کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 ماہ سے ہمارے پلانٹ کو گیس نہیں دی جارہی اور اگر ایک ہفتے میں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو پنجاب جانے والی گیس کو بھی بند کردیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے کہا کہ گزشتہ 4 ماہ سے ہمارے پلانٹ کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس نہیں دی جارہی ہمیں منصوبہ شروع کرنے کے لیے بھی گیس درکار ہے، اگر ایک ہفتے میں ہمارے پلانٹ کو گیس نہ ملی تو صوبے سے جانے والی گیس لائن بند کردیں گے اور سوئی سدرن گیس کمپنی کوخبردار کر تاہوں کہ کمپنی نے معاہدے دستخط نہ کیے تو ادارے کے دفتر پردھاوابول کر اس کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ سے نکلنے والی گیس پر آئین کے تحت سندھ کا پہلا حق ہے اور آرٹیکل کے تحت گیس اس صوبے کے لوگوں کی ہے اگر وفاق نے معاہدہ نہ کیا تو پنجاب جانے والی گیس پائپ لائن کو بھی بند کردیا جائے گا۔
Monthly Archives: April 2017
”کلبھوشن یادیو کیلئے ڈیل “….جان بچ سکتی ہے اگر ؟
نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن اور سابق وزیر مانی شنکر کا کہنا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات سے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ”را“ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی جان بچ سکتی ہے۔بھارتی اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے بھارت کی راجیہ سبھا کے رکن مانی شنکر کا کہنا تھا بھارت کو پاکستان سے مذاکرات کے لئے سگنلز دینے ہوں گے کیونکہ پاک بھارت مذاکرات سے کلبھوشن یادیو کی جان بچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہتے تو کلبھوشن کو سزا نہ ہوتی۔مانی شنکر کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کے پاس بھی کلبھوشن یادیو جیسا قیدی ہو تو پاکستان سے ڈیل ہو سکتی ہے جب کہ کلبھوشن یادیو کا کیس لڑنے کے لئے پاکستان میں عاصمہ جہانگیر یا اعتزاز احسن جیسے وکلاءکی خدمات حاصل کی جائیں۔
پاور ہاﺅسز میں کرپشن کی غضب کہانی ….32ارب
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) مالی سال 2013ءمیں آئی پی پی پیز کو ادا کئے جانے والے 480ارب روپے کے گردشی قرضے میں وزارت خزانہ کی طرف سے 44.32ارب روپے کی ادائیگیاں ایسے بجلی گھروں کو کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے نہ پاور ہاﺅس چلایا اور نہ ہی ایک یونٹ بجلی پیدا کی جبکہ پیسے بھی انہیں بلوں‘ رسیدوں اور کسی ریکارڈ کے بغیر ادا کئے گئے۔ آڈیٹر جنرل اسدامین وزارت خزانہ سے بل کلیئر کرواتے کرواتے ریٹائر ہو گئے۔ دستاویزات کے مطابق وزارت خزانہ نے گیارہ نجی بجلی گھروں کو 44.32ارب روپے کی ادائیگی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حکم پر کی۔ ان نجی بجلی گھروں نے ایک یونٹ بجلی پیدا کی اور نہ ہی پلانٹ چلایا لیکن بل حکومت کو بھجوا دیا۔ وزارت پانی و بجلی کی طرف سے ان بلوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور انہیں وزارت خزانہ کو ادائیگی کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے بھی ان بلوں پر کوئی اعتراض نہیں لگایا بلکہ ان کمپنیوں کو ساڑھے بتیس ارب روپے کی خطیر رقم کی ادائیگیاں کر دیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ وہ اس طرح سے ان بلوں کو کلیئر نہیں کر سکتے۔ جن بجلی گھروں کو ادائیگیاں کی گئی ہیں ان میں وزیراعظم کے قریبی دوست اور ملک کے ایک معروف بینکار کا نجی بجلی گھر بھی شامل ہے۔ جن بجلی گھروں کو 2002ءکی پاور پالیسی کے تحت بغیر بلوں کی ادائیگیاں کی گئیں ان میں نشاط پاور لمیٹڈ‘ نشاط چونیاں‘ حبکو‘ لبرٹی پاور‘ سفائر الیکٹرک‘ اورینٹ پاور‘ سیف پاور لمیٹڈ‘ اٹلس پاور‘ ہالمور فاﺅنڈیشن‘ اٹک پاور جنریشن شامل ہیں۔ کچھ پاور ہاﺅسز کو 1994ءکی پاور پالیسی کے تحت ادائیگیاں کی گئیں جن میں ایچ سی پی سی ایل‘ فوجی‘ روش‘ کیپکو‘ آلٹرن‘ پاک چین‘ کے ای ایل‘ لال پیر شامل ہیں۔
بجلی گھر
عزیر بلوچ بول پڑا زرداری ،فریال تالپور کیلئے کونسے کام کرتا تھا ۔۔تہلکہ خیز انکشافات
کراچی (خصوصی رپورٹ) لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ آصف زرداری کے لیے شوگر ملوں پر قبضے کرکے ان کے حوالے کیے، دُبئی میں ایرانی انٹیلی جنس آفیسر کو حساس معلومات دیں، اہم تنصیبات کے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کرائی۔ فریال تالپور کو ایک کروڑ روپے ماہانہ بھتہ جاتا تھا، ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کرکے سرتن سے جدا کیے، پھر ان کے سروں سے فٹ بال کھیلی۔ یہ اعتراف 24 اپریل 2016ءکو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو کیے۔ پولیس نے ملزم کو پیش کیا تھا ۔ عدالت کے روبرو ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 164 کے تحت بیان قلمبند کراتے ہوئے عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ 2003ءمیں رحمن ڈکیت گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2008ءتک اس کے ساتھ مل کر جرائم کیے۔ قادر پٹیل، سنیٹر یوسف بلوچ و دیگر اعلیٰ افسران میرا اور ساتھیوں کا خیال رکھتے تھے اور کسی بھی واردات کے بعد گرفتاری عمل میں نہیں لاتے تھے۔ اگست 2010ءمیں جیل وارڈن لالہ امین شیر افضل و دیگر 2 افراد کو ذاتی انتقام پر قتل کیا اور عارم عرف انڈا کو قتل کیا جبکہ نائب ناظم ملک محمد خان کو امن بلیدی کے ذریعے قتل کروایا تھا۔ مارچ 2003ءمیں انسپکٹر یوسف بلوچ، چاند خان نیازی اور دیگر پولیس افسران کے ذریعے ارشد پپو، اس کے بھائی یاسر عرفان، ساتھی شیرا پٹھان کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کیا تھا اور لیاری کے آدم گودام میں لے جاکر ان کے سر تن سے جدا کرکے ان کے سروں سے فٹ بال کھیلی اور اجسام کو آگ لگاکر راکھ گٹر میں بہادی۔ پولیس افسر اسلم چودھری سے متعدد پولیس مقابلے کی، پولیس اہلکاروں کو قتل کیا۔ سرکاری محکموں سے بھتے وصول کیے۔ فشریز سے 20 لاکھ روپے بھتہ ملتا۔ جنرل الیکشن 2013ءمیں سنیٹر یوسف بلوچ اور فریال تالپور کے رابطے میں تھا۔ 2013ءمیں کراچی آپریشن میں تیزی آئی تو فریال تالپور نے مجھے قادر پٹیل، یوسف بلوچ کے ذریعے اپنے گھر جو ڈیفنس میں واقع تھا بلوایا۔ اس موقع پر شرجیل انعام میمن اور نثار میمن بھی موجود تھے۔ فریال تالپور نے لیاری گینگ وار و دیگر معاملات میں بات چیت کی۔ اس نے ذاتی اسلحہ گولہ بارود چھپانے کو کہا اور انتظامی معاملات شرجیل انعام میمن اور نثار مورائی کے حوالے کرنے جبکہ لیاری کے معاملات قادر پٹیل اور سنیٹر یوسف بلوچ کے حوالے کیے اور مجھے فریال تالپور نے بیرون ملک جانے کو کہا تھا۔ میں نے پارٹی کے لیے متعدد غیرقانونی کام کیے۔ سنیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر 5 جرائم پیشہ افراد کو نوکریاں دلوائیں۔ آصف علی زرداری کے کہنے پر 20 جرائم پیشہ اور خطرناک افراد بلاول ہاو¿س بھیجے جنہوں نے بلاول ہاو¿س کے گردونواح میں لوگوں کو ہراساں کرکے بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے اور آصف زرداری کے حوالے کیے۔ آصف زرداری نے ان کے مالکان کو معمولی رقم دے کر بنگلے اپنے نام کرائے۔ مجھے بیرون ملک جانے کو کہا تھا، میں نے ایران میں ایرانی خفیہ اداروں کے دوستوں سے رابطے کیے جب کراچی میں میرے لیے مشکلات بڑھ گئیں تو ایرانی ناصر جو ایرانی خفیہ ایجنسی کا نمائندہ تھا اور اس کا پاکستان آنا جانا تھا، کے گرین سگنل پر ایران کا بارڈر کراس کیا اور حاجی ناصر ایران بارڈر سے مجھے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ایرانی خفیہ اداروں کے افسران سے ملا جنہوں نے میری حفاظت کی ضمانت دی اور انہیں معلومات فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی اور تجویز دی کہ ایران سے بہتر دُبئی میں بیٹھ کر کام میں آسانی ہوگی اور دُبئی میں بیٹھ کر میں نے ایرانی انٹیلی جنس افسر کو کراچی میں موجود آرمڈ فورسز کے اعلیٰ افسران اور اہم تنصیبات کے نام بتائے۔ 5 کور، کراچی نیول کمانڈر کے نام بتائے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی افسران جنہیں میں جانتا تھا ان کے نام بتائے، میں نے ایرانی انٹیلی جنس افسر کو 5 کور ہیڈکوٹر رہائش گاہ کمانڈر 5 کور، نیول ہیڈکوارٹر، کارساز اور امینشن ہیڈکوارٹر کے نقشے فراہم کیے، میں نے اہم تنصیبات کے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کرائی۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے دوران حراست سنسنی خیز انکشافات کئے ،عزیر بلوچ نے بتایا کہ ایک اہم سیاسی شخصیت کی جانب سے ہاکس بے ، مواچھ گوٹھ اور ناردرن بائی پاس سے متصل زمینوں پر قبضے کروانے پر تقریبا ایک کروڑ روپے ملے ، ماڑی پور 500 کوارٹر کے نزدیک سیاسی شخصیت کے قبضے میں رخنہ نہ ڈالنے کے عوض عزیر بلوچ نے 60 لاکھ روپے وصول کئے ، دو ہزار گیارہ میں عزیرکو ایک صوبائی وزیر کی جانب سے دو مختلف پراپرٹیز کا تنازع حل کرانے کی ہدایت ملی جس کیلئے موصوف کو 50 لاکھ اور عزیر بلوچ کو 40 لاکھ روپے ملے ۔سندھ کے بااثر ترین سیاسی رہنما نے کلفٹن میں اربوں روپے کے 40 بنگلے اونے پونے خریدنے کیلئے عزیر بلوچ کا استعمال کیا۔
عزیربلوچ
کامیڈی سٹیج اداکار ظفری خان کی کار الٹ گئی
لاہور (کرائم رپورٹر) جی ٹی روڈ پر تیز رفتار ی کے باعث کار بے قابو ہوکر الٹ گئی جس کے نتیجہ میں معروف کامیڈین اداکار ظفری خاں سمیت دو افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ رات گئے معروف اداکار ظفر ی خاں المعروف (ڈالا) گوجرانوالہ میں سٹیج ڈرامہ کرکے واپس آرہے تھے کہ مریدکے کے قریب کار بے قابو ہوکر الٹ گئی‘ جس کے نتیجے میں کار میں سوار ظفری خاں اور خالد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طبی امداد کے لئے میو ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔
اہم شخصیت کی نوازشریف سے ملاقات, گستاخانہ مواد بارے بڑا فیصلہ
