(ویب ڈیسک)توشہ خانہ ریفرنس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اوراحتساب عدالت نےنواز شریف کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دے ديا ہے۔
جمعرات کو احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کےاثاثے ضبط کرنےکاحکم دیا ہے۔ نیب نےنوازشریف کےاثاثوں کاریکارڈ عدالت میں پیش کياتھا جس کا عدالت نے حکم دیا تھا۔عدالت نے حکم دیا کہ نیب فہرست کےمطابق نوازشریف کےاثاثےضبط کئےجائیں۔
احتساب عدالت نے حکم دیا کہ کیوںکہ نوازشریف اشتہاری ہوگئے ہیں اس لئے ان کے جتنے بھی پاکستان میں بینک اکاؤنٹس،گاڑیاں اوراثاثےہیں ان کو ضبط کرلیا جائے۔
نیب کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ میں بتایا گیا ہےکہ لاہور میں نوازشریف کی جائیداد موجود ہے ،ان کے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی استعمال کی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔لاہور کے علاوہ مری اور شیخوپورہ میں اراضی جبکہ دو قیمتی گاڑیوں اور دو ٹریکٹرز کے بھی مالک ہیں۔محمد بخش ٹیکسٹائل ملز، حدیبیہ انجینئرنگ ، حدیبیہ پیپرملزاوراتفاق ٹیکسٹائل ملز کے شئیر بھی اثاثوں میں شامل ہیں۔
توشہ خانہ ریفرنس میں مسلسل عدم پیشی پر نوازشریف کے پہلے اشتہار جاری کئے گئے تھے اور پھر اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کا مقدمہ الگ کیا گیا تھا۔
توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران آصف زرداری کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست منظورکرلی گئی۔سابق صدر کے وکیل فاروق نائیک نے نیب کے ایک گواہ الیکشن کمیشن کے افسر عمران ظفر پر جرح مکمل کر لی۔ عدالت نے نیب کے دوسرے گواہ ، کابینہ ڈویژن کے زبیر صدیقی سے تیرہ اکتوبر کو گاڑیوں کا اصل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

