جاوید لطیف کے گن مینوں نے رکشہ ڈرائیور کی ناک توڑ دی

شیخوپورہ (بیورورپورٹ) شیخوپورہ میں مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کے گن مینوں نے حالیہ انتخابات میں مخالفت پر غریب رکشہ ڈرائیور محمد ریاض کو بتی چوک میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں وحشیانہ تشدد کرکے بازو اور ناک کی ہڈی توڑ ڈالی اور ویگو ڈالہ میں اغواءکرکے فرار ہوگئے اس واقعہ کے خلاف رکشہ ڈرائیوروں نے بتی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور تمام شاہراﺅں کورکشہ کھڑے کرکے بلاک کردیا جس سے دور دور تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مظاہرین نے نومنتخب رکن قو می اسمبلی میاں جاوید لطیف کے خلاف نعرے بازی کی تاہم پولیس نے مظاہرین کے مطالبہ پر ایم این اے کے دونوں گن مین یونس افغانی اور عثمان ارائیں کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا اور ان کے خلاف اغواءاور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ مغوی رکشہ ڈرائیور ملزمان کے چنگل سے بھاگ کر ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچ گیا جہاں اس کو طبی امداد فراہم کی گئی ، پولیس رپورٹ کے مطابق محلہ شاہ کالونی شیخوپورہ کا رہائشی رکشہ ڈرائیور محمد ریاض بدھ کے روز اپنے رکشہ پر بتی چوک میں موجود تھے اس دوران سیاہ رنگ کا ویگو ڈالہ اس کے قریب آکر رکا جس میں سوار کلاشنکوفوں سے مسلح یونس افغانی اور عثمان ارائیں وغیرہ نے اس پر تشدد شروع کردیا اور کہا کہ اسکو مخالفت کا مزہ چکھا دو اور پھر زبردستی ڈالہ میں ڈال کر فرار ہوگئے ملزمان نے فلمی انداز میں رکشہ ڈرائیور کو اپنے آگے دوڑنے کو کہا اور اس کے پاﺅں میں فائرنگ کرتے رہے تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا اور ملزمان سے بڑی مشکل سے جان بچا کر شہر پہنچ گیا ملزمان کے تشدد سے رکشہ ڈرائیور کے بازو اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کے علاوہ آنکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی جسے ہسپتال داخل کروادیا گیا ہے ، یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ ایم این اے کی انتخابی مہم کے دوران بھی ان کے قافلے میں افغانیوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی، پولیس نے ان افغانیوں کی شناخت کیلئے کوئی موثر کاروائی نہ کی دوسری طرف رکشہ ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ کے باعث شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

 

مریم نے جیل میں کتاب لکھنا شروع کر دی

راولپنڈی(سٹی رپورٹر)سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اڈیالہ جیل میں کتاب لکھنا شروع کر دی۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اس وقت احتساب عدالت کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کاٹ رہی ہیں اور وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔باخبر لیگی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مریم نواز نے جیل میں کتاب لکھنا شروع کر دی ہے اور کسی بھی وقت یہ خبر سامنے آ سکتی ہے کہ مریم نواز کی انکنشافات سے بھر پور کتاب سامنے آ رہی ہے۔اور پھر اس کتاب کی پوری دنیا میں مارکیٹنگ کی جائے گی،ابھی مریم نواز کی کتاب کو خفیہ رکھا جا رہا ہے لیکن جیل انتظامیہ بھی اس حوالے سے الرٹ ہے۔۔مریم نواز کتاب میں جو بھی لکھتی ہیں وہ نوٹس ان سے ملاقات کرنے کے لیے جو بھی آئے اسے دے دیتی ہیں اور مریم نواز نے جیل میں جو کتاب لکھنے جا رہی ہے وہ منظر عام پر بھی آ جائے گی۔

 

رشوت لیکر زیادتی کی کوشش کا ملزم بے گناہ قرار ، رہاکر دیا ، متاثرہ لڑکی نے ” خبریں ہیلپ لائن “ سے مدد مانگ لی

