لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد نے یوم پاکستان کے حوالے سے نیو نیوز سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے برصغیر کے تمام مسلمانوں بشمول 22 کروڑ بھارتی مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ آج پاکستان کی صورتحال کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں نہ انصاف ہے ، نہ عدل ، نہ معیشت میں برابری دکھائی دیتی ہے۔ ہم قانون کی حاکمیت سے بہت دور چلے گئے۔ اگر پاکستان ایک مثالی اسلامی ریاست بنتا تو ہم بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کا بندوبست بھی کر سکتے تھے۔ ہمارے دبدبے، طاقت، مضبوطی، اندرونی اتحاد اور مثالی اسلامی معاشرے کے توسط سے دنیا دیکھ سکتی کہ جو ریاست ہم نے الگ کی تھی اسکے خدوخال کیا ہیں اور کس طرح پاکستان دنیا میں لوگوں کے لئے مثال بن سکتا ہے۔ اگر سکینڈی نیویائی ممالک کی مثال لی جاسکتی ہے کہ وہاں فلاحی ریاست ہے تو فلاحی ریاست کا سب سے پہلا تصور ہی اسلام نے پیش کیا تھا۔ اسلامی معاشرے میں مدینے کی ریاست پہلی فلاحی ریاست تھی۔ ہم اس لئے اپنی منزل سے بہت دورآگئے کہ ہم اپنے معاشرے کو مثالی اسلامی معاشرہ، فلاحی ریاست اور سرزمین آئین نہیں بنا سکے بلکہ کرپشن، بدانتظامی اور لوٹ کھسوٹ میں اصل تصور ضائع کر دیا کہ اگر ہمیں ایک الگ ریاست ملی تو ہم اسے دنیا میں اسلامی مساوات کا نمونہ بنا سکیں گے۔ تکمیل پاکستان کا بنیادی مقصد ریاست پاکستان کو دنیا کے لیے نمونہ بنانا اور بتانا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق محفوظ ہیں اور وہ عدل اور انصاف سے بہراور ہے۔ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد ہمارے سامنے موجود نہیں رہا اسی وجہ سے ہمارے اپنے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم اندرونی خلفشار، کرپشن، بدانتظامی کیوجہ سے سرزمین بے آئین ہو کر رہ گئے ہیں۔
نظریہ پاکستان پر میڈیا کے کردار کے حوالے سے ضیا شاہد نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے بحیثیت مجموعی اب تک تعمیر پاکستان اور تشکیل پاکستان کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا نہیں کیے۔ میرا ایمان ہے کہ میڈیا کا کام بنیادی طورپر قیام پاکستان کا مقصد نئی نسل سے لیکر پرانے لوگوں تک ذہن نشین کروانا تھا، جوکہ نہیں ہوسکا۔ پاکستان کے وفاق کے تمام حصوں کو انکے جائز حقوق دیتے ہوئے ایسا نظام بنانا تھا جسمیں لوگوں کو بجا طور پر اپنے حقوق مل سکیں۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں مارشل لا اتنے طوالت کیساتھ رہے کہ جمہوریت کا تصور مدہم پڑتا چلا گیا۔ اس تصور کو میڈیا نے راسخ نہیں کیا کہ ہماری نجات جمہوری نظام اور مشاورت کے قانون کے آگے لانے میں ہے۔ کردار سازی کا تصور بہت ضروری تھا کیونکہ ایک اچھی ریاست کے لئے اچھا فرد اور سوچ ہونا ضروری ہے بدقسمتی سے یہ تینوں چیزیں پاکستان میں پنپ نہیں سکیں۔ پاکستان میں حکومتوں میں شامل لوگوں نے اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استحصال کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ پاکستان کا میڈیا اگر آج یہ تہیہ کر لے کہ خواہ کوئی حکومت آئے یا جائے، میڈیا اصولوں پر چلے گا اور جو بھی غلط کام کرے خواہ وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں میڈیا اس پر بجاطور پر تنقید کرے گا اور اسے اس بات پر مجبور کرے گا کہ ملکی اورعالمی جمہوریت کے مسلمہ اصولوں پر عملدرآمد کرے۔ ایسا ہو تو ریاست کے تینوں حصے اپنا کام بخوبی کرنے لگیں گے اور نفسا نفسی، لوٹ مار اور استحصال ختم ہو جائے گی۔
یوم پاکستان : سابقہ حکمرانوں کی کرپشن نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست نہیں بننے دیا : تکمیل پاکستان کا بنیادی مقصد ریاست پاکستان کو دنیا کےلئے نمونہ بنانا اور بتانا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں:کہنہ مشق صحافی ضیا شاہد کی ”نیو ٹی وی “ سے گفتگو

