لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت بنے نہ بنے ایسے لوگوں کو ساتھ نہیں لیں گے جو ہمارے پروگرام میں رکاوٹ ڈالیں۔ لڑائی آخری مراحل میں ہے۔ ہر بندے کے پاس اپنا راگ ہے اپنی ڈفلی ہے۔کنور دلشاد نے کہا ہے وفاق میں اپنی حکمت عملی کے تحت عمران خان نے اپنی نمبر گیم اپنے حق میں کر لی ہے تا کہ جتنی ضرورت ہوتی ہے۔ تقریباً 165 کی ضرورت تھی وہ ان کے پاس آ گئی ہے سب سے بڑی بات درست ہے لیکن ان کو وہی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو نومبر 2002 میں ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنانے کے لئے دقت پیش آ رہی تھی وہی صورت حال ہے اب آزاد امیدواروں نے ان کو سہارا دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم اور بلوچستان کے ایم این اے حضرات نے حمایت کر دی ہے اب عمران خان کو بڑی تسلی اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ دقت تو پیش آتی ہے لیکن عمران خان نے بڑی دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ہر بات کو سیکرٹ رکھا ہے اور رازداری سے کام لے کر کمال کر دیا۔ کوئی ہوا نہیں لگنے دی کہ چیف منسٹر کون بن رہا ہے۔ صحیح سمت کی طرف جا رہے ہیں پنجاب میں بھی ان کی حکومت بن جائے گی ظاہر ہے 30,29 آزاد امیدوار ہیں ان میں سے آدھے ارکان نے پی ٹی آئی کا ساتھ دے دیا، لیکن ابھی پنجاب میں دقت پیش آ رہی ہے پنجاب میں انہیں چاہئے کہ 182 ممبران کی حمایت چاہئے۔ تب ان کی حکومت بنتی ہے پنجاب میں۔ ابھی فی الحال 155 ہیں۔ پنجاب میں ان سخت ترین ٹف ٹائم مل رہا ہے اس کے لئے انہیں حکمت عملی اپنانی پرے گی۔ پرویزالٰہی بھی ان کے ساتھ ہیں وہ بھی بڑے سیاست دان ہیں سارے معاملات لے کر چل رہے ہیں لیکن ابھی نواز شریف کی جو پارٹی ہے ان کو بڑا دھچکا لگا جب ممنون حسین جب ہسپتال نہیں گئے کسی سکیورٹی نقطہ نظر سے اس کے بعد ان کا مورال گر گیا ہے اگر ممنون حسین ان کی عیادت کے لئے چلے جاتے تو پارٹی کو بڑا حوصلہ پیدا ہوتا۔ اب وہ پارٹی آہستہ آہستہ نیچے آ گئی ہے۔ اب انہیں محسوس ہو گیا نوازشریف کا باب بند ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں یہ بہت اچھی داند مندی ہوئی کہ ممنون حسین سکیورٹی کی وجہ سے نہیں جا سکے۔ضیا شاہد نے کہا کہ ہمارے بہت سے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں بہت سے خدشات تھے۔ بہت سی مشکلات اور مسائل تھے لگتا تھا کہ اس بات میں پکڑے جائیں یا دوسری میں پکڑے جائیں گے یا تیسری میں پکڑے جائیں لیکن ہم اس کے بعد ایک اعلان آیا نیب کی طرف سے۔ نیب کے سربراہ نے کہا کہ 25 جولائی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا چنانچہ تھوڑی سی ٹھنڈ پڑ گئی اور کام کاج چلنے لگا، لیکن جونہی الیکشن کے رزلٹ سامنے آئے ہیں اور اب ایک بار پھر کل شام سے ذرا ہلہ گلہ نیب کے اندر شروع ہے اور نئی نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں جیسے ایک دلچسپ بیان فواد حسن فواد کا جو پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر تھے لیکن اس سے پہلے یہاں پرسنل سیکرٹری تھے شہباز شریف صاحب کے۔ آج جو کچھ انہوں نے کہا کہ اپنے ٹھیکوں کے بارے میں، دوسرے پراجیکٹس کے سلسلے میں اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جو معاملات اور صورتحال یہاں تھی شاید وہی ااگے چل کر اسلام آباد میں چلی ہوا ہے کافی تشویشناک حالات بتا رہے ہیں جو اب تک سامنے آئے ہیں کیا پاکستان میں ہر حکومت میں کیا ایسا ہی چلتا رہا ہے کہ بیورو کریسی سے پوچھ گچھ کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ٹھیکے بھی ایسے ہی ملتے ہیں کام بھی ایسے ہی ملتا ہے اور جس کو دینا ہوتا ہے دے دیتے ہیں یہ ٹینڈر وینڈر، سسٹم صرف کاغذی اور نمائشی ہے۔ کیا صورتحال مستقبل میں بہتر ہوتی نظر آتی ہے یا حکومت کے چہرے کوئی سے بھی ہوں۔ نیچے اسی طرح کے جھرلو چلتے رہیں گے۔کنور دلشاد نے کہا کہ فواد حسن فواد نے سارا کرپشن کا ملبہ شہباز شریف پر ڈال دیا اس کا رزلٹ 25 جولائی کے انتخاب کے بعد بیٹھ گئی۔ پہلے بیورو کریسی کو یہ حوصلہ دیا گیا تھا کہ ہم 25 جولائی کو واپس آ رہے ہیں وہ نیب سے تعاون نہیں کر رہی تھی لیت و لعل کر رہی تھی جونہی رزلٹ سامنے آیا جیسے کہ روایت ہے کہ جس کی حکومت ہے اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن سکتا ہے۔ توقیر شاہ جو ہے وہ ماڈل ٹاﺅن کے واقعہ سے شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے گا اسی طرح آئی جی مشتاق سکھیرا بھی وعدہ معاف بنے گا۔ اس لئے شریف فیملی جو ہے ان کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے بیورو کریسی حکومت کے ساتھ ہوتی ہے 25 جولائی تک فواد حسن فواد نے سب کو حوصلہ دیا تھا کہ کوئی تعاون نہیں ہم واپس آ رہے ہیں۔ نگران حکومت نے اسحق ڈار کے وارنٹ جاری نہیں کئے نہ لندن میں جو جائیدادیں ہیں اس کو واپس لینے کے لئے وزارت خارجہ نے کوئی خط لکھا یہ سارے معاملات 25 جولائی کا انتظار کر رہے تھے۔ نہ نگران وزیراعظم نے آئینی ذمہ داری پوری کی اور نہ ہی صوبائی وزیراعلیٰ نے کوئی کام کیا۔ یہ تو قدرت کی طرف سے 25 جولائی کو عمران خان پر اعتماد کیا اور ووٹ دے دیا جس کی وجہ نواز فیملی ختم ہو گئی۔ اب بیوروکریسی بھی بیٹھ گئی۔ وہ 25 جولائی کا انتظار کر رہی تھی۔ اب نیب بھی حرکت میں آ گئی ہے سارے کام کر رہی ہے۔ 25 جولائی کے بعد ملک بچ گیا اور اچھی سمت کی طرف جا رہا ہے اور عمران خان بین الاقوامی سطح پر لیڈر بنے گا پاکستان کے علاوہ بھی۔ 5 حلقوں سے کامیاب ہو گیا۔ ایک کروڑ 70 لاکھ ووٹ لے لیا۔ پورے ملک میں اس کو نمائندگی مل گئی۔ دنیا میں کوئی لیڈر نہیں ہے بحران ہے کوئی سیاستدان نہیں ہے۔ آپ کا تعاون بھی حاصل ہے ہماری دُعائیں بھی شامل ہیں۔ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میری بیورو کریسی بارے کم معلومات ہیں افسوس ہے کہ ٹاپ کا بیورو کریٹ جھوٹ بہت بولتا ہے۔ فواد حسن فواد سے اللہ جانتا ہے نہ مجھے ان سے کوئی کام تھا نہ اس نے میرا کچھ بگاڑا ہے۔ لیکن میں نے 5,4,3 دفعہ رابطہ کیا شاید دو دفعہ ملاقات ہوئی میں نے ہمیشہ دیکھا کہ وہ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا۔ اخبارات کی دو تنظیمیں ہیں اے پی این ایس ناشران اور مالکان کی تنظیم ہے حمید ہارون صاحب آج کل اس کے صدر ہیں جن کا ڈان اخبار سے تعلق ہے اور ہمارے دوست سرمد علی روزنامہ جنگ سے ان کا تعلق ہے وہ اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جو دوسری تنظیم ہے اس کا تعلق ناشران سے یا مالکان نہیں ہے یہ ایڈیٹروں کی تنظیم ہے جس کو سی پی این ای کہتے ہیں۔ یعنی اخبارات کی مدیران کی تنظیم۔ اس کا نام مخفف میں سی پی این ای۔ میں 2 سال سی پی این ای کا صدر رہا ہوں اور پچھلے دنوں میرے دو سال پورے ہوئے۔ دو سال سے تیسری مرتبہ الیکشن نہیں لڑ سکتا اور محمد نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کی طرح ہم بھی کوشش کرتے تو آئین میں تبدیلی کر کے مزید دو سال بھی رہ سکتے تھے لیکن اے پی این ایس میں کسی نے ہمت کی نہ ہم نے یہ جرا¿ت کی۔ اے پی این ایس کا دفتر سندھ حکومت نے پلاٹ دیا تھا اور وہ اس پلاٹ پر بلڈنگ نہیں۔ یہ کسی ایک ادارے کی بلڈنگ نہیں ہے بلکہ سارے اخبارات کی اسی طرح ہم نے یہ کوشش شروع کی ہوئی تھی کہ اے پی این ایس کا دفتر کراچی میں ہے لہٰذا سی پی این ای کا اسلام آباد میں ہونا چاہئے، ہم کوئی 8,7,6 برس سے لگے ہوئے تھے۔ پہلے ہمارے دوست مجیب الرحمن صدر تھے مجھ سے پہلے انہوں نے بھی کوشش کی میں نے بھی کوشش کی۔ ہم نے بہت بھاگ دوڑ کی اور حتیٰ کہ کیس منظور ہو گیا دستخط ہو گئے پلاٹ منظور ہو گیا۔ اب آپ اندازہ کریں اللہ معاف کرے ہمیں مصیبتوں سے نجات دلائے جناب دو سال تک یہ کہا جاتا رہا کہ یہ پلاٹ منظور ہو گیا بلڈنگ ہم نے خود بنانی تھی۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی بات ہے میں تو گھر بیٹھا ہوں اس کے عارف نظامی صاحب آتے ہیں عارف نظامی دو سال پورے کر لیں تو کوئی اور صاحب آ جائیں گے یہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہ چیمبر آف کامرس کی طرح ہے۔ دو سال تک فواد حسن فواد مسلسل یہی کہتا رہا کہ وزیراعظم صاحب کے پاس وقت نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے یہ کاغذات سی پی این ای کو دیں اور آپ کو اس مقام پر لے جا کر جو وہ کاغذات دیئے جائیں وہاں ایک تقریب ہو۔ ہم نے کہا کہ ہمارے لئے اعزاز ہو گا کہ پاکستان کا وزیراعظم خود اپنے کاغذات ہمارے سپرد کرے۔ بالفرض وہ مصروف ہے کوئی بات نہیں وزیراطلاعات کر دے، 2 سال گزر گئے وزیراعظم کو وقت نہیں ملا۔ پھر پتہ چلا کہ ایک محکمے سے دوسرے محکمے کی طرف فائل جا رہی ہے۔ بیوروکریٹس کا سٹائل بن گیا کہ جھوٹ پر جھوٹ بولنا ہے نوازشریف کے بعد شاہد خاقان عباسی بھی چلے گئے۔ضیا شاہد نے کہا کہ برطانیہ میں الطاف حسین کی بیماری کی وجہ سے ان کے خلاف 2 سال سے کیسز چل رہے ہیں۔ 10 سال سے کہہ رہا ہوں کہ انگریز الطاف کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔ انگریزوں کا چھوٹا سا جزیرہ ہے اور انہوں نے دنیا پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں عام آدمی کے لئے انتہائی خوفناک قوانین ہیں، میں نے لندن میں اپنا پرائیویٹ علاج کرایا تھا اور وہاں میری اہلیہ کے بھائی مجھے پیسے نہیں دے سکتے تھے، حکومت کو درخواست دینا پڑتی تھی کہ فلاں کام کے لئے کسی کو اتنے پیسے دے رہا ہوں۔ تجزیہ کار لندن وجاہد حسین نے کہا ہے کہ بانی متحدہ پر کئی سالوں سے 2 کیس چل رہے ہیں، عمران فاروق قتل اور منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔ دونوں کیسز فریز کیسے ہوئے ہیں۔ یہ کیس 10 سال میں بھی حل نہیں ہو گا۔ انگریز کی بھی جب کہیں مفاد ہوتا ہے تو وہ انصاف کی پرواہ نہیں کرتے۔ پورے یورپ میں ایسا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی ذرائع بتا رہے ہیں کہ کلثوم نواز کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور آہستہ آہستہ وینٹی لیٹر سے ہٹایا جا رہا ہے۔ کلثوم نواز کی حالت اب قدرے بہتر ہے۔






