لودہراں (رپورٹ:امین چوہدری سے)تفتیشی افسر تھانہ سٹی لودہراں مبینہ طور پر 1لاکھ کے عوض اوباش درندہ کا سرپرست بن گیا مدعیہ کی شنوائی اور انکوائری اور موقع دیکھے بناءہی ملزم کو بے گناہ اور مدعیہ کو جھوٹا قرار دے دیا 12گھنٹے کے اندر ہی ملزم کو رہا کر دیا 20سالہ (س) حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کاروائی کرنے پر جان سے مار دینے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں 20سالہ (س)کی ”خبریں“ہیلپ لائن پرحصول انصاف کی اپیل ”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان،اور DPOلودہراں سے پولیس یونیفارم میں ملبوس اس اتھرے تھانیدار اور اوباش درندہ کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی اپیل۔تفصیل کے مطابق نئی بستی ڈبل پھاٹک لودہراں کی رہائشی 20سالہ(س)نے ”خبریں“ہیلپ لائن پر کال کی اور اپنی والدہ کے ہمراہ ”خبریں“دفتر آکر بتایا کہ 3سال قبل اسکے بھائی بہادر علی نے ثمینہ بی بی سے پسند کی شادی کی اور اسے اپنے گھر میں بسایا ہوا ہے مگر ثمینہ بی بی کے بھائی اوباش درندہ صفت سجاول نے میرے بھائی سے بدلہ لینے کی خاطر مجھ پر بری نظریں گاڑھ لیں اور ہم سے بدلہ لینے کیلئے ہمارے گھر کے چکر اورپہرے لگا ئے رکھے مورخہ 24جولائی 2018کو میں گھر میں اور میرا اپاہج بھائی اکیلے تھے کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اوباش درندہ صفت سجاول ولد عمر بخش رات تقریباََ 12بجے میرے گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہو گیا اور مجھے زبردستی اپنی حوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے لگا مگر میرے شور واویلا کرنے پر بلال احمد ولد خدا بخش،محمد عباس ولد نذیر احمد اور دیگر اہل محلہ اکٹھا ہو گیا اہل علاقہ کو آتا دیکھ کر اوباش درندہ صفت سجاول موقع پاکر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہم نے 15پر کال کی جس پر پولیس اہلکار امجد وغیرہ موقع پر آ گئے ہم نے تھانہ سٹی لودہراں میں اوباش درندہ صفت کیخلاف FIRنمبری 517/18بجرم 376ت پ511ت پ درج کروائی اور ہم نے ملزم کوبھی گرفتار کر لیا اور مدعیہ مقدمہ (س)کو کال کی کہ تھانہ میں آکر مجھ سے علیحدہ ملو اور کچھ رقم بھی دو تاکہ مزید کاروائی کی جا سکے مگر میںچونکہ ملتان چلی گئی تھی میں نے ASIکو کہا کہ میں آکر ملتی ہوں مگر اس اتھرے تھانیدار نے میرے تھانہ میں آنے کا نتظار نہ کیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کی نہ ہی میرے گواہان سے کوئی پوچھ کچھ کی اور نہ ہی موقع دیکھا بلکہ مبینہ طور پر ملزم سے 1لاکھ روپے لے کر اسے بے گناہ لکھ کر صرف 12گھنٹوں میں ہی تھانہ سے رہا کر دیا اور میرے نہ آنے اور علیحدہ نہ ملنے پر الٹا مجھے ہی جھوٹا قرار دے دیا مجھے اس بات کی کچھ سمجھ نہ آئی کہ آیا کہ تفتیشی افسر کو12گھنٹوں میں کونسا الہام ہو گیا تھا یا کون سی وحی نازل ہو گئی تھی جس بناءپر اس نے مجھے جھوٹا اور میرے ملزم کو بے گناہ قرار دے دیا مبینہ طور پر رشوت کے عوض یہ اتھرا تھانیدار خود میں ہی عدالت ،DPOبن کر خود ہی فیصلہ سنا ڈالا اور میرے ملزم اوباش درندہ صفت سجاول کو چھوڑ دیا جو اب چھوٹتے ہی مجھے میری والدہ سمیت جان سے مارنے پر درپے ہے اور ہم اس سے اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے ہی گھر سے بے گھر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ہمیں انصاف ملنے کی بجائے ہم پر ہی جینے کیلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے تفتیشی افسر کی مبینہ سرپرستی کی بناءپر اوباش درندہ صفت سجاول ہمیں جان سے مارنے اور مجھ پر تیزاب پھنکینے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے میں حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی ہوں مجھے کہیں انصاف کی امید نہ ہے اور اگر مجھے کچھ ہو گیا تو اسکا ذمہ دار ASIمنیر سنگھیڑا ہو گا حصول انصاف کی خاطر میں نے ”خبریں“کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور میری ”خبریں“کے توسط سے چیف جسٹس آف پاکستان ، اعلیٰ حکام ،RPOملتان،اور DPOلودہراں سے پولیس یونیفارم میں ملبوس اس اتھرے تھانیدار کیخلاف مکمل قانونی کاروائی اور اس اوباش درندہ صفت کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کی اپیل کی ہے20سالہ (س) نے مزید کہا کہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی۔

