تجزیہ:امتنان شا ہد
احتساب عدالت سے سزا کے بعد نواز شریف کی پریس کانفرنس سے پہلے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ایک پریس کانفرنس کی ہے جس میں الیکشن کمیشن اور قائد کی سزا اور عدالت کے رویے کے حوالے سے اظہار خیال کیا ان کی پریس کانفرنس میں احتجاج کا عنصرہرگز نہیں تھا انہوں نے فیصلہ ضرور مسترد کیا لیکن انہوں نے احتجاجی تحریک کی کال نہیں دی۔ پوری گفتگو میں الیکشن کے بائیکاٹ کا ذکر نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ 25 جولائی کو عوام الیکشن میں ووٹ دے کر اس فیصلے کو مسترد کرے اسی طرح سے ملتی جلتی بات نوازشریف نے مریم نواز کے ساتھ بیٹھ کر کی ہے اور میری اطلاع کے مطابق نوازشریف صاحب کی واپسی جو الیکشن سے کچھ روز قبل تو ہو سکتی ہے لیکن فوری طور پر پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تاریخ دی ہے بلکہ اپنی اہلیہ کو بیگم کلثوم نواز کی صحت سے اور ان سے سلام دعا کرنے سے مشروط کیا ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ نوازشریف نے آج بھی مختلف ججوں اورجرنیلوں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب ان کے خلاف ایک مخصوص لابی کر رہی ہے اور جس میں مختلف سیاسی جماعتیں ان کی آلہ کار بن رہی ہیں البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ جب میاں نوازشریف جب پہلی دفعہ اقتدار میں آئے تھے تو اس وقت بھی وہی سب کچھ ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ میثاق جمہوریت کا انہوں نے تذکر بھی کیا۔ میثاق جمہوریت میں بھی میاں نوازشریف اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل میں نہ صرف کالا کوٹ پہن کر عدالت میں پیش ہوئے اور اس کے بعد وہ کیس چلتا رہا اور اس وقت کی حکومت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اس میںیوسف رضا گیلانی کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اب وہ اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ میثاق جمہوریت کو میں ابھی بھی اپنے سینے سے لگائے بیٹھا ہوں جو حقیقت نہیں ہے اس میثاق جمہوریت کو جس میں پیپلزپارٹی دوسری بڑی فریق تھی اس کے خلاف ہی میاں نوازشریف اپوزیشن لیڈر کے طور پرعدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے ان کو یہ بات کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ وہ کس طرح سے یہ بات کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ میاں شہباز شریف نے جو دبے الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ کسی صورت میں الیکشن کابائیکاٹ نہیں کریں گے۔ اس سے ملتی جلتی بات نواز شریف نے کہی۔ پوری کانفرنس کو دیکھ کر مریم نواز نے پریس کانفرنس کے اختتام پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے شوہر کیپٹن صفدر کو کہا گیا کہ ان کا مستقبل روشن ہے وہ پاکستان سے باہر چلی جائیں اور اپنے آپ کو اس کیس سے الگ کر لیں البتہ انہوں نے پھر بھی اس میں اضافہ کیا کہ ان کا مستقل واپس پاکستان جا کر سیاست کرنے میں ہے اس بات سے ظاہر تھا کہ آئندہ نوازشریف نہیں وہ خود کو ملک کا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہیں۔ 10,5 سال کے بعد سربراہ کے طور پر باہر آئیں گی۔ ایک طرف نوازشریف کہہ رہے کہ جج اور جرنیل ہمارے خلاف ہیں دوسری طرف شہباز شریف وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں مانتے نہیں البتہ ہم الیکشن میں ضرور جائیں گے انہوں نے اپنے دور میں پاکستان ایئرفورس، نیوی سے معاہدے کئے۔ شمالی وزیرستان کے دورے پر میاں شہبازشریف خود گئے اور ساتھ مشاہد حسین کو ساتھ لے کر گئے۔ نوازشریف، مریم نواز کے جو نقطہ نظر تھے شہباز شریف اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کی کال نہیں دی لوگوں کا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے مسلم لیگ ن الیکشن کا بائیکاٹ کر دے۔ جو انہوں نے نہیں کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
