فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد اور دوسرے مرحلے کے انتظامات پر غور کے لیے قاہرہ میں ثالثوں اور مختلف فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کا محور جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، جس میں ان کے بقول اسرائیلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ، سرحدی گزرگاہوں کی دوبارہ بحالی اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے، جن میں غزہ میں بین الاقوامی فورسز کی ممکنہ تعیناتی اور فلسطینی دھڑوں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔
حازم قاسم کے مطابق حماس ان مذاکرات میں قومی ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ شریک ہورہی ہے اور فلسطینی عوام کے وسیع تر مفاد کو اپنی سیاسی کوششوں کا مرکز بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک غزہ میں دوبارہ جنگ چھڑنے سے روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔
دریں اثنا حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مصری حکام سے بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچ گیا ہے۔
حماس کے مطابق وفد کی قیادت غزہ میں تحریک کے سربراہ اور چیف مذاکرات کار خالد الحیہ کررہے ہیں۔
دوسرے مرحلے کے مجوزہ خدوخال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس ستمبر میں 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جس میں جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیلی انخلا، ایک ٹیکنوکریٹک انتظامیہ کے قیام، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجویز شامل تھی۔
جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں فائر بندی اور اسرائیل و فلسطینی دھڑوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا عمل شامل تھا، تاہم فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل قریباً روزانہ کی بنیاد پر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مجوزہ دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مزید علاقوں سے انخلا متوقع ہے، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ اس فورس کی ذمہ داریوں میں انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی شامل ہوگا۔
جانی نقصان کے اعداد و شمار
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں قریباً 73 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 73 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 947 فلسطینی شہید اور 2 ہزار 935 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