 

ایوب خان کے دورمیں ڈیمز بنے اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا: توصیف احمد خان ، سابق حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ، فضول منصوبوں پر کام کیا گیا: اعجاز حفیظ ، راوی میں کبھی ڈولفن پائی جاتی تھی آج اس کا حال برا ہے:مریم ارشد ، گزشتہ حکمرانوں کی ترجیحات میں ڈیم تھے ہی نہیں: وسیم اختر ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار مریم ارشد نے کہا کہ اورنج لائن کے باعث لاہور کا حسن تباہ ہوگیا۔ ارفع کریم ٹاور کے قریب سبزی منڈی ختم کردی گئی۔ چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اورنج لائن ٹرین میں کرپشن کی گئی۔ راوی میں کبھی ڈولفن پائی جاتی تھی آج اس کا کیا حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط پر قبضہ دیتا ہے جس کا فائدہ صرف آئی ایم ایف کو ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کی ایک شرط یہ بھی ہوتی کہ تعلیم پر پیسہ خرچ نہ کیا جائے تاکہ قوم کو شعور نہ آجائے ہوسکتا ہے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی نہ پڑے۔ تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو بہت امیدیں ہیں۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا کہ پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہے اس کے بغیر بقا ممکن نہیں۔ ایوب خان کے دور میں ڈیمز بنے اس کے بعد یہ سلسلہ تھم گیا۔ تحریک انصاف کو معاشی میدان میں کافی زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں گرین پاسپورٹ کی عزت بحال کرانا بھی ایک چیلنج ہے۔ عوام کی آنکھوں میں امیدوں کے چراغ روشن ہیں۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا اور قوم کو بے پناہ داغ دیئے اصل منصوبے ترک کرکے فضول منصوبوں پر کام کیا گیا۔ قوم کا کھربوں روپیہ ضائع کیا گیا۔ کیا ان پیسوں سے ڈیم نہیں بن سکتے تھے۔ لوگ صاف پانی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے تو بڑی کامیابی ہوگی لیکن یہ بہت مشکل ہے۔ شریف خاندان نے قوم کو کرپٹ کردیا۔ شہبازشریف اپنے دور میں کارکردگی کے نام پر ڈرامے کرتے تھے۔ کالم نگار وسیم اخترنے کہا کہ گزشتہ حکمرانوں کی ترجیحات میں ڈیم تھے ہی نہیں صرف وقت گزاری کی گئی۔ کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوا کر ڈیمز بنائے جاسکتے ہیں۔ شریف خاندان نے انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کیا۔ پورے پنجاب کا بجٹ صرف لاہور پر خرچ کردیا گیا۔ سروے کے مطابق ملک کے گیارہ لاکھ افراد سالانہ گندے پانی کے باعث مرتے ہیں۔ ہر دسواں آدمی ہیپاٹائٹس کا مریض ہے۔ آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کا ٹھیکہ کاسہ ڈویلپرز کو دیا گیا تھا جو پیراگون سٹی گروپ ہے۔

 