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے گستاخانہ مواد کے بارے میں مسلم امہ کا متفقہ موقف پیش کرنے کیلئے وزیر داخلہ کی طرف سے اسلام آباد میں او آئی سی خصوصی وزارتی اجلاس منعقد کرنے کیلئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو بھجوائی گئی تجویز کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ سے محبت اور عقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے بدھ کو ان سے یہاں ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ گستاخانہ مواد کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی استثنیٰ کے بغیر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو گستاخانہ مواد کے خصوصی حوالے سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا جو گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک میں دفاعی صنعت کے فروغ کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری کی افرادی قوت کی غیر معمولی خدمات اور مادر وطن کے دفاع کے حوالے سے مسلح افواج کیلئے ان کے اہم کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ نے 1965ءاور 1971ءکی جنگوں کے دوران پی او ایف کی افرادی قوت کے تاریخی کردار کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ پی او ایف ملازمین کیلئے ان کے دورے کے وقت اعلان کردہ مراعاتی پیکیج پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے وزیر دفاعی پیداوار کی سربراہی میں وزیر داخلہ اور وزیرخزانہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیدی جو ایک ہفتے کے اندر حتمی سفارشات کو مرتب کر کے پیش کرے گی۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ پی او ایف کے ان کے دورے کے دوران کئے جانے والے اعلانات کی ہر قیمت پر پاسداری کی جائے گی۔
ایسا کیا ہوا کہ, ڈالر گرل کو لینے کے دینے پڑ گئے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) کرنسی اسمگلنگ کیس، ماڈل گرل ایان کو لینے کے دینے پڑ گئے ۔پانچ کڑور روپے جرمانے کیخلاف اپیل بحالی کی درخواست پانچ ہزار جرمانے کے ساتھ منظور کر لی گئی۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کسٹم کی اپیلیٹ کورٹ کے ڈویڑنل بینچ نے ایان علی کو پانچ ہزارروپے جرمانے کا حکم سنا دیا گیا ہے، پانچ کروڑ جرمانے کیخلاف اپیل کی درخواست چار مئی کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی، کسٹم اپیلیںٹ ٹربیونل کے جسٹس ملک منظور پر مشتمل دو رکنی بینچ سماعت کرے گا،،واضح رہئے کہ ماڈل گرل ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ کی عدم حاضری پر اپیل خارج کردی تھی،تاہم خرم لطیف کھوسہ نے آپ بحالی کے لیے درخواست دوبارہ دائرکی تھی۔
کلبھوشن کو بچاﺅ, مودی” ٹرمپ“ کے پاﺅں پڑگیا, مدد طلب
لاہور (خصوصی رپورٹ) بھارتی وزیراعظم نے سفارتی اور انٹیلی جنس دونوں محاذوں پر کل بھوشن بچاﺅ منصوبے کی منظوری دے دی۔ پاکستان کے ساتھ کلبھوشن معاملے پر بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کرنے کیئے امریکی تعاون بھی طلب کرلیا گیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را بیرونی ممالک میں تعینات پاکستانی فوجی افسران کو اغوا کرکے بھارت لے جانے کی کارروائی بھی کرسکتی ہے۔ بھارت پاکستانی سرحدوں پر اضافی فوجی دستے تعینات کرکے کنٹرول لائن پر گولہ باری میں اضافہ کردے گا۔ جنگی حالات پیدا کئے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایاکہ بھارتی وزیرعظم نریندر مودی نے بھارتی نیوی کے کموڈور کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا کو ختم کرانے کے لئے تین طرح کے اقدامات کی منظوری دی ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے لئے عالمی سطح پر احتجاج کے ساتھ پاکستان سے بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کی جائے گی۔ نواز حکومت اور مودی حکومت کی اہم شخصیات میں کلبھوشن معاملے پر رابطے کرانے کیلئے امریکہ سے بھی تعاون مانگا۔ پاکستان پر مزید دباﺅ بڑھانے کے لئے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کے اضافی دستے تعینات کئے جائیں گے اور پاکستانی علاقوں پر گولہ باری میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بھارتی وزیراعظم مودی کو دہشت گردی اور پاکستانی فوجی افسران کے اغوا کی کارروائیاں کرکے پاکستان کو کلبھوشن معاملے پر لین دین کرنے پر مجبور کرنے کے لئے مختلف منصوبے پیش کئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان سے باہر خاص طور پر سری لنکا‘ مالدیپ‘ بھوٹان ‘ افغانستان اور کسی ایشیائی ملک کا دورہ کرنے والے پاکستان کے کسی فوجی افسر کو اغوا کرکے بھارت لے جانے مختلف دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ پاکستانی فوجی افسران کو اغوا کرکے پاکستان سے کلبھوشن کی واپسی کے بدلے واپس کرنے کی پیش کش کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے جوابی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
نئی دہلی (خصوصی رپورٹ)بھارتی بحریہ کے افسران نے مودی سرکارکوآئینہ دکھادیا،جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن کے بھارتی بحریہ میں موجود ساتھیوں نے سرکاری ایجنٹ ہونے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی بحریہ کے ایک افسرنے یہ بھی تصدیق کی کہ کلبھوشن نے مبارک پٹیل کے نام سے جعلی پاسپورٹ بنوایاتھا۔ ڈیوٹی سے کئی کئی ماہ غیر حاضر رہتا تھاجس سے پتہ چلاکہ وہ اہم مشن پر ہے۔دوسری جانب کلبھوشن کے خاندان نے ممبئی کا گھر چھوڑ دیاہے۔کلبھوشن کابھانڈاخود بھارتیوں نے پھوڑدیا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسرنے کلبھوشن کے بھارتی ایجنٹ ہونے کی تصدیق کردی۔بلوچستان سے گرفتار بھارتی بحریہ کے افسر سے متعلق بھارتی اخبار”ممبئی مِرر“ نے اہم انکشافات کئے ہیں۔اخبار نے بھارتی بحریہ میں کلبھوشن سے ساتھیوں سے گفتگو کی۔کچھ ساتھیوں نے کہاکل بھوشن نے مبارک پٹیل کے نام سے جعلی پاسپورٹ بنوایا۔ساتھیوں کے مطابق کلبھوشن ڈیوٹی سے کئی ماہ غیر حاضر رہتاتھا۔اس کے دوستوں کو معلوم ہوگیاتھا کہ وہ کسی سرکاری کام میں مصروف ہے۔ساتھیوں کی جانب سے کلبھوشن کے سرکاری ایجنٹ ہونے کی تصدیق کے بعد اس کا خاندان خوفزدہ ہوگیا ہے۔کلبھوشن کے والد، بھائی، والدہ اور خاندان کے دیگر افراد ممبئی کا گھر خالی کرکے کہیں اور منتقل ہوگئے ہیں۔ دریں اثنا کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے بعد بھارت نے پاکستانی قیدی خواتینکی رہائی میں رکاوٹیں ڈالناشروع کردی ہیں۔ بھارتی جیل میں فاطمہ، ممتاز اور بچی حنا مزید قیدی بھگتنے پرمجبور ہو گئیں۔ پاکستانی خاتون فاطمہ اور ممتاز 2006ءمیں اپنی ماں رشیدن بی بی کے ہمراہ بھارت گئی تھیں جبکہ حنا کی پیدائش جیل میں ہوئی تھی۔ بھارتی میڈیا نیپال میں لاپتہ ہونیوالے پاک فوج کے سابق لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا تعلق سامنے لے آیا ،بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ لاپتہ ہونیوالے پاکستانی لیفٹیننٹ کرنل حبیب”را “ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو پھنسانے والی ٹیم کا حصہ تھے ، حبیب طاہر 2014میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے لیکن ان کی آپریشنل صلاحیتوں کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) نے اپنے ساتھ رکھا۔بھارتی اخبار ”انڈین ایکسپریس “ کی رپورٹ کے مطابق نیپال اور بھارت کی سرحد کے قریب لمبینی کے علاقے سے لاپتہ ہونیوالے پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھارت کی حراست میں ہیں کیونکہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے مارچ 2016میں کلبھوشن یادیو کو پکڑا تھا۔ بھارتی سیکیورٹی ذرائع نے اخبار کو بتایاکہ بھارتی ایجنسیاں ایک عرصے سے حبیب ظاہر کے پیچھے لگی ہوئی تھیں ، آخری مرتبہ اسے لمبینی میں دیکھاگیا اور پیر کو پاکستانی فوج کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کے اعلان کاتعلق بھی کرنل حبیب کی گمشدگی سے ہے
سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری, تنخواہوں میں حیران کُن اضافہ
لاہور (خصوصی رپورٹ) الیکشن سے قبل حکومت کی جانب سے آخری بجٹ کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اگلے مالی سال کے لئے 15 فیصد اضافہ کی تجویز زیرغور ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ کی زیرصدارت چند روز قبل ہونے والے اجلاس میں اس پر غور کیا گیا تھا جس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے تاہم میٹنگ کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ تنخواہوں میں 10 فیصد کی بجائے 15 فیصد اضافہ کیا جائے۔
بجٹ‘ اضافہ
”سیاستدان پشت پناہی نہ کریں تو کوئی بدمعاش نہیں بن سکتا“ نامور تجزیہ کار ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ ہر اس حکومتی اقدام جس سے عوام کو سہولت ملے کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ پنجاب میں گیس کنکشنز کے حوالے سے شہریوں کو بڑی شکایات ہیں، اب حکومت نے اگر گیس کنکشنز پر سے پابندی اٹھا لی ہے تو یہ بات خوش آئند ہے۔ گیس لوڈشیڈنگ بھی ختم کی جائے۔ اورنج ٹرین کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے کہا کہ ہمارے یہاں عدالتی طریقہ کار اتنا طویل ہے کہ لوگ غیرضروری معاملات کو بھی عدالت میں لے جاتے ہیں۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر بڑے منصوبے کو مکمل کرنے کےلئے تھوڑی بہت قربانی تو دینا ہی پڑتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ کوئی بڑا بیراج تعمیر کرنا ہو تو کیا لاتعداد دیہات اس کی لپیٹ میں نہیں آ جاتے۔ اسی طرح اورنج ٹرین بھی ایک بڑا قومی پراجیکٹ ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس سے کوئی عمارت متاثر نہ ہو اور کسی کو بھی شکایت نہ ہو۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ایک قومی منصوبہ اس طرح تاخیر کا شکار ہو گا تو پھر معاملات کہاں جائینگے۔ پنجاب حکومت خود فریق تھی لیکن پھر بھی یہ کیس کتنی تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ چند روز قبل نیب چیئرمین سے ملاقات میں ان سے کہا کہ آپ کے ادارے بارے تاثر ہے کہ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاتا ہے تو قمر زمان چودھری نے جواب میں مجھے ایک کاغذ بھجوایا جس میں حدیبیہ پیپر ملز بارے تفصیلات درج تھی۔ لکھا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں جتنی بھی شکایات تھیں انہیں ختم کر دیا تھا۔ نیب کا مو¿قف تھا کہ اگر سپریم کورٹ ایک مقدمے کو ختم کر دیتی ہے تو ہم کیسے ری اوپن کر سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ رعایت برتی جائے تاہم نیب اگر کسی معاملہ میں دلیل دیتی ہے تو اسے سنا ضرور جانا چاہیے۔ عزیر بلوچ کیس کے حوالے سے سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ رینجرز یا پولیس ایک ملزم کو پکڑتی ہے جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے بڑے بڑے الزامات سامنے آتے ہیں پھر ایک دم سے خاموشی چھا جاتی ہے۔ سال گزر جاتے ہیں اور خاموشی چھائی رہتی ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کارروائی ہو رہی ہے۔ پھر یکدم ہی کہیں سے جیسے اشارہ ہوتا ہے کہ اس کی کلی مروڑ دو تو ملزم کی کلی مروڑ دی جاتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہر دہشتگرد اور بدمعاش کے پیچھے مددگاروں کی لمبھی لائن ہوتی ہے۔ سہولت کار، مددگار، فنانسر اور سیاستدان یا کوئی بڑا آدمی اس کی پشت پر ہوتا ہے تبھی تو گینگ مکمل ہوتا ہے۔ عزیر بلوچ کو جب پاکستان لایا گیا تو مجھے اس وقت ہی یقین تھا کہ اس کے تعلقات دہشتگردوں سے ہیں اور ”را“ سے بھی تعلق نکلے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں بڑے منظم انداز میں جرائم ہو رہے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی سیاستدان، فنانسر یا غیر ملکی ایجنسیاں نہ ہوں ایسا ممکن نہیں ہے۔ بدمعاش کہیں الگ تھلگ نہیں رہ سکتا بلکہ وہ پلتا ہی کسی بڑے آدمی کی گود میں ہے۔ کسی ادارے کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ عزیر بلوچ کی ضمانت ہو گئی ہے اس لئے فیصلہ ہوا ہو گا اور اسے ملٹری ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ سرگودھا میں 20 آدمیوں کو قتل کرنے والے نام نہاد پیر کے بڑے اور اصل پیر کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں پیر صاحب سامنے بیٹھے مقامی ایم پی اے اور ڈی ایس پی کو غلیظ ننگی گالیاں دے رہے ہیں اور دونوں بڑے مو¿دب ہو کر سن رہے ہیں یہ وہی ڈی ایس پی ہیں جن کا اپنا بیٹا بھی بہیمانہ انداز میں پیر کے ہاتھوں قتل ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ اور آئی جی سے درخواست ہے کہ اس ڈی ایس پی کو تو فوری محکمہ سے نکالا جائے کیا یہ شخص پولیس افسر بننے کے قابل ہے۔ پنجاب حکومت کا مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی عجیب ہے کیونکہ یہ لواحقین تو مدعی بھی بننے کو تیار نہیں ہیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بندوں کے غائب ہونے پر آواز بلند کریں اور بطور وزیرداخلہ چودھری نثار کی پوری ذمہ داری ہے کہ وہ جواب دیں۔ ان کی خاموشی کوئی جواب نہیں ہے، خاموشی کی دھند میں تو معاملات مزید مشکوک ہو جاتے ہیں۔ ”خبریں“ نے حیدر آباد کے بیورو چیف کی سٹوری چھاپی ہے اگر پیپلز پارٹی اس حوالے سے جواب دینا چاہے تو ”خبریں“ حاضر ہے۔ مظفر ٹپی سے لیکر شرجیل میمن تک آصف زرداری کے سارے دوست کس حوالے سے مشہور ہیں یہ تو ساری دنیا جانتی ہے۔

















