وزیراعظم مقدمے پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی پارلیمانی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے کر کسی حد تک حکمران جماعت کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرسکتے ہیں‘ہائی پروفائل مقدموں میں ایف آئی آر پولیس کے اعلی حکام کے علم میں لائے بغیر نہیں ہوسکتی عمران خان کو عثمان بزدار سے بھی جواب طلب کرنا چاہیے. ایڈیٹر اردو پوائنٹ میاں محمد ندیم
لاہور(ویب ڈیسک ) مسلم لیگ نون نے شاہدرہ میں درج ہونے والے بغاوت کے مقدمے پر جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ‘نون لیگی ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مقدمہ واپس لینے میں تاخیر اور وزیراعظم کے مشیروں کے غلط مشوروں نے نون لیگ کی حکومت مخالف تحریک میں ایک نئی جان پھونک دی ہے.
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں جس میں ٹیلی فونک لنک کے ذریعے نون لیگ کے قائد نوازشریف نے بھی شرکت کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم کی فیصلہ سازی کی کمزور حکمت عملی سے بھرپور فائد اٹھایا جائے اور لاہور جوکہ نون لیگ اور عمران خان دونوں کا ”ہوم گراﺅنڈ“ ہے پر آنے والے دنوں میں حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے.ذرائع نے بتایا کہ نون لیگی حکمت عملی کے تحت ہر روز بغاوت کے مقدمے میں نامزد نون لیگ کا ایک راہنماءگرفتاری دینے شاہدرہ پولیس اسٹیشن جائے گا‘اس سلسلہ میں اظہار کرتے ہوئے ”اردوپوائنٹ“کے ایڈیٹر اور تجزیہ نگار میاں محمد ندیم نے کہا کہ بلاشبہ تحریک انصاف کے کچھ ناعاقبت اندیش راہنماﺅں کی جانب سے ایک انتہائی کمزورگیند کو نون لیگ اپنے ہوم گرواﺅنڈ پر بھر پور اندازمیں کھیلے گی.انہوں نے کہا کہ پہلے تو سرے سے یہ مقدمہ درج ہونا ہی نہیں چاہیے تھا اور بعض وزرا ءکے مطابق وزیراعظم نے مقدمے کے اندار ج پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ اس پر ایک پارلیمان کی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات دیتے جس میں اپوزیشن کے نمائندے بھی شامل ہوتے تو صورتحال کو ڈی فیوزکیا جاسکتا تھا تاہم ان حالات میں جب لاہور جیسے شہر میں نون لیگ کی احتجاجی ریلی ناکام رہی تھی اس مقدمے نے نون لیگ کے مردہ گھوڑے میں ایک نئی جان ڈال دی ہے.انہوں نے کہا کہ ابھی وقت ہے کہ وزیراعظم اس مقدمے کو داخل دفتر کرنے کا حکم دیتے ہوئے پارلیمان کی ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیدیں ‘میاں ندیم نے کہا کہ اس سلسلہ میں وزیراعظم کو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے بھی جواب طلبی کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح کے ہائی پروفائل کیسوں میں ایف آئی آر پولیس کے اعلی حکام کے علم میں لائے بغیر درج نہیں ہوتی لہذا عمران خان کو اپنی جماعت کے ان لوگوں کی خبر گیری بھی کرنی چاہیے جواس معاملے کے پیچھے ہیں.ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“نے کہا کہ اس سلسلہ میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورکا نام بھی آرہا ہے لہذا انہیں گورنرشپ سے ہٹا کر معاملے کی انکوائری کروائی جانی ضروری ہے بصورت دیگر یہ الزام وزیراعظم کے سرہی آئے گا انہوں نے کہا کہ 2018کے عام انتخابات میں موجودہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورشاہدرہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے123سے امیدوار بننے کے خواہشمند تھے اور انہوں نے کچھ عرصہ تک اپنی انتخابی مہم بھی اس حلقہ میں چلائی تھی جس کے لیے انہوں نے شاہدرہ میں ایک گھر بھی خریدا تھا تاکہ اپنا ووٹ اس پتے پر منتقل کرواسکیں .انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ شاہدرہ کے اس گھر میں آج بھی چوہدری سرورکا سیاسی ڈیرا قائم ہے اور مقدمے کا مدعی بدر رشید کا شاہدرہ سے تعلق اور منظرعام پر آنے والی گورنر سرورکے ساتھ تصاویر محض اتفاق نہیں ہے ان دونوں معاملوں کا چوہدری سرورکے ساتھ کچھ نہ کچھ تعلق موجود ہے. دوسری جانب گورنر پنجاب کے ایک ترجمان نے اس بات کی تردیدکی ہے کہ گورنر سرورکا بدررشید یا بغاوت کے اس مقدمے سے کوئی تعلق ہے انہوں نے کہا کہ چوہدری سرورسے لوگ ملاقات کے لیے آتے رہتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں یہ معمول کی بات ہے.واضح رہے کہ ایک شہری بدر رشید کی شکایت پر لاہور کے شاہدرہ تھانے نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے سیکشن 10 (سائبر دہشت گردی) اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 120 اے (مجرمانہ سازش کی تعریف)، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 121 اے (پاکستان کے خلاف جنگ کی سازش)، 123 اے (ملک بنانے کی مذمت اور اس کی خودمختاری کے خاتمے کی وکالت)، 124 اے (بغاوت) اور 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) کے تحت نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے متعدد دیگر راہنماﺅں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی.


