تازہ تر ین

بحرالکاہل میں بننےوالاسپر ال نینو جو شدید گرمی، غیر معمولی بارشو،خشک سالی،جنگلات میںآگ اورتباہ کن موسمیاتی بحران کا سبب بن سکتا ہے

عالمی موسمیاتی تنظیموں (جیسے WMO اور امریکہ کے NOAA) نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل (Pacific Ocean) میں درجہ حرارت معمول سے $2^\circ\text{C}$ سے $3^\circ\text{C}$ تک زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ عام ایل نینو نہیں بلکہ ایک سپر ایل نینو (Super El Niño) کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

اس شدید موسمیاتی رجحان کے باعث دنیا بھر میں درج ذیل تباہ کن اثرات کی پیش گوئی کی گئی ہے:

سپر ایل نینو زمین کے اوسط درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر دے گا، جس سے ایشیا، امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز آئیں گی۔

بحرالکاہل کے گرم ہونے سے ہوا میں نمی کا تناسب بڑھے گا، جس کے نتیجے میں جنوبی امریکہ (خاص طور پر پیرو اور ایکواڈور)، مشرقی افریقہ اور جنوبی امریکہ کے دیگر حصوں میں تباہ کن بارشیں اور سیلاب متوقع ہیں۔

دوسری طرف، یہ رجحان جنوبی ایشیا (بشمول پاکستان اور بھارت)، انڈونیشیا، فلپائن اور آسٹریلیا میں معمول کی بارشوں کو روک دے گا۔ اس سے فصلوں کو نقصان پہنچنے اور پانی کی شدید لکیر (خشک سالی) پیدا ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔

شدید گرمی اور طویل خشک سالی کے باعث آسٹریلیا، انڈونیشیا اور امیزون کے جنگلات میں ہولناک آگ بھڑکنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق، یہ سپر ایل نینو حالیہ تاریخ کا سب سے شدید ترین موسمیاتی بحران ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات اگلے دو سالوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain