لاہور (سیاسی رپورٹر) انڈس واٹر کمیشن کے سابق کمشنرمرزاآصف بیگ نے کہا ہے سندھ طاس معاہدہ اور کشن گنگا کیس کے تحت ماحولیات کے لئے پانی ضرور دیا جانا چاہئے۔ کیونکہ نچلے حصے کو نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی ایک موقع ملا ہے اور ضیا شاہد صاحب نے ستلج راوی واٹر کونسل کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو رٹ دائر کی ہے وہ پاکستان کی آئندہ نسلوں کی بقا کے لئے ہے کیونکہ ہم نے توصرف یہ کہا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق جس پر بھارت اور پاکستان کی طرف سے دستخط ہوئے تھے بھارت نے مشرقی دریاﺅں یعنی چناب، جہلم اور سندھ کے بارے میں یقین دہانی لی ہے کہ جہاں تک یہ دریا بھارتی علاقے میں بہتے ہیں وہاں وہاں بھارتی عوام کو ان سے پینے کے پانی، گھریلو استعمال کے پانی، سبزہ اورماحولیات کے پانی کے علاوہ پن بجلی اور آبی حیات کے لئے پانی لینے کا حق حاصل ہے۔ انڈس واٹر کمیشن کے سابق کمشنر نے کہا یہی چار پانچ حقوق اس رٹ میں راوی ستلج فورم کے سربراہ اور خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد پاکستانی عوام کے لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی ستلج اور راوی کے زیریں حصے کے لوگوں کو بھی پینے کے پانی، گھریلو استعمال کے پانی، آبی حیات، انوائرمنٹ اور پن بجلی کے لئے پانی کا حق ملنا چاہئے بھارت نے ان دریاﺅں کے پانی کوعلاقے میں داخلے کے وقت لکڑی کے شٹر لگا کر بند کر رکھا ہے۔ مرزا آصف بیگ نے کہا پاکستان میں ایک محب وطن شہری نے جو ایک اخبار کا چیف ایڈیٹر بھی ہے ضیا شاہد کی شکل میں پاکستان کی آئندہ نسلوں کے لئے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے آواز اٹھائی ہے جس کی بھرپور حمایت پوری قوم کو کرنی چاہئے ورنہ ستلج اور راوی کیلئے بھارت سارا پانی بند کر چکا ہے اور ان دونوں دریاﺅں میں سارا سال پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے جا رہی ہے اور اندرون زمین بھی پانی کم ہو رہا ہے۔






































