نا معلوم افراد نے خواجہ سراﺅں کو بھی نہ بخشا ، چونکا دینے والی خبر نے تھر تھلی مچادی

پشاور (ویب ڈیسک )پشاورکے علاقہ سربندمیں نامعلوم افرادنے چاقوکے وارکرکے 3 خواجہ سراو¿ں کو زخمی کردیا۔پولیس حکام کے مطابق 3 خواجہ سراو¿ں پرنامعلوم افرادنے تشددکیا اور ملزمان نے خواجہ سراو¿ں کوچاقوکے وارکرکے زخمی کردیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے تینوں خواجہ سراوں کو ہسپتال منتقل کر دیا جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ تھاناسربند میں واقعہ کی ایف آئی آردرج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

 

چند سادہ سی ایسی عادات جو آپ کے ہاضمہ کو مضبوط بنا سکتی ہیں

لاہور( ویب ڈیسک ) غذا کو کھانا ہر انسان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے اور اسے پرمسرت حصہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔مگر غذا سے اسی وقت لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا نہ ہو، دوسری صورت میں پیٹ پھولنے اور دیگر تکالیف اس تجربے کو تکلیف دہ بنا دیتے ہیں۔زیادہ کھانا ہوسکتا ہے کہ نظام ہاضمہ پر بوجھ بڑھا دے اور کمزور نظام ہاضمہ ہونے پر یہ بھیانک خواب ثابت ہوسکتا ہے۔تاہم چند سادہ سی عادات کو اپنا کر آپ اپنے کمزور ہاضمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔پانی پینا
صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے جسم میں پانی کی مناسب مقدار کنجی ہے، پانی نہ صرف ٹھوس غذا کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے بلکہ ضروری اجزاءکو مناسب طریقے سے جذب بھی کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی پینا نظام ہاضمہ کو بیدار کرکے میٹابولزم کی رفتار بڑھا دیتا ہے، جبکہ کھانے کے درمیان میں پانی پینا معدے کی تیزابیت پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتا ہے۔سبز چائے کا استعمال سبز چائے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور مشروب ہے جو نہ صرف جسم میں ورم کو کم کرتا ہے بلکہ میٹابولزم کو بھی فوری حرکت میں لاتا ہے۔ تو کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے اس مشروب کو پینا ہر غذا کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔سیب کا سرکہ کچھ تلخ کھانا نظام ہاضمہ کو بھرپور طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک چمچ سیب کا سرکہ کچھ اونس پانی میں کھانے سے پہلے ملاکر پی لیں، کسی غذا کو ہضم کرنے کے دوران معدے کی تیزابیت کی ضرورت ہوتی ہے جو غذا کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرسکے اور تلخ غذائیں اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں کیونکہ یہ معدے کی تیزابیت کو زیادہ غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

 

آپ سانس کی بد بو سے نجات حاصل کر نا چاہتے ہیں تو لا زمی یہ خبر پڑھیں

کیا آپ کو اکثر سانس میں بو کا سامنا ہوتا ہے؟ تو اس کی کئی وجوہات اور عناصر ہوسکتے ہیں اور آپ کی کچھ غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔تو اگر آپ کو اکثر اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو پریشان مت ہوں، درحقیقت اس کا بہت آسان اور بہترین علاج موجود ہے، مگر اکثر افراد اس پر توجہ تک نہیں دیتے۔جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ادرک جسمانی وزن میں کمی سمیت متعدد فوائد کی حامل ثابت ہوتی ہے مگر اس کا ایک اور فائدہ لوگوں کو معلوم نہیں اور وہ ہے سانس کی بو سے نجات۔ادرک میں موجود ایک کمپاﺅنڈ سکس gingerol اس مسئلے سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔یہ کملاﺅنڈ تھوک میں موجود انزائمے متحرک کرتا ہے جو کہ سانس میں بو کا باعث بننے والے عناصر کی روک تھام کرتے ہیں۔ادرک کھانے سے تھوک میں sulfhydryl آکسائیڈ کی سطح 16 گنا محض چند سیکنڈ میں بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں سانس میں بو سے نجات ملتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ادرک کھانے سے سانس کی بو کم ہونے لگتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ایگریکلچرل اینڈ فوڈ کیمسٹری میں شائع ہوئے۔اس سے قبل امریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ عام طور پر سانس میں بو جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن کی علامت ہوتی ہے۔ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر ایڈا ایس کوپر کے مطابق اس غلط فہمی میں مت رہیں کہ وزانہ چار بار ما?تھ واش کا استعمال کرنا سانس کی بو کا علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

