Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • عراق نے ایران اور سعودی عرب کو مشترکہ سکیورٹی کونسل کی پیشکش کردی
    • پاکستان کے 12 تاریخی مقامات یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل
    • پاکستان کی سفارتی جیت، اے سی سی الیکشن میں تینوں نشستوں پر کامیابی
    • نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل پیش کرنے کا اعلان
    • 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا شہباز شریف کو خط عمران خان کے علاج کی اپیل
    • سماعت سے محروم ثنا بہادر نے آسٹریلیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا
    • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ متوقع، 5 لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچنے کا امکان
    • گلگت تا تاوبٹ شاہراہ منصوبہ، خطے کی ترقی کے نئے دور کا آغاز
    • ایرانی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر وار، 4 دن تک پلانٹ بند رہا
    • دنیا بھر میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف شکنجہ سخت
    • مچل اسٹارک نے بنگلا دیش کے بیٹنگ آرڈر کی کمر توڑ دی، آسٹریلیا فاتح
    • آصف زرداری کے ایوانِ صدر چھوڑنے کی تیاریاں؟ حامد میر کا اہم دعویٰ
    • ایران وینزویلا نہیں دشمن سمجھ لے،ایرانی صدر
    • عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، حکومت کو پسند ہو یا نہ ہو: شرمیلا فاروقی
    • دوسرے شہروں سے آنے والوں نے لاہور کا کلچر تباہ کیا: عثمان پیرزادہ
    • پنجاب حکومت کی درخواست منظور، راولپنڈی میں فوج 6 ماہ تعینات رہے گی
    • محمد رضوان کو لارڈز ٹیسٹ سے ڈراپ کیے جانے کا امکان، ٹیم میں بڑی تبدیلی متوقع
    • بالآخر راز کھل گیا، رمشا خان اور خوشحال خان بہن عائشہ خان کی شادی میں ایک ساتھ
    • روبوٹ نے دوڑ میں یوسین بولٹ کو بھی مات دے دی، نیا ریکارڈ قائم
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کی 16 سال بعد جیت، جاپان کو 3-4 سے شکست
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سپر پاور کے صدور کا وائٹ ہاﺅس چھوڑنے کے بعد کا احوال, حیران کُن خبر