پنجاب حکومت کے تمام ٹھیکے من پسند افراد کو کیوں دئیے جاتے رہے : ضیا شاہد ، عمران خان مرکز میں آسانی سے حکومت بنا لینگے : کنور دلشاد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت بنے نہ بنے ایسے لوگوں کو ساتھ نہیں لیں گے جو ہمارے پروگرام میں رکاوٹ ڈالیں۔ لڑائی آخری مراحل میں ہے۔ ہر بندے کے پاس اپنا راگ ہے اپنی ڈفلی ہے۔کنور دلشاد نے کہا ہے وفاق میں اپنی حکمت عملی کے تحت عمران خان نے اپنی نمبر گیم اپنے حق میں کر لی ہے تا کہ جتنی ضرورت ہوتی ہے۔ تقریباً 165 کی ضرورت تھی وہ ان کے پاس آ گئی ہے سب سے بڑی بات درست ہے لیکن ان کو وہی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو نومبر 2002 میں ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنانے کے لئے دقت پیش آ رہی تھی وہی صورت حال ہے اب آزاد امیدواروں نے ان کو سہارا دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم اور بلوچستان کے ایم این اے حضرات نے حمایت کر دی ہے اب عمران خان کو بڑی تسلی اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ دقت تو پیش آتی ہے لیکن عمران خان نے بڑی دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ہر بات کو سیکرٹ رکھا ہے اور رازداری سے کام لے کر کمال کر دیا۔ کوئی ہوا نہیں لگنے دی کہ چیف منسٹر کون بن رہا ہے۔ صحیح سمت کی طرف جا رہے ہیں پنجاب میں بھی ان کی حکومت بن جائے گی ظاہر ہے 30,29 آزاد امیدوار ہیں ان میں سے آدھے ارکان نے پی ٹی آئی کا ساتھ دے دیا، لیکن ابھی پنجاب میں دقت پیش آ رہی ہے پنجاب میں انہیں چاہئے کہ 182 ممبران کی حمایت چاہئے۔ تب ان کی حکومت بنتی ہے پنجاب میں۔ ابھی فی الحال 155 ہیں۔ پنجاب میں ان سخت ترین ٹف ٹائم مل رہا ہے اس کے لئے انہیں حکمت عملی اپنانی پرے گی۔ پرویزالٰہی بھی ان کے ساتھ ہیں وہ بھی بڑے سیاست دان ہیں سارے معاملات لے کر چل رہے ہیں لیکن ابھی نواز شریف کی جو پارٹی ہے ان کو بڑا دھچکا لگا جب ممنون حسین جب ہسپتال نہیں گئے کسی سکیورٹی نقطہ نظر سے اس کے بعد ان کا مورال گر گیا ہے اگر ممنون حسین ان کی عیادت کے لئے چلے جاتے تو پارٹی کو بڑا حوصلہ پیدا ہوتا۔ اب وہ پارٹی آہستہ آہستہ نیچے آ گئی ہے۔ اب انہیں محسوس ہو گیا نوازشریف کا باب بند ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں یہ بہت اچھی داند مندی ہوئی کہ ممنون حسین سکیورٹی کی وجہ سے نہیں جا سکے۔ضیا شاہد نے کہا کہ ہمارے بہت سے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں بہت سے خدشات تھے۔ بہت سی مشکلات اور مسائل تھے لگتا تھا کہ اس بات میں پکڑے جائیں یا دوسری میں پکڑے جائیں گے یا تیسری میں پکڑے جائیں لیکن ہم اس کے بعد ایک اعلان آیا نیب کی طرف سے۔ نیب کے سربراہ نے کہا کہ 25 جولائی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا چنانچہ تھوڑی سی ٹھنڈ پڑ گئی اور کام کاج چلنے لگا، لیکن جونہی الیکشن کے رزلٹ سامنے آئے ہیں اور اب ایک بار پھر کل شام سے ذرا ہلہ گلہ نیب کے اندر شروع ہے اور نئی نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں جیسے ایک دلچسپ بیان فواد حسن فواد کا جو پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر تھے لیکن اس سے پہلے یہاں پرسنل سیکرٹری تھے شہباز شریف صاحب کے۔ آج جو کچھ انہوں نے کہا کہ اپنے ٹھیکوں کے بارے میں، دوسرے پراجیکٹس کے سلسلے میں اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جو معاملات اور صورتحال یہاں تھی شاید وہی ااگے چل کر اسلام آباد میں چلی ہوا ہے کافی تشویشناک حالات بتا رہے ہیں جو اب تک سامنے آئے ہیں کیا پاکستان میں ہر حکومت میں کیا ایسا ہی چلتا رہا ہے کہ بیورو کریسی سے پوچھ گچھ کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ٹھیکے بھی ایسے ہی ملتے ہیں کام بھی ایسے ہی ملتا ہے اور جس کو دینا ہوتا ہے دے دیتے ہیں یہ ٹینڈر وینڈر، سسٹم صرف کاغذی اور نمائشی ہے۔ کیا صورتحال مستقبل میں بہتر ہوتی نظر آتی ہے یا حکومت کے چہرے کوئی سے بھی ہوں۔ نیچے اسی طرح کے جھرلو چلتے رہیں گے۔کنور دلشاد نے کہا کہ فواد حسن فواد نے سارا کرپشن کا ملبہ شہباز شریف پر ڈال دیا اس کا رزلٹ 25 جولائی کے انتخاب کے بعد بیٹھ گئی۔ پہلے بیورو کریسی کو یہ حوصلہ دیا گیا تھا کہ ہم 25 جولائی کو واپس آ رہے ہیں وہ نیب سے تعاون نہیں کر رہی تھی لیت و لعل کر رہی تھی جونہی رزلٹ سامنے آیا جیسے کہ روایت ہے کہ جس کی حکومت ہے اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن سکتا ہے۔ توقیر شاہ جو ہے وہ ماڈل ٹاﺅن کے واقعہ سے شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے گا اسی طرح آئی جی مشتاق سکھیرا بھی وعدہ معاف بنے گا۔ اس لئے شریف فیملی جو ہے ان کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے بیورو کریسی حکومت کے ساتھ ہوتی ہے 25 جولائی تک فواد حسن فواد نے سب کو حوصلہ دیا تھا کہ کوئی تعاون نہیں ہم واپس آ رہے ہیں۔ نگران حکومت نے اسحق ڈار کے وارنٹ جاری نہیں کئے نہ لندن میں جو جائیدادیں ہیں اس کو واپس لینے کے لئے وزارت خارجہ نے کوئی خط لکھا یہ سارے معاملات 25 جولائی کا انتظار کر رہے تھے۔ نہ نگران وزیراعظم نے آئینی ذمہ داری پوری کی اور نہ ہی صوبائی وزیراعلیٰ نے کوئی کام کیا۔ یہ تو قدرت کی طرف سے 25 جولائی کو عمران خان پر اعتماد کیا اور ووٹ دے دیا جس کی وجہ نواز فیملی ختم ہو گئی۔ اب بیوروکریسی بھی بیٹھ گئی۔ وہ 25 جولائی کا انتظار کر رہی تھی۔ اب نیب بھی حرکت میں آ گئی ہے سارے کام کر رہی ہے۔ 25 جولائی کے بعد ملک بچ گیا اور اچھی سمت کی طرف جا رہا ہے اور عمران خان بین الاقوامی سطح پر لیڈر بنے گا پاکستان کے علاوہ بھی۔ 5 حلقوں سے کامیاب ہو گیا۔ ایک کروڑ 70 لاکھ ووٹ لے لیا۔ پورے ملک میں اس کو نمائندگی مل گئی۔ دنیا میں کوئی لیڈر نہیں ہے بحران ہے کوئی سیاستدان نہیں ہے۔ آپ کا تعاون بھی حاصل ہے ہماری دُعائیں بھی شامل ہیں۔ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میری بیورو کریسی بارے کم معلومات ہیں افسوس ہے کہ ٹاپ کا بیورو کریٹ جھوٹ بہت بولتا ہے۔ فواد حسن فواد سے اللہ جانتا ہے نہ مجھے ان سے کوئی کام تھا نہ اس نے میرا کچھ بگاڑا ہے۔ لیکن میں نے 5,4,3 دفعہ رابطہ کیا شاید دو دفعہ ملاقات ہوئی میں نے ہمیشہ دیکھا کہ وہ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا۔ اخبارات کی دو تنظیمیں ہیں اے پی این ایس ناشران اور مالکان کی تنظیم ہے حمید ہارون صاحب آج کل اس کے صدر ہیں جن کا ڈان اخبار سے تعلق ہے اور ہمارے دوست سرمد علی روزنامہ جنگ سے ان کا تعلق ہے وہ اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جو دوسری تنظیم ہے اس کا تعلق ناشران سے یا مالکان نہیں ہے یہ ایڈیٹروں کی تنظیم ہے جس کو سی پی این ای کہتے ہیں۔ یعنی اخبارات کی مدیران کی تنظیم۔ اس کا نام مخفف میں سی پی این ای۔ میں 2 سال سی پی این ای کا صدر رہا ہوں اور پچھلے دنوں میرے دو سال پورے ہوئے۔ دو سال سے تیسری مرتبہ الیکشن نہیں لڑ سکتا اور محمد نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کی طرح ہم بھی کوشش کرتے تو آئین میں تبدیلی کر کے مزید دو سال بھی رہ سکتے تھے لیکن اے پی این ایس میں کسی نے ہمت کی نہ ہم نے یہ جرا¿ت کی۔ اے پی این ایس کا دفتر سندھ حکومت نے پلاٹ دیا تھا اور وہ اس پلاٹ پر بلڈنگ نہیں۔ یہ کسی ایک ادارے کی بلڈنگ نہیں ہے بلکہ سارے اخبارات کی اسی طرح ہم نے یہ کوشش شروع کی ہوئی تھی کہ اے پی این ایس کا دفتر کراچی میں ہے لہٰذا سی پی این ای کا اسلام آباد میں ہونا چاہئے، ہم کوئی 8,7,6 برس سے لگے ہوئے تھے۔ پہلے ہمارے دوست مجیب الرحمن صدر تھے مجھ سے پہلے انہوں نے بھی کوشش کی میں نے بھی کوشش کی۔ ہم نے بہت بھاگ دوڑ کی اور حتیٰ کہ کیس منظور ہو گیا دستخط ہو گئے پلاٹ منظور ہو گیا۔ اب آپ اندازہ کریں اللہ معاف کرے ہمیں مصیبتوں سے نجات دلائے جناب دو سال تک یہ کہا جاتا رہا کہ یہ پلاٹ منظور ہو گیا بلڈنگ ہم نے خود بنانی تھی۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی بات ہے میں تو گھر بیٹھا ہوں اس کے عارف نظامی صاحب آتے ہیں عارف نظامی دو سال پورے کر لیں تو کوئی اور صاحب آ جائیں گے یہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہ چیمبر آف کامرس کی طرح ہے۔ دو سال تک فواد حسن فواد مسلسل یہی کہتا رہا کہ وزیراعظم صاحب کے پاس وقت نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے یہ کاغذات سی پی این ای کو دیں اور آپ کو اس مقام پر لے جا کر جو وہ کاغذات دیئے جائیں وہاں ایک تقریب ہو۔ ہم نے کہا کہ ہمارے لئے اعزاز ہو گا کہ پاکستان کا وزیراعظم خود اپنے کاغذات ہمارے سپرد کرے۔ بالفرض وہ مصروف ہے کوئی بات نہیں وزیراطلاعات کر دے، 2 سال گزر گئے وزیراعظم کو وقت نہیں ملا۔ پھر پتہ چلا کہ ایک محکمے سے دوسرے محکمے کی طرف فائل جا رہی ہے۔ بیوروکریٹس کا سٹائل بن گیا کہ جھوٹ پر جھوٹ بولنا ہے نوازشریف کے بعد شاہد خاقان عباسی بھی چلے گئے۔ضیا شاہد نے کہا کہ برطانیہ میں الطاف حسین کی بیماری کی وجہ سے ان کے خلاف 2 سال سے کیسز چل رہے ہیں۔ 10 سال سے کہہ رہا ہوں کہ انگریز الطاف کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔ انگریزوں کا چھوٹا سا جزیرہ ہے اور انہوں نے دنیا پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں عام آدمی کے لئے انتہائی خوفناک قوانین ہیں، میں نے لندن میں اپنا پرائیویٹ علاج کرایا تھا اور وہاں میری اہلیہ کے بھائی مجھے پیسے نہیں دے سکتے تھے، حکومت کو درخواست دینا پڑتی تھی کہ فلاں کام کے لئے کسی کو اتنے پیسے دے رہا ہوں۔ تجزیہ کار لندن وجاہد حسین نے کہا ہے کہ بانی متحدہ پر کئی سالوں سے 2 کیس چل رہے ہیں، عمران فاروق قتل اور منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔ دونوں کیسز فریز کیسے ہوئے ہیں۔ یہ کیس 10 سال میں بھی حل نہیں ہو گا۔ انگریز کی بھی جب کہیں مفاد ہوتا ہے تو وہ انصاف کی پرواہ نہیں کرتے۔ پورے یورپ میں ایسا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی ذرائع بتا رہے ہیں کہ کلثوم نواز کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور آہستہ آہستہ وینٹی لیٹر سے ہٹایا جا رہا ہے۔ کلثوم نواز کی حالت اب قدرے بہتر ہے۔

