پاکپتن (نمائندہ خبرےں) شہر اور گرد و نواح مےں سود خوروں کے کارندے دھمکےاں دےتے ہےں اور وصول شدہ خالی چےکوں پر زےادہ رقم بھر کر مقدمات بھی درج کرا دےے جاتے ہےں، مقامی انتظامےہ سود خوروں کے متعلق اےکٹ پر عمل کرانے مےں نا کام، اےک سروے کے مطابق گلی محلوں مےں سونے کی اشےاءرکھ کر جائےداد کے کاغذات رکھ کر سود پر رقم دی جاتی تھی، لےکن اب شہر کے مختلف علاقوں مےں بڑے بڑے پُر کشش سٹور بنا کر اُن پر گھرےلو ضرورت کی الےکڑانک اشےائ، موٹر سائےکل، اور دےگر اشےاءسود پر دے کر لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹا جا رہا ہے ،ضمانت کے طور پر چےک وصول کےے جاتے ہےں اقساط کے لےٹ ہونے کے باعث سود خوروں کے کارندے لوگوں کے گھروں اور دُکانوں پر جا کر دھمکےاں دےتے ہےں اور اگر کوئی مجبور شخص رقم ادا نہ کر سکے تو اُن کے خالی چےک پر بڑی رقم کا اندراج کر کے مقدمات درج کرا دےے جاتے ہےں ، قابل ذکر امر ےہ بھی ہے کہ اےف آئی اے حکام نے سُود خوروں کو نظر انداز کےا ہوا ہے ، عالی شان پلازوں مےں کروڑو ں روپے کا کاروبار ہو رہا ہے ، لےکن سود خوروں پر ہاتھ ڈالنے کو کوئی تےار نہےں ہے ، مےونسپل کمےٹی کے نچلے درجے کے ملازمےن بھی سُود خوروں کے شکنجے مےں جکڑے ہوئے ہےں ، سود خوروں نے رقم کی وصولی کے لےے اُن کی تنخواہوں کی چےک بکس ہی اپنے پاس رکھی ہوئی ہےں ، عوامی ، سماجی ، حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کےا ہے کہ سُود خوروں کے خلاف کاروائی عمل مےں لائی جائے۔
