لاہور، قصور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، اسلام آباد (نمائندگان، نیوز ایجنسیاں) لاہور سمیت پنجاب کے اکثر علاقے ہفتہ کو بھی شدید دھند اور اسموگ کی لپیٹ میں رہیں، موٹر وے اور قومی شاہراہوں پر حد نگاہ صفر تک پہنچ گئی، شدید دھند کی وجہ سے مختلف حادثات میں 2 1افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوگئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک ہفتے تک صوبہ بھر میں بارش کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔کراچی کے بھی بعض علاقوں میں ہلکی دھندہے، ائر پورٹ کے اطراف، ملیر لنک ر وڈ اور ہائی وے پر صبح سویرے دھند سے ٹریفک کی روانی متاثرہوئی تاہم سورج نکلنے کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔موٹر وے حکام کے مطابق چیچہ وطنی میں دھند کے باعث حد نگاہ 20 میٹر رہ گئی جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے جبکہ میاں چنوں سے خانیوال اور ملتان سے بہاولپور تک حد نگاہ سے صفر سے 50 میٹر تک ریکارڈ کی گئی ۔موٹر وے حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ اسموگ یا دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گاڑیوں پر فوگ لائٹس کا استعمال کیا جائے۔ ملک میں سردیوں کی ا?مد کے ساتھ ہی پنجاب کے بیشتر علاقے شدید دھند اور اسموگ کی لپیٹ میں ہیں جس سے ٹریفک کی روانی اور فلائٹ ا?پریشن متاثر ہوا ہے جب کہ گزشتہ روز کامونکی اور جلال پور بھٹیاں میں پیش ا?نےو الے ٹریفک حادثات میں 6 افراد جان سے گئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے میدانی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں اسموگ اور دھند چھائے رہنےکا امکان ہے۔ملتان، بہاولپور، سرگودھا، ساہیوال، لاہور اور فیصل آباد ڈویڑن میں شدید دھند کا امکان ہے جب کہ آئندہ 12 گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔موٹروے حکام کے مطابق لاہور میں ا?ج دھند کی وجہ سے شہر سے بھیرہ تک حد نگاہ 70 سے 80 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جس کے باعث لاہورسے اسلام ا?باد کی طرف جانے والی گاڑیوں کو قافلوں کی شکل میں روانہ کیا جارہا ہے۔پولیس نے شہریوں کو ہدایت کہ ہے کہ وہ قافلوں کی شکل میں سفر کریں اور گاڑیوں کی رفتار محدود رکھیں جب کہ ڈرائیور دوران سفر فوگ لائٹس استعمال کریں۔محکمہ موسمیات کے مطابق جھنگ اورٹوبہ ٹیک سنگھ میں حد نگاہ 10 میٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ لیہ، نورپور تھل، ساہیوال، رحیم یار خان اور بھکر میں حدنگاہ 100 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔پاکپتن اور منڈی بہاو¿ الدین سمیت گردنواح میں شدید دھند اور اسموگ کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم تھری ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے، ایم تھری پرپنڈی بھٹیاں سےگوجرہ تک حدنگاہ صفر سے 20 میٹر رہ گئی جب کہ موٹروے پر شیخوپورہ سے لاہور تک شدید دھند سے حد نگاہ صفر سے 15 میٹر ریکارڈ گئی ہے۔اس کےعلاوہ موٹروے این ون پر پشاور سے رشکئی تک شدید دھند سے حد نگاہ 40 سے 50 میٹر جب کہ حافظ آباد انٹرچینج سے شیخوپورہ تک حد نگاہ 10 سے 20 میٹر ہوگئی۔سرگودھا میں شدید دھند کے باعث موٹروے پر مڈھ رانجھا کی حدود میں 8 گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں جس سے 10 افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے کوٹ ادو اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہےکہ حادثہ دھند کی وجہ سے پیش ا?یا جب کہ دھند سے شہر اور گردونواح میں حد نگاہ 100 میٹر سے بھی کم ہے اور بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی، پولیس نے مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی ہے۔کمالیہ میں بھی دھند کی وجہ سے خان داچک کے قریب کار اور موٹرسائیکل میں ٹکر ہوگئی جس سے ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق جھنگ میں دھند کے باعث ٹریفک حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔رحیم یارخان میں اسموگ کی وجہ سے سرکاری اسکولوں کےاوقات میں عارضی تبدیلی کردی گئی ہے، تمام گرلز اور بوائز اسکول کے اوقات کار صبح 9:30 سے سہ پہر3:30 بجے تک ہوں گے جب کہ جمعہ کے روزاسکول کی چھٹی ایک بجے ہوگی۔ملتان میں موسم کی خرابی کی وجہ سے پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔ ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہےکہ اندرون آنے اور جانے والی تمام پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، صبح سے ملکی اور غیر ملکی 8 پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔گوجرہ اور گردونواح میں دھند سے حد نگاہ صفر ہوگئی جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔دوسری جانب سندھ اور بلوچستان کے علاقے بھی ا?ج شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ آئندہ 12 گھنٹوں میں بالائی سندھ میں دھند پڑنے کا امکان ہے۔ پنجاب میں اسموگ کے باعث ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 4500 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا، جس کے باعث بجلی کی پیداوار 9 ہزار جبکہ طلب 13500 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق ڈیموں میں پانی کی کمی اور اسموگ کی وجہ سے سسٹم باربار ٹرپ ہونے سے بجلی بحران کا سامنا ہے،جبکہ ایٹمی توانائی کمیشن کا یوا ین پی سے کہنا ہے کہ ایٹمی بجلی گھر پر اسموگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا،وزارت توانائی کے مطابق اس وقت بجلی کا شارٹ فال 4500 ہزار میگاواٹ ہے، ملک بھر میں بجلی کی طلب 13500 میگا واٹ ہے جبکہ پیدوار کم ہو کر 9000 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ ڈیمز میں پانی کی کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار بھی صرف 4 ہزار میگاواٹ رہ گئی ہے جبکہ پرائیویٹ بجلی گھروں سے 4 ہزار اور دیگر ذرائع سے 1 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے، وزارت توانائی کے مطابق شہروں میں بجلی کی لوڈ شڈنگ 4 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 6 گھنٹے کی جارہی ہے۔دوسری جانب ترجمان ایٹمی توانائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ایٹمی بجلی گھر پر اسموگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ چشمہ ون اپنی پوری استعداد پر کام کررہا ہے جبکہ بجلی کی طلب میں اضافہ کی وجہ سے چشمہ ٹو اور تھری ٹرپ کرگئے جن پر کام جاری ہے اور دونوں پلانٹ آج (اتوار کو)سے اپنی پوری استعداد پر کام کریں گے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں سمیت بالائی علاقوں میں آئندہ دس روز تک بارش کے کوئی امکانات نہیں ہیں جس کے باعث سموگ اور دھند کے مزید دس دن تک رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

