لاہور (احسا ن ناز) لیکشن 2018 میں لاہور ئے عمران خان ، شہباز شریف یاپھر زرداری دیکھو کس کا ساتھ دیتے ہیں ، 1970کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے تما م پارٹیوں کا صفایا کروایا تھا،1988میں پیپلز پارٹی نے آدھے لاہو رکا قبضہ مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کود یا تھا1988میں پیپلز پارٹی آئی جے آئی کے مقابلہ میں چند سیٹیں حاصل کرسکی، 1993کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہوا تھا اور پھر 1997میں بھی مسلم لیگ ن میدا ن مارلیا ، اس طرح مسلم لیگ اور پیپلز پارٹل لاہور پر قبضے رہی ، اور باریاں لیتے رہے اور یہ سلسلہ مسلم ن لیگ کا 2013تک جاری رہا ، تحریک انصاف نے 2013میں مسلم لیگ ن اکا مقابلہ تو خوب کیا ، لاکھوں ووٹ حاصل کیے لیکن پیپلز پارٹی لاہور سے کوئی سیٹ نہ جیت سکی ، جبکہ تحریک انصاف گلبر ک کے حلقہ na126جو کہ اب این اے 130بن چکا ہے شفقت محمود نے خواجہ حسان کو شکست سے دوچار کیا اور اس حلقہ سے دونوں ایم پی اے میاں محمود الرشید اور مراد راس بن گئے ، لاہو کے لوگ کسی بھی سیاسی جماعت کو 20سال سے زیادہ اپنے اوپر مسلط نہیں رکھتے ۔اب 2018کے الیکشن میں تحریک انصاف کا جادہ سر چڑ کر بول رہا ہے ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف این اے 132سے مریم نواز این اے 127سے حمزہ شہباز شریف این اے 124سے میدان میں ،میاں شہباز شریف قومی اسمبلی کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی دو سیٹوں سے الیکشن لڑکر آئندہ بھی وزیر اعظم بننے کے چکر میں ہے ، جبکہ ان کی بھتیجی مریم نواز بھی ایم این اے کے ساتھ سا تھ صوبائی اسمبلی امیدوار، اسطرح حمزہ شہباز بھی صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار ہے، تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی کی سیٹوں پر علیم خان قسمت آزمائی کررہے ہیں اور اپنے آپکو ابھی سے وزیر اعلی تصور کر رہا ہے، اب الیکشن مہم جاری ہے اور نواز شریف کا فیصلہ بھی 26جولائی کو متوقع ہے ۔لاہورسے مسلم لیگ ن این اے 123سے ملک ریاض ، تحریک انصاف نے مہر واجد اورپیپلز پارٹی نے آصف علی ہاشمی کے بجائے اسد قبال ملک کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔حلقہ این اے 127 سے مسلم لیگ ن مریم نواز ، تحریک انصاف کے جمشید دستی ، پیپلز پارٹی نے چوہدری عدنان کو ٹکٹ جاری کیاہے، حلقہ این اے 128سے تحریک انصاف چودری اعجاز ، مسلم لیگ ن سے شیخ امین اورپیپلز پارٹی سے ظفر علی شاہ کو مقابلے کیلئے بھجا ہے، اسی طرح این اے 129سے مسلم لیگ ن سے ایاز صادق ، تحریک انصاف سے علیم خان ، اور پیپلز پارٹی سے افتخار ناصر ایڈووکیٹ، این اے 130سے مسلم لیگ ن خواجہ احمد احسان ، پی ٹی آئی سفقت محمود ، متحدہ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ بھی پنجہ آزمائی کریں گے۔این اے131سے بڑاجوڑ عمران خان ، سعد رفیق کے مقابلے میں گھریلوخاتون زیبا احسان کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے جو ٹریکٹر کے نشا ن پر امید وار ہیں ، حلقہ این اے 132سے شہباز شریف کا مقابلہ منشاسندھواور تحمینہ دولتانہ سے ہے، این اے 133سے پیپلز پارٹی کے اسلم گل ، تحریک انصاف کے اعجاز چوہدری ، اور پیپلز پارٹی کے سیل اعوان آمنے سامنے ہے، این اے 134سے مسلم لیگ رانا مبشر اقبال ، تحریک انصاف کے ظہر عباس کھوکھر ،پیپلز پارٹی سیل اعوان ، این اے135سے ن لیگ سے سیف الموک کھوکھر ، پی ٹی آئی سے ملک کرامت اور پی پی پی سے امجد علی بھٹی شامل ہیں ، این اے 136سے ن لیگ کے نفس کھوکھر ، پی ٹی آئی کے ملک سید کھوکھر جبکہ پی پی پی سے جمیل امید وار ہیں ، مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف سے جان بوجھ کر بڑ ے مقبوبلوں میں غریب امیدواروں کو بھونک دیا ، جبکہ عمران خان کو شہباز شریف کے مقابلے کیا جانا تھا ، اسطرح حمزہ شہباز کے مقابلہ نعمان کو پی ٹی آئی نے ایک جلوہ کی طرح نامزد کیاہے، اب اس جوڑ کا کیابنے گا یہ فیصلہ جولائی کو ہوگا۔
تخت لاہور کس کا ؟ عمران ، بلاول ، شہباز کی قسمت کا فیصلہ عوام کرینگے