 

دوہری شہریت ۔۔۔فوجی افسروں سے حلف نامہ لیا جائے : سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کی بیرونِ ملک ملازمت کےلئے دیا گیا این او سی طلب کرلیا ہے ۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع ضمیر الحسن شاہ عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا بیرون ملک چلے گئے ایسا کیسے ممکن ہوا کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد ملازمت اختیار کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق دو سال تک کوئی افسر ملازمت اختیار نہیں کر سکتا جبکہ اسی طرح جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی بیرونِ ملک ملازمت اختیار کی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا قانون کا اطلاق فوجی افسران پر نہیں ہوتا ؟ ان افراد کو کابینہ سے اجازت لےکر بیرون ملک نوکریاں کرنی چاہیے تھیں، اس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ مجھے اس 2 سال کے عرصے کے بارے میں ٹھیک سے معلوم نہیں۔چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے مکالمہ کیا کہ ہم دیکھ لیتے ہیں کہ یہ اجازت کس طرح کی تھی، اس کی نوعیت اور معیاد کیا تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کہا جاتا ہے حساس اداروں کے لوگ کافی اہم ہوتے ہیں، اور ان اداروں کے اعلیٰ افسران اور سربراہان کے پاس حساس معلومات ہوتی ہیں، ایسے لوگوں کو تو حفاظت دینی چاہیے۔سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا اور جنرل (ر) راحیل شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان دونوں افسران کو تو سالوں تک ملک نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور ان کو سیکیورٹی بھی دینی چاہے تھی۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میری اطلاعات کے مطابق جنرل پاشا خفیہ ادارے کے سربراہ تھے اور 2 سال پورے کیے بغیر متحدہ عرب امارات میں انہوں نے ایسی ہی ملازمت اختیار کی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فوجی افسران نے این او سی حاصل کیا تھا جس پر سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے ہدایت جاری کی کہ فوج کے تمام کمیشنڈ افسران سے دہری شہریت سے متعلق حلف نامہ لیا جائے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ایک ٹی وی اینکر اکثر اپنے پروگرام میں بات کرتے ہیں کہ عدالت ایسے معاملات کو نہیں اٹھارہی، آج ایسے مسائل پر بات ہورہی ہے تو انہیں یہاں ہونا چاہیے تھا۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 27 ایسے افسران ہیں جن کی دوہری شہریت ہے، عدالت نے کہا تھا کہ ایک پاکستانی سفیر کی دوہری شہریت ہے لیکن اس کی دہری شہریت نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بہت سارے افسران کے دوہری شہریت کی شناخت کی ہے، جن میں ایسے افسران بھی شامل ہیں جن کے رشتہ داروں کی بھی دوہری شہریت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے افسران کے رشتہ داروان کی دوہری شہریت پر بھی تحفظات ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کی بیویاں دوہری شہریت کی حامل ہیں۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کچھ افسران نے خود اپنے بارے میں بتایا جبکہ کچھ کو ایف آئی اے نے شناخت کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کچھ ممالک ایسے ہیں جو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن زیادہ تر ممالک ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس شخص کی دوہری شہریت ہے وہ پاکستان کا بھی شہری ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائی کورٹ میں دوہری شہریت کیس میں جو معاون تھے ان 3 افراد میں سے 2 اب سپریم کورٹ کے جج ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب بطور جج ان کے نظریات مختلف ہیں اور ان کا نقطہ نظر عدالت پر لاگو نہیں ہوتا جبکہ اسے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا انحصار عدالت پر ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ افغانستان اور روس دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتے جبکہ دوہری شہریت والوں کو سرکاری ملازم نہیں ہونا چاہیے، ریاست سے وفاداری ہر شہری پر لازم ہے اور آرٹیکل 5 پر پابندی کرنا ہر شخص پر فرض ہے۔انہوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ دوہری شہریت والا شخص کسی اور ریاست سے وفاداری کر سکتا ہے۔سماعت کے دور ان جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سیکرٹری دفاع یہ بتائیں کتنے افسران نے بیرون ملک شادیاں کر رکھی ہیں اس پر ضمیر الحسن نے بتایا کہ آرمڈ فورسزکے افسران بیرون ملک شادیاں متعلقہ فورس کے چیف کی اجازت سے کرسکتے ہیں ¾اگر کوئی اجازت نہیں لیتا تو سخت سزا دی جاتی ہے۔ضمیر الحسن نے عدالت میں بتایا کہ کسی دہری شہریت والے شخص کو آرمڈ فورسز میں ملازمت نہیں دی جاتی، دہری شہریت سے متعلق یہ بات ملازمت کے اشتہار میں بھی لکھی جاتی ہے، اگر کوئی دہری شہریت کاحامل ہو تو اسے اپنی دوسری شہریت چھوڑنی پڑتی ہے۔چیف جسٹس نے سیکرٹری دفاع کو ہدایت کی کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ سب لکھ کر دیں، اپنے طور پر چیک کریں کے آرمڈفورسز میں کوئی دہری شہریت کا حامل افسر تو نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ نے جنرل (ر) راحیل شریف اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو جاری ہونے والے این او سی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اگست تک ملتوی کردی۔

