لودہراں (رپورٹ:امین چوہدری سے)تفتیشی افسر تھانہ سٹی لودہراں مبینہ طور پر 1لاکھ کے عوض اوباش درندہ کا سرپرست بن گیا مدعیہ کی شنوائی اور انکوائری اور موقع دیکھے بناءہی ملزم کو بے گناہ اور مدعیہ کو جھوٹا قرار دے دیا 12گھنٹے کے اندر ہی ملزم کو رہا کر دیا 20سالہ (س) حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کاروائی کرنے پر جان سے مار دینے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں 20سالہ (س)کی ”خبریں“ہیلپ لائن پرحصول انصاف کی اپیل ”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان،اور DPOلودہراں سے پولیس یونیفارم میں ملبوس اس اتھرے تھانیدار اور اوباش درندہ کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی اپیل۔تفصیل کے مطابق نئی بستی ڈبل پھاٹک لودہراں کی رہائشی 20سالہ(س)نے ”خبریں“ہیلپ لائن پر کال کی اور اپنی والدہ کے ہمراہ ”خبریں“دفتر آکر بتایا کہ 3سال قبل اسکے بھائی بہادر علی نے ثمینہ بی بی سے پسند کی شادی کی اور اسے اپنے گھر میں بسایا ہوا ہے مگر ثمینہ بی بی کے بھائی اوباش درندہ صفت سجاول نے میرے بھائی سے بدلہ لینے کی خاطر مجھ پر بری نظریں گاڑھ لیں اور ہم سے بدلہ لینے کیلئے ہمارے گھر کے چکر اورپہرے لگا ئے رکھے مورخہ 24جولائی 2018کو میں گھر میں اور میرا اپاہج بھائی اکیلے تھے کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اوباش درندہ صفت سجاول ولد عمر بخش رات تقریباََ 12بجے میرے گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہو گیا اور مجھے زبردستی اپنی حوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے لگا مگر میرے شور واویلا کرنے پر بلال احمد ولد خدا بخش،محمد عباس ولد نذیر احمد اور دیگر اہل محلہ اکٹھا ہو گیا اہل علاقہ کو آتا دیکھ کر اوباش درندہ صفت سجاول موقع پاکر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہم نے 15پر کال کی جس پر پولیس اہلکار امجد وغیرہ موقع پر آ گئے ہم نے تھانہ سٹی لودہراں میں اوباش درندہ صفت کیخلاف FIRنمبری 517/18بجرم 376ت پ511ت پ درج کروائی اور ہم نے ملزم کوبھی گرفتار کر لیا اور مدعیہ مقدمہ (س)کو کال کی کہ تھانہ میں آکر مجھ سے علیحدہ ملو اور کچھ رقم بھی دو تاکہ مزید کاروائی کی جا سکے مگر میںچونکہ ملتان چلی گئی تھی میں نے ASIکو کہا کہ میں آکر ملتی ہوں مگر اس اتھرے تھانیدار نے میرے تھانہ میں آنے کا نتظار نہ کیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کی نہ ہی میرے گواہان سے کوئی پوچھ کچھ کی اور نہ ہی موقع دیکھا بلکہ مبینہ طور پر ملزم سے 1لاکھ روپے لے کر اسے بے گناہ لکھ کر صرف 12گھنٹوں میں ہی تھانہ سے رہا کر دیا اور میرے نہ آنے اور علیحدہ نہ ملنے پر الٹا مجھے ہی جھوٹا قرار دے دیا مجھے اس بات کی کچھ سمجھ نہ آئی کہ آیا کہ تفتیشی افسر کو12گھنٹوں میں کونسا الہام ہو گیا تھا یا کون سی وحی نازل ہو گئی تھی جس بناءپر اس نے مجھے جھوٹا اور میرے ملزم کو بے گناہ قرار دے دیا مبینہ طور پر رشوت کے عوض یہ اتھرا تھانیدار خود میں ہی عدالت ،DPOبن کر خود ہی فیصلہ سنا ڈالا اور میرے ملزم اوباش درندہ صفت سجاول کو چھوڑ دیا جو اب چھوٹتے ہی مجھے میری والدہ سمیت جان سے مارنے پر درپے ہے اور ہم اس سے اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے ہی گھر سے بے گھر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ہمیں انصاف ملنے کی بجائے ہم پر ہی جینے کیلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے تفتیشی افسر کی مبینہ سرپرستی کی بناءپر اوباش درندہ صفت سجاول ہمیں جان سے مارنے اور مجھ پر تیزاب پھنکینے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے میں حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی ہوں مجھے کہیں انصاف کی امید نہ ہے اور اگر مجھے کچھ ہو گیا تو اسکا ذمہ دار ASIمنیر سنگھیڑا ہو گا حصول انصاف کی خاطر میں نے ”خبریں“کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور میری ”خبریں“کے توسط سے چیف جسٹس آف پاکستان ، اعلیٰ حکام ،RPOملتان،اور DPOلودہراں سے پولیس یونیفارم میں ملبوس اس اتھرے تھانیدار کیخلاف مکمل قانونی کاروائی اور اس اوباش درندہ صفت کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کی اپیل کی ہے20سالہ (س) نے مزید کہا کہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی۔






































