاکر نے کہا ہے کہ تھیٹر کی بحالی اور اس سے جدید تقاضوں کے مطابق چلانے کیلئے حکومت کی دلچسپی ضروری ہے‘ نئی حکومت کو اسٹیج کی بحالی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اپنے ایک انٹرویو میں اداکار افتخار ٹھاکر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اسٹیج کی بحالی کیلئے وعدہ کیا ہے س لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب فوری طور پر نوٹس لے اور تھیٹر کی بحالی پر خصوصی توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ تھیٹر کی بحالی اور اس سے جدید تقاضوں کے مطابق چلانے کیلئے پنجاب حکومت کی دلچسپی ضروری ہے۔

چیف جسٹس محکمہ اینٹی کرپشن کو با اختیار بنانے پر مبارکباد کے مستحق ہیں : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان کی بات میری سمجھ میں آئی نہیں کیونکہ عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ لیڈر کو اپنی بات پر ڈٹے رہنا چاہئے اور جو بات وہ ایک دفعہ کہہ دے وہی حرف آخر ہونی چاہئے۔ اب انہوں نے جو گنجائش کھول دی ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ نوازشریف بھی پرسوں زبردست یو ٹرن لے رہے ہیں۔ کل انہوں نے کہا کہ میرا کوئی تعلق العزیزیہ سے نہیں، میرا اپنا تعلق بیٹوں کے بیانات سے نہیں ہے۔ آج انہوں نے کہہ دیا کہ میرے بیٹوں نے جو بھی اپنے کارخانے بنانے کے لئے تفصیل بیان کی ہے میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ اس طرح تو ہر شخص یہ کہہ کر بچ جائے گا کہ بڑا لیڈر تو یو ٹرن لیتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ضرور کچھ غلطی ہو گی۔ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ میں تو سمجھتا ہو ںکہ عمران خان صاحب اپنی بات کے پکے آدمی ہیں اور جو کچھ بھی وہ کہتے ہیں عام طور پر وہ اس پر ڈٹے رہتے ہیں ہو سکتا ہے وہ کسی وقت وہ خود ہی وضاحت کر دیں۔ اس حد تک تو صحیح ہے کہ اگر چلتے ہوئے دیوار سامنے آ جائے تو دائیں بائیں جس طرف بھی راستہ ہو اس طرف کا رخ کرنا چاہئے لیکن اس کا یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ آپ کو اپنی بات سے پھر جانا چاہئے اور اس کی جگہ ایک بالکل متبادل جو تجویز ہو وہ دے دینی چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ کل صبح کے اخبارات میں جب ان کی یہ باتیں چھپیں گی تو پھر وہ اس کی وضاحت بھی کریں گے۔
پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سربراہی کے حوالے سے ڈیڈ لاک پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان کی بات میں وزن تو ہے وہ اس لئے کہ جتنے الزامات شہباز شریف پر لگ رہے ہیں کوئی عدالت یا تو ان کو سارے الزامات سے بری قرار دیدے۔ فی الحال تو ان پر الزامات عائد ہو رہے ہیں لہٰذا ایسے حالات میں کہ ایک شخص پر ایک درجن سے زیادہ تو معاملات چل رہے ہوں اس میں کرپشن بھی اس میں بدنظمی، بے قاعدگیاں بھی ہوں، اقربا پروری بھی ہو اور اس کے اس کو اٹھا کر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیں تو میرا خیال ہے کہ یہ تو واقعی ایک مذاق کی بات ہو گی۔ تاہم دیکھنا ہو گا کہ خود قومی اسمبلی میں کیا رویہ اختیار کرتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ جو لیڈر آف دی اپوزیشن ہوتا ہے وہی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین ہوتا ہے لیکن اس قسم کے لیڈر آف اپوزیشن بھی نہیں رہے کہ جن پر 12,12 مقدمات چل رہے ہوں دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا حل نکلتا ہے۔