عامر خان کسی بھی فلم کا معاوضہ کیسے لیتے ہیں ؟ جان کر آپ بھی عش عش کرینگے

ممبئی (ویب ڈیسک ) عامر خان بولی وڈ کا وہ نام ہیں جن کی فلمیں ہی معیار کی ضمانت سمجھی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے انہیں مسٹر پرفیکٹ بھی کہا جاتا ہے۔مگر عامر خان ایک فلم میں کام کرنے کا معاوضہ کتنا لیتے ہیں؟ اس کا انکشاف انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ عامر خان نے بتایا کہ فلم کے منافع کی شکل میں اپنا معاوضہ حاصل کرتے ہیں، مگر اس کا فارمولا کافی منفرد ہے اور کئی مواقعوں پر تو ہوسکتا ہے کہ انہیں کچھ بھی نہ ملے۔عامر خان کہنا تھا ‘ میرے خیال میں اسکرپٹ کسی فلم کی بنیاد ہوتا ہے اور میں اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ جب میں کسی فلم کے لےی حامی بھرلوں تو اسے بنانے والوں کو نقصان نہ ہو’۔انہوں نے کہا ‘ میں پروڈیوسر کے کندھوں پر ذمہ داری نہیں ڈالتا، آج کل اسٹارز فلم کا 80 فیصد حصہ اپنی فیس کے طور پر حاصل کرتے ہیں، باقی بیس فیصد سے کسی فلم کو کامیاب کیسے بنایا جاسکتا ہے؟’انہوں نے اپنے معاوضے کے حوالے سے اپنے ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ‘ میں جس ماڈل کے تحت کام کرتا ہوں، وہ کچھ اس طرح ہے کہ جیسے اگر ایک فلم کی تیاری پر سو کروڑ روپے لگتے ہیں، جس میں کاسٹ، عملہ، پروڈکشن کوسٹ، پوسٹ پروڈکشن کوسٹ اور دیگر سب اخراجات شامل ہوتے ہیں، تو میں اس میں سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتا، تو جب فلم ریلیز ہوتی ہے تو مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملا ہوتا، اور جب وہ کمانا شروع کرتی ہے تو سب سے پہلے اس آمدنی سے پروموشنز اور ایڈورٹائنزنگ ، جس کا تخمینہ 25 کروڑ روپے رکھ لیں، کو کور کیا جاتا ہے، اس کے بعد جب پروڈیوسر کے پیسے ریکور ہوجاتے ہیں اور ہر ایک کو اپنا معاوضہ مل جاتا ہے، تو پھر میں منافع میں سے اپنا حصہ لیتا ہوں’۔عامر خان کے مطابق ‘ اس طریقے سے پروڈیوسر کو ایک روپے کا نقصان بھی نہیں ہوتا اور کسی وجہ سے فلم اپنے اخراجات پوری نہ کرسکے یعنی ناکام ہوجائے تو مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا، میرا پہلا روپیہ اس وقت ملتا ہے جب فلم کی کوسٹ ہر پہلو سے پوری ہوجائے’۔

ان کے بقول یہ وہ ماڈل ہے جس کے تحت وہ کام کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ حصہ لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنا وقت خطرے میں ڈالتے ہیں ‘میرے خیال میں پروڈیوسرز بھی اس ماڈل پر خوش ہیں’۔یہ بھی پڑھیں : عامر خان اور شاہ رخ خان کتنی عیدی دیتے ہیں؟عامر خان نے مزید کہا ‘میرے خیال میں یہ کسی فلم کے لیے بہترین بزنس ماڈل ہے، اگر پروڈیوسرز کو نقصان نہ ہو تو وہ یقیناً مجھے اپنی اگلی فلم کے لیے سائن کریں گے، یہی وجہ ہے کہ میں اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ میں جس فلم میں کام کروں، اس کو کوئی نقصان نہ ہو’۔خیال رہے کہ عامر خان رواں سال نومبر میں یش راج فلمز کی فلم ‘ٹھگ آف ہندوستان’ میں نظر آئیں گے، جس کی ہدایات وجے کرشنا اچاریہ دے رہے ہیں جبکہ اس کی کاسٹ میں عامر خان کے ساتھ کترینہ کیف، امیتابھ بچن اور فاطمہ ثنا شیخ شامل ہیں۔

 

