Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • زیدان اقبال فیفا ورلڈ کپ میں پاکستانی نژاد پہلے کھلاڑی بن گئے۔
    • پنجاب بھر میں محرم الحرام کے دوران دفعہ 144 نافذ
    • ایرانی ٹیم نے ورلڈ کپ آمد پر 168 بیجز پہن کر اسکول حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
    • کراچی چڑیا گھر میں شیر کے بچے، چیمپینزی کی صحت غیر تسلی بخش
    • عہدہ ختم تو اہمیت ختم
    • گرین بسوں میں مفت سفر ختم کیا جائے، شہری کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کرایہ 50 روپے مقرر کرنے کا حیران کن مطالبہ
    • جو روٹ کپتان ، انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
    • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کی پیشگوئی
    • حج 2027ء کیلئے تیاریاں شروع کر دی گئیں
    • امریکا نے ایران کی 9 شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں
    • بل گیٹس جیفری ایپسٹین کے معاملے پر امریکی ایوان کی کمیٹی میں پیش
    • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سہ ماہی قسط 18 ہزار روپے کر دی گئی
    • ICC ویمنز چیمپئینز ٹرافی، کرکٹ آسٹریلیا کو ویمن شیڈول تبدیل کرنا پڑ گیا
    • کویت نے ایرانی حملوں کے باعث عارضی طور پر فضائی حدود بند کر دیں
    • بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ پر ایرانی حملہ
    • اردن کے ایئربیس پر ایران کا امریکی جنگی طیاروں پر حملہ
    • ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی، ایران جھکے گا نہیں:پزشکیان کا اعلان
    • دبئی میں پاکستانی چونسہ آم کی دھوم، ایک ڈبے کی قیمت 50 درہم تک پہنچ گئی
    • ایران امریکا کشیدگی سے سونا 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر
    • تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سپر پاور کے صدور کا وائٹ ہاﺅس چھوڑنے کے بعد کا احوال, حیران کُن خبر

    By Daily Khabrainجنوری 22, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    amrica-flag
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    واشنگٹن (سپیشل رپورٹر سے) امریکہ کے صدر کے دفتر میں آٹھ برس گزارنے کے بعد براک اوباما نے صدارت کا عہدہ اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کے سپرد کر دیا ہے۔اگرچہ براک اوباما مذاقاً کہہ چکے ہیں کہ اب وہ آن لائن میوزک کپمنی ’سپوٹیفائی‘ کے لیے کام کرنا شروع کر دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر فعال رہنے کا عزم کر چکے ہیں۔اکثر لوگوں کو توقع ہے کہ وہ جلد ہی کوئی کتاب لکھیں گے، ٹی وی پر انٹریوز وغیرہ دیں گے۔ تاہم خود براک اوباما نے ہلکا سا اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اصل میں کیا کرنے جا رہے ہیں۔کیا وہ ان 42 حضرات کی ریٹائرمنٹ کی زندگی سے کچھ سیکھ سکتے ہیں جو ان سے پہلے امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں؟ چار سال تک امریکہ کے دوسرے صدر کے طور پر کام کرنے کے بعد، جان ایڈمز سیاسی اور سماجی منظر سے دور ہٹ گئے تھے اور انھوں نے زندگی اپنی اہلیہ کے ساتھ خاموشی سے گزاری۔وہ مزید 25 برس تک زندہ رہے اور اس دوران اپنے خاندان کے ساتھ رہے۔ تاہم انھوں نے اس عرصے میں بہت سا وقت لکھنے لکھانے میں گزارا۔جون ایڈمز کا انتقال 4 جولائی 1826 کو اسی دن ہوا جب امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے دنیا سے کوچ کیا۔ جیمز میڈیسن کئی باغات کے مالک تھے اور عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد وہ اپنی زمینوں پر چلے گئے تھے جہاں انھوں نے باغات میں کام کے لیے غلام رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ’امیریکن کالونائزیشن سوسائٹی‘ نامی ایک متنازع تنظیم میں بھی خاصے سرگرم رہے۔ اس تنظیم کی کوشش تھی کہ سیاہ فام غلاموں کو واپس افریقہ بھیج دیا جائے۔ امریکہ کے نویں صدر ولیم ہینری ہیریسن کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ امریکہ کے سب سے کم عرصے تک رہنے والے صدر تھے اور پہلے صدر تھے جن کا انتقال دور صدارت میں ہوا۔ ابھی انھیں دفتر سنبھالے صرف 32 دن ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے چل بسے۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں نمونیا ہو گیا تھا۔ لوگوں میں مشہور ہے کہ انھیں نمونیا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت دیر تک شدید سردی میں کھڑے رہے اور انھوں نے بطور صدر اپنی افتتاحی تقریر بہت طویل کر دی تھی۔ لیکن اس مفروضے کے حق میں دلائل کم ہی ہیں۔ گروور کلیولینڈ امریکی تاریخ کے وہ واحد صدر ہیں جو صدارت کی ایک مدت پوری کرنے کے کچھ سال بعد دوبارہ صدر بن گئے تھے۔اپنی دوسری مدتِ صدارت ختم ہونے کے بعد انھوں نے خاندان کی کفالت کے لیے بازار حصص کا رخ کیا جہاں وہ بہت کامیاب رہے اور انھوں نے خاصی دولت بنائی۔چونکہ گروور کلیولینڈ کچھ عرصے بعد دوبارہ صدر بن گئے تھے اسی لیے براک اوباما کو امریکہ کا 43واں کی بجائے 44واں صدر کہا جاتا ہے۔ تھیوڈر روزویلٹ نے دو مرتبہ صدر رہنے کے بعد سنہ 1912 میں تیسری مرتبہ بھی صدارتی انتخاب لڑا تھا لیکن انھیں و±ڈرو وِلسن کے ہاتھوں شکست ہو گئی تھی۔ یاد رہے کہ سنہ 1951 سے پہلے اس پر کوئی پابندی نہیں تھے کہ کوئی شخص کتنی مرتبہ صدر بن سکتا ہے۔عہد? صدارت کی دوسری مدت ختم ہونے کے بعد تھیوڈر روزویلٹ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر برازیل کے مشہور دریا ’ریور آف ڈاو¿ٹ‘ کے سیر کو نکل گئے تھے۔ اس مہم کے دوران نہ صرف ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی تھی بلکہ انھیں اتنا شدید ملیریا ہو گیا تھا کہ وہ مرتے مرتے بچے۔کچھ امریکی یہ بات نہیں مانتے کہ اتنا زیادہ بیمار ہو جانے کے بعد انھوں نے اصل میں یہ مشکل مہم مکمل کی بھی تھی یا نہیں۔ صدر نکسن کو جس چیز نے صدارت سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا وہ مشہور زمانہ ’واٹر گیٹ سکینڈل‘ تھا۔ان کی انتظامیہ پر الزام تھا کہ صدر کے کارندوں نے حزب مخالف کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھی اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔اس تنازعے کے بعد رچرڈ نکسن کو مالی مسائل کا سامنا بھی رہا، جس دوران انھوں نے اپنی یاد داشتیں فروخت کر دیں اور معاوضہ لے کر انٹریوز دیے اور ایک مرتبہ پھر عالمی سیاسی منظر پر نمایاں ہو گئے۔ جمی کارٹر کو اکثر بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے صدر کو عہد? صدارت ختم ہو جانے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔خارجہ پالیسی کے لحاظ سے جمی کارٹر کے دورِ صدارت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، لیکن صدارت کے بعد کے برسوں میں وہ نہ صرف انسانی فلاح کے کاموں میں مصروف رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتکاری کے لیے بھی کام کرتے رہے اور کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔سنہ 2002 میں جمی کارٹر کو امن کا نوبیل انعام بھی دیا گیا اور آج 92 برس کی عمر میں بھی وہ کئی خیراتی منصوبوں کے ساتھ منسلک ہیں جن کا مقصد پسماندہ لوگوں کے لیے گھر تعمیر کرنا ہے۔ براک اور مشیل نے اعلان کر دیا ہے کہ کچھ عرصہ چھٹیاں گزارنے کے بعد وہ شکاگو کے جنوب میں ’سینٹر فار سٹیزنز‘ کے نام سے شہریوں کے لیے ایک مرکز قایم کریں گے۔یاد رہے کہ امریکہ کے ریٹائرڈ صدور کی مراعات میں شامل ہے کہ وہ سرکاری خرچ پر اپنی آبائی ریاست میں ایک صدارتی لائبریری قائم کر سکتے ہیں۔لیکن براک اوباما کا کہنا ہے کہ جو لائبریری وہ بنانے جا رہے ہیں وہ ایک ایسا شہری مرکز ہوگا جہاں لوگوں سے پوچھا جائے گا ان کے خیال میں ایسے نوجوان لیڈر اور تنظیمیں کون سی ہیں جن کی انھیں مدد کرنا چاہیے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    پنجاب بھر میں محرم الحرام کے دوران دفعہ 144 نافذ

    کراچی چڑیا گھر میں شیر کے بچے، چیمپینزی کی صحت غیر تسلی بخش

    گرین بسوں میں مفت سفر ختم کیا جائے، شہری کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کرایہ 50 روپے مقرر کرنے کا حیران کن مطالبہ

    تازہ ترین

    پنجاب بھر میں محرم الحرام کے دوران دفعہ 144 نافذ

    کراچی چڑیا گھر میں شیر کے بچے، چیمپینزی کی صحت غیر تسلی بخش

    گرین بسوں میں مفت سفر ختم کیا جائے، شہری کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کرایہ 50 روپے مقرر کرنے کا حیران کن مطالبہ

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کی پیشگوئی

    حج 2027ء کیلئے تیاریاں شروع کر دی گئیں

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.