نیب پر مقدمات کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ عمران خان کے اس بیان پر کہ نیب قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ نیب میں ترمیم کی بات تو سبھی کر رہے ہیں۔ رضا ربانی صاحب نے بھی کی نوازشریف نے بھی کی، رانا ثناءاللہ صاحب نے بھی کی، نیب میں قوانین میں ترمیم کے متعلق مختلف اور سیاسی جماعتوں نے بھی بات کی تھی مولانا فضل الرحمان نے بھی کہا۔ اب وہ ترمیم کیا ہونی چاہئے اس پر تو بحث ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے ایک جماعت جو ترمیم چاہتی ہو دوسری جماعت اس کے برعکس چاہتی ہو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نیب کے بعض قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے خاص طور پر اس لئے کہ نیب کو پہلے سے زیادہ موثر بنایا جا سکتاہے۔ لیکن صرف عمران خان نے یہی بات کی بلکہ سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے بھی کہا ہے کہ وفاقی احتسابی کمیشن بننا چاہئے جو فوج کا بھی احتساب کرے اور بیوروکریسی کا بھی کرے اور سیاستدانوں کا بھی کرے اور سارے ہی شعبے جو ہیں ان کو یکساں طور پر سب کو اس شکنجے میں سے گزارا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصل فیصلہ جو ہے وہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ کو کرنا چاہئے۔ جب یہ مسئلہ قومی اسمبلی یا سینٹ میں آتا ہے تو وہ کیا فیصلہ کریں گے جہاں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لئے بلاول بھٹو زرداری کا ذکر آیا ہے ان کو ایک پلس پوائنٹ جاتا ہے کہ وہ حکومت میں نہیں رہے لیکن بات یہ ہے کہ ان کو بری الذمہ قرار نہیں دیتا اگر جو یہاں سے منی لانڈرنگ ہوئی ہے اگر منی لانڈرنگ میں ان کے اکاﺅنٹس بھی استعمال ہوئے ہیں اگر ان کے والد صاحب کے ان کی، ان کی پھوپھی صاحبہ فریال تالپور کے اکاﺅنٹس بھی استعمال ہوئے ہیں یا ان کے ملتی جلتی کمپنیاں جو ان کے معاملات کو دیکھتی ہیں ان کے اکاﺅنٹس استعمال کئے گئے ہیں تو پھر بلاول پر بھی کیس ہو سکتا ہے۔
زلفی بخاری کی دوہری شہریت کے کیس کی سماعت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا یہ کیس تھا زلفی بخاری صاحب کا۔ زلفی بخاری صاحب کے پاس شہری شہریت تھی جناب عمران خان صاحب کا کہنا تھا کہ نہ وہ پاکستان میں بزنس کرتے ہیں اور نہ ہی ان کا یہاں کوئی انٹرسٹ ہے انہوں نے سارا پیسہ باہر کمایا لہٰذا انہوں نے ان کو ایڈوائزر بنا دیا۔ اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے نوٹس لیا اور انہو ںنے وزیراعظم کو بے لگام اختیارات میسر نہیں ہیں لةٰذا ہم اس بات کو دیکھیں گے کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے سارے پیسے باہر کمائے کیا اس کے باوجود دوہری شہریت کا شخص جو ہے وہ اسمبلی کارکن نہیں بن سکتا وہ سینٹ کارکن نہیں بن سکتا وہ پاکستان کی فیڈرل کابینہ میں ایڈوائزر کیسے بن سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس پر فیصلہ دینا تو سپریم کورٹ کا کام ہے دیکھتے ہیں وہ اگلے ہفتے میں اس پر کیا فیصلہ دیتے ہیں۔
قیصر امین بٹ نے کہا کہ میں وعدہ معاف بن کر سب کچھ بتانے کو تیار ہوں اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ قدرتی انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ وعدہ معافی والا قانون جو ہے یہ کافی عرصہ سے اس پر لے دے ہو رہی ہے دنیا کے بہت سے ملکوں میں اس پر شدید تنقید ہوتی ہے کہ ایک شخص جو فرض کیجئے کہ قتل کے الزام میں بھی وہ پہلے شریک ہوتا ہے پھر جب کوئی گواہ نہیں ملتا تو ان میں سے ٹوٹ کے کہتا ہے کہ ہاں جی میں نے قتل کیا تھا لیکن چونکہ میں وعدہ معاف گواہ ہوں اس لئے مجھے سزا نہیں ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جو سزا ہوئی تھی قتل کی اور اس میں بھی کوئی گواہ موجود نہیں تھا۔ ظاہر ہے بھٹو صاحب نے بطور وزیراعظم پاکستان کے جا کر نواب محمد احمد جو احمد رضا قصوری کے والد تھے ان کو قتل نہیں کیا تھا اس وقت وعدہ معاف گواہ سامنے آ گیا اس نے کہا جی مجھے حکم دیا تھا بھٹو صاحب نے یہ احمد رضا قصوری کے والدکو اڑا دیا جائے تو اس بنیاد پر قتل کے الزام میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو بھی وعدہ معاف گواہ ہونے کی وجہ سے پکڑا گیا تھا آپ نے دیکھا کہ پھر آخر میں ان کو پھانسی کی سزا ہو گئی تھی۔ ساری دنیا میں اس پر بڑی بحثیں ہوتی آئی ہیں اور بعض قانون دانوں کا خیال ہے کہ یہ فیئر نہیں ہے۔ قیصر امین بٹ کے وعدہ معاف گواہ دراصل استغاثہ کی کمزوری کے بعد سامنے آتا ہے جب استغاثہ کی طرف سے کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا تو پھر کوشش کی جاتی کہ جو دوچار بندے پکڑے گئے ہیں جو ان میں سے نسبتاً ذرا کمزور نظر آتا ہے اس کو تھوڑا سا رگڑا دیا جائے اور اس کو کہا جائے کہ یہی اگر تو وعدہ معاف گواہ بن جائے اور اپنے ہی ساتھییوں کے خلاف گواہی دے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قانون کا ایسا نکتہ ہے کہ جس پر ہمیشہ سے بحث ہوتی آئی ہے ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اس پر یہ نظر ثانی ہو جائے۔
اینٹی کرپشن کے جو کیس تھے اس میں وزیراعلیٰ کی اجازت بڑی ضروری ہوتی تھی۔ سپریم کورٹ نے آج وزیراعلیٰ کی اجازت کی اہمیت کو معطل کر دیا ہے کہ یہ آئینی ہے اور 6,5 اور 10 رول کو ختم کر دیا اور ان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے معاملات میں وزیراعلیٰ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اب جس کے خلاف کرپشن کا مقدمہ ہو گا اس کے خلاف انکوائری کی جائے گی ضیا شاہد نے کہا کہ میں ایک مدت سے اس قانون سے واقف ہوں کہ آج سے 27,26 سال پہلے جب خبریں نکلا تھا اس وقت بھی اس قسم کے کئی کیسز پیش آئے تھے اور بھی خود چل کر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ آپ جب بھی لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں تو کیا الزام ہوتا ہے کہ پٹواری نے رشوت لے لی۔ کلرک 700 روپے لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔آپ کبھی ڈپٹی کمشنر کو کیوں نہیں پکڑتے۔ سیکرٹری یا کسی ڈپٹی سیکرٹری کو کیوں نہیں پکڑتے، انہوں نے مجھے بڑی تفصیل سے سمجھایا تھا اور قانون کا وہ مسودہ میرے سامنے رکھا تھا، انہوں نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ 17 گریڈ یا اس سے اوپر کے کسی سرکاری افسر کو گرفتار کرنے یا اس کے خلاف کیس چلانے کیلئے ضروری ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ سے اجازت لیں، چیف سیکرٹری یا ہوم سیکرٹری اجازت دیتا ہے تو پھر آپ کیس چلا سکتے ہیں۔ پچھلے 26 برس سے جب سے خبریں اخبار شروع کیا ہے کبھی کسی بڑے آدمی کو پکڑے نہیں دیکھا۔ کلرم، چپڑاسی، پٹواری، ضلع دار وغیرہ پکڑے جاتے ہیں، سیکرٹری ایریگیشن نہیں پکڑا جاتا کیونکہ اس کو شیلٹر حاصل ہے۔ اینٹی کرپشن کا سارے کا سارا محکمہ بے کار ہے۔ سارا عملہ بے کار بیٹھا ہے۔ بے تحاشہ کیسز ان کے پاس آتے ہیں وہ کیسز کی تیاری کر کے وزیراعلیٰ کو ایک چٹھی ڈال دیتے ہیں کہ کیا فلاں افسر کے خلاف اجازت ہے۔ آج تک کبھی جواب نہیں آیا کہ ہاں اجازت ہے۔ حکومت اس کو روک لیتی ہے چونکہ بڑے افسروں کو مکمل طور پر تحفظ دیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف کبھی کسی قسم کی پکڑ دھکڑ نہیں ہوتی۔ حکومت بھی خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے لیکن چیف جسٹس آف پاکستان نے تو کمال کر دیا۔ انہوں نے بہت بڑا فیصلہ دیا ہے جس میں وزیراعلیٰ سے اجازت لینے کا قانون ختم کر دیا ہے۔ اب ہر صوبے کا ڈائریکٹر اینٹی کرپشن براہ راست بڑے افسروں پر کیس دائر کر سکے گا۔ یہ بہت بڑا انقلابی فیصلہ ہے۔ بڑے افسر سب ایک دوسرے کو تحفظ دیتے تھے، کسی کے خلاف مقدمہ چلنے ہی نہںی دیتے تھے۔ اب چیف جسٹس کے ایک ہی فیصلے سے یہ سارا قانون عملاً ختم ہو گیا ہے۔ بڑے افسروں کی ایک دوسرے کو بچانے کی ساری کوششیں مٹی میں مل گئی ہیں۔ اینٹی کرپشن سندھ کی جانب سے جہانگیر ترین اور ارباب غلام رحیم کے خلاف انکوائری شروع کرنے کے حوالے سےے انہوں نے کہا کہ اسی قسم کے مقدمات بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض کے خلاف ہوئے، ان کو کافی رعایتی نرخوں پر ہزاروں کنال زمین آصف زرداری نے دیدی اس وقت بڑا شور مچا تھا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ موجودہ کیس جو ہے یہ پیپلزپارٹی نے ایک جوابی کارروائی کی ہے۔ پی پی نے خود جہانگیر ترین کو جو نہ ہی عدالتی فیصلے کے تحت تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری رہے ہوں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ارباب غلام رحیم جب وزیراعلیٰ سندھ ہوتے تھے تو ان کے ساتھ مل کر ان کو اتنی زمین دی گئی تھی اور اتنی سستی دی گئی تھی۔ اگر یہ کیس چل نکلا تو اس کی زد میں اور بھی بڑے کیسز آئیں گے۔ اینٹی کرپشن کی کارروائی میں پہلے صوبائی حکومتیں رکاوٹ ہوتی تھیں لیکن گزشتہ روز کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اب 17 گریڈ یا اس سے اوپر کے افسروں کو تحفظ والا سلسلہ ختم ہو گیا، اب وزیراعلیٰ، وزیر، سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل وغیرہ کے خلاف اینٹی کرپشن براہ راست کارروائی عمل میں لا سکتا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ دیا ہے۔ اس کی روشنی میں بہت سارے بڑے افسر زد میں آئیں گے جو پہلے بچتے رہے تھے۔ جب بڑے افسروںکو حاصل استثنیٰ ختم ہو جائے گا اور ان کے خلاف غلط کام کرنے پر کارروائی ہو سکے گی تو ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ چیف جسٹس پاکستان کو کرپشن کے خاتمے کیلئے اتنا بڑا فیصلہ دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف گزشتہ روز اپنے ایک اور بیان سے مکر گئے، کہتے ہیں کہ العزیزیہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ قومی اسمبلی میں وہ خود بیان کر چکے ہیں کہ یہ کارخانہ کس طرح لگایا گیا تھا، اب وہ کہتے ہیں کہ میری قومی اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں نہیں پیش کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے لیکن وہ ایک اعتراف تو ہے۔ اب انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ میرے بیٹوں نے جو میرے بارے میں کہا تھا کہ فلاں فلاں کارخانہ میرے والد نے اس طرح لگایا تھا میں اس کی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ میں اس کو یو ٹرن کہتا ہوں یہ نہیں لیا جا سکتا۔ نوازشریف نے پوری تقریر کی تھی کہ میں نے دبئی میں یہ مل کیسے لگائی، پھر یہ کیسے فروخت کی گئی، وہ پیسے سعودی عرب کیسے بھیجے گئے پھر وہاں سٹیل مل کیسے لگائی گئی، اب وہ کہتے ہیں میرا کوئی تعلق نہیں، جو کہا تھا وہ قومی اسمبلی میں کہا تھا جس پر کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں میں جو مرضی کہہ سکتا ہوں۔ نوازشریف نے جو بیان دینے تھے دیے لیکن عدالتیں یقینا ان کے یو ٹرن کو پکڑیں گی، سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گی کہ آپ کس طرح اپنے بیانات سے مکر سکتے ہیں۔ صرف قومی اسمبلی میں ہی نہیں بلکہ باہر بھی میں نے خودکتنی جگہوں پر ان کے بیانات سنے تھے، تقاریر و پریس کانفرنسز میں مسئلے تھے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ میرا اس سے کوئیت علق ہی نہیں۔ عدالتوں میں جب یہ بحث چھڑے گی تو یقینا بہت ساری چیزیں سامنے آئیں گی، عدالت اس کا دوسرا پہلول بھی دیکھے گی۔ نوازشریف ملزم ہیں، جج نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دستیاب عدالت کو سپریم کورٹ نے نوازشریف کیس مکمل کرنے کی 12 نومبر تاریخ دی تھی نے کہا گیا تھا کہ 12 تاریخ کو اس کا فیصلہ کر دیں۔ یہ کارروائیاں اتنی طویل ہوتی ہیں کہ ابھی بھی نوازشریفکے کچھ سوالات پر جواب باقی ہیں۔ احتساب عدالت نے مزید ایک کی توسیع کی درخواست کی ہے، میرا نہیں خیال سپریم کورٹ اس سے زیادہ ان کو کوئی موع دے سکتے، ایک مہینے کے بعد بہرحال فیصلہ دیناپڑے گا۔ حمزہ اور سلمان شہباز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لوگ اسی لئے کہہ رہے ہیں کہ نیب قوانین میں ترمیم ہونی چاہئے کیونکہ اکثر ملزمان ان کا بروقت نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جاتا اور جب وہ دندناتے ہوئے پاکستان سے باہر چلے جاتے ہیں تو پھر شور مچایا جاتا ہے کہ ان کا نام تو ای سی ایل میں ہونا چاہئے تھا۔ نیب کو بھی اپنے معاملات کی اصلاح کرنی چاہئے۔ کہیں نہ کہیں کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔ سب نے دیکھا کہ طبیعت کی خرابی کا بہانہ لگا کر اسحاق ڈار لندن میں بیٹھے ہیں اور اچھے بھلے تندرست ہیں۔ انہوں نے وہاں شادی بھی نئی کر لی ہے۔ اطلاعات آئی تھیں کہ ڈرائیور اور باورچی ان کی شادی میں گواہ تھے۔ اب انہوں نے ماروی میمن سے شادی کی ہے۔ بیمار تو ایسے نہیں ہوتے وہ کیسے بیمار ہیں۔ 36 کروڑ بہت کم رقم ہے ان کے پاس بہت پیسے ہیں۔ دبئی میں ان کی 11 بلڈنگز ہیں، ان کا دبئی میں نہ ختم ہونے والا کاروبار ہے۔ 36 کروڑ سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عمران خان نے گزشتہ روز اپنی گفتگو میں 4 پوائنٹ دیئے تھے جن میں ایک یہ بھی ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ دونوں کے ساتھ ہمارے معاہدے ہو چکے ہیں، ان ملکوں میں منی لانڈرنگ کے ذریعے جو پیسہ منتقل کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں ہمارا معاہدہ یہ کہتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے خلاف کیس کر سکتے ہیں اور ان ملکوں میں ان کے خلاف کارروائی ہو سکے گی لہٰذا اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اسحاق ڈار، آصف زرداری اور نوازشریف کے ان ملکوں میں کافی پیسے پڑے ہیں۔ اخبار میں پڑھا تھا کہ نوازشریف کے لندن فلیٹس کا جو تذکرہ ہو رہا ہے، اس سے کیس زیادہ پراپرٹی نوازشریف کے بچوں کے حوالے سے سامنے آ چکی ہے۔ ہو سکتا ہے ان کا بھی کوئی اس میں حصہ ہو، یہ بات تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔ خبریں چھپ رہی ہیں کہ ایون فیلڈ کے علاوہ بھی نوازشریف کے اور بہت سارے اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی نفیس، ٹھنڈے مزاج اور اچھی گفتگو کرنے والے آدمی ہیں۔ صدر بننے سے پہلے اکثر عارف علوی اسی پروگرام میں مختلف ایشوز پر جوابات دیا کرتے تھے۔ میں نے ان کے بارے میں کبھی کوئی بری بات نہیں سنی۔ لاہور ایئرپورٹ پر بھی جو انہوں نے پروٹوکول لینے سے انکارکیا اس پر خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ سادہ زندگی کی داغ بیل ڈالی ہے کہ اگر صدر نے جانا ہے تو پھر کہاں ضروری ہے کہ ڈیڑھ سو گاڑیوں کا بیڑہ ان کے ساتھ جائے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ جڑانوالہ میں جو خاتون کا سر مونڈ دینے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، اس حوالے سے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ملزمان گرفتار کر کے متاثرہ خاتون کے بچوں کو بھی بازیاب کرا لیا ہے جو بڑی اچھی بات ہے۔ جن افسروں نے گرفتاری کی ہے وہ قابل مبارکباد ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جونہی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اسی وقت اگر ساری سرکاری مشینری متحرک ہو جائے تو 2 فائدے ہوں گے، ایک توملزم پکڑے جائیں گے، دوسرا یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ یہاں سرکاری مشینری کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