امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ہیٹی اور شام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے لیے عارضی قانونی تحفظات (Temporary Protected Status – TPS) ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت کو ان تحفظات کے خاتمے کا اختیار حاصل ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ہیٹی کے شہری اور 6 ہزار سے زائد شامی باشندے اپنے قانونی تحفظ سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں امریکہ سے بے دخل کیے جانے کا خطرہ لاحق ہوگا۔ TPS پروگرام ان افراد کو امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جو جنگ، قدرتی آفات یا دیگر غیر معمولی حالات کے باعث اپنے وطن واپس نہیں جا سکتے۔
سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ TPS ختم کرنے کے حکومتی فیصلوں پر عدالتی نظرثانی محدود ہے، جبکہ اختلافی نوٹ لکھنے والے ججوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے طریقہ کار کی مکمل پابندی نہیں کی اور اس اقدام سے متاثرہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امیگریشن حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیٹی اور شام میں اب بھی سیکیورٹی اور انسانی بحران موجود ہیں، اس لیے متاثرہ افراد کی واپسی ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