بانی ایم کیو ایم کیخلاف بر طانوی قانونی فرم کی خدمات حاصل کر لی گئیں

کراچی (این این آئی) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف برطانوی قانونی فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔بدھ کوکراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی، تفتیشی افسر نے مقدمے میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں بانی ایم کیو ایم کے گرد گھیرا مزید تنگتے ہوئے برطانوی قانونی فرم کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں، برطانوی قانونی فرم نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں تفتیش کنندگان نے پاکستان کا دورہ بھی کیا ہے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ماضی میں برطانوی قانونی فرم کی خدمات نہ ہونے کے سبب ایم کیو ایم بانی بچ نکلتے رہے ہیں، تاہم اب ملزم کے خلاف دیگر ممالک سے بھی شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں، اب تک 69بنک اکاﺅنٹس کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایم کیو ایم کے ذیلی ادارے خدمتِ خلق فاﺅنڈیشن کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، متحدہ کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز اور ڈپٹی میئر کے ذریعے رقم منتقل ہوتی رہی، منی لانڈرنگ کیس میں پیش رفت سے عدالت کو جلد آگاہ کردیا جائے گا، ایم کیو ایم بانی ملک دشمن سرگرمیوں اور کراچی میں قتل و غارت میں بھی ملوث ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں نیب، رینجرز اور دیگر اداروں سے بھی معلومات طلب کی گئی ہیں، وزارتِ خارجہ کے ذریعے دوسرے ممالک سے معلومات منگوائی ہیں، برطانوی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے بھی بینک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ مانگ لیا گیا ہے۔

 

بجلی کا بڑا کریک ڈاﺅن ،آدھے سے زیادہ لاہور اندھیرے میں ڈوبا رہا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور میں بجلی کا بڑا بریک ڈاو¿ن، آدھے سے زیادہ شہر تاریکی میں ڈوب گیا، نجی ٹی وی کے مطابق 220کے وی سرکٹ سے شہر کے بہت سے علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، بندروڈ، شادمان، ٹاو¿ن شپ، جوہر ٹاو¿ن اور دیگر علاقوں کے گرڈ
بجلی کی عدم فراہمی پر بند ہوگئے، شہر کو بجلی فراہم کرنے والا 220کے وی سرکٹ این ٹی ڈی کے کنٹرول میں ہے، بجلی بند ہونے سے شہر بھر میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ، شدید گرمی اور حبس سے لوگوں کا برا حال ہوگیا، جبکہ شہر ے متعدد ہسپتالوں میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے مریضوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

 

یونیورسٹی اساتذہ سیاست ،خٓاندانی اختلافات وی سی کے اقدام خودکشی کی وجہ بنے :ذرائع

ملتان (سپیشل رپورٹر) زکریا یونیورسٹی کی اساتذہ کی سیاست ایک اور وائس چانسلر کو لے ڈوبی اور انہیں اس