    By Daily Khabrainجنوری 22, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    amrica-flag
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    واشنگٹن (سپیشل رپورٹر سے) امریکہ کے صدر کے دفتر میں آٹھ برس گزارنے کے بعد براک اوباما نے صدارت کا عہدہ اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کے سپرد کر دیا ہے۔اگرچہ براک اوباما مذاقاً کہہ چکے ہیں کہ اب وہ آن لائن میوزک کپمنی ’سپوٹیفائی‘ کے لیے کام کرنا شروع کر دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر فعال رہنے کا عزم کر چکے ہیں۔اکثر لوگوں کو توقع ہے کہ وہ جلد ہی کوئی کتاب لکھیں گے، ٹی وی پر انٹریوز وغیرہ دیں گے۔ تاہم خود براک اوباما نے ہلکا سا اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اصل میں کیا کرنے جا رہے ہیں۔کیا وہ ان 42 حضرات کی ریٹائرمنٹ کی زندگی سے کچھ سیکھ سکتے ہیں جو ان سے پہلے امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں؟ چار سال تک امریکہ کے دوسرے صدر کے طور پر کام کرنے کے بعد، جان ایڈمز سیاسی اور سماجی منظر سے دور ہٹ گئے تھے اور انھوں نے زندگی اپنی اہلیہ کے ساتھ خاموشی سے گزاری۔وہ مزید 25 برس تک زندہ رہے اور اس دوران اپنے خاندان کے ساتھ رہے۔ تاہم انھوں نے اس عرصے میں بہت سا وقت لکھنے لکھانے میں گزارا۔جون ایڈمز کا انتقال 4 جولائی 1826 کو اسی دن ہوا جب امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے دنیا سے کوچ کیا۔ جیمز میڈیسن کئی باغات کے مالک تھے اور عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد وہ اپنی زمینوں پر چلے گئے تھے جہاں انھوں نے باغات میں کام کے لیے غلام رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ’امیریکن کالونائزیشن سوسائٹی‘ نامی ایک متنازع تنظیم میں بھی خاصے سرگرم رہے۔ اس تنظیم کی کوشش تھی کہ سیاہ فام غلاموں کو واپس افریقہ بھیج دیا جائے۔ امریکہ کے نویں صدر ولیم ہینری ہیریسن کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ امریکہ کے سب سے کم عرصے تک رہنے والے صدر تھے اور پہلے صدر تھے جن کا انتقال دور صدارت میں ہوا۔ ابھی انھیں دفتر سنبھالے صرف 32 دن ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے چل بسے۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں نمونیا ہو گیا تھا۔ لوگوں میں مشہور ہے کہ انھیں نمونیا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت دیر تک شدید سردی میں کھڑے رہے اور انھوں نے بطور صدر اپنی افتتاحی تقریر بہت طویل کر دی تھی۔ لیکن اس مفروضے کے حق میں دلائل کم ہی ہیں۔ گروور کلیولینڈ امریکی تاریخ کے وہ واحد صدر ہیں جو صدارت کی ایک مدت پوری کرنے کے کچھ سال بعد دوبارہ صدر بن گئے تھے۔اپنی دوسری مدتِ صدارت ختم ہونے کے بعد انھوں نے خاندان کی کفالت کے لیے بازار حصص کا رخ کیا جہاں وہ بہت کامیاب رہے اور انھوں نے خاصی دولت بنائی۔چونکہ گروور کلیولینڈ کچھ عرصے بعد دوبارہ صدر بن گئے تھے اسی لیے براک اوباما کو امریکہ کا 43واں کی بجائے 44واں صدر کہا جاتا ہے۔ تھیوڈر روزویلٹ نے دو مرتبہ صدر رہنے کے بعد سنہ 1912 میں تیسری مرتبہ بھی صدارتی انتخاب لڑا تھا لیکن انھیں و±ڈرو وِلسن کے ہاتھوں شکست ہو گئی تھی۔ یاد رہے کہ سنہ 1951 سے پہلے اس پر کوئی پابندی نہیں تھے کہ کوئی شخص کتنی مرتبہ صدر بن سکتا ہے۔عہد? صدارت کی دوسری مدت ختم ہونے کے بعد تھیوڈر روزویلٹ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر برازیل کے مشہور دریا ’ریور آف ڈاو¿ٹ‘ کے سیر کو نکل گئے تھے۔ اس مہم کے دوران نہ صرف ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی تھی بلکہ انھیں اتنا شدید ملیریا ہو گیا تھا کہ وہ مرتے مرتے بچے۔کچھ امریکی یہ بات نہیں مانتے کہ اتنا زیادہ بیمار ہو جانے کے بعد انھوں نے اصل میں یہ مشکل مہم مکمل کی بھی تھی یا نہیں۔ صدر نکسن کو جس چیز نے صدارت سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا وہ مشہور زمانہ ’واٹر گیٹ سکینڈل‘ تھا۔ان کی انتظامیہ پر الزام تھا کہ صدر کے کارندوں نے حزب مخالف کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھی اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔اس تنازعے کے بعد رچرڈ نکسن کو مالی مسائل کا سامنا بھی رہا، جس دوران انھوں نے اپنی یاد داشتیں فروخت کر دیں اور معاوضہ لے کر انٹریوز دیے اور ایک مرتبہ پھر عالمی سیاسی منظر پر نمایاں ہو گئے۔ جمی کارٹر کو اکثر بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے صدر کو عہد? صدارت ختم ہو جانے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔خارجہ پالیسی کے لحاظ سے جمی کارٹر کے دورِ صدارت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، لیکن صدارت کے بعد کے برسوں میں وہ نہ صرف انسانی فلاح کے کاموں میں مصروف رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتکاری کے لیے بھی کام کرتے رہے اور کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔سنہ 2002 میں جمی کارٹر کو امن کا نوبیل انعام بھی دیا گیا اور آج 92 برس کی عمر میں بھی وہ کئی خیراتی منصوبوں کے ساتھ منسلک ہیں جن کا مقصد پسماندہ لوگوں کے لیے گھر تعمیر کرنا ہے۔ براک اور مشیل نے اعلان کر دیا ہے کہ کچھ عرصہ چھٹیاں گزارنے کے بعد وہ شکاگو کے جنوب میں ’سینٹر فار سٹیزنز‘ کے نام سے شہریوں کے لیے ایک مرکز قایم کریں گے۔یاد رہے کہ امریکہ کے ریٹائرڈ صدور کی مراعات میں شامل ہے کہ وہ سرکاری خرچ پر اپنی آبائی ریاست میں ایک صدارتی لائبریری قائم کر سکتے ہیں۔لیکن براک اوباما کا کہنا ہے کہ جو لائبریری وہ بنانے جا رہے ہیں وہ ایک ایسا شہری مرکز ہوگا جہاں لوگوں سے پوچھا جائے گا ان کے خیال میں ایسے نوجوان لیڈر اور تنظیمیں کون سی ہیں جن کی انھیں مدد کرنا چاہیے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      عراق نے ایران اور سعودی عرب کو مشترکہ سکیورٹی کونسل کی پیشکش کردی

      نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل پیش کرنے کا اعلان

      ایرانی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر وار، 4 دن تک پلانٹ بند رہا

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.