 

آج ملا قا تو ں کا دن ،نواز شریف ، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کو اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں منتقل کر دیا گیا

راولپنڈی (ویب ڈیسک) اڈیالہ جیل میں آج (جمعرات ) نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر سے ملاقات کا دن ہے۔نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہوں نے آپس میں بھی ملاقات کی اور دیگر ملاقاتیوں سے بھی ملیں گے۔ جیل حکام کے مطابق اڈیالہ جیل میں شام 4 بجے تک نواز شریف سے ملاقات کی جاسکے گی ، جیل حکام نے مکمل فہرست ترتیب دے رکھی ہے، نواز شریف جس شخص سے ملاقات کرنا چاہیں گے اسے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔ جیل انتظامیہ نے ملاقاتیوں کی گاڑیوں کیلئے جیل کا گیٹ 5 مختص کردیا ہے۔

آئمہ بیگ میکا سنگھ کے ساتھ اپنا گانا ریلیز کرنے کیلئے تیار

لاہور(شوبزڈےسک) گلوکارہ آئمہ بیگ نے نہایت کم وقت میں اپنی مدھر آواز کے ذریعے پاکستانیوں کو تو اپنا گرویدہ بنا ہی لیا ہے اور اب ان کی آواز کا جادو بھارت میں بھی چلنے والا ہے۔آئمہ بیگ جلد ہی بھارتی گلوکار میکا سنگھ کے ساتھ اپنا گانا ریلیز کرنے جا رہی ہیں جو کسی بھی بھارتی گلوکار کے ساتھ ان کا پہلا گانا ہو گا۔حال ہی میں آئمہ بیگ نے بی بی سی ایشیئن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ میکا سنگھ کے ساتھ اپنے نئے پروجیکٹ پر کام کر رہی ہیں جس کے لیے وہ بہت زیادہ پر جوش ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے کچھ گھبرائی ہوئی ہیں کیوں کہ انہوں نے اس سے قبل ایسا کوئی تجربہ نہیں کیا۔

 

اگر فنکار اچھے ہوتو فلم ضرورکامیابی سے ہمکنا ر ہوتی ہے ‘ماہر ہ خان

لاہور(شوبزڈےسک) ٹی وی اورفلم کی نامور اداکارہ ماہرہ خان نے کہا ہے کہ غےر سنجےدہ لوگوں سے ہمےشہ دور رہنے کی کوشش کرتی ہوں ،ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھا ہے اور ایسے ہی لوگ پسند ہیں۔ایک انٹر ویو میں اداکارہ نے کہا کہ غیر سنجید ہ لوگ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتے اس لئے میں سنجےدہ لوگوں کیساتھ رہنا پسند کرتی ہوں۔انہوںنے کہاکہ مجھے اپنی آنے والی فلموںسے بہت امےدےں وابستہ ہےں ‘میرے خیال میں میں نے ان فلموں مےںاپنے کام سے خوب انصاف کےا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کسی بھی فلم کی کامےابی کےلئے اچھی کہانی کا انتخاب نہاےت ضروری ہوتا ہے اور اگر فنکار اچھے ہوتو فلم ضرور کامےابی سے ہمکنا ر ہوتی ہے ۔

 

الیکشن صرف چیف جسٹس ، آرمی چیف اور چیف الیکشن کمشنر کی وجہ سے ہوئے : شیخ رشید

لاہور (وقائع نگار)سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عمران خان انصاف پر مبنی معاشرہ دیں گے‘ ساری قوم چیف جسٹس پاکستان کو انتخاب کے انعقاد پر ان کو مبارکباد دیتی ہے‘ 2018 کے انتخابات صرف چیف جسٹس‘ آرمی چیف اور چیف الیکشن کمشنر کی وجہ سے ہوئے ہیں‘ 14اگست کو عمران خان جشن آزادی کی تقریب میں بطور وزیراعظم شریک ہوں گے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ساری قوم چیف جسٹس پاکستان کو انتخاب کے انعقاد پر ان کو مبارکباد دیتی ہے۔ این اے ساٹھ سے الیکشن راشد شفیق لڑیں گے۔ وہ قلم دوات یا بلے سے الیکشن لڑیں گے اس کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔ عمران خان ایک کروڑ نوکریاں دیں گے سستی بجلی عمران خان لائیں گے۔ عمران خان انصاف پر مبنی معاشرہ دیں گے۔ 2018 کے انتخابات صرف چیف جسٹس‘ آرمی چیف اور چیف الیکشن کمشنر کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ جو لوگ دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں ان کی عادت ہوگئی ہے میں سیاست میں بچپن سے ہوں اور آج تک نہیں سنا کہ ہارنے والے نے کہا ہو کہ وہ جائز ہارا ہے۔ جو لوگ جمہوریت کے چیمپئن بنے پھرتے تھے انہیں عوام نے شکست دی ہے لوگ اکتا چکے ہیں پرانی سیاست اور لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایک حلقے سے جیت چکا ہوں اور این اے ساٹھ سے جیتیں گے۔ ساری قوم کو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ 14اگست کو عمران خان جشن آزادی کی تقریب میں بطور وزیراعظم شریک ہوں گے۔