حد تک ذہنی دباﺅ میں گزشتہ کئی ماہ سے مبتلا رکھا کہ انہوں نے دباﺅ برداشت نہ کرتے ہوئے دفتری اوقات کے دوران نیند کی 40 سے زائد گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی مگر بروقت طبی امداد اور معدہ واش کیے جانے پر ان کی زندگی تو بچ گئی مگر پہلے سے متاثر صحت کے مزید متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل اس یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامی افیسر سابق وائس چانسلر خواجہ ……….. کے ساتھ بھی اسی قسم کا سلوک کر چکے ہیں اور انہیں جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی ڈاکٹر طاہر امین پر دوطرفہ سخت دباﺅ تھا۔ اسلام آباد میں ان کی فیملی دو وجوہات سے ان سے ناراض تھی جن میں ایک وجہ تو ان کی دوسری شادی اور پھر طلاق اور دوسری وجہ نوکری سے استعفیٰ دے کر گھر نہ بیٹھنا اور یونیورسٹی کے اساتذہ کے ایک گروہ کے ہاتھوں مسلسل یرغمال بنے رہنا مگر گھر والوں کے سخت دباﺅ کے باوجود وائس چانسلر کے عہدے پر براجمان رہنا اور یہی وجہ ہے کہ اقدام خودکشی اور 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود اس کی فیملی کا کوئی بھی فرد اسلام آباد سے ملتان نہ آیا حالانکہ نشتر کے ڈاکٹروں نے ازخود فون کر کے ان کی بیٹی کو اطلاع دی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے بھائی مسعود امین بھی اپنی زندگی میں چار شادیاں کر کے چار طلاقیں دے چکے ہیں۔ یونیورسٹی میں اساتذہ کا ایک گروپ جس کے برین ڈاکٹر بسم اللہ ہیں اور تمام تر منصوبہ بندی انہی کی ہوتی ہے۔ انہیں سخت دباﺅ ڈال کر ریٹائرڈ ہونے کے بعد واپس یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر محض اس لیے رکھا گیا کہ اساتذہ کے گروپ کو منصوبہ سازی سے اکٹھا رکھا جائے۔ اس گروپ میں ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر روبینہ ترین، یونس ندیم، رانا ایاز، اسلم شاد سمیت ریٹائرڈ پروفیسر حضرات کو وائس چانسلر پر سخت دباﺅ ڈال کر کنٹریکٹ پر نوکریاں دی گئیں حالانکہ یونس ندیم کی عمر 67 سال سے زائد ہے اور وہ کسی طور پر بھی دوبارہ ملازمت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ روبینہ ترین یونیورسٹی میں اپنی بیٹی اور داماد کو ملازمت دلوانے میں کامیاب ہو گئیں جبکہ یونس ندیم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی باوجود اساتذہ کے اس گروپ کی کوشش کے یونیورسٹی میں ملازمتیں حاصل نہ کر سکے۔ اسی طرح رانا ایاز کی کوششیں بھی ضائع ہو گئیں۔ اساتذہ کے گروپ کے شدید پریشر نے وائس چانسلر ڈاکٹر طاہرامین کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا اور وہ یونیورسٹی سے جانا چاہتے تھے مگر یونیورسٹی کے گروپس انہیں باور کراتے تھے کہ وہ یونیورسٹی میں رہ کر نیب میں اپنے معاملات کلیئر کرائیں اگر وہ چلے گئے تو حالات بگڑ جائیں گے۔ اس گروپ نے انتہائی ناجائز طور پر پروفیسر مقرب اکبر کو کوالیفائی نہ ہونے کے باوجود وائس چانسلر پر دباﺅ ڈال کر انہیں پروفیسر بنوا دیا اور یہ غیرقانونی کام بھی وائس چانسلر کے لیے وبال بنا ہوا تھا پھر وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے دو پروفیسر حضرات عابد لطیف اور طاہر سلطان کو قوائد سے ہٹ کر پارٹ ٹائم لیکچرز کے طور پر لاکھوں روپے کی غیرقانونی ادائیگی کی جو ان کے لیے مشکل پیدا کر رہی تھی اور وہ اب انکوائریاں بھگت رہے تھے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر امین اس قدر نفسیاتی دباﺅ میں تھے کہ کئی کئی دن یونیورسٹی میں آتے ہی نہ تھے اور کوئی ایمرجنسی ڈاک ہوتی تو یہاں سے ملازمین لے کر اسلام آباد جاتے او ردستخط کروا کر لاتے۔ کئی ماہ کے اس مسلسل دباﺅ نے ایک علمی شخصیت کو اقدام خودکشی کرنے پرمجبور کر دیا کہ انہیں ان معاملات سے فرار کا اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ تمام راستے ان کے نزدیک بند ہو چکے تھے۔
اقدام خودکشی

نیب نے شہبازشریف کو 20اگست ،امیر مقام کو آج طلب کر لیا

لاہور، پشاور (نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو (نیب ) نے آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہبازشریف کو ایک بار پھر طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق شہبازشریف کونیب لاہورنے آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ کیس میں تحقیقات کے لئے 20 اگست کوطلب کیا ہے جبکہ پاورکمپنی کیس میں بھی شہبازشریف کو20 اگست کوطلب کررکھا ہے۔ نیب لاہورنے شہبازشریف کی طلبی کا نوٹس ان کی رہائش گاہ پربھجوادیا ہے۔واضح رہے کہ صاف پانی سمیت پنجاب کمپنیزمیں مبینہ کرپشن کی تحقیقات میں شہبازشریف 2مرتبہ نیب میں پیش ہوچکے ہیں جبکہ پنجاب پاور کمپنی کرپشن کیس میں اپنا بیان بھی ریکارڈ کراچکے ہیں۔ جبکہ قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدرامیرمقام کو (آج ) جمعرات کو طلب کرلیا ۔نیب کے مطابق امیر مقام پر اسلام آباد، لاہور پشاور میں جائیدادیں جب کہ سوات، شانگلہ اور پشاور میں زرعی اراضی خرید نے کا الزام ہے۔نیب حکام کے مطابق مسلم لیگ ن کے صوبائی صدرامیرمقام پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کاالزام ہے اور ان کے اثاثوں کی انکوائری کی جا رہی ہے۔ امیر مقام پر اسلام آباد، لاہور پشاور میں جائیدادیں جب کہ سوات، شانگلہ اور پشاور میں زرعی اراضی کا الزام ہے۔امیر مقام کو اسی حوالے سے پوچھ گچھ کے لئے آج بلایا گیا جس کے لئے سوالنامہ بھی تیار کرلیا گیا ۔اس سے قبل 19 جولائی کو مسلم لیگ( ن) کے صدر انجینئر امیر مقام نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی، انجینئر امیر مقام نے درخواست جمع کرائی تھی کہ وہ انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے نیب کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے، وہ انتخابات کے بعد قومی احتساب بیورو کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس سے قبل12جولائی کو نیب نے امیر مقام کی جائیدادوں کی تفصیلات کیلئے محکمہ ایکسائز پنجاب کو مراسلہ لکھا تھا،مراسلے میں نیب نے امیر مقام، ان کے چار بیٹوں، دو بیٹیوں اور اہلیہ کے نام جائیداد اور رجسٹرڈ گاڑیوں کا ریکارڈ مانگا تھا۔

 

بندوخان بیکرز کیخلاف شہری پھٹ پڑے ،ناقص اشیاءکی فراہمی جاری

لاہور (خبر نگار) بندو خان بیکرز کے خلاف شہر ی پھٹ پڑے ،ناقص اور مضر صحت اشیا کی فراہمی جاری۔ فوڈ اتھارٹی نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی شہریوں کا کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بندو خان بیکرز اینڈ ریسٹورنٹ کےخلاف پہلے بھی ناقص انتظامات اور اقص اشیا ءکی فروخت پر مختلف ادارے کاروائی کر چکے ہیں لیکن بیکرزانتظامیہ پھر بھی باز نہ آئی ،جون 2018محکمہ ماحولیات کے انسپکٹرز ساجد علی اور محمد حسنین خان نے ڈپٹی ڈائریکٹر مصباح الحق لودھی کی سربراہی میںٹیم نے ویسٹ واٹر کو بغیر ٹریٹمنٹ کے خارج کرنے پر بندو خان سویٹس اینڈ بیکرز اور ہال مارک اپارل کو سیل کر دیاتھا۔ اسی طرح سابق ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے لاہور کے معروف سویٹ ہاﺅس بندو خان کاپروڈکشن یونٹ زائدالمیعاداجزاء کے استعمال پر سیل کر دیا،یونٹ سے 4 من زائدالمیعادکھویا بھی برآمد کر کے تلف کر دیا تھا۔ فروری 2018 میں سابق ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے سپیشل ریڈ کرتے ہوئے علامہ اقبال ٹاﺅن، مون مارکیٹ میں حشرات اور چوہوں کی روک تھام کے نامناسب انتظامات پر بندوخان ریسٹورنٹ کو 50 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا تھا۔ ڈائریکٹر اپریشن فوڈ اتھارٹی رافعیہ حیدر نے روزنامہ خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف پہلے بھی فوڈ اتھارٹی کارروائی کر چکا ہے اب بھی کاروائی ہوگی۔

عمران خان، چوہدری نثار میں بیک چینل رابطے کا انکشاف

راولپنڈی (بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور چودھری نثار علی خان کے مابین بیک چینل رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور چودھری نثار علی خان آپس میں رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان چودھری نثار علی خان کو ضمنی انتخاب لڑوا کر قومی اسمبلی میں لانے کے خواہشمند ہیں اور اس معاملے پر دونوں رہنماو¿ں کے مابین بات چیت بھی ہوئی جس پر چودھری نثار علی خان نے عمران خان کو مثبت جواب دیا ہے۔دوسری جانب سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے بھی چودھری نثار علی خان سے رابطہ کیا۔ مسلم لیگ( ن) نے دعویٰ کیاکہ چودھری نثار علی خان نے انہیں حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔مسلم لیگ( ن) نے پنجاب میں حکومت سازی کے لیے چودھری نثار علی خان سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد ن لیگ کے رہنماءرانا ثناءاللہ نے بیان دیا تھا کہ مسلم لیگ( ن) کے ناراض رہنماءچودھری نثار علی خان نے وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چودھری نثار علی خان نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا، عام انتخابات 2018ءکے نتائج کے مطابق چودھری نثار علی خان کو قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں این اے 63 اور این اے 59 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 12 سے بھی شکست کھائی اور صرف صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 10 سے کامیاب قرار پائے۔عام انتخابات 2018ءمیں چودھری نثار علی خان کی ناکامی کو کئی نظریات سے دیکھا گیا ، لیکن اب مسلم لیگ( ن) نے تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد بھی چودھری نثار علی خان سے ہی رابطہ کیا جبکہ ان کے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سے بھی بیک چینل رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چودھری نثار علی خان کس سیاسی جماعت کی حمایت کریں گے اور کیا وہ صوبائی اسمبلی کی نشست سے ہی حلف ا±ٹھا لیں گے یا پھر پاکستان تحریک انصاف کے مشورے پر ضمنی انتخاب لڑ کر قومی اسمبلی میں اپنی جگہ بنائیں گے